Lust and thirst-28-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 28

پھر اس نے دیوار کی طرف گھڑی میں ٹائم دیکھا تو شام کے 5 بج رہے تھے۔ پائل دھیرے سے بیڈ سے نیچے اتری اور نیہا کے روم میں گئی۔ ساحل بھی نیہا اور کلونت کے روم میں ہی سوتا تھا۔ 

پائل نے دیکھا ساحل بیڈ پر لیٹا ہوا سو رہا تھا۔ پائل اس کے پاس گئی اور بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈال کر سہلانے لگی۔ پائل کے ہاتھ کے لمس کے احساس  سے ساحل اٹھ گیا۔ اس نے دیکھا پائل اپنے ہونٹوں پرپیاری سی مسکراہٹ لے کر بڑے ہی پیار سے اس کے بالوں کو سہلا رہی تھی۔ جیسے ہی پائل نے ساحل کو آنکھیں کھولتے دیکھا، پائل نے جھک کر اپنے ہونٹوں کو ساحل کے ہونٹوں پر لگا دیا۔ ساحل نے بھی بغیر کچھ کہے اپنی بانہوں کو پائل کی کمر پر لپیٹتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ 

ساحل کبھی پائل کے نچلے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھر کر چوستا تو کبھی اس کے اوپر والے ہونٹ کو۔ پائل بھی اس کی بانہوں میں مست ہو کر اپنے ہونٹوں کو چسوا رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد پائل نے اپنے ہونٹوں کو ساحل کے ہونٹوں سے الگ کر لیا اور پھر اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے بولی۔

پائل: “اٹھو میرے شیر، میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔” 

اس کے بعد پائل فریش ہو کر چائے بنانے لگی۔ کاجل اور ونش بھی اٹھ چکے تھے، اور کاجل ونش کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی اسے کھلا رہی تھی۔ ساحل اٹھ کر چچی کے روم میں آ گیا اور بیڈ پر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ کاجل ابھی ابھی اٹھی تھی، جس سے اس کی اسکرٹ ابھی بھی رانوں پر چڑھی ہوئی تھی۔ ساحل اس کی گوری مخملی رانوں کو گھور رہا تھا کہ تبھی پائل روم میں آ گئی۔ ساحل نے اپنا چہرہ دوسری طرف گھما لیا۔ 

تینوں نے چائے پی۔ باہر شام ڈھل چکی تھی، اور بادل ایک بار پھر سے چھانے لگے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ پائل نے جو کپڑے دھوئے تھے وہ اب سوکھ چکے تھے، اور وہ کپڑے اتار کر اندر رکھ رہی تھی۔ 

پائل نے روم میں بیٹھے ہوئے کاجل اور ساحل کو آواز لگائی، “ساحل، کاجل، باہر آ جاؤ، دیکھو کتنی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔”

 ساحل نے ونش کو اٹھایا اور باہر آ گیا۔ کاجل بھی اس کے پیچھے باہر آ گئی۔ پائل نے آنگن میں چارپائی لگا دی۔ کاجل ونش کو گود میں لے کر بیٹھی تھی۔ ساحل ابھی چارپائی پر بیٹھا ہی تھا کہ پائل نے ساحل سے کہا،

پائل: “ساحل، ذرا میرے ساتھ یہ کپڑے تو اندر رکھوا دو۔” 

ساحل: جی چچی۔ 

پائل نے کچھ کپڑے ساحل کو پکڑا دیے اور کچھ خود لے کر روم کی طرف جانے لگی۔ ان کا گھر کافی بڑا تھا، اور پائل نے جو چارپائی لگائی تھی، وہ آنگن میں روم سے کافی دوری پر تھی۔ روم کے اندر آتے ہی پائل نے کپڑوں کو ٹیبل پر رکھا اور پھر ساحل کے ہاتھوں سے کپڑے لے کر ٹیبل پر رکھ دیے۔

پائل:  “ٹھیک ہے، تم اب جاؤ باہر بیٹھو،”

 پائل نے کپڑوں کو ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔ مگر ساحل ویسے ہی کھڑا رہا۔ 

پائل نے ساحل کی طرف دیکھا اور پوچھا، “کیا ہوا ساحل، جا نا، کاجل باہر اکیلی بیٹھی ہے۔”

ساحل نے اپنے گلے کا تھوک نگلتے ہوئے کہا، “چچی، وہ مجھے لینی ہے۔”

ساحل کی بات سن کر پائل نے اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا،

پائل:  “ابھی نہیں، باہر کاجل بیٹھی ہے۔ بعد میں کریں گے، ابھی تم جاؤ۔”

 ساحل اداس سا منہ لے کر باہر جانے لگا۔

پائل:  “سنو ساحل، ناراض ہو گئے ہو؟”

 پائل نے ساحل کو پیچھے سے آواز لگائی، پر ساحل بغیر رکے باہر آ گیا۔ 

ساحل کے باہر جاتے ہی پائل مسکرانے لگی۔

 “حرامی ہو گیا ہے لونڈا،”پائل  نے دل ہی دل میں سوچا۔

ساحل اترا سا چہرہ لے کر باہر آ گیا اور باہر آ کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔ وہ کبھی ادھر تو کبھی ادھر دیکھ رہا تھا۔ ساحل کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کاجل نے اس سے پوچھا۔

کاجل:  “کیا ہوا؟”

 ساحل نے نہ میں سر ہلاتے ہوئے کہا، “کچھ بھی نہیں۔”

 پھر دونوں چپ ہو گئے۔ 

تبھی پائل نے اندر سے ساحل کو آواز لگائی۔

پائل:  “ساحل، ایک منٹ کے لیے اندر تو آ۔”

ساحل بجھے ہوئے دل کے ساتھ کھڑا ہوا اور روم کی طرف جانے لگا۔ جب ساحل روم میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ پائل نے اپنے کپڑے چینج کر رکھے تھے۔ اس نے ایک پرانی سی شلوار قمیض پہنی ہوئی  تھی۔ 

پائل: ہاں بول، تُوں کیا کہہ رہا تھا؟ 

ساحل: وہ چچی، مجھے آپ کی لینی ہے۔ 

پائل: کیا لینی ہے، پہلے ٹھیک سے بتا پھر دوں گی۔ 

ساحل: پھدی۔ 

پائل: تو پھر ایسے بول نا، اتنا بڑا ہو گیا اور بچوں کی طرح روٹھتا ہے۔ اب کتنی بار لے چکا ہے، پتہ ہے ایک عورت اپنی پھدی کس کو دیتی ہے؟ 

ساحل: کس کو چچی؟ 

پائل: اپنے گھروالے کو، اور ہر گھروالے کا اپنی پتنی پر پورا حق ہوتا ہے۔ اگر پتنی نہ مانے تو پتی پتنی کے کان کے نیچے لگا کر بھی پھدی مانگ سکتا ہے۔ اور تُوں تو میرا گھروالا ہے نا؟ 

ساحل: (شرماتے ہوئے) وہ تو چچا ہے۔ 

پائل: اوہ، تیرا چچا تو بالکل ناکارہ ہے۔ اصلی کام تو تُوں کر رہا ہے، میری پھدی کو چود کر۔ اب بغیر کسی ڈر کے بول کیا چاہیے۔ 

ساحل: تیری پھدی۔ 

پائل: چل بیٹھ صوفے پر، اپنا لن باہر نکال کے۔ 

ساحل صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔ پائل کے روم میں صوفا بالکل دروازے کے پاس لگا ہوا تھا، اور ساحل دروازے کے کنارے کی طرف صوفے پر بیٹھا تھا۔ اس نے اپنا نیکر گھٹنوں تک سرکا دیا۔ پائل دروازے کے پاس آئی، باہر آنگن میں بیٹھی کاجل کی طرف دیکھا۔ وہ ونش کو گود میں لے کر بیٹھی تھی۔ پھر پائل ساحل کے سامنے نیچے زمین پر پاؤں کے بل بیٹھ گئی اور اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لے کر دھیرے دھیرے آگے پیچھے کرتے ہوئے ہلانے لگی۔ 

پائل: (ساحل کی طرف قاتلانہ مسکراہٹ سے دیکھتے ہوئے) تیرا لن ہن روز کھڑا ہون لگا ہے۔ 

ساحل چچی کی بات سن کر مسکرا کر رہ گیا۔ پائل کے اس طرح ساحل کے لنڈ کو سہلانے سے لنڈ پوری طرح اکڑ کر تن گیا۔ پائل نے پھر سے ایک بار بیٹھے بیٹھے باہر نظر دوڑائی۔ کاجل ابھی بھی ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ پھر پائل کھڑی ہوئی اور اپنے گھٹنوں کو ساحل کی رانوں کے دونوں طرف صوفے پر ٹکا کر اوپر آ گئی۔ پھر پائل نے مسکراتے ہوئے ساحل سے کہا،

پائل: “دیکھ تیرے چکر میں میں نے اپنی شلوار کو بھی نیچے سے پھاڑ لیا ہے۔”

ساحل چچی کی بات سن کر تھوڑا سا حیران ہو گیا۔ بھلا پائل نے کیوں اس کے لیے اپنی شلوار پھاڑ لی؟

 “ابھی دکھاتی ہوں،” پائل نے ساحل کو سوچتے ہوئے دیکھ کر کہا۔ 

پھر اپنی قمیض کو اپنی کمر تک اٹھا کر ایک ہاتھ نیچے لے گئی اور اپنی شلوار میں بنے ہوئے 4 انچ لمبے سوراخ کو انگلیوں سے ٹٹولنے لگی۔ جیسے ہی پائل کو اپنی شلوار کے نیچے کا سوراخ ملا، اس نے اپنا دوسرا ہاتھ بھی نیچے کر لیا اور جس جگہ سے اس نے شلوار کی سلائی اُدھیڑی تھی، وہاں پر دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ڈال کر سوراخ کو چوڑا کرتے ہوئے ساحل کو دکھانے لگی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page