Lust and thirst-29-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 29

 ساحل نے جیسے اس سوراخ کی طرف دیکھا، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ پھر پائل کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

ساحل: “آپ نے سلائی کیوں اُدھیڑ دی؟” 

پائل: مرجانے، تیرے لیے، تیرے اس لن کے لیئے، جو ہن ہر وقت پھدی مارن لے کھڑا رہندا ہے۔ 

پھر پائل نے اپنے ایک ہاتھ سے ساحل کے لنڈ کو پکڑ کر اپنی شلوار کے سوراخ میں گھساتے ہوئے اپنی چوت کے سوراخ پر ٹکا دیا۔

پائل:  “آہہہہہہ سیییییی پتر، تیرے لن نے تاں مینو کملی کر چھڈیا ہے،”

 پائل بار بار باہر بیٹھی کاجل کی طرف دیکھ رہی تھی اور اپنی چوت کے سوراخ کو دھیرے دھیرے ساحل کے لنڈ پر دبا رہی تھی۔ ساحل کا لنڈ پائل کی گیلی چوت میں پھسلتا ہوا اندر گھستا جا رہا تھا۔

پائل:  “آہہہہہہ ساحل، دیکھ نا میری پھدی تیرے لنڈ کو لینے لے ہمیشہ پانی بہاتی رہتی ہے۔ دیکھ نا تیری چچی دی پھدی کیسے گیلی ہو گئی ہے۔”

یہ کہتے ہوئے پائل نے اپنی قمیض کو آگے سے اوپر اٹھا لیا۔ اس نے نیچے برا نہیں پہن رکھی تھی۔ اس کی 38 سائز کی چھاتیاں اچھل کر باہر آ گئیں۔ ساحل نے بغیر دیر کیے پائل کے بائیں ممے کو منہ میں بھر لیا اور زور زور سے چوسنا شروع کر دیا۔ اپنے نپل پر ساحل کی گرم زبان کو محسوس کرتے ہی پائل کے بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔ اس نے اپنی گانڈ کو اور تیزی سے اوپر نیچے ہلانا شروع کر دیا۔ 

پائل: آہہ ہاں چوس پتر آہہ چوس میرے ممے آہہ چود مجھے آہہ اپنی چچی دی پھدی مار آہہ چود مجھے۔۔۔ 

ساحل بھی اور جوش میں آ کر اپنی چچی کے ممے کو منہ سے دھکے مارتے ہوئے چوسنے لگا، ٹھیک ویسے ہی جیسے جب کوئی بھینس کا بچہ دودھ پیتے وقت بھینسوں کے تھنوں کو دھکے اورجھٹکے دیتا ہوا چوستا ہے۔ یہ سب دیکھ کر پائل اور جوش میں آ گئی اور اپنی گانڈ کو اچھالتے ہوئے اپنی چوت کو زور زور سے ساحل کے لنڈ پر پٹخنے لگی۔ دونوں چدائی کے اس کھیل میں اتنا کھو گئے کہ وہ یہ بھی بھول گئے کہ باہر کاجل بیٹھی ہوئی ہے اور ان کی چدائی کی مدھوش آوازیں اسے سنائی دے سکتی ہیں۔ 

پائل: آہہ شاباش میرے شیر آہہ ٹھوک اپنی چچی دی پھدی آہہ مار لے بیٹا آہہ تیرا لن آہہ کتنا سخت ہے آہہ آہہ میں تو دیوانی ہو گئی اس کی آہہ میری چوت آہہ۔۔۔ 

پائل اتنی تیزی سے اپنی گانڈ کو اوپر نیچے ہلا رہی تھی کہ نیچے بیٹھے ساحل کا حال برا ہو گیا تھا۔ پھر پائل کو اپنی چوت میں طوفان امڈتا سا محسوس ہوا، اور اس کی کمر جھٹکے کھانے لگی۔ دونوں جھڑ کر ہانپنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد پائل نے جھانک کر باہر دیکھا تو کاجل چارپائی سے اٹھ کر اندر کی طرف آ رہی تھی۔ یہ دیکھ کر پائل تھوڑا سا گھبرا گئی۔ وہ جلدی سے ساحل کے اوپر سے کھڑی ہوئی، اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور ساحل سے بولی، “ساحل، جلدی سے نکر اوپر کر، کاجل اندر آ رہی ہے۔”

لیکن شاید اب ساحل کے پاس وقت نہیں بچا تھا۔ تو  پائل نے سمجھداری دکھاتے ہوئے روم سے باہر آ گئی اور دروازے سے ایک فٹ کے فاصلے پر ہی کاجل کو روک لیا۔ 

 

پائل: (کاجل کا ہاتھ پکڑ کر تھامتے ہوئے) کیا کاجل، کہاں جا رہی ہو؟ 

کاجل: (پائل کی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے) وہ اندر سے کچھ آواز آ رہی تھی، کیا ہوا؟ 

