Keeper of the house-141-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 141

رکھوالے نے اپنی تلوار نکالی، اور دونوں کی گردنیں اڑا دیں

ہم سب آنکھیں پھاڑے بس دیکھتے رہ گئے

کہ یہ کون ہے؟
جس نے اکیلے سات فٹ کے پہلوانوں کو چیر پھاڑ دیا

اب میدان میں صرف دو لوگ بچے تھے

رانا اور رکھوالا

رانا دھاڑا۔۔۔ مرد کی طرح لڑ

رکھوالا مسکرایا اور بولا۔۔۔تو اب تک کیا کررہاتھا۔۔یہ کہااور تلوار پھینک دی۔

تب تک تمہارے والد کے ساتھی بھی آگئے تھے اور ہمیں آزاد کررہے تھے۔

رانا غصے میں بڑھا، رکھوالا بھی اس کی طرف لپکا

رکھوالے نے رانا کو پیٹ سے پکڑ کر اٹھایا اور دور پھینک دیا
رانا دیوار سے ٹکرا کر زمین پر گرا۔۔اٹھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ رکھوالے نے دوبارہ اٹھایا۔۔ اپنے گھٹنے پر جھکایا، اور زوردار ضرب ماری— ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔۔ دو ہی وار میں لڑائی ختم ہو گئی۔

میں دم بخود کھڑا تھااور سوچ رہاتھا کہ یہ کون ہے ؟۔۔جس نے اکیلے پوری جونا بستی کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔

پھر میں نے کانپتے ہوئے دونوں ہاتھ ان کے آگے  جوڑ دیئے۔

تو اُس نے میرے ہاتھوں کو پکڑ کر کھولا اور منع کردیا ایسا کرنے سے۔

پھر میں نے پوچھا۔۔۔جناب۔۔ آپ کا نام جان سکتا ہوں؟

وہ پلٹ کر جانے لگے، مگر ایک پل کے لیے رکے اور آہستہ سے بولے:

رکھوالا رانا عقیل 

ایسے ہوئی تھی میری ملاقات تمہارے والد سے جس نے ایک ہی جھٹکے میں بُرائی کی جڑ ہی نکال کر پھینک دی ۔۔مگر اپنی داستان شہر  کی گلیوں میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے۔

میں — انکل کو دیکھ رہا تھا اور انکل مجھے، ہم دونوں آدھے گھنٹے تک چپ رہے۔

پھر میں نے پوچھا۔۔۔ اس فیملی کا کیا ہوا 

کاشف انکل — انہیں چھوڑ دیا گیا، ان کے گھر اوروہ  تمہارے پاپا کے بہت احسان مند تھے ، اور آج وہ شہر کے ٹاپ رچیسٹ لوگوں میