Perishing legend king-309-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 309

پری:

دس بیچچچ~~~ 

 

سہانا (چہرہ تیوری چڑھاتے ہوئے):

شروتی۔۔۔

 

شروتی:

آلرائٹ آلرائٹ!! آئی ونٹ سنیچ یور بوائے فرینڈ سہانا۔ کام ڈاؤن!!! 

 

سہانا:

واٹٹٹ؟ ہیز ناٹ مائی بوائے فرینڈ شروتی۔ واٹ آر یو ٹاکنگ اباؤٹ؟؟؟ آئی ایم آلریڈی میریڈ۔ تم جانتی ہو۔ ڈونٹ جوک لائیک دیٹ۔۔۔

 

شروتی:

ہئی ہئی~ کام ڈاؤن! کیا ہوا؟ آئی واز جسٹ کڈنگ اوکے؟

 

سہانا کچھ نہ بولی۔ پر ویر نے یہ ضرور نوٹس کیا تھا کہ اس کے گالوں پر ہلکی لالی چھائی ہوئی تھی۔

 

اور پھر کار میں ایک خاموشی  سی چھا گئی۔ ویگاس کی اُونچی اُونچی بلڈنگز، وہ تیز رفتاری میں آتی جاتی گاڑیاں، بڑے بڑے فلائی اوورز  دیکھ کر ویر اس نظارے میں کھو گیا۔

 

اور کار کب شروتی کے گھر کے باہر آ کر رُک گئی اس کا پتا ہی نہیں چلا۔ وقت  یوں بیت گیا۔

 

شروتی:

اوکے~ ہیئر  وی آر۔۔۔۔

 

کار سے اتر کر دیکھا تو شروتی کا گھر کافی بڑا اور عالیشان تھا۔

 

گھر کے ٹھیک سامنے بغل میں ایک بڑا سا سوئمنگ پول بھی تھا۔ جگہ جگہ ہرے بھرے پیڑ پودھے اور خوبصورتی بڑھانے کے لئے کچھ انوکھے پتھر بھی رکھے ہوئے تھے۔

 

ایک ایسا گھر، جو ایک بار دیکھتے ہی پسند آ جائے۔

 

شروتی:

آئی ہوپ تمہیں پسند آیا ہوگا؟ ویر؟

 

ویر:

اٹس نائس۔۔۔

 

شروتی:

ویل! یہ والا بڑی مشکل سے ملا ہے۔ اور تھوڑا مہنگا بھی ہے۔ ہاہا~ اینی ویز! کم انسائیڈ۔

 

اندر آتے ہی ویر اور بھی دنگ رہ گیا۔ انٹیریئر ڈیکور تو اور بھی خوبصورت تھا۔

 

ویر:

کتنے لوگ رہتے ہیں یہاں؟

 

ویر کو جواب پتا تھا۔ لیکن پھر بھی اسے اپنے آپ کو انجان دکھانا تھا۔

 

شروتی:

جسٹ می اینڈ مائی ہسبینڈ۔ میک یورسیلفز کمفرٹیبل۔ میں کافی ریڈی کرتی ہوں۔ یو گائز کین ٹیک آ  باتھ اینڈ فریشن اپ۔ واش روم از رائٹ دیئر آن دی رائٹ۔ پھر لنچ کی تیاری کرتی ہوں۔

 

سہانا:

مجھے پتا ہے آلریڈی کہاں ہے واش روم۔

 

شروتی (مسکراتے ہوئے):

اوہ! آف کورس ڈیئر~ تم پہلی بار تھوڑی ہی آرہی ہو۔ میں تو ویر کو بتا رہی تھی۔ فوفو

اس کی نظر ایک بار پھر ویر کی آنکھوں سے پل بھر کے لئے ٹکرائی۔

 

پری:

ماسسسٹٹررر~ ڈونٹ لُک ایٹ ہر!!! ہمف

ویر پری کی بات مان کرواش روم میں چل دیا۔ اور اندر آتے ہی وہ ایک بار پھر گھر کی لگژری دیکھ کر حیران   رہ گیا۔

 

اسے کچھ دیر پہلے کے شروتی کے بول یاد آگئے، ‘یہ والا بڑی مشکل سے ملا ہے۔ اور تھوڑا مہنگا بھی ہے۔ ہاہا~’ 

 

نو ونڈر یہ مہنگا  ملا ہوگا۔ ریلی! مجھے بھی ایک گھر لینا ہے۔ پھر، بھابھی میں اور باقی ہم سب اس والے میں رہا کریں گے۔’ 

 

پری:

ہم ہم  ماسٹر! ڈیفینیٹلی!!! ماسٹر باتھ ٹب میں باتھ لوگے آپ؟ 

 

ناہ!’ 

