Perishing legend king-319-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 319

سہانا نے یہ کہہ کے ڈیکسٹر کی پوری عزت کی دھجیاں اڑا دی تھیں۔ ساتھ ہی شروتی کی بھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ڈیکسٹر وہ لنگور تھا جس کے ہاتھ میں انگور تھا۔

 

سچ کہا جائے تو واقعی ڈیکسٹر شکل سے اتنا ہینڈسم اور سمارٹ نہیں تھا۔ شروتی کے بغل میں  اسے اگر کھڑا کرو تو کوئی بھی یہ نہیں کہے گا کہ وہ میاں بیوی ہیں۔

 

سہانا کی یہ بات دل میں زور سے چبھی شروتی کے۔ پر وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی؟

 

شروتی (مسکراتے ہوئے):

ہومف! اوہ واقعی؟ تو میں تمہارے لیے بھی یہی کہہ سکتی ہوں۔

 

سہانا:

ہہ؟ کککم از کم  یادیو  پھر بھی ڈیکسٹر سے بہتر ہے۔

 

شروتی:

گھنٹہ بہتر ہے۔ مجھے یہ لنگڑا بہانہ مت دو۔ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا تمہارے اور یادیو کے بارے میں۔

 

سہانا:

مممیں۔۔۔۔

 

شروتی (مسکراتے ہوئے):

کہیں اسی لیے تو تم نے ویر کو اپنے پاس نہیں رکھا ہے؟ ہممم؟ اپنے شوہر سے بور ہو رہی ہو سہانا؟  ہاں؟

 

سہانا:

چچچپ کرو!!!!

 

شروتی:

دیکھو کیسے انکار کر رہی ہو  ہاہا~

 

سہانا جانتی تھی شروتی سے منہ لڑانا مطلب بھینس کے آگے بین بجانے جیسا تھا۔ نہ وہ اپنی باتوں سے پیچھے ہٹنے والی تھی اور نہ ہی اس کی کوئی بات سننے والی تھی۔

 

سہانا:

اس سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ بھی نہیں ہے۔ کوئی نیٹ ورک ہی نہیں مل رہا ہے۔ ڈیم ایٹ!!!!

 

شروتی:

وہ ٹھیک ہوگا۔ پریشان نہ ہو!!

 

شروتی نے کہہ تو دیا پر اندر ہی اندر وہ بیچاری خود مضطرب تھی۔ سہانا ادھر کچھ نہ بولی۔ بس خاموش تھی۔ لیکن اس کا من نہیں۔

 

بہت بہتر ہے کہ تم زندہ واپس آؤ۔ ویر!!!’

۔

۔

۔

وقت: رات 9:46 بجے

 

ادھر سنسان جزیرے کے مینشن میں الگ گھٹنائیں رونما ہو رہی تھیں۔ آدھا گھنٹہ بیت چکا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ویر اور باقیوں کو مل کے خزانہ ڈھونڈنا تھا۔

 

پر سب کے سب ناکام تھے۔ اس آدھے گھنٹے میں انہیں کچھ بھی ہاتھ نہ لگا۔ سبھی اپنے اپنے کمروں میں واپس لوٹ کے آچکے تھے۔ کمرے کی بناوٹ بھی بڑی ہی عجیب تھی۔

 

صرف ایک سنگل بیڈ تھا جس پر ایک آدمی ہی لیٹ سکتا تھا۔ اگر ایک سے زیادہ لیٹنا ہو تو تھوڑا ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ دیوار پر جگہ جگہ پینٹنگز لگی ہوئی تھیں۔ ایک لیمپ تھا بغل میں، اوپر وینٹیلیشن کے لیے ایک گول شکل میں گیپ تھا۔ اور ایک بہت بڑا سا فلاور ویز تھا جس میں کوئی پھول موجود نہیں تھا۔ تھوڑی بہت لائٹس اور ایک پنکھا۔ بس! زیادہ کچھ نہیں۔