پائل: کچھ نہیں۔ وہ میں اور ساحل کپڑے رکھ رہے تھے۔ 

اتنے میں ساحل بھی باہر آ جاتا ہے۔ کاجل اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتی ہے، لیکن ساحل سر جھکائے ہوئے باہر جا کر چارپائی پر بیٹھ جاتا ہے۔ دراصل ساحل اتنا میچور نہیں تھا اور وہ اپنی گھبراہٹ کو چھپا نہیں پایا تھا۔ 

ساحل تھوڑی دیر تک باہر بیٹھا رہا۔ شام ڈھل چکی تھی۔ اس لیے ساحل پتنگ اڑانے کے لیے چھت پر آ گیا۔ کاجل بھی اس کے پیچھے چھت پر آ گئی۔ کاجل نے بھی اُڑانے میں ساحل کا ساتھ دیتے ہوئے جوش دیکھایا جس سے دونوں اب ایک دوسرے سے دھیرے دھیرے گھلنے ملنے لگے تھے۔ کاجل کے ضد کرنے پر ساحل نے پتنگ اڑا کر اسے پکڑا دی۔ کاجل پہلی بار پتنگ اڑا رہی تھی، اس لیے وہ بہت خوش تھی۔ پائل نیچے رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی۔ تبھی فون کی رنگ سن کر پائل نیہا کے روم میں گئی۔ اس نے فون اٹھایا تو دوسری طرف  سے نیہا کی آواز آئی۔ 

نیہا نے پائل کو بتایا کہ وہ آج نہیں آ پائیں گی اور کل دوپہر تک ہی آ پائیں گی۔ تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد پائل پھر سے گھر کے کاموں میں لگ گئی۔ کاجل بھی نیچے آ چکی تھی۔ تبھی باہر مین ڈور کو کسی نے کھٹکھٹایا۔ تو پائل نے باہر جا کر گیٹ کھولا۔ باہر سامنے کے گھر میں رہنے والی عورت کھڑی تھی۔ پائل کی اس کے ساتھ بہت بنتی تھی۔ وہ اسے اپنے گھر بلانے آئی تھی۔ شاید وہ کچھ نئے کپڑے پائل کو دکھانا چاہتی تھی۔ اس لیے پائل تھوڑی دیر کے لیے اس کے ساتھ اس کے گھر چلی گئی۔ جاتے جاتے اس نے کاجل سے کہا کہ وہ ساحل کو نیچے بلا لے۔ 

پائل کے جانے کے بعد کاجل نے گیٹ بند کیا اور ساحل کو بلانے کے لیے چھت پر گئی۔ جب کاجل چھت پر پہنچی تو اس نے دیکھا کہ ساحل بڑے ہی دھیان سے چھت سے نیچے دوسرے گھر کی طرف دیکھ رہا ہے۔ ساحل اپنی دھن میں اتنا کھویا ہوا تھا کہ اسے کاجل کے اوپر آنے کا پتہ بھی نہیں چلا۔ 

کاجل نے دیکھا کہ ساحل کا ایک ہاتھ اس کے نکر کے اوپر سے اس کے لنڈ پر تھا اور اپنے ہاتھ سے اپنے لنڈ کو دھیرے دھیرے مسل رہا تھا۔ یہ دیکھ کر کاجل کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ دوستو، آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اس عمر میں ہر چیز کو جاننے کی خواہش اور کرنے کی تمنا ہر کسی کے دل میں ہوتی ہے۔ کاجل بھی یہ دیکھ کر حیران تھی تو وہ دھیرے دھیرے اسے دیوار کی طرف بڑھنے لگی۔ جس چیز کو ساحل نیچے دیکھ رہا تھا، اس میں وہ اتنا مست ہو گیا تھا کہ اسے پتہ نہیں چلا کہ کب کاجل اس کے ساتھ دیوار کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ 

جیسے ہی کاجل نے نیچے جھانک کر پڑوس کے گھر میں دیکھا، تو وہ ایک دم سے چونک گئی۔ نیچے سمرن اور سونو ایک دوسرے سے چپکے ہوئے ایک دوسرے کے ہونٹ چوس رہے تھے، اور سونو سمرن کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر زور زور سے مسل رہا تھا۔ پھر اچانک سونو نے سمرن کی شلوار کا ناڑا کھول دیا اور اسے گھماتے ہوئے دیوار کے سہارے جھکا کر اپنا لنڈ پینٹ سے باہر نکالا اور پیچھے سے سمرن کی چوت میں گھسا دیا۔ 

یہ سب ہوتا دیکھ کاجل ایک دم سے گھبرا گئی اور پیچھے ہٹتے ہوئے بول پڑی، “توبہ، یہ کیا؟”

کاجل کی آواز سن کر ساحل ہوش میں آیا۔ اس نے دیکھا کہ کاجل کی آواز سونو اور سمرن کو بھی سنائی دے گئی ہے اور سمرن نے ڈرتے ہوئے اوپر دیکھا۔ پتہ نہیں وہ ساحل کو دیکھ پائی یا نہیں۔ لیکن  ساحل جلدی سے پیچھے ہٹ گیا اور کاجل کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page