Perishing legend king-316-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 316

پر نیکول ایسا نہیں تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ کیسے ویر کو اکیلے موت کے کنویں میں دھکیلا جا رہا ہے۔ تو اس سے رہا نہیں گیا۔ ویر کا تو کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا اس کیس سے۔ اسے فالتو میں قربانی  کا بکرا بنایا جا رہا تھا۔ اس لیے اس نے اپنا نام بھی آگے کر دیا۔ بے شک، اس کے اس فیصلے سے کافی تنازع کھڑا ہوا پر آخر میں اس کی بات انہیں ماننی ہی پڑی۔ آخر اس کی مرضی تھی  یہ۔

 

وہ ویر کو اس طرح اکیلے نہیں جانے دے سکتا تھا۔ ویر اندر ہی اندر نیکول کے لئے شکر گزار تھا۔ کچھ لوگ انسانیت کے اور دل کے بہت ہی اچھے تھے یہاں۔ جیسے نیکول۔۔۔۔

 

پری:

میں اس آدمی سے بہت زیادہ نفرت کرتی ہوں!! ہم نے اس کا کیا بگاڑا ہے؟

 

ششش! میں نے کہا  نا پری! یہ ناگزیر ہے! یہ ہونا ہی تھا۔

 

پری:

پھر بھی۔۔۔۔

 

شش!!! چلو آگے بڑھتے ہیں۔

 

ویر نے پری کو خاموش کیا۔

 

بغل میں چل رہا نیکول تبھی اس سے بولا،

 

نیکول (مسکراتے ہوئے):

پریشان نہ ہو بھائی! ہم اسے سنبھال لیں گے۔

 

وہ  ویر کا اعتماد بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

ضرور!

 

کچھ بھی ہو جائے، ویر نیکول کو مرنے نہیں دے سکتا تھا۔ اپنے من میں ہی اس نے ایک عہد  باندھا۔

 

یہاں آنے سے پہلے سہانا نے بھی کافی مخالفت کی تھی۔ سہانا ویر کو یہاں مدد کے لیے لائی تھی۔ اسے مروانے نہیں۔ جیسے تیسے ویر نے اسے خاموش کر دیا تھا۔ پر وہ جانتا تھا سہانا ابھی کتنی بے چین ہو رہی ہوگی۔ جب وہ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر نکل رہا تھا تبھی اس کا چہرہ دیکھنے لائق تھا۔ سچ کہا جائے تو پہلی بار ویر نے سہانا کے چہرے پر اپنے لئے وہ جذبات دیکھے تھے۔

 

وہ کبھی دکھاتی نہیں پر وہ واقعی اس کی فکر کرتی ہے۔ یہاں تک کہ شروتی بھی کچھ پریشانی میں تھی۔ شاید اس کا رویہ بدل رہا تھا۔

 

نیکول اور ویر آگے بڑھے، ہاتھوں میں ٹارچ تھی ان کے۔ گھنے پیڑ پودوں کے پتے ہٹاتے ہوئے وہ جزیرے میں اور اندر گھسے۔ اور جیسے ہی جزیرے کے بیچوں بیچ آئے۔ سامنے کا نظارہ دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔

 

جزیرے کے بیچوں بیچ ان کے سامنے تھا۔۔۔۔

 

ایک خوبصورت پر اتنا ہی  ڈراونا  سا مینشن۔  (حویلی)

 

یہ حویلی ایک بڑے عجیب تجربے کو جنم دے رہی تھی۔ وہ خوبصورت بھی تھی اور بڑی بھی، لیکن اس حویلی میں کچھ ایسا تھا جو ویر کو آگے بڑھنے سے پہلے ہی پریشان کر رہا تھا۔

 

عجیب بات یہ تھی کہ مینشن کی لائٹس جل رہی تھیں۔ جزیرے میں بجلی کا کوئی سورس نہیں تھا۔ مطلب بیسمنٹ میں جنریٹرز پکے سے موجود تھے۔


ویر:

تمہارا کیا خیال ہے؟

 

نیکول:

Well! I never imagined there would be such a huge mansion hiding in here. And guess what? Lights are on.

ویل! میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہاں اتنا بڑا مینشن چھپا ہوگا۔ اور اندازہ لگاؤ کیا؟  لائٹس جل رہی ہیں۔

 

ویر:

تو اس کا مطلب

 

نیکول:

ہاں! کوئی اور اندر ہے۔

 

ویر:

دوسرے شرکاء؟

 

نیکول:

شاید! یا شاید نہیں!

 

مینشن کی جلتی ہوئی لائٹس یہی اشارہ کر رہی تھیں کہ کوئی نہ کوئی اندر موجود تھا۔

 

نیکول:

We must find whoever it is. We will definitely catch Senior Narko’s murderer.

ہمیں اسے ڈھونڈنا ہوگا جو بھی ہے۔ ہم ضرور سینئر نرکو کے قاتل کو پکڑ لیں گے۔

 

ویر:

امید ہے۔۔۔

 

نیکول:

کیا ہم اندر جائیں؟

 

ویر:

ٹھیک ہے!

 

انٹرس کی طرف وہ بڑھے۔ انٹرس پر ایک بھی گارڈ موجود نہیں تھا۔ کوئی سیکیورٹی نہیں تھی۔ لوہے کا بڑا سا گیٹ تھا جسے کھول کر وہ اندر آئے۔

 

مینشن کے سامنے چھوٹا سا لان تھا، جہاں گھاس اُگی ہوئی تھی، بغل میں ایک سفید رنگ کا رتھ رکھا تھا پر کوئی گھوڑا اس سے بندھا نہیں تھا۔

 

اندھیرے میں پورا مینشن اونچے پیڑوں سے گھرا ہوا تھا اور وہ دونوں مین گیٹ پر پہنچ گئے۔

 

نیکول نے اپنی جیب سے ایک کارڈ نکالا اور ویر کو دیکھا۔

 

ویر (سر ہلاتے ہوئے):

کرو!

 

اور دروازے کے ہی سائیڈ میں ایک پتلا سا سلٹ گیپ موجود تھا۔ نیکول نے جیسے ہی کارڈ اندر سلٹ میں ڈالا تو۔۔۔۔

 

*کلک*

 

دروازے سے آواز آئی۔ اور وہ ان لاک ہوگیا۔

 

نیکول:

یہ واقعی کام کر گیا۔

 

ویر:

تو معلومات سچ تھیں۔۔۔

 

معلومات سچ تھیں مطلب۔ نرکو کے آخری ویڈیو سے انہیں اس جگہ کا پتا چلا تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ نیکول کو وہ کارڈ کیسے اور کہاں سے ملا؟ اس کی جانکاری بھی اس نے ویڈیو میں ہی دی تھی۔

 

سلاٹ مشینوں کی گلی میں ہی ایک آدمی تھا جو یہ کارڈ بیچتا تھا۔ وہی لاٹری والی سلاٹ مشینیں۔ یہاں سب کچھ خفیہ طریقے سے ہوتا تھا۔ اس بیچارے کو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ یہ کارڈ کس لیے ہیں۔ اسے بس بیچنے دیئے گئے تھے اور کارڈ بِک رہے تھے، اس بات سے ہی خوش تھا  وہ۔

 

پولیس اسے یونہی گرفتار نہیں کر سکتی تھی۔ اس بیچارے کو تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ یہ کارڈ کون بھیجتا ہے اسے۔ کیونکہ ڈلیوری والا تو ڈلیور کر کے چلا جاتا تھا۔

 

ان کارڈز کا استعمال جزیرے میں موجود اس دروازے کو کھولنے کے لیے ہی تھا۔ کوئی سوچ بھی سکتا تھا ایسا؟ کچھ بہت ہی بڑی پلاننگ چل رہی تھی پیٹھ پیچھے۔

 

دروازہ کھول کر جیسے ہی وہ اندر آئے، اندر کا نظارہ کچھ اس طرح تھا۔

 

اوپر چھت سے جھومر لٹک رہا تھا۔ اندھیرا تھا پر جگہ جگہ موم بتیاں جل رہی تھیں۔ کہیں کچھ لائٹس بھی جل رہی تھیں۔

 

اور یہ مین ہال بھی نہیں تھا۔ یہ تو سب ہال کی طرح تھا۔ نیچے بڑا سا قالین بچھا ہوا تھا جو سامنے دروازے کی طرف جا کے ختم ہو رہا تھا۔

 

شاید وہی مین ہال کا داخلہ تھا۔

 

نیکول:

چلو!

 

ویر:

ہاں!!!

 

نیکول اور ویر اپنے دل کی تیز دھڑکنوں کو تھام  کرآگے بڑھے۔ ہال کا گیٹ بھی کھلا ہوا تھا۔

 

 

جیسے ہی انہوں نے گیٹ کھولا، انہیں ایک ہال وے نظر آیا۔

 

جگہ جگہ دیواروں پر پینٹنگز لگی ہوئی تھیں، جو کسی کے ماضی کو بیان کر رہی تھیں۔ نیچے بچھا خوبصورت سا قالین۔ اس ایریا میں لائٹنگ سب ہال کے مقابلے زیادہ تھی۔

 

وہ اندر کی طرف گئے اور جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے،

 

ویر:

ہہ؟؟؟

 

انہیں وہاں 6 لوگ اور دکھائی دیئے۔ جن میں سے 4 لڑکے تھے اور 2 لڑکیاں۔

 

“What the hell? More people are coming? But that’s actually good.”

یہ کیا؟ اور  لوگ بھی آ رہے ہیں؟ لیکن یہ واقعی اچھا ہے۔

 

صوفے پر بیٹھا ایک لڑکا ان میں سے بولا۔

 

ویر:

یہ لوگ

 

تبھی ایک لڑکی جو قریباً 27-28 سال کی لگ رہی تھی وہ اٹھ کر آئی اور ویر اور نیکول کے ارد گرد گھومنے لگی۔ پھر بولی،

 

لڑکی:

You guys! Are you here for the bars too??

تم لوگ! کیا تم بھی یہاں بارز کے لیے آئے ہو؟؟

 

ویر:

ہہاں!!!

 

اس لڑکی نے سوال کیا۔ کیا ویر لوگ بھی ادھر بارز کے لیے آئے تھے؟ ویر نے جواب ہاں میں دیا۔

 

بارز!!! سمجھے؟ گولڈن بارز!!! بولے تو سونے کے بسکٹ۔

 

حویلی میں 10 ملین ڈالر مالیت کی سنہری بارز موجود تھیں۔ مختلف مقامات پر۔

10 ملین بولے تو قریباً 79 کروڑ، 84 لاکھ، 55 ہزار کے آس پاس کا  انڈین    روکڑا۔

 

اور شاید یہاں موجود باقی لوگ بھی اسی کی تلاش میں تھے۔

 

لڑکی:

اوہ! ویسے میرا نام پِنکی ہے۔ پیشے سے نرس ہوں۔

 

نیکول:

مل کر اچھا لگا! میں نیکول ہوں۔ بس ایک گریجویٹ۔ اور یہ ویر ہے، میرا دوست۔

 

نیکول نے اپنی شناخت جان بوجھ کر چھپا لی۔

 

پنکی:

Veer? Strange name! But you are hot though. I will give you that. *wink*

ویر؟ عجیب نام! لیکن تم سمارٹ کیساتھ ساتھ ہوٹ ہو۔ یہ تو ماننا پڑے گا۔ *ونک*

 

پنکی خوبصورت تھی۔ پر ویر کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کی نظریں جس کی طرف گئی وہ کوئی اور ہی تھی۔

 

بلیک ڈینم جیکٹ ڈالے وہ بک شیلف کے پاس کھڑی ہوئی تھی۔ اور انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔ خاص کر ویر کو۔ ایک خوبصورت شخص دوسرے خوبصورت شخص کی طرف اپنی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہ بات سچ تھی۔

 

خوبصورتی کا اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ سونیا اور ماہرہ کی جیسی تو نہیں لیکن اس سے کم بھی نہیں تھی وہ اگر چہرے کی خوبصورتی کی بات کی جائے تو۔

 

اسے دیکھتے ہی۔۔۔۔

 

*ڈنگ*

 

نام:  کینوز/Kinoz

عمر: 27

بائیو: کینوز ایک ماڈل ہے۔ پر پیسوں کی تنگی کی وجہ سے وہ اپنی زندگی میں آگے نہیں بڑھ پا رہی ہے۔ خوبصورت ہونے کے باوجود اسے ماڈل کنٹریکٹ زیادہ مل نہیں پا رہے کیونکہ وہ عریاں پکچر یا انٹیمیٹ  پکچرز شوٹس پر نہیں اترنا چاہتی۔ مالی حالت کافی گر چکی ہے۔ کسی سے خفیہ جانکاری اسے ملی ہے کہ جزیرے کے اس مینشن میں خزانہ چھپا ہے۔ وہ اپنی قسمت آزمانے آئی ہے یہاں۔ گھر میں اس کا کوئی نہیں ہے۔ تو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر وہ ایک آخری بار اپنی قسمت آزمانا چاہتی ہے۔

فیور ایبلٹی: 4

رشتہ: اجنبی۔

 

میں سمجھا!!!’

 

پنکی دیکھ رہی تھی کہ ویر  کینوز کو گھور رہا تھا اور کینوز بھی اسے دیکھ رہی تھی۔ یہ دیکھتے ہی اندر ہی اندر وہ جل بھن گئی۔

 

وہ بھی یہاں موجود تھی۔ پھر اس کی خوبصورتی پر کوئی کیوں توجہ نہیں دے رہا تھا؟ ایسا نہیں تھا کہ پنکی خوبصورت نہیں تھی۔ بس، کینوز کے سامنے وہ کچھ پھیکی لگ رہی تھی۔ کینوز  کچھ زیادہ ہی پرکشش تھی۔


نیکول:

اور یہ کون ہیں؟

 

پنکی:

وہ لڑکی وہاں۔ وہ کینوز ہے! ایک ماڈل۔ اور یہ لوگ ہیں،  کیف، روش،گروک، اور روکی۔

 

ایک ایک کر کے  پنکی نے ان کا تعارف کرایا۔

 

پنکی:

ہم چند منٹ پہلے ہی ایک دوسرے سے واقف ہوئے۔

 

پری:

دیکھا ماسٹر!!!! یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا  نرکونے بتایا تھا۔ الگ الگ لوگ یہاں آتے ہیں۔ اور رات گزارتے ہیں۔ گولڈن بارز کو ڈھونڈنے کے لیے جو یہاں کہیں نہ کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ پر رات میں ہی..۔۔۔

 

ہاں!!! دی نائٹ واکنگ!!!’

 

پری:

ہاں ماسٹر~ ابھی 7:30 بجے کا وقت ہے۔ نرکونے بتایا تھا رات 9 بجے سے شروع ہوتا ہے سب۔

 

ہمم~ ہمارے پاس ڈیڑھ گھنٹہ ہے یہاں کی سچویشن کو دماغ میں بٹھانے کے لیے۔ پری!!!’

 

پری”

پریشان نہ ہوں ماسٹر! پاتھ ٹریکر آن ہی ہے۔ مینشن بہت بڑا ہے۔ میں نے اسے آف نہیں کیا ہے۔

 

گڈ جاب!!!’

 

نرکو نے جب ویڈیو بنائی تھی، تب اس کا کنکشن ڈیپارٹمنٹ سے کٹ ہو چکا تھا۔ مینشن میں نیٹ ورک نہیں ملتا ہے۔ دوسری زبان میں، فون کالز نہیں لگائی جا سکتیں اور نہ ہی وصول کی جا سکتی ہیں۔

 

اس کا مطلب، شروتی اور ڈیکسٹر کو جو ویڈیو ملی وہ نائٹ واکنگ نے خود ہی بھیجی تھی انہیں شاید۔

 

ویر اور نیکول کو یہ رات اپنے ہی بل بوتے پر گزارنی تھی۔ ویر نے ہر ایک کے نام دماغ میں بٹھا لیے تھے۔

 

پنکی جو نرس تھی، کینوز ایک ماڈل۔ کیف ایک فیشن ڈیزائنر کا اسسٹنٹ تھا۔ روش اور گروک کا گروپ بینڈ تھا اور روکی ایک چھوٹی سی کمپنی کا ملازم۔ سبھی پیسوں کی تنگی کی وجہ سے ہی یہاں تھے۔

 

من میں ڈھیر سارے سوالات آ رہے ہوں گے۔ کہ اگر یہ جرم یہاں ہو رہا ہے، تو پولیس سیدھا دھاوا کیوں نہیں بول دیتی یہاں؟ پر جتنا آسان یہ دکھتا تھا اتنا  تھا نہیں۔

 

یہ مینشن بند رہتا تھا۔ صرف چنی گئی تاریخوں پر ہی کھلتا تھا یہ۔ اور آج وہ چنی گئی تاریخوں میں سے ایک تاریخ تھی۔

 

نیکول نے جو کارڈ استعمال کیا تھا کچھ دیر پہلے اس میں تاریخ درج تھی۔ آج کی تاریخ۔

 

اور تو اور۔۔۔ گورنمنٹ پولیس کی مدد کرنے سے کترا رہی تھی۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کچھ پابندیاں تھیں۔ یعنی یہ جو کام ہو رہا تھا وہ تھا تو غیر قانونی۔ پر قانونی طور پر اس پر کوئی روک نہیں لگائی جا رہی تھی۔

 

یہ ایک بہت بڑی بات تھی۔

 

پنکی:

تو؟ ہم کیا کرنے والے ہیں؟

 

کیف:

نائٹ واکنگ اصلی ہے نا؟ میں نے اس کے بارے میں افواہیں سنی ہیں۔

 

پنکی:

تمہارا مطلب کیا ہے؟

 

روکی:

نائٹ واکنگ!! وہ خزانے کا محافظ ہے۔ میں نے اس کے بارے میں سنا ہے۔ وہ ان لوگوں کو مار ڈالتا ہے جو خزانہ چرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

پنکی:

ک-کیاااا؟؟!

 

پنکی کو اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی کہ یہاں کوئی نائٹ واکنگ نام جیسا بھی کچھ تھا۔ وہ تو یہاں پیسہ کمانے آئی تھی۔ کیا مطلب نائٹ واکنگ انہیں مار دیتا ہے جو خزانہ لینے آتے ہیں؟ پنکی کی اب پھٹ رہی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page