 

30 گھنٹے کے سفر کے بعد، اس سے ظاہر تھا کہ ایک بہترین شاور کی ضرورت تھی۔ باڈی اوڈر اور سویٹ کو ہٹانے کا سب سے بہتر وجہ اور کیا ہی تھی؟

 

شاور کے نیچے وہ کھڑے پری سے باتوں میں لگ گیا۔

 

تمہیں کیا لگتا ہے پری؟ شروتی! کیا وہ کچھ چھپا  رہی ہے؟ اس نے مجھے ساتھ میں لانے کو کیوں کہا  سہانا سے؟’ 

 

پری:

ڈونٹ ٹاک اباؤٹ ہر ماسسسٹٹررر!!! آئی ڈونٹ لائیک دیٹ بیچ۔ ہمف~ اور اس کو آپ نہیں دیکھو گے اب۔ آئی ڈونٹ لائیک اٹ۔ 

 

ہاہا~ یہ تمہیں کیا ہو گیا اچانک سے؟ آر یو جیلس؟’ 

 

پری:

آئی۔۔۔ آئی۔۔۔ آرگھھ!! میں نے کہا نا ماسسسٹٹررر!! اسے مت دیکھو۔ آپ مجھ سے بات کیا کرو۔

 

آلرائٹ آلرائٹ! پری! سنو۔۔۔ میرے اسٹیٹس میں انٹیلیجنس 10 پوائنٹس سے بڑھا دو  اور باقی اسٹیٹس 20 پوائنٹس سے۔’ 

 

پری:

ایز یو  وش ماسٹر۔ 900 پوائنٹس آپ کے یوز ہوں گے اس میں۔]

 

گو اہیڈ!’ 

 

*ڈنگ

 

پری:

آل ڈن ماسٹر۔ 

یہ رہا آپ کا فل اسٹیٹس۔ 

 

نام: ویر

عمر: 21

اسٹیٹس: اسٹوڈنٹ / بزنس مین

اسٹیٹس

سٹرینتھ: 120

انٹیلیجنس: 130

اینڈورنس: 120

ایجیلیٹی: 120

ایپیئرنس: 120

اسکلز

ہاکی / انٹرمیڈیٹ مارشل آرٹس لمبو / بیسک اینمی ٹریکر ایبسولوٹ شیف / بیسک ڈرائیونگ سیکس پروٹیکشن / اسٹاک ماسٹر ڈیٹاکسیفیکیشن

سسٹمز انٹرنل فیچرز

چیک / پاتھ ٹریکر / ٹرانسلیٹر پاسٹ ایلسٹریشن / کویسٹ ہنٹ / سلاٹ الفا ٹریٹ / اسکرول ہنٹ

پسندیدگی:

آنیسہ: 151 (سلیو)

پریت: 96  (سلیو)

کائنات: 73 (فیمیلر)

نندنی: 74 (میٹ)

راگنی: (91) کنفیڈنٹ)

شریا: 75 (پال)

جوہی: 96 ( بیسٹ بڈی)

سہانا: 69 (میٹ)

سونیا: 79 ( کامریڈ)

ماہرہ: 80 (کامریڈ)

اروحی: 77 (بڈی)

کاویہ: 94 (بڈی)

شویتا: 88 (فیمیلر)

بھومیکا: 70 (فیمیلر)

سینا: 86 (؟)

بھوانا: 94 (؟)

کارڈز:

بون ریپیئر۔۔

بیوولفس بلیسنگ۔۔

انٹیمیڈیٹنگ پریزنس۔۔۔

اسکرول: مائیسٹک ٹچ

پوائنٹس ر یمننگ : 3992

فیم: 100

سسٹم لیول: 7

400 ایکسپ مور ٹو ریچ لیول 8

 

 

گڈ!!’ 

۔

۔

۔

شاور کے بعد، ویر اور سہانا دونوں نے ہی ہلکا پھلکا کھانا کھانے کے بعد آرام فرمایا۔ جیٹ لیگ سے نجات پانے کے لئے۔

 

اور سورج ڈھلتے ہی وہ دوبارہ سے کار میں بیٹھ کر چل دیئے۔

 

*تھڈ

 

کار کا ڈور بند ہوا اور تیز قدموں کے ساتھ سہانا، شروتی اور ویر کرائم انویسٹیگیشن کے ایک آفس کے اندر جانے لگے۔

 

جگہ جگہ افرا تفری کا ماحول تھا۔ ویر کو ایسا لگا جیسے وہ کسی سٹیشنری کی فیکٹری میں گھس گیا تھا، کیونکہ سوائے فائلز کے۔۔۔ وہاں اور کچھ نظر ہی نہیں  آ رہی تھی۔

 

چاروں طرف نظریں گھماتے ہوئے وہ پیچھے پیچھے ہی چلتا رہا جب اچانک سے۔۔۔

 

ہہ!!؟؟؟’ 

 

ایک عجیب سی فیلنگ اسے محسوس ہوئی۔ بدن میں رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اسے ایسا لگا جیسے اسے کوئی دیکھ رہا تھا،  گھور کے۔

 

دیئرز سم تھنگ رونگ۔’ 

 

اندر آتے ہی شروتی نے ایک ایک جوڑی گلاوز پھینکتے ہوئے دونوں سہانا اور ویر کو دیئے۔ جو دونوں نے ہی پہن لیے۔

 

اس کے بعد ایک جوان سا لڑکا دوڑتے بھاگتے ہوئے آیا، وہ ہاتھوں میں ایک پلاسٹک کی ٹرانسپیرنٹ تھیلی لئے ہوئے تھا۔

 

شروتی:

ایویڈنس؟

 

لڑکا:

یس میم

 

شروتی:

اوکے! یو کین لیو  ناؤ

 

اور وہ چلا گیا۔

 

ویر نے نوٹس کیا کہ آس پاس کے لوگ انہیں کچھ زیادہ ہی اچھی نظروں سے نہیں دیکھ رہے تھے۔

 

پیکٹ کے اندر ایویڈنس موجود تھا۔ کسی کرائم کا۔۔۔

 

سہانا:

دس۔۔۔

 

شروتی:

اسی کے لئے تمہیں یہاں بلایا ہے۔

 

ویر:

یہاں پر کوئی آبجیکٹ کیوں نہیں کر رہا؟ میں یہ محسوس کر سکتا ہوں کہ یہ لوگ مجھے یہاں پاکر خوش نہیں ہیں۔ پھر بھی کوئی کچھ کہہ نہیں رہا۔

 

شروتی:

کیونکہ میں کھڑی ہوں تمہارے ساتھ۔ ویر! سہانا ایک طرح سے میری اسسٹنٹ ہے۔ ایسا سمجھ لو کہ اسے یہاں کی تھوڑی بہت ایکسس ملی ہوئی ہے۔

 

ویر:

اینڈ واٹ اباؤٹ می؟

 

اس کے سوال پر شروتی نے اسے اپنا سر اوپر کرکےدیکھا۔

 

شروتی:

کہا  نا۔۔۔ تم میرے ساتھ کھڑے ہو۔ وہ کچھ نہیں کریں گے۔

 

سہانا:

مجھے یہ بتاؤ بات کیا ہے!؟ جلدی!!! 

 

اور پھر شروتی نے ایویڈنس کو باہر نکالا۔

 

اندر خون سے لتھڑا  ایک پین تھا۔ ایک کاغذ کا ٹکڑا اور اس کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ لکھا ہوا تھا۔


سہانا:

میں کچھ سمجھی نہیں۔

 

شروتی سہانا کو کچھ سمجھا پاتی کہ تبھی، 

 

یو آر نٹ  الاؤڈ  ہیر بریٹ!!!” 

 

ایک کٹھور آواز ان کے پیچھے سے آئی۔ پلٹ کے دیکھا تو شروتی کا  ہسبنڈ، ڈیکسٹر کھڑا ہوا تھا۔

 

وائٹ شرٹ کے اوپر ایک لانگ کوٹ ڈالے، اور سر پر ٹیپیکل ڈیٹیکٹو والی کیپ پہنی وہ وہاں کھڑا انہیں گھور کے دیکھ رہا تھا۔ خاص کر  ویر کو۔

 

شروتی (کھڑے ہوتے ہوئے):

ڈیکسٹرررر!!! 

 

ڈیکسٹر:

ٹیل ہیم ٹو گیٹ لوسٹ۔ اونلی سونی بے بی کین سٹے۔۔۔

 

سہانا:

آئی ٹولڈ یو نٹ ٹو کال می بائی دیٹ نیم ایور آگین۔۔۔

 

پل بھر میں تینوں ایک دوسرے کے اوپر چڑھ پڑے۔ جہاں ڈیکسٹر ویر کے یہاں ہونے سے ناراض تھا تو وہیں شروتی اس کے اس رویئے سے غصہ تھی اور وہیں سہانا اس لئے تلملا اٹھی کیونکہ ڈیکسٹر نے اسے سُونی کہہ کے پکار دیا۔

 

لگتا ہے سہانا کا پاسٹ ان دونوں سے جڑا ہوا ہے۔’ 

 

پری:

یس ماسٹر!!! 

 

موقع دیکھ کے سہانا نے کنفیوزڈ  ویر کی طرف جھکتے ہوئے اسے سمجھایا، 

 

سہانا:

شروتی ایک پرسنل ڈیٹیکٹو ہے ویر۔ پرسنل ڈیٹیکٹوز جنرل کیسز میں اپنی ہستکشیپ نہیں کرتے۔ انہیں پیسے زیادہ ملتے ہیں۔ ویل۔۔۔ایک طرح سے یہ دلال جیسے ہوتے ہیں۔ اسی لئے شروتی کے پاس اتنا  پیسہ ہے۔

 

ویر:

آئی سی۔۔۔

 

سہانا:

ڈیکسٹر بھی ایک پرسنل ڈیٹیکٹو ہے۔ اور اسی لئے یہاں کی جنرل انویسٹیگیشن یونٹ ہمیں اچھے سے نہیں لیتی کبھی۔ کیونکہ ہر ٹف کیسز کو اکثر ہم لوگ سولو کر دیتے ہیں۔ جس کے چلتے جی آئی یو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہ جاتے ہیں۔

 

ویر:

تبھی وہ ہمیں گھور کے دیکھ رہے تھے۔

 

سہانا:

ہاں! پر ڈیکسٹر۔۔۔۔ ویل! ہی لائیکس ٹو کیپ سم لیکیز اراؤنڈ۔ وہ جی آئی یو میں اپنے چیلے بنا کے رکھا ہوا ہے۔ جس وجہ سے اس کا یہاں مزاحمت اتنا نہیں ہوتا۔ پر شروتی کا ایسا نہیں ہے۔ وہ بوٹ لکنگ پسند نہیں کرتی۔۔۔

 

ویر:

ان آدر ورڈز، ڈیکسٹر پیسہ پھینک یہاں چیلے بنائے ہوئے ہیں تو وہیں آپ کی فرینڈ شروتی وہی پیسے لئے اپنی جیبوں میں ڈال رہی ہے؟؟؟ 

 

سہانا:

ایگزیکٹلی!!! 

 

یہاں شروتی نے جیسے تیسے ڈیکسٹر کو منایا تو معاملہ شانت ہوا اور ویر کے یہاں ہونے سے بھی اب کوئی پریشانی نہیں تھی۔ فلحال کے لئے۔۔۔

 

ڈیکسٹر سمیت باقی انویسٹیگیٹرز بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اسکرین پر ایک کے بعد ایک گرافک امیجز آ رہی تھی۔

 

قتل کی۔۔۔۔

 

اور قتل بھی کس کا؟ ان کے اپنے ایک انویسٹیگیٹر کا۔۔۔

 

سامنے کھڑا  ڈیکسٹرنے جب بولنا شروع کیا، تو سب شانت ہو گئے۔

 

کل!!! کل ہمارے کرائم انویسٹیگیشنز کے ممبرز میں سے ایک بڑے ہی محنتی انویسٹیگیٹر نے اپنی جان کھو دی۔

 

جان کھوئی نہیں، اسے بے دردی اور بڑی ہی بےرحمی سے مارا گیا۔

 

جیک ہمارا خاص تھا۔ پر جاتے جاتے اپنے آخری پلوں میں اس نے ہمارے لئے ایک پیغام چھوڑا ہے۔ ہمیں کچھ بتانے کے لئے۔

 

اور ہم اس کی تہہ تک جا کے جیک کے ہتھیارے کو سزا دلوا کر ہی رہیں گے۔

 

ییسسسسسس!!!” 

 

سبھی ایک ساتھ وہاں پر چلائے۔ڈیکسٹر نے جب کہنا بند کیا تو اس نے ایویڈنس شروتی کے ہاتھوں سے لیتے ہوئے سامنے سبھی کو دکھایا۔

 

خاص کر اس پیپر کو۔۔۔

 

جس میں جیک کی ہی رائٹنگ میں لکھا ہوا تھا، 

 

Heinous thoughts destroys the mind.
Often the glee tuns into, Unhappiness.

Sorrow remains but shall be forgotten. Emergence of a new beginning prevails.

Opulent, rich thoughts fills the mind once more.
Fend off the fiend this time.

Kindle the fire in yourself. Intensify it. Lure the evil out of it. Lecherous demons shall be punished.

Escape if you realize you cannot handle it.
Remember, there ain’t a single one, if you do get caught…

Soul shall burn!!!

اور اس پرچے میں لکھی گئی ساری لکھائی پیچھے بڑی سی اسکرین پر اجاگر ہو گئی۔

 

پیج میں جگہ جگہ خون لگا ہوا تھا۔ ظاہر تھا کہ کتنی ہی جلد بازی میں جیک نے لکھا ہوگا اسے۔  ایک پہیلی تھی۔ جو کسی طرف اشارہ کر رہی تھی۔

 

لاس ویگاس کی ہر گزرتی رات کی طرح کل رات بھی،  جیک صرف اور صرف ایک پارٹی میں گیا تھا اپنی زندگی کی روزمرہ بزی لائف سے تھوڑا  ریلکسیشن پانے کے لئے۔

 

مگر  پریشانی تب ہوئی جب  وہ۔۔۔۔

 

اسی ہوٹل میں ہو رہی کسی اور پارٹی میں گھس گیا۔ ایک ایسی پارٹی جہاں اسے کبھی نہیں گھسنا چاہئے تھا۔

 

جیک اکیلا تھا۔ اس کے ساتھ کوئی اور اس کی پہچان کا نہیں تھا۔ پارٹی میں ہر شخص آنکھوں میں ماسک لگائے انجان لوگوں سے باتیں کر رہے تھے۔ جیک کو کیا پتا تھا کہ اس کی اتنی چھوٹی سی بھول اس کی جان لینے والی تھی۔

 

جیسے ہی وہ اس پارٹی میں گھسا۔۔۔

 

نہ جانے اس نے ایسا کیا دیکھا یا ایسا کیا سنا کہ اس نے فوراً ہی آفس میں ٹیم کو کال لگانا چاہا۔ وہ پسینے سے تر بتر۔۔۔۔

 

لیکن جیسے اس کے ہاتھوں سے فون چھین لیا گیا تھا۔ فون سے صرف  جیک  کا ہیلو ہی سننے کو مل  پایا۔

 

شاید کوئی اسے مارنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بھاگو!!!!! یہی خیال آیا اسے۔ جیک جیسے چکمہ دینے میں کچھ وقت کے لئے تو  کامیاب بھی ہو گیا۔ اور اسی بیچ اس نے یہ لکھا۔

 

اور اس کے بعد۔۔۔۔

 

*سپللووورررٹٹٹ

 

صبح اس کی لاش ہوٹل کے باہر ڈسٹ بن میں پائی گئی۔

 

پولیس سمیت انویسٹیگیٹرز سائٹ کا معائنہ لینے پہنچے پر سوائے جیک کے خون کے علاوہ انہیں اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔

 

ہوٹل میں  تفتیش کی  تو پتا لگا کہ ہوٹل میں پارٹی میں بہت سارے لوگ آئے تھے۔ اور جہاں جیک کو مارا گیا، وہاں کوئی بھی سی سی ٹی وی کیمرہ موجود نہیں تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page