Passion of lust -87- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 87

میں ۔ چلو جلدی سے شروع ہو جاؤ ورنہ ابھی کہ ابھی بھون ڈالوں گا۔۔۔۔

وہ ابھی تک  حیران تھے اگلے ہی لمحے میں نے ٹریگر دبایا تو گولی گجر کے ٹٹوں کے پاس سے گزرتی ہوئی پانی میں جا لگی اور گجر تھر تھر کانپنے لگا۔۔۔۔

گرو ۔ میں گانڈ نہیں مرواؤں گا۔۔۔

میں نے پھر سے ٹریگر دبایا اور اس بار گولی گرو کی ران کا گوشت پھاڑتی ہوئی گزر گئی اور اس کے ساتھ ہی گرو کی دل خراش چیخیں اس پرسکون جنگل کا سکون تباہ کرنے لگیں۔۔۔۔

میں ۔  خبردار جو آواز نکلی سالے کتے حرامی معصوم لڑکی پہ ہاتھ اٹھایا تو نے سالے  گانڈ پھاڑ دوں گا تیری اب جلدی سے کتا بن جاؤ۔۔۔۔

 گرو جلدی سے ڈوگی پوزیشن میں آ گیا جان کس کو پیاری نہیں ہوتی ویسے چوروں اور ڈکیتوں کیلئے جان سب سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔۔۔۔

میں ۔ چل گجر مار اسکی گانڈ۔۔۔۔۔

گجر گرو کے پیچھے جا کر گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا اس کا لن ابھی تک مردہ (سویا ہوا)  حالت میں تھا۔۔۔۔ عجیب فنی سیچوئیشن بن گئی تھی گجر کا لن سویا پڑا تھا اور میں اسے گرو کی گانڈ مارنے پہ مجبور کر رہا تھا۔۔۔۔

میں ۔ کیوں بے سالے  لڑکی دیکھ کر کیسے تیرا لن ٹائیٹ ہو گیا تھا اب کیوں اسے موت پڑی ہوئی ہے اب کیوں پھٹ گئی ہے تیری چل اسے گرو کی گانڈ پہ رگڑ اور پھر دیکھ کیسے کھڑا ہوتا ہے۔۔۔۔

گرو ۔ یار پلیزززز ایسا میرے ساتھ نہ کرو پلیززززززززز۔۔۔۔۔۔

” چل شروع ہو جا کتے ”  میں نے گجر کو ہانکا ۔۔۔۔ گرو نے جو کچھ عائزہ کیساتھ کیا تھا اسکی یہی سزا تھی۔۔۔ گجر آگے بڑھا اور گرو کی گندمی گانڈ کی دراڑ میں لن گِھسانے لگا۔۔۔۔ میں بمشکل اپنی ہنسی پہ کنٹرول کیے ہوئے تھا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں گجر کا لن کھڑا ہو گیا جو کہ کافی موٹا تھا۔۔۔۔

میں ۔ چل اب ڈال اس بیغیرت کی گانڈ میں ۔۔۔۔

گرو رحم طلب نظروں سے مجھے دیکھنے لگا مگر میں نے پھر سے گجر کو اشارہ کیا (    چاہے کچھ بھی ہو سیکس آرگنز کی بھی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے لن موسٹلی دو جگہوں پر انٹر ہوتا ہےپھدی میں اور گانڈ میں ۔۔۔۔ اور جب یہ اپنی مخصوص اپوزٹ چیز سے ٹچ ہوتا ہے تو یہ ٹائٹ ہونا شروع ہو جاتا ہے اب آگے چاہے کسی لڑکے کی گانڈ ہو یا کسی لڑکی کیاور یہی سب گجر کے ساتھ ہو رہا تھا) 

گجر نے گرو کی گانڈ کے سوراخ پہ لن کا ٹوپہ سیٹ کیا اور زور لگانے لگا۔۔۔۔ اتنا موٹا لن گرو کی گانڈ میں جا رہا تھا اور وہ مسلسل واویلا مچائے ہوئے تھا۔۔۔۔ میں بمشکل اپنی ہنسی پہ کنٹرول کیے ہوئے تھا جبکہ میرا جی چاہ رہا تھا کہ گلہ پھاڑ پھاڑ کر ہنسوں  ۔۔۔۔ گجر سالا بغیر تھوک لگائے گرو کی گانڈ پھاڑنے کے چکر میں تھا ابھی تک محض اسکے لن کی ٹوپی ہی گرو کی گانڈ میں گئی تھی اور گرو کی درد سے گانڈ پھٹ رہی تھی میرے دل کو اسکی درد بھری چیخیں سن کر بہت خوشی مل رہی تھی کیونکہ اگر میں اپنا ہاتھ نہ کھول پاتا تو اس وقت یہاں چیخیں میری دوست لڑکیوں کی گونج رہی ہوتیں۔

 گجر نے پورا زور لگا کر آدھا لن گرو کی گانڈ میں ڈال دیا تو وہ درد بلبلاتے ہوئے چیخا “اوئے تھک تے لا لے لن بھین نوں لینے  دیا”

ہاہاہہاہااہہاہاہا ۔۔۔میرا کنٹرول ختم ہو گیا اور میں گلہ پھاڑ پھاڑ ہنسنے لگا۔۔۔۔ اور ہنستے ہوئے وہاں سے  دوڑ  لگا دی۔۔ 

میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو گرو گجر پہ تھپڑ برسا رہا تھا جبکہ دلاور اور چٹھہ میرے پیچھے آ رہے تھے میں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ان پہ فائر کرکے ان کے بھاگنے میں رکاوٹ ڈالی اور خود سپیڈ بڑھا کر پارک کی طرف جانے لگا۔۔۔۔ چونکہ ان کے پاس اب کوئی خطرناک ہتھیار نہیں تھا تو میں بھاگتا چلا گیا مجھے بری طرح سانس چڑھا ہوا تھا۔۔۔۔ کافی آنے کے بعد پیچھے مڑ کر دیکھا تو اب میرے پیچھے کوئی بھی نہیں تھا مگر میں نے اپنے بھاگنے کی سپیڈ کم   نہ کی اور جب میں پارک کے نزدیک پہنچا تو میں  بھاگنا چھوڑ کر تیز قدموں کیساتھ چلنے لگا   اب مجھے اپنے اوپری بدن کی برہنگی کا احساس ہوا تو میں نے پسٹل اپنی پینٹ میں اڑسے اور کندھے سے شرٹ اتار کر پہننے لگا بعد میں شرٹ کے گھیرے سے پسٹل کور کر دیے اور پارک میں انٹر ہو گیا۔۔۔۔   پارک میں ابھی بھی رش کم تھا دور ایک کونے میں مجھے اپنی تینوں بیلانیاں (گرل فرینڈز) کھڑی نظر آئیں تو میں سیدھا ان کے پاس پہنچا تو مجھے دیکھ کر ان کے چہروں پہ رونق آ گئی تھی۔

میں ۔ چلو جلدی یہاں سے نکلنے کے کریں فی الحال تو ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال آیا ہوں مگر پھر اب یہاں سے جتنا جلدی ہو سکے ہمارا جانا بنتا ہے ۔۔۔۔

وہ تینوں تو پہلے سے ہی تیار تھیں اس لیے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر کی طرف چل پڑیں میرے ساتھ۔۔۔۔ پارک سے باہر آ کر میں نے رکشہ کروایا اور رکشے والے جو شہر کے سنٹر کا ایڈریس بتایا تو وہ تینوں میری طرف دیکھنے لگیں۔۔۔۔ میں نے ان جو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور کچھ ہی دیر میں رکشے والے نے ہمیں شہر  جا کر اتارا  اسے فارغ کر کے میں نے وہاں سے دوسرا رکشہ لیا اور ہم بس اڈے پہنچ گئے۔۔۔۔۔ سارے رستے ہم چاروں چپ ہی رہے تھے اڈے پہ بس موجود تھی مگر ابھی خالی تھی۔۔۔ اب وہ تینوں پر سکون تھیں میں جا کر ثوبی کیساتھ  بیٹھ گیا۔۔۔۔ عالیہ اور عائزہ دوسری سیٹ پہ بیٹھ گئیں وہ دونوں ابھی بھی کچھ کچھ سہمی ہوئی تھیں ان کو فریش کرنے کے لیے جب میں نے ان کو چھیڑنا شروع کیا تو کچھ ہی دیر میں وہ فریش نظر آ نے لگیں۔۔۔۔ ہم کافی دیر بس میں بیٹھے رہے پھر جب بس فل ہوئی تو چل پڑی۔

ثوبی ۔ (سیٹ کے درمیان سے عائزہ کو چھیڑتے ہوئے) عائزہ گجر کے موٹے کالے لوڑے کا مزہ آیا پھر تجھے؟

عائزہ ۔ مجھے تو نہیں البتہ لگتا ہے تمہیں کافی پسند آیا ہے وہ کالا سا ڈھیلا دو۔۔۔۔

ثوبی ۔ ہاں یار میں تو کافی انجوائے کر رہی تھی۔۔۔۔

ثوبی کی بات پہ ہم سب ہنسنے لگے       پھر ایسے باتیں کرتے کرتے ان کے اسٹاپ آ گیا وہ لوگ اتر کر چلی گئیں۔۔۔۔ جب میں اپنے گھر پہنچا تو صحن میں کوئی بھی نہیں تھا تو میں سیدھا اپنے روم میں گیا میرے نہانے کا موڈ تھا اس لیے میں نے ٹاول پکڑا اور واش روم کیطرف چل دیا۔۔۔۔ واش روم کا دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا جس کا مطلب تھا کہ اندر کوئی بھی نہیں ہے اور واش روم خالی ہے۔۔۔۔ میں دروازہ سارا کھول دیا اففففففف یہ کیا غضب ناک منظر میرے سامنے تھا آپی میرے سامنے ننگی بیٹھی تھی۔۔۔۔ اسکے گول مٹول ، بڑے ، گورے ممے میری آنکھوں کے سامنے تھے جوکہ پانی سے گیلے تھے اور ان کی پھدی پہ کوئی کریم لگی ہوئی تھی جسے  آپی اپنے ہاتھ سے اپنی پھدی کے بالوں پہ لیپ کر رہی تھی وہ شاید ہئیر ریموور کریم تھی۔۔۔۔ آپی کا ننگا جسم دیکھ کر میں اپنے اردگرد سے بے خبر یک ٹک آپی کے ننگے بدن کو گھورے جا رہ تھا۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page