Talash E Zeest-26-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 26

رینو: راجہ، وہ سامنے کیا ہے؟  

راجہ: رینو، کہاں کیا ہے؟ 

میں نے رینو سے پوچھا تو رینو مجھے سامنے سمندر کی طرف اشارہ کرنے لگی۔ 

میں نے رینو کے اشارے سے اس طرف دیکھا تو آگے بہت دور سمندر میں مجھے سمندر کے پانی پر کچھ ہلتا ہوا سا دکھا۔ میں اسے غور سے دیکھنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں وہ دکھنے والی چیز کچھ بڑی دکھائی دینے لگی۔ اور پھر جیسے ہی مجھے سمجھ آیا کہ وہ کیا ہے تو۔۔ 

راجہ: رینو، جنگل کی طرف بھاگو۔ یہ ایک موٹر بوٹ ہے، جو روز ہی آئی لینڈ کا چکر لگاتی ہے۔ سنجے، تم بھی بھاگو۔ کہیں وہ ہم تک نہ پہنچ جائیں۔ 

سنجے: راجہ، اب مجھ سے نہیں چلا جائے گا۔ میں گر جاؤں گا۔ 

راجہ: سنجے، پاگل مت بنو۔ وہ بوٹ کچھ ہی دیر میں ہم تک پہنچ جائے گی۔ ہمارا فوراً ہی جنگل میں جانا ضروری ہے۔ 

رینو: راجہ، سنجے کو ایک بار پھر سے اٹھا لو۔ اس سے نہیں چلا جائے گا۔ 

رینو کی بات سن کر میں اندر ہی اندر ہسنے لگا۔ اب میں دونوں کو اٹھا کے چل تو سکتا تھا، بھاگوں کیسے؟ لیکن پھر سوچنا چھوڑ کر جیسے تیسے کر کے سنجے کو اٹھا لیا۔ اور جنگل کی طرف بھاگنے لگا۔ رینو بھی میرے پیچھے پیچھے بھاگی۔ 

ابھی ہم کچھ ہی دور بھاگے تھے کہ آئی لینڈ کی خاموشی کو مشین گن کی گولیوں کی آواز نے توڑ دیا۔۔ 

تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ تڑ۔۔ 

رینو چیختے ہوئے نیچے گر پڑی۔  کیونکہمشین گن کی گولیوں کی آواز سے رینو گھبرا گئی تھی۔ بھاگتے ہوئے وہ لڑکھڑائی اور گر پڑی۔ ہم ابھی گولیوں کی رینج سے بہت دور تھے۔ گولیوں کی آواز تو ہم تک پہنچ ہی گئی تھی، لیکن مشین گن کی گولیاں ہم تک پہنچ پانے میں ناکام رہیں۔   رینو کی چیخ سنتے ہی میں نے پلٹ کر دیکھا۔ 

راجہ: رینو، تم ٹھیک ہو نا؟ 

رینو: ہاں راجہ، میں ٹھیک ہوں۔ 

رینو فوراً ہی اٹھی اور ہم پھر سے  جنگل کی طرف بھاگنے لگے۔ ہمارے پیچھے مشین گن کی گولیوں کی آوازیں گونجنے لگ گئی تھیں۔ آواز سے تو لگ رہا تھا کہ غنڈے زیادہ نہیں ہیں۔ شاید تین یا چار ہوں گے۔ کچھ ہی دیر میں ہم جنگل کے اندر تھے۔ سنجے اس بیچ چیختا رہا تھا۔ لیکن میں سنجے کے لیے کر ہی کیا سکتا تھا؟ بھاگنے کی وجہ سے سنجے کا کندھا اور بھی درد کرنے لگا تھا۔ میں بھی بھاگ کر تھک گیا تھا۔ میں نے پیچھے مڑ کر بوٹ کی طرف دیکھا تو وہ ابھی بھی بہت فاصلے پر تھی۔ اس کا رخ ساحل کی طرف تھا۔ وہ بھی ہمارے پیچھے ہی جنگل میں گھسنے والے تھے۔ 

رینو: (پھولے ہوئے سانس سے بولی) راجہ، انہوں نے ہمیں دیکھ لیا ہے۔ اب کیا ہوگا؟ ہم کہاں جائیں گے؟ 

راجہ: رینو، تم ٹینشن مت لو۔ جب تک میں زندہ ہوں، کسی کو کچھ نہیں ہونے دوں گا۔ 

اتنا بول کر میں نے جنگل کی طرف دیکھا۔ اب کہاں جاؤں؟ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ جنگل کے اندر بھی خطرہ تھا اور باہر بھی۔ اپنے زخمی  ہو چکے دوستوں کی فکر نہ ہوتی، یا پھر وہ ٹھیک ہوتے تو کچھ بھی کیا جا سکتا تھا۔ لیکن میں یہاں اکیلا تھا اور میرے ساتھ تین ایسے تھے جو میری کچھ بھی مدد نہیں کر سکتے تھے۔ 

راجہ: رینو، چلو اندر کی طرف۔ ہمیں جنگل میں جا کر کہیں چھپنا ہوگا۔ ورنہ ہم مارے جائیں گے۔ 

رینو: ہاں چلو راجہ۔۔ 

رینو ڈر گئی تھی۔ اس سے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔ اب تو رینو کے لیے بھی ٹینشن بڑھ گئی تھی۔ رینو کے سر کے بال چھوٹے تھے، لیکن اب رینو پوری لڑکی ہی دکھ رہی تھی۔ اور جنگل میں ایک لڑکی کے لیے ٹینشن زیادہ ہوتی ہے۔ جان سے زیادہ خطرہ عزت کا بن جاتا ہے۔ اور یہ آئی لینڈ جنگلی اور انسانی درندوں سے بھرا پڑا تھا۔ ہم جنگل کے اندر ہی بیچ میں جانے کی بجائے آگے بڑھنے لگے، جدھر سے بوٹ آئی تھی۔ شاید کچھ تکا لگ جائے اور ہم بچ جائیں۔ بوٹ میں کتنے غنڈے تھے، ہم نہیں جانتے تھے۔ لیکن ان کے پاس مشین گنیں تھیں، اور مشین گن جس کے پاس ہو وہ اکیلا ہی دس کے برابر ہوتا ہے۔ دس منٹ ہی ہم چلے ہوں گے کہ جنگل کے اندر سے ہمارے پیچھے گولیوں کی آواز سنائی دی، اور ساتھ ہی ایک شیر کے دھاڑنے کی آواز بھی سنائی دینے لگی تھی۔  

رینو: ررر۔۔ رر۔۔ راجہ۔۔ ش۔۔ ش۔۔ شیررررر۔۔ 

راجہ: رینو، میرے ساتھ بھاگو۔ ہمیں تھوڑا آگے جا کر جنگل سے نکل جانا چاہیے۔ ورنہ ہم جنگل میں ہی مارے جائیں گے۔ 

ہمارے پیچھے گولیوں کی اور شیر کے دھاڑنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ لیکن ہم بھاگ رہے تھے۔ جتنا ہو سکتا تھا، میں پھر سے اپنا دم لگا کر بھاگ رہا تھا۔ اب یہاں دھیرے دھیرے چلنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ شیر اور غنڈوں سے بچ پانا مشکل ہو گیا تھا ہمارے لیے۔ کچھ دور جا کر ہم جنگل سے باہر نکلنے لگے، اور پھر جلد ہی ہم جنگل کے کنارے پر تھے۔ میری سانس پھول چکی تھی، اور رینو کی سانس کی آواز بھی مجھے سنائی دے رہی تھی۔ 

راجہ: رینو، ایک ناریل کو چھری سے کاٹ کر پانی نکالو۔ 

رینو پھولے سانس سے ہی ناریل کو کاٹنے لگی۔ میں نے دونوں کو ابھی بھی اٹھایا ہوا تھا۔ ایمرجنسی میں بھاگنا بھی پڑ سکتا تھا۔ رینو نے ناریل میرے منہ سے لگا کر مجھے پانی پلایا۔ کچھ خود پیا۔ میری حالت کچھ بہتر ہوئی۔ 

راجہ: سنجے، تم ٹھیک ہو؟ 

سنجے: ہممم۔۔ ہہ۔۔ ہاں۔۔ راجہ۔۔ 

راجہ: رینو، سنجے کو دیکھنا۔ وہ ٹھیک ہے نا؟ 

رینو نے سنجے کا چہرہ دیکھا۔ 

رینو: راجہ، سنجے لگتا ہے درد سے بے ہوش ہونے والا ہے۔ 

راجہ: تم ذرا سامنے کی طرف نظر کر کے دیکھو۔ بوٹ یہاں سے دکھ رہی ہے؟ 

رینو دس فٹ کے فاصلے سے باہر دیکھنے لگی۔ 

رینو: (وہیں سے) راجہ، بوٹ مجھے دکھ رہی ہے۔۔ اور۔۔ 

راجہ: رینو، اور کیا؟ 

رینو: بوٹ میں کوئی دکھ نہیں رہا۔ پر ساحل پر ایک بندہ دکھ رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں گن ہے۔ 

رینو کی بات سن کر میں بھی آگے بڑھا اور وہیں دیکھنے لگا جہاں رینو دیکھ رہی تھی۔ مجھے بھی بوٹ میں کوئی نہیں دکھا اور ساحل پر ایک بندہ کھڑا جنگل کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ شاید وہ اپنے ساتھیوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ ہمیں نہیں دیکھ سکتا تھا، لیکن ہم اسے صحیح سے دیکھ پا رہے تھے۔ اب گولیوں کی آواز بھی بند ہو گئی تھی۔ شیر کے دھاڑنے کی آواز ابھی بھی سنائی دے رہی تھی۔ لگ تو ایسے رہا تھا جیسے شیر زخمی ہو۔

راجہ: رینو، پیچھے جنگل میں بھی دیکھتی رہنا، کہیں ہم آگے دیکھتے رہ جائیں اور کوئی ہمارے پیچھے سے آ جائے۔ 

رینو: ٹھیک ہے راجہ۔۔ 

پانچ منٹ گزرے، نہ گولیوں کی آواز آئی اور نہ ہی جنگل میں گھسے غنڈے باہر نکلے۔ یہ بڑی ٹینشن والی بات تھی۔ 

بوٹ کو دیکھ کر میرا من ڈانواں ڈول ہونے لگا تھا۔ ایک دل تو کہہ رہا تھا کہ بوٹ ہمارے لیے بہت غنیمت ہے، لیکن پھر میں سب کو رسک میں بھی نہیں ڈال سکتا تھا۔ سنجے اور ظہیر ٹھیک ہوتے تو میں یہ رسک ضرور لیتا، لیکن اس صورت میں میں کیسے رسک لیتا؟ بوٹ سے ہم جلد ہی یہاں سے فرار ہو سکتے تھے۔ اور سنجے اور ظہیر کے لیے بوٹ کا ہونا بھی ضروری تھا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page