Passion of lust -88- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 88

آپی کا گورا ، سیکسی بدن دیکھ کر  میں پلکیں جھپکانا بھی بھول گیا تھا۔۔۔۔ ان کے مموں پر اور پیٹ پر پانی کے  قطرے پڑے ہوئے تھے پھر اچانک آپی کو شاید کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھے تو سامنے مجھے یوں مبہوت ہو کر کھڑے پایا۔۔۔۔ مجھے سامنے پا کر تو ایک دفعہ آپی بھی     اسٹیچو بن گئی اور اسکا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا  تھوڑی دیر بعد اسکو صورتحال کا ادراک ہوا تو اس کو چہرہ مارے غصے کے سرخ ہو گیا اور اس نے مجھے غصے سے پکاراتو میں ہوش میں آیا۔۔۔

آپی ۔ بند کرو دروازہ بد تمیز ،  جاہل ، کھوتے۔۔۔۔۔

آپی کو غصے میں دیکھ کر میں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا۔۔۔۔ پیچھے تو میں ہٹ گیا لیکن آپی کا گورا ، سیکسی بدن میری آنکھوں کے سامنے اب بھی گھوم رہا تھا۔۔۔۔ آپی کے لہجے کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ سالی ابھی بستر میں آنے کے لیے ٹائم لے گی۔۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں خیر ہے جلد یا  بدیر  اسےمیرے نیچے تو آنا ہی  پڑے گا  اب تو ویسے بھی ثوبی لوگوں کو کالج سے چھٹیاں ہو گئی تھیں اور آپی کی موجودگی میں ثمینہ سے پہلے کی طرح آزادی سے سیکس نہیں کر سکتا تھا اور اب اس سے بے دھڑک سیکس کیلئے آپی کو اپنے نیچے لانا ضروری  تھا بہرحال جو بھی تھا جیسا بھی تھی اب میں لن کے ہاتھوں مجبور تھا مجھے پھدی ، گانڈ یا چوپا لگانے کیلئے منہ بلاناغہ چاہیے تھا  اور اسکی عادت بھی میری بہن ثمینہ اور میری ان گشتی بیلانیوں (گرل فرینڈز) ثوبی ، عائزہ اور عالیہ نے ہی ڈالی تھی” خیر شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے بلکل اسی طرح اس  زانی کو زنا کیلئے لڑکی/عورت مل ہی جائے گی ” یہی سوچ کر خود کو دلاسا دیا میں نے۔۔۔۔

ثمینہ اور امی شاید سو رہی تھیں  اگر آپی   نہ آئی ہوتی تو اس وقت ثمینہ میرے روم میں ہوتی۔۔۔۔ آج عائزہ وغیرہ کو چود کر کافی تھکان محسوس ہو رہی تھی اس لیے میں لباس تبدیل کیے بغیر ہی بی دپہ لیٹا اور سو گیا۔۔۔۔ بہت مزے کی نیند آئی میں شام کو اٹھا تو خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔ آپی اور ثمینہ صحن میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں اور امی کچن میں تھی میں جا کر آپی لوگوں کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔ آپی نے بہت سیکسی ڈریس پہن رکھا تھا  آپی نے آج  سفید رنگ کی ٹائٹ لیگی اور اوپر بلیک اینڈ وائٹ کلر کی ٹائیٹ فٹنگ میں کرتی پہنی ہوئی تھی۔۔۔ اس ڈریسنگ میں بہت سیکسی لگ رہی تھی۔۔۔ کھلے گلے سے آپی کے بڑے بڑے ممے نظر آرہے تھے ٹائیٹ کرتی آپی کے گول مموں کی فل شیپ بتا رہی تھی جن کو میں کچھ دیر پہلے ننگا دیکھ چکا تھا۔۔۔۔ خود کو ایسے گھورتا پا کر آپی کے چہرے پہ ہلکی سی سمائل آ گئی اور میری جان ، میری پیاری گشتی بہن ثمینہ نے فل سیکسی ڈریس پہن رکھا تھا اور میں اپنی دونوں سیکسی بہنوں کے درمیان ٹانگیں لٹکا کر بیٹھا تھا۔۔۔۔

آپی ۔  بہت سوتے ہو تم ہمارے لیے تو تمہارے پاس ٹائم ہی نہیں ہوتا۔۔۔۔

میں ۔ نہیں جی سارا ٹائم ہی آپ کے لیے ہے اصل میں کالج میں بہت کام کرواتے ہیں اس لیے تھکان ہو جاتی ہے۔۔۔۔

آپی۔ (میرے گال کھینچتے ہوئے ) اوہ میرا پیارا بھائی تھک جاتا ہے۔۔۔۔

ثمینہ ۔ آپی یہ بیچارہ کہاں سے ہوا یہ تو بڑا کھڑوس ہے۔۔۔۔

میں ۔ وہ کیوں جی؟

 ثمینہ ۔ میرے لیے کوئی بھی گفٹ نہیں لاتے تو کھڑوس ہی ہوئے نا۔۔۔۔

میں ۔ چلو اب میں تمہارے لیے گفٹ لے آؤں گا۔۔۔۔

ثمینہ ۔ نہیں مجھے نہیں چاہیے اب۔۔۔۔

ایسے ہی باتوں میں کافی ٹائم گزر گیا رات کو ثمینہ کچھ ٹائم کے لیے میرے پاس آئی میں نے جپھی ڈالی اور اس کے ہونٹوں کو تھوڑا سا چوسا اور پھر وہ چلی گئی آپی کی وجہ سے وہ زیادہ ٹائم نہیں دے سکتی تھی۔۔۔۔ میں بستر پر لیٹ کر عائزہ کی امی کے بارے میں سوچنے لگا کیا مست مال تھی سالی۔۔۔۔  ابھی تک اس تک پہنچنے کا کوئی طریقہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔ وہ سالی رنڈی  اپنی بیٹی عائزہ سے بھی زیادہ گرم تھی۔۔۔۔ اسے چودنے کی خواہش میرے اندر بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔ یہی سوچتے ہوئے ثوبی کی کال آگئی کچھ دیر اس سے باتیں کی پھر کال کٹ  کر دی اب رات  کافی ہو چکی تھی اب ذہن میں تھا کہ آپی کے ساتھ کچھ مستی کی جائے مگر پھر مجھے نیند نہیں آ  لیا اور میں سو گیا۔۔۔۔ صبح ثمینہ نے آ کر مجھے اٹھایا وہ ہمیشہ کی طرح ٹائیٹ لباس میں تھی اور اس کے ممے غرور سے سر اٹھائے ہوئے تھے۔۔۔۔ میں نے گریبان پکڑ کر اس کو اپنے اوپر گرا لیا۔۔۔۔ ایک لمبی فرینچ کس کی پھر اسے چھوڑ دیا اور خود اٹھ کر باہر آ گیا امی اور آپی کچن میں تھیں۔۔۔۔ میں نہا کر ٹراؤزر شرٹ پہن کر برآمدے میں آ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔

ثمینہ ۔ بھائی آج کالج نہیں جانا؟

میں ۔ نہیں آج چھٹی ہے۔۔۔۔

ثمینہ ۔ (آنکھیں دیکھا کر)  کہیں مستی کرنے کا پروگرام تو نہیں ؟

پھر وہ گانڈ مٹکاتی ہوئی کچن میں چلی گئی آپی بھی کچن میں تھی اور میں آپی کے باہر کا منتظر تھا ثمینہ مجھے ناشتہ دے کر کچن میں چلی گئی تو کچھ دیر بعد آپی بھی کچن سے باہر آ گئی۔۔۔۔

آپی ۔ کیوں عامر آج چھٹی ہے کیا؟

میں ۔( آپی کے مموں کو گھورتے ہوئے)  ہاں آپی میں نے سوچا اپنی پیاری آپی سے گپ شپ کروں گا ا سلیے چھٹی کی ہے۔۔۔۔

آپی ۔ بڑا شوق ہے تجھے گپ شپ کا تیری شادی ہی مہ کر دیں پھر کرتے رہنا اپنی بیوی سے گپ شپ۔۔۔۔۔

میں ۔ (ہنس کر ) ہاں ہاں کر دو یہ بچہ تو کب کا جوان ہو گیا ہے۔۔۔۔

آپی۔ اچھااااااا کیسی دلہن چاہیے تمہیں ؟

میں  ۔ بلکل آپ جیسی خوبصورت اور ہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔۔ ( میں ہاٹ کہتا کہتا رک گیا)

آپی ۔ اور کیا؟

میں ۔ آپ جیسی خوبصورت اور جوان۔۔۔۔۔

آپی ۔ اچھا تو تمہیں جوان لڑکی چاہیے؟

میں ۔ (آپی کے مموں پر نظر ٹکا کر) یاں آپی آپ کی طرح ہو نہ زیادہ موٹی ہو اور نہ زیادہ پتلی اور باڈی  ففففف۔۔۔۔ (فگرکہتا کہتا رک گیا)  باڈی بھی آپ جیسی ہو۔۔۔۔

ایک لمحے کیلئے آپی کے چہرے کا رنگ سرخ ہوا پھر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔۔۔

آپی ۔ بہت شرارتی ہو تم۔۔۔۔۔

میں ۔ ( آپی کے گال کھینچتے ہوئے) اب آپ جیسی پیاری آپی سے بندہ شرارت کر ہی لیتا ہے۔۔۔۔

آپی ۔ ہمممم اگر آپی پیاری نہ ہو تو کیا تب شرارت نہیں کرنی چاہیے۔۔۔۔۔ (آپی بھی موڈ میں تھی)

میں ۔ کرنی چاہیے مگر آپ کو دیکھ کر شرارت خود بخود ذہن میں آ جاتی ہے۔۔۔۔

آپی۔ ایسا کیا ہے مجھ میں؟

میں ۔ ہمممم کچھ تو ہے۔۔۔۔🤔

آپی نے اپنے گھٹنے موڑ کر چھاتی سے لگا کر دونوں گھٹنوں کو جپھی کے انداز میں اپنی باہوں میں لے لیا نیچے آپی کی نے لیگی پہنی ہوئی تھی جس میں سے آپی کی موٹی ، گول  رانیں میری آنکھوں کے سامنے تھیں۔۔۔۔ گھٹنے اٹھنے سے قمیض کا کچھ حصہ اوپر اٹھ گیا جس سے آپی کے پیٹ کا کچھ حصہ ننگا ہو کر نظر آنے لگا۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page