Raas Leela–34– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -34

میں: “اوہ! میری جان، جیسا تم کہو۔”

پھر میں ایّنا کو گود میں لیے اٹھ بیٹھا۔ بیٹھنے سے لنڈ پھدی  میں اور دھنس گیا۔ اس کے بعد میں ایّنا کو اسی طرح لنڈ پر بٹھا کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے ایّنا کو اٹھا کر گود میں بٹھا لیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے چوتڑوں  کو تھام لیا۔ ایّنا نے اپنی دونوں ٹانگیں میری گود میں چڑھا کر میری کمر پر قینچی کی طرح لپیٹتے ہوئے، مجھ سے کس کے لپٹتے ہوئے، کراہتے ہوئے، زور سے سسکاریاں لیتے ہوئے، میرے کندھوں پر میٹھے درد کے مارے آہیں بھرتے ہوئے مجھے چومتے اور چوستے ہوئے میرے بڑے لنڈ پر اپنی رس ٹپکاتی پھدی رکھ کر بیٹھتی چلی گئی۔ لنڈ پھسلتا ہوا پھدی  کی گہرائی کے آخری کنارے پر جا ٹکرایا، کیونکہ ایّنا کے مخملی جسم کا پورا بوجھ اب صرف میرے لنڈ پر تھا۔ اتنی گہرائی تک لنڈ اب پہلی بار گھسا تھا۔ ہم دونوں کافی دیر تک ان اندرونی ان چھوئی جگہوں کو پہلی بار چھو کر اس کے مزے  میں کھو گئے۔ 

میں پول کے کنارے ایّنا کو اس کے چوتڑوں سے پکڑ کر اپنی کمر تک اٹھائے، اس کی رس بھری پھدی  میں اپنا لنڈ گھسیڑے، اس کی پھدی  کی مخملی اندرونی نرم نرم انتہائی گہرائی کا بے پناہ مزہ لیتا ہوا کھڑا تھا۔ اسی طرح ایّنا میری کمر میں اپنے پاؤں لپیٹے میرے لنڈ پر بیٹھی، کس کے لپٹی ہوئی پورے لنڈ کا دباؤ اپنی پھدی کے آخر میں محسوس کرتے ہوئے کراہ رہی تھی۔ 

کچھ دیر اسی طرح لنڈ ،پھدی  کے ملن کے مزے میں کھوئے رہنے کے بعد میں چلنے لگا۔ چلنے سے لنڈ ادھر ادھر ہل رہا تھا، جس سے ایّنا بار بار چیخ چیخ کر “ہائے ہائے” کرنے لگ جا تی تھی۔ پول کا پورا چکر تقریباً 100 میٹر کا تھا۔ 

میں ایّنا کو اپنی گود میں بٹھائے پول کے چاروں طرف چلنے لگا۔ چلنے سے لنڈ پھدی  کی گہرائی میں اچھے سے ٹھوکریں مارنے لگا۔ ایّنا سسک سسک کے بد حواس ہو گئی۔ اسے اپنی پھدی کی گہرائی میں گدگدی سی ہونے لگی۔ ایک بار تو ایسا لگا کہ وہ تھرتھرا کر جھڑ ہی جائے گی،

 تو اس نے مجھ سے کہا، “اووووووہہہہہ۔۔ پلیز دیپک، تھوڑا رکو۔”

میں رک گیا۔ ایّنا مجھے کس کے پکڑ کر سسکتے ہوئے اپنی رانوں کو بھیچتے ہوئے خود کو جھڑنے سے روکنے لگی۔ میں پھر چلنے لگا اور جہاں سے چلا تھا، وہیں واپس پہنچا اور دونوں نیچے بیٹھ گئے، پھر پھدی میں ہی لنڈ ڈالے ہوئے دونوں لیٹ گئے۔ 

اس کی پھدی کے اندر میرا لنڈ ڈالے ہوئے ہی 6 بار رول ہوئے، پلٹے اور دونوں پول میں گر گئے۔ اس رولنگ کے دوران بھی میرا لنڈ اس کے اندر اور باہر ہوتا رہا اور ہمارے گرنے کے وقت ایّنا نے ایک بار پھر میرے لنڈ پر زور سے کراہتے ہوئے اپنی پھدی کا رس چھوڑ دیا۔ 

میں نے ایّنا کو اب پانی کے اندر ہی لنڈ اندر رکھتے ہوئے گود میں اٹھا لیا اور میں پانی میں چلتے ہوئے دوسرے کنارے پر پہنچ گیا۔ وہ بھاری سانس لے رہی تھی اور زور زور سے کراہ رہی تھی۔ مجھے ایک بار پھر لگا کہ کہیں گارڈ نہ آ جائے۔ 

جیسے جیسے میں پول کے کونے پر پہنچا، میں نے اسے اٹھا لیا اور اسے پول کے کونے میں سیڑھی کے پاس کھڑا کر دیا اور اپنے لنڈ کو پھر سے اس کی پھدی کے اندر اور باہر کرنا شروع کر دیا۔ 

ایّنا مزے  میں کھوئی ہوئی بلکل مدہوش ہورہی تھی، اس کی آنکھیں لال تھیں اور کچھ اور زور لگانے کے بعد میں نے اپنی منی اس کی پھدی کے اندر خارج کر دی، جبکہ اس کا منہ میں نے اپنے منہ سے بند کیا ہوا تھا۔ 

پھر میں نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا اور اسے گلے سے لگا لیا۔ 

تبھی میں نے دو گارڈوں کو یہ کہتے سنا، “دیکھو یہاں فرش پر ایک پینٹی اور برا پڑی ہے۔”

دوسرے نے کہا، “یہاں مرد کا لوئر سوئم ویئر بھی پڑا ہوا ہے، لگتا ہے کوئی بھول گیا ہے یا یہاں کوئی ہے؟”

 دوسرے نے جواب دیا، “ٹھیک ہے، ہم چینج روم میں ایک بار چیک کر لیتے ہیں۔”

اور دونوں وہاں سے چلے گئے۔ 

میں ننگے ایّنا کو اٹھا کر پانی سے باہر نکلا اور پول کے پاس اندھیرے والے علاقے میں لٹایا۔ ایّنا کی آنکھیں بند تھیں۔ میں جھکا اور اس کے شاندار ہونٹوں پر چوما۔ اس نے اپنی آنکھوں کو آدھا کھولا اور ایک مسکراہٹ دی اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے مموں پر رکھا۔ میں اس کے پاس کچھ دیر تک بیٹھا رہا ۔

میں نے   اس کے کان میں آہستہ آواز سے  پوچھا، “کیا ہم چلیں؟”

 اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا کہ چلو میرے کمرے میں چلتے ہیں۔ 

ایّنا اٹھی اور اس نے چینچنگ روم  کی طرف رخ کیا۔ تو اچانک وہ مڑی اور میری طرف واپس دوڑ کر آئی اور میرے ہونٹوں کو کس کرنے لگی۔

پھر اینا  بولی، “شکریہ پیارے، میں یہ گزرے ہوئے پل  کبھی نہیں بھولوں گی، آئی لَو یو۔”

 وہ پھر سے کپڑے بدلنے کے کمرے کی طرف چلنا شروع ہوئی۔ میں بھی کھڑا ہوا۔ اس وقت ہم دونوں مکمل ننگے اور بے شرم تھے اور اپنی ننگی حالت کے بارے میں بالکل فکرمند نہیں تھے۔ وہ میرے آگے تھی اور مجھے اس کے چوتڑوں  کو اوپر نیچے ہلتے دیکھنے میں بہت مزہ آیا۔ اس کے چلتے ہی میرا لنڈ پھر سے سخت ہو گیا۔ 

اس بار میں محتاط تھا اور میں نے چینجنگ روم میں جانے سے پہلے سوئمنگ گاؤن لیا اور سیکیورٹی گارڈز کے پاس پہنچا۔ وہاں صرف ایک گارڈ تھا، وہ مجھے دیکھ کر حیران ہوا۔ میں نے پانچ سو کے دو نوٹ اسے دیے اور اس سے کہا کہ کم از کم ایک گھنٹے کے لیے پول بند نہ کرے، ہم اس کے بعد چلے جائیں گے۔ 

اس کے بعد میں نے لیڈیز چینج روم میں داخل ہوا، دروازہ بند کر کے لاک کر دیا اور دیکھا کہ ایّنا ابھی بھی ننگی تھی اور وہ ہئیر ڈرائر سے اپنے بال خشک کر رہی تھی۔ میں اس کے پیچھے کھڑا تھا اور اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی پیٹھ میری طرف تھی اور وہ نیچے جھکی اور اپنی پھدی میں کولڈ کریم لوشن لگانے لگی۔ اس کے آم لٹک رہے تھے اور اس کی پھدی مجھے اس کی رانوں کے بیچ سے دکھائی دے رہی تھی۔ اس منظر نے مجھے دھماکے سے پھدی میں داخل ہونے کی دعوت دی۔ 

میں نے اپنا گاؤن پھر سے اتار دیا اور ننگا ہو گیا۔ میں نے انتظار کیا کہ وہ مجھے دیکھ لے۔ میرا لنڈ پوری طرح سخت تھا۔ میں نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور اس کے اوپر جھک کر اسے چھوا۔ اسے نیچے جھکے ہوئے دیکھ کر میں نے ایک ہاتھ سے اس کی گردن پکڑی اور دوسرے ہاتھ سے اس کے چوتڑ پکڑتے ہوئے اپنا لنڈ اس کی پھدی میں پیچھے سے ڈال دیا۔ اس اچانک لنڈ کے گھسنے کے جھٹکے   سے اس کا جسم نیچے کو جھک گیا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن میں نے اسے ایسا کرنے نہ دیا اور مسلسل اس کی رانوں کو اپنی رانوں سے ٹکراتا رہا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page