اور ایک خاص بات یہ تھی کہ کمرہ صرف اور صرف اندر سے ہی لاک ہو سکتا تھا۔ اس کی کنڈی صرف اندر ہی موجود تھی۔ یعنی اگر آپ نے اندر سے کنڈی بند کی تو جب تک آپ اسے کھولیں  نہ، باہر والا شخص اندر نہیں آ سکتا تھا۔

 

اب سوال اٹھتا تھا کہ جب نائٹ واکنگ گھوم ہی رہا تھا تو کیوں نہ سبھی ایک ساتھ ہو جائیں؟ اس طرح وہ کیسے مار پائے گا؟ پر سبھی اس فیصلے سے راضی نہیں تھے۔

 

وجہ؟ پہلی وجہ یہ کہ سبھی کو ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں تھا۔ پہلی بار ہی وہ ملے تھے۔ کیسے یقین کر سکتے تھے اتنی آسانی سے؟ کیا پتا انہی میں سے کوئی نائٹ واکنگ تو ہو؟

 

اور دوسری وجہ کہ وہ سبھی آپس میں ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ بالکل! اگر ساتھ میں رہیں گے تو اکیلے میں چھان بین کیسے کریں گے؟ اور اگر کسی ایک کو خزانہ ملا اور باقی سبھی اس پر جھپٹ پڑے تو؟ یہی دو وجوہات تھیں جن کے چلتے سبھی اپنے آپ میں رہنا چاہتے تھے۔ اور اپنے اپنے کمرے چن کے ہی اس میں ٹھہرنے کا فیصلہ لیا۔

 

پر کیا اس وقت سبھی اپنے اپنے کمرے میں ہی موجود تھے؟؟  شاید نہیں!؟

 

کککیف! کیا تم واقعی سمجھتے ہو کہ کوئی نائٹ واکنگ نہیں ہے؟

 

آواز پنکی کی تھی، جو آہستہ آہستہ ڈر ڈر کے چلتے ہوئے کیف کے پیچھے پیچھے آ رہی تھی۔

 

کیف:

بالکل! میں سمجھتا ہوں یہ بس ایک افواہ ہے! وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو خزانہ ڈھونڈنے کے لیے کافی وقت نہ ملے۔

 

جہاں سبھی اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ کیف اور پنکی اپنے کمروں سے باہر نکل کے خزانہ ڈھونڈنے نکلے تھے۔ کیف اکیلے جا رہا تھا پر پنکی نے اسی وقت اسے کمرے سے نکلتے ہوئے دیکھ لیا تھا جب وہ کوریڈور میں جھانک کے چیک کر رہی تھی۔

 

نتیجہ؟ وہ بھی ڈرتے ڈرتے اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ کیف کا کہنا تھا کہ نائٹ واکنگ محض ایک افواہ تھی۔ ایسا اس لیے کہتے ہیں لوگ تاکہ کوئی پھر اس کے خزانے کو ڈھونڈ نہ سکے۔ پر کیا یہ واقعی افواہ تھی؟

 

کیف:

میں ان سے پہلے خزانہ ڈھونڈ لوں گا اور پھر میں اس فکنگ جزیرے سے نکل جاؤں گا! ہاہاہا~

 

وہ ہنستے ہوئے آگے بڑھا۔ اس کا من ویر اور باقی سبھی کو چھیڑ رہا تھا۔ وہ چوتیوں کی طرح رولز فالو کرکے اندر بیٹھے ہوئے تھے اور یہاں وہ ان سب کے پہلے ہی خزانہ ڈھونڈ کے رفوچکر ہونے والا تھا۔

 

پنکی:

رررکو!!! کککیف، تم کہاں جا رہے ہو؟ کیا تم دوسری منزل پر جا رہے ہو؟ ر-رکو! ہم نے وہ ایریا چیک نہیں کیا۔ اااتنا اندھیرا ہے یہاں۔ ممجھے تم دکھائی نہیں دے رہے! اتنی تیزی سے مت جاؤ!!! ککککیف!!!

 

کیف تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے دوسری منزل پر جانے لگا۔ یہ وہ فلور تھی جسے ویر اور باقی سبھی نے مل کے چیک نہیں کیا تھا۔ کیونکہ پوری فلور اندھیرے میں ڈھکی ہوئی تھی۔ اوپر کوئی لائٹس نہیں تھیں۔ پنکی بیچاری اوپر چڑھ کے آ تو گئی پر اس کی آنکھیں اس اندھیرے میں اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔

 

اسے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا سوائے کھڑکیوں سے آتی آسمان کی تھوڑی بہت روشنی کے۔

 

پنکی:

کککیف؟؟؟

 

کیف کافی آگے نکل چکا تھا۔ ایک کوریڈور میں وہ جا کے گھس گیا۔ اس کا ماننا تھا کہ خزانہ ایسی ہی کسی جگہ میں ہوگا۔ اور وہ سبھی بیوقوفوں کی طرح نیچے ڈھونڈ رہے تھے۔

 

پنکی کی آواز اس فلور پر گونج اٹھی۔ پر کیف کا کوئی جواب نہ آیا۔

 

جب پنکی اپنے فون کی ٹارچ جلا کے تھوڑا آگے بڑھی تو اس نے دیکھا سامنے ایک کوریڈور موجود تھا۔ پر اس کے دوسرے چھور پر پورا  کا پورا گھپ اندھیرا تھا۔ کوریڈور کے اس طرف کیا تھا کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔

 

پنکی:

کیکیف!!! کک،کہاں ہو تم؟؟؟ جواب دو! کیا تم وہاں ہو؟؟؟

 

اس نے اندر جانے سے پہلے ایک بار پھر آواز لگائی۔ اس کا جی اب گھبرا رہا تھا۔ کیونکہ کیف کوئی بھی جواب نہیں دے رہا تھا۔

 

پنکی:

کککیف؟؟؟

 

اور تبھی،

 

*ششششلللننننگگگگ*

 

ایک آواز اس کے کانوں میں پڑی۔ آواز سامنے اس کوریڈور کے دوسرے چھور سے ہی آئی تھی جہاں سب کچھ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔

 

پنکی:

آ-آہہہ؟؟ کک-کیف؟ کیا وہ تم ہو؟؟

 

وہ سہمی سی آواز میں پکارنے لگی۔ لیکن ایک بار پھر، کیف کا کوئی جواب نہ آیا۔ سامنے ٹارچ مارتے ہوئے وہ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پر موبائل کی ٹارچ کی روشنی آخر کتنی دور تک جاتی؟

 

اور اگلے ہی پل،

 

*کلک*

 

اس کوریڈور کی اچانک سے لائٹس جل اٹھیں۔

 

پنکی:

ہ-ہہہ؟؟

 

پنکی کا منہ تعجب میں کھلا کا کھلا رہ گیا۔ کوریڈور کی دیواریں چٹک لال رنگ کے وال پیپر سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ اوپر ایک کے بعد ایک جھومر لٹکے ہوئے تھے جو روشنی سے جگمگا رہے تھے۔

 

کوریڈور کے باہر ہی دونوں طرف سپاہیوں کے زرہ بکتر خالی پڑے ہوئے تھے۔ پر سامنے۔۔۔۔

 

پنکی:

کککیفف؟؟ کیف میرے ساتھ مذاق مت کرو۔ میں ڈر رہی ہوں۔ جواب دو!!!

 

اچانک ہی سامنے کی طرف دھواں اٹھا۔ دھوئیں کا رنگ الگ تھا۔ اور سامنے پنکی کو کچھ نظر آیا۔ اندھیرے کے عین بیچوں بیچ۔۔۔۔

 

پنکی:

ہ-ہہ؟؟ کک-کیف؟؟ کیا وہ تم ہو؟

 

اس نے اپنی آنکھیں سکیڑتے ہوئے جیسے ہی دھیان سے دیکھا۔ پنکی کے جسم سے جیسے اس کی روح نکل گئی۔ بیچ میں جسے وہ کیف سمجھ رہی تھی۔ وہ کیف نہیں تھا۔ اس کے سامنے اس دھوئیں میں تھا

 

نائٹ واکر!!!

 

پر اس سے پہلے کہ وہ ردعمل دے پاتی، اس کے پیروں کی طرف کچھ اچھل کے لڑھکتا ہوا آیا۔

 

مانو جیسے کسی نے بڑی سی گیند پھینکی ہو۔ وہ جو بھی تھا، وہ لڑھکتے ہوئے آکے اس کی لمبی ننگی ٹانگوں سے ٹکرایا۔ پنکی کو پیر میں محسوس ہوا جیسے گیند پر بال لگے ہوئے تھے۔ اس نے کانپتے ہوئے اپنے پیروں کی طرف سر جھکایا اور جیسے ہی اس نے اپنے نیچے دیکھا۔ اس کی روح کانپ گئی اور پورا بدن ٹھنڈا پڑ گیا۔

 

آایئئئئئ ئئئئئئئئئ ئئئئئئئئئ”


وہ اتنی زور سے چیخی کہ اس کی آواز پورے مینشن میں گونج اٹھی۔

 

نیچے اس کے پیروں پر۔۔۔

 

جسے وہ گیند سمجھ رہی تھی وہ اصل میں گیند نہیں تھی۔ بلکہ۔۔۔۔

 

کیف کا دھڑ سے الگ کٹا ہوا سر تھا۔

 

کیف کی منڈی کی آنکھیں ایک دم کھلی تھیں اور ان آنکھوں کی پتلیاں پنکی کو ہی گھور رہی تھیں، جیسے مرتے وقت اسے پتا ہی نہیں چلا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ منہ کھلا، اور کٹے ہوئے گلے سے خون کی ندی بہہ رہی تھی۔ اندروکی نسیں اس کے گلے سے لٹک رہی تھیں۔

 

پنکی زور سے چیختے ہوئے وہاں سے پلٹی اور ہانپتے ہوئے پوری تیزی سے بھاگی، اس کے پیچھے ہی۔۔۔۔

 

*دھمم* *دھممم* *دھامم*

 

نائٹ واکنگ اپنا  ڈراونا  ماسک پہنے، چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ بھاری قدم اٹھاتے ہوئے دوڑتا ہوا اس کی طرف ہی آنے لگا۔ اس کا ہر بھاری قدم پورے فلور پر خوف پھیلا رہا تھا۔ جسے پنکی  اچھی طرح محسوس کر پا رہی تھی۔

 

پیچھے اس بڑے سے آدمی کو، اس خوفناک ماسک کو دیکھتے ہی پنکی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو چکے تھے۔ اس کا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا  مانو جیسے باہر ہی آ جائے گا۔

 

نہیںںںںںںںں~ ایئئئئ ئئئئئئئئ ئئئئئئئئ ئئئئئئئ”



وہ چلاتے ہوئے نیچے کی طرف بھاگی۔ پیچھے سے اسے نائٹ واکنگ کے بھاگنے کی آواز صاف صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ اس کے قریب آتا جا رہا تھا۔

 

*ششششلللننننگگگگ*

 

*کڑڑڑڑڑڑننننگگگگ*

 

نہ جانے کون سا ہتھیار لیا تھا اس نے۔ پر اتنا ضرور واضح تھا کہ اسی ہتھیار سے اس نے کیف کا سر دھڑ سے الگ کیا تھا۔ اور وہی ہتھیار وہ ہوا میں اندھا دھند پاگلوں جیسے چلاتے ہوئے اس کے پیچھے بھوکے جنگلی بھیڑیئے کی طرح آ رہا تھا۔ اسے مارنے۔۔۔

کسی بھی وقت اس کی موت اسے لینے آ سکتی تھی۔ پر وہ بھاگتی رہی۔ وہ فرسٹ فلور پر آئی وہی پینٹنگز والے ہال میں۔ اور وہاں سے نکلتے ہوئے اس کی جان حلق میں آ گئی۔ اسے پل بھر کے لئے ایسا لگا جیسے ہر ایک پینٹنگ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کی موت کا ننگا ناچ دیکھ رہی تھی جیسے وہ۔

 

آنکھیں بند کرکے، اپنی جان بچانے کی نیت باندھے وہ دوڑتے ہوئے اپنے کوریڈور کے لئے بھاگی، 

 

ایئئئئئئئئئ~” 

 

اور اس کی جیسے ہی یہ چیخ نکلی، مینشن میں سب کو سنائی دے گئی۔

 

ویر جو اپنے کمرے میں لیٹا ہوا مینشن کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ چیخ سنتے ہی اس کے من میں۔۔۔

 

 *ڈنگ

 

مشن: کیچ دی نائٹ واکنگ

ریوارڈز:

  1 ؟؟؟؟   پوائنٹس۔

 2 فیم پوائنٹس۔

 

ٹائم لمٹ: بیفور 6 اے ایم۔

مشن فیلئر پینلٹی: 4000 پوائنٹس ڈیڈکشن۔ 

 

وہ  فوراً   ہی اٹھ کے بیٹھ گیا۔

 

پری!!!’ 

 

پری:

رائٹ! سم تھنگ  ہیپنڈ  ماسٹر!! 

 

ویر نے سر ‘ ہاں’  میں ہلایا اور فوراً ہی وہ اٹھ کے باہر آیا۔ باہر آتے ہی اس نے اپنے دائیں بائیں نظر ڈالی تو دیکھا کہ  نیکول اور کینوز بھی چیخ سن کے کمرے کے باہر آ چکے تھے۔

 

تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کرہامی بھری اور بنا کچھ کہے ہی،  وہ لیفٹ والے کوریڈور کی طرف بھاگے۔ جہاں باقی سبھی ٹھہرے ہوئے تھے۔

 

دوڑتے ہوئے وہ جیسے ہی ان کے کمروں تک پہنچے تو پایا کہ روکی، گروک، روش تینوں ہی کمرے کے باہر تھے۔

 

نیکول:

واٹ ہیپنڈ؟

 

گروک:

ڈڈنٹ یو ہئیر دی اسکریم؟

 

نیکول:

وی آل ہرڈ  اِٹ۔ دیٹس وائے وی کیم ٹو چیک۔

 

کینوز:

وئیرز  پنکی؟؟؟

 

کینوز کے پوچھنے پر ان سبھی نے پنکی کا کمرہ چیک کیا تو پایا کہ پنکی کا کمرہ کھلا ہوا تھا۔ اندر کوئی بھی نہیں تھا۔ اور کمرہ صرف اندر سے ہی لاک ہو سکتا تھا۔

 

گروک:

شِٹٹٹ!!! شیز ناٹ ہئیر! وئیر ڈڈ شی گو؟؟ وی شُڈ موو  اینڈ چیک آؤٹ۔

 

تبھی روش پیچھے سے بھاگتا ہوا آیا، 

 

روش:

گگ-گائز!!! *ہف* *ہف* کیف ٹو!! کیف ازنٹ ان ہِز روم۔

 

نیکول:

ڈیمن اٹ!!!! ویر؟

 

نیکول نے ویر کو دیکھا۔ ویر اشارہ سمجھ چکا تھا۔ نیکول چھان بین کرنے کے لئے کہہ رہا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page