Raas Leela–32– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -32

دو منٹ میں ہی ایّنا “میں گئی، گئی، گئئئئئئئئ” کہتی ہوئی جھڑ گئی۔ 

میں ایّنا کی کمر کے اوپر ذرے ذرے پر اپنے ہونٹوں سے مہر لگا کر اس پر اپنی ملکیت کا اعلان کرنے لگا۔

اب میرے سامنے ایّنا کا گورا، چکنا، بل کھاتا گداز پیٹ تھا۔ میں نے اس کی ناف میں اپنی زبان گھسا دی تو اس کی پتلی کمر بل کھانے لگی۔ 

اس کے بعد اس کی رانوں کے جوڑ کے پاس ایّنا کی پاو بھاجی کے مانند ابھری ہوئی، شیو کی ہوئی سفید تازہ پھدی دیکھ کر میرا منہ کھل گیا۔ میں آہستہ آہستہ نیچے آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں میں اس کے چوتڑ پکڑ کر خود ہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ 

میرے سامنے جیسے ہی ایّنا کی جان لیوا پھدی آئی، میرا جسم جھنجھنا گیا۔ ایسی مدہوش پھدی دیکھ کر میرا خون کلانچھے مارنے لگا۔ 

میں نے اس کی پھدی کی نازک پھنکیوں کو الگ کرنا شروع کیا اور وہاں ایک چوما  دیا۔ 

وہ اور زیادہ چاہنے والی کی طرح مچلنے لگی۔ میں نے آخر میں اپنی گرم زبان اس کی پھدی کے چاروں طرف گھماتے ہوئے اس کی پھدی کے ہونٹوں کو چھیڑتے ہوئے اس کی کلین شیو پھدی کے اندر گھسا دی، اور میں نے اس کے کنوارے پن  کو اندر تک محسوس کیا۔ 

یہ میرا اس کے کنوارپن  کی  پہلی اور آخری سکنگ تھی۔ 

میری زبان اس کے دانے پر پہنچ گئی۔ اس کا دانا بڑا اور سخت تھا اور میں نے انگلیوں اور زبان سے اسے چھیڑنا شروع کر دیا، جس سے ایّنا کے پاؤں کانپنے لگے  تھے اور اُس میں سے جان جیسے نکل رہی تھی ۔ میں نے اس کے دانے کو اتنی زور سے مسلا کہ اس کا پانی چھوٹ گیا اور اس کے منہ سے زور کی چیخ نکل گئی۔ 

جلد ہی وہ اپنے ارگیزم  کو کنٹرول نہ کر پائی اور میرے منہ میں  ہی جھڑگئی۔ ایّنا کی عشق کی غار سے پانی کا سیلاب نکل آیا، جس میں میری ساری انگلیاں اور زبان بھیگ گئی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے اندر سے کوئی جھرنا پھوٹ پڑا ہو۔ اس کے پھدی کے رس کا ذائقہ نمکین تھا، لیکن مجھے امرت جیسا لگا۔ میں نے ہر بوند کو چاٹ لیا۔ میں  اپنے ہونٹوں  کو پھیرتے اور زبان کے ساتھ ہر بار چاٹتے وقت اس کے دانے  پر ایک چوسا مارتا رہا ۔ 

میں نے اسے پول کے پاس اندھیرے میں لٹا دیا۔ میں نے دیکھا کہ اس کے پورے جسم پر ہر جگہ پانی کی بوندیں چمک رہی تھیں اور اس کی آنکھیں بند تھیں، اس کی چھاتی بھاری سانسوں کی وجہ  پھولنے اور پچکنے سے اُس کے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ وہ میرے بڑے لنڈ کو پکڑ کر اپنی پھدی کے پاس لے آئی اور بولی

ایّنا: “دیپک، پلیز کرو ناں۔ اب رہا نہیں جاتا۔”

میں نے کہا: “کیا کروں؟” 

تو وہ بولی، “دیپک، پلیز فک می ناؤ!” 

میں نے دیکھا کہ اس کے ماتھے پر کچھ پانی کی بوندیں ہیں۔ میں نے آہستہ آہستہ اس کے جسم سے پانی کی وہ ساری بوندیں چاٹ لیں۔ 

اور میں نے اس کے پاؤں کے بیچ میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ یہ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ ایّنا کی پھدی مسلسل پانی  خارج کر رہی تھی۔ 

ہم اب تیار تھے۔ اس نے سر ہلایا کہ اب کنوارپن کھونے کا وقت آ گیا ہے۔ میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ میں جتنا ممکن ہو سکے آرام سے کروں گا۔ میں نے اس کے پاؤں الگ کیے اور بیچ میں آ گیا۔ 

تھوڑی دیر تک لنڈ کو اس کی پھدی پر رگڑنے کے بعدزور دیا تو لن آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے اندر جانے لگا۔ تقریباً ٹوپے کا آگے والا جلد کا حصہ   آسانی سے چلا گیا، لیکن اب اس کی کنواری پھدی  کا ٹائٹ چھلا یعنی سوراخ کی تنگی  ایک رکاوٹ تھی۔ میں نے اس کا منہ اپنے منہ سے بند کر دیا اور اپنا لنڈ اس کی پھدی کے اندر پوری طاقت سے دھکیل دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کا دانا  میرے لنڈ کے  ٹوپے کے ساتھ غبارے کی طرح کھنچ گیا اور اسے درد ہونے لگا تھا۔ 

میں نے ایک زوردار دھکا مارا اور ایّنا چیخ پڑی، “آآآآآہ!”

لیکن میں تیار تھا، میں نے اپنے ہونٹوں سے ایّنا کے ہونٹ بند کر دیے تھے۔ “فچاک” کی آواز کے ساتھ اس کی گیلی چکنی پھدی کے تنگ سوراخ کو پھیلاتا ہوا، یا یوں کہیے چیرتا ہوا، میرے لنڈ کا بڑا گول ٹوپا اندر داخل ہو گیا۔

“آآآآہ!” ناقابل برداشت درد سے ایّنا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

چند سیکنڈ رکنے کے بعد میں نے پھر ایک دھکا مارا،

 “اوہہہہ ماں! مر گئی رے!”

میں نے اپنا منہ اس کے منہ سے ہٹا کر جھٹ سے ایک ہاتھ سے اس کا منہ بند کیا اور بولا:  “پلیز خاموش رہو ایّنا، کہیں کوئی گارڈ تمہاری چیخ سن کر نہ آ جائے۔

وہ گوں گوں کرتی بولی، “بہت درد ہو رہا ہے، مر جاؤں گی۔”

میں اُس کے ہونٹوں پر پھر سے جھک گیا اور اُس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگا۔تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں کسنگ کرنے میں مگن ہوگئے ۔ 

اس نے میرے ہونٹ کاٹنے شروع کر دیے، میں نے اسے صبر کرنے کا اشارہ دیا۔ وہ ڈر اور درد کی وجہ سے مجھے مضبوطی سے گلے لگا رہی تھی۔ کچھ آنسو اس کے گلابی گالوں پر لڑھک گئے۔ لیکن وہ مضبوط اور پرجوش تھی۔ 

میں بولا، “ایّنا، تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ تم بس میرے لنڈ کا کمال محسوس کرو اور دیکھو، ابھی یہ تمہاری پھدی میں تھوڑا ہی  گھسا ہے۔ بس تھوڑا برداشت کر لو، بس ایک دھکا اور، اب یہ دیکھنا کہ تمہیں کتنا مزہ آئے گا،

ہوں!۔۔آآآہہہہ!” اس کی چیخ گھٹ کر رہ گئی۔ اور میں نے ایک اور زوردار دھکا مار دیا۔ 

اور آخر میں، میں نے ایک بار اپنا لنڈ پیچھے کھینچ کر پوری طاقت سے ایک اور دھکا دیا اور میرا لنڈ اس کی پھدی کو چیرتا ، اُس کے کنوارے پن کے پردہ برکات کو توڑتا ہوا اس کی پھدی میں سما گیا، لیکن ابھی بھی لنڈ تقریباً 2 انچ باہر تھا۔ اب وہ لڑکی سے عورت بن گئی تھی۔ 

اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، سانس جیسے رک گئی، میرا پورا لنڈ کسی خنجر کی طرح ایّنا کی پھدی کو ککڑی کی طرح چیرتا ہوا جڑ تک سما گیا تھا، یا یوں کہیے کہ گھس گیا تھا۔ کچھ پل میں اسی حالت میں رکا، ایّنا کا کنوارپن تار تار ہو چکا تھا۔ میں نے قلعہ فتح کر لیا تھا۔ میں نے خوشی اور فاتحانہ انداز میں آہستہ سے اپنا لنڈ باہر نکالا، اس کی پھدی سے تھوڑا سا خون نکلا۔ ایّنا کو پل بھر کے لیے سکون کی سانس لینے کا موقع ملا، مگر میرے لنڈ کو  تو جیسے خون کا ذائقہ لگ گیا تھا۔  وہ جھٹکے مارنے لگا تو میں نے خون سے سنا لنڈ پوری طاقت سے دوبارہ ایک ہی بار میں “بھچ” سے ایّنا کی پھدی کے اندر جڑ تک ٹھونک دیا۔

آہہہہہہہہ۔۔میں اس سکھ کا بیان نہیں کر سکتا جو مجھے ملا جب میرا لنڈ اس کی نرم، نم اور ملائم پھدی کے اندر گھس رہا تھا۔

پھر میں نے اسے تھوڑا آرام دیا اور اس کی پھدی کو میرے لنڈ کی لمبائی اور چوڑائی کے ساتھ ایڈجسٹ کیا۔ اس کے آنسو خشک ہو گئے۔ اس دوران ہم دونوں کسنگ کرتے رہے اور ساتھ ہی میں اس کے مموں اور نپلوں سے کھیلتا رہا۔ اس کے بعد، میں نے اس کی کسی ہوئی پھدی میں بہت نرمی سے لیکن گہرے دھکے لگانے شروع کر دیے۔ میں کچھ دیر یوں ہی کرتا رہا۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page