کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔
ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ، ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔
نوٹ : ـــــــــ اس طرح کی کہانیاں آپ بیتیاں اور داستانین صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ساری رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی تفریح فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے دھرایا جارہا ہے کہ یہ کہانی بھی صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔
تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
ہوس اور تشنگی قسط -- 21
پائل پھر اپنی مدمست ہو چکی آنکھوں سے ساحل کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی،
پائل: (مدہوشی بھری لڑکھڑاتی آواز میں) ساحل، اوہ تینوں کدا لگ رہا ہے۔ مزہ آ رہا ہے نا؟
ساحل بغیر کچھ بولے ہاں میں سر ہلا دیتا ہے ، اور پائل پھر سے اس کے ہونٹوں کو اپنے نپل پر لگا دیتی۔ ساحل بھی بغیر ایک پل رُکے اس کے ممے کو منہ میں بھر لیتا۔
پائل: “آہہہہہہ۔۔ اوہہہہہ۔۔ ساحل چوس پتر، ہاں پورا کھا جا اپنی چچی دے ممے، سیی ہائے اوئے تُوں تاں بہت ودیا ممے چوسدا ہے۔”
پائل کی سسکیاں پورے روم میں گونجنے لگی تھیں۔
اب پائل سے برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اس کی چوت نے بھی اپنے پیار کے موتیوں کو چوت کے سوراخ پر لا دیا تھا۔ پائل نے پھر سے اپنے ہاتھوں میں ساحل کے سر کو پکڑ کر اوپر اٹھایا۔ پائل کے ممے کا نپل کھنچتے ہوئے پک کی آواز سے ساحل کے منہ سے باہر آ گیا۔
پائل: (سسکیاں لیتے ہوئے) ساحل، میری لینی ہیں۔
اس بار ساحل کو اپنی چچی کی بات کا مطلب پتہ تھا۔ اس نے بھی کانپتے ہوئے اپنے سر کو ہاں میں ہلا دیا۔ پائل کے ہونٹوں پر ہوس اور تشنگی سے بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو نیچے لے جا کر ساحل کی کمر سے تولیہ ہٹا کر روم کے اندر کی طرف پھینک دیا۔
پھر پائل نے اپنی ٹانگوں کو پورا کھول کر پھیلا دیا اور ساحل کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے، اسے پیچھے کی طرف اٹھاتے ہوئے، اسے گھٹنوں کے بل بیٹھا دیا۔ ساحل اپنی آنکھوں کو پھاڑے، چچی کی رانوں کے بیچ اس چیز کو دیکھ رہا تھا جسے دیکھنے کی خواہش اس کے دل میں کب سے پل رہی تھی۔
ایک دم کالے اور گھنے بالوں سے بھری ہوئی چوت۔ ساحل کا تو دیکھ کر ہی برا حال تھا۔ عجیب سی خوشی کی وجہ سے اس کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔ پائل نے ساحل کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا،
پائل: “اپنی چچی دی پھدی مارے گا؟”
ساحل نے اپنی نظریں چچی کی چوت سے ہٹا کر پائل کے چہرے کی طرف دیکھ کر ہاں میں سر ہلا دیا۔
پائل: آ جا میرے شیر پتر، مار لے اپنی چچی دی پھدی۔
ساحل کو کیا پتہ کہ چوت کیسے ماری جاتی ہے۔ ساحل ویسے ہی بت بنا ہوا بیٹھا تھا۔ پائل بھی اس بات سے ناواقف نہ تھی۔ اس نے مسکراتے ہوئے، اپنی ٹانگوں کو گھٹنوں سے موڑ کر اوپر اٹھایا اور پھر اپنی رانوں کو دونوں طرف پھیلا دیا، جس سے پائل کی چوت کے پھانک جو پہلے آپس میں جڑے ہوئے تھے، ایک دم سے کھل گئے، اور ساحل کو پھانکوں کے اندر گلابی سورخ دکھائی دینے لگا۔
پائل جانتی تھی کہ ساحل یہ پہلی بار کر رہا ہے، اس لیے وہ اپنے آپ کچھ نہیں کر پائے گا۔ اس نے ساحل کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی چوت کے پھانکوں پر لے آئی اور اپنی چوت کے پھانکوں کو پھیلاتے ہوئے، اپنی چوت کا گلابی سوراخ ساحل کی آنکھوں کے سامنے کر دیا۔
پائل کی چوت کا سوراخ پائل کی چوت سے نکلے چکنے پانی سے لبالب بھرا تھا اور کبھی سکڑتا اور کبھی پھیلتا، جس سے اس کے چوت کا پانی اوس کی بوندوں کی طرح چوت کے سوراخ سے باہر بہنے لگتا۔
پائل: “آہہہہہہ۔۔ دیکھ پتر، تیری چچی دی پھدی۔ تینوں اس دے وچ سوراخ دکھائی دے رہا ہے نا؟”
ساحل کی نظریں چچی کی چوت پر تھیں، اور کان چچی کی باتوں کو سن رہے تھے۔
ساحل نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
پائل: “بس پھر پا دے اپنا لن میری پھدی چ، پھاڑ دے اپنی چچی دی پھدی۔”
ساحل چچی کی باتوں کو سن کر پورے جوش میں آ چکا تھا۔ اس نے اپنے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑا اور تھوڑا آگے سرکتے ہوئے، اپنے لنڈ کے ٹوپے کو چچی کی چوت کے سوراخ پر لگا دیا۔
ساحل کا لنڈ صرف 5 انچ ہی لمبا تھا اور پتلا سا تھا، پھر بھی اس کا ٹوپا گرم ہو کر دہک رہا تھا۔ جیسے ہی ساحل کے لنڈ کا ٹوپا چچی کی چوت کے سوراخ پر لگا، پائل ایک دم سے سسک اٹھی،
پائل: “امہہ آہہہہہہ ساحل، مار دے لے لے میری آ جا، آہہہہہہ امہہہہہہ ہائے ساحل جلدی اندر کر دے پتر۔”
ساحل نے اپنے لنڈ کے ٹوپا کو دھیرے دھیرے پائل کی چوت کے سوراخ پر دبانا شروع کر دیا۔
اور اس کے لنڈ کا ٹوپا پائل کی گیلی چوت کے اندر چوت کی دیواروں کو پھیلاتا ہوا اندر گھسنے لگا۔ ونش کے جنم کے وقت کچھ پیچیدگیاں آ گئی تھیں، اسی لیے ونش کے جنم کے دن پائل کا سیزر آپریشن کروانا پڑا تھا۔ اسی لیے ونش اس کی چوت سے نہیں نکلا تھا۔ پائل کی چوت ابھی بھی ٹائٹ تھی۔ اور اوپر سے شادی کے بعد روی بہت کم پائل کو چود پایا تھا۔
جب شادی کے ایک مہینے بعد ہی پائل اور روی کو پتہ چلا کہ پائل اب پیٹ سے ہے، تو اس کے بعد سے لے کر آج تک ان دونوں کے بیچ جسمانی رشتہ نہیں بنا تھا۔ اسی لیے پائل کی چوت ابھی تک ٹائٹ تھی۔ ساحل کے لنڈ کا ٹوپا پائل کی چوت کے اندر جا چکا تھا۔ پائل کی آنکھیں مستی میں بند ہونے لگی تھیں۔ اس نے اپنی بند ہوتی آنکھوں سے ساحل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
پائل: امہہہہہہ ساحل، زور نال دھکا مار۔
ساحل نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پائل کی کمر پر رکھا اور اپنی کمر کو پوری طاقت کے ساتھ آگے کی طرف جھٹکا دیا۔ ساحل کا پتلا سا لنڈ سرسرتا ہوا، پائل کی چوت میں جا گھسا۔ پائل کے پورے بدن میں مستی کی لہر دوڑ گئی، اور اس کا پورا بدن مستی میں کانپ گیا۔ ساحل ویسے ہی بیٹھے ہوئے، اپنی چچی کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
پائل اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے، اپنے نیچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبا رکھا تھا۔ اور پائل اپنے نتھنوں سے گہری سانسیں لے رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد پائل نے اپنی آنکھیں کھول کر ساحل کی طرف دیکھا۔ پائل کی آنکھوں میں آنسوؤں کی بوندیں دیکھ کر ساحل تھوڑا سا گھبرا گیا۔
ساحل: چچی، کیا ہوا، درد ہو رہا ہے؟
پائل اپنی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر پیار بھری مسکراہٹ لے آئی اور اپنی بانہوں کو پھیلا کر ساحل کو اپنی بانہوں میں آنے کا اشارہ کیا۔
پائل: نہیں ساحل، آ جا میرا شیرا۔
ساحل اپنی چچی کے اوپر جھک گیا۔ پائل نے دونوں ہاتھوں سے ساحل کے کندھوں کو پکڑ کر اپنے بدن سے چپکا لیا۔
پائل: “ساحل، میں تو کچھ زیادہ ہی خوش ہو گئی تھی۔ اسی لیے میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے، تُو فکر نہ کر۔”
پھر چچی نے ساحل کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بےتحاشہ چومنا شروع کر دیا۔ ساحل کے گال پائل کے تھوک سے گیلے ہو گئے۔ مگر ساحل کو اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں پائل کی چوت کی دیواروں نے ساحل کے لنڈ کو اپنے اندر دبانا شروع کر دیا۔ پائل کی چوت تو کب سے بیتاب تھی۔ جس چیز کے لیے وہ ونش کے جنم سے پہلے سے ترس رہی تھی، آج ساحل اسے وہ خوشی دے رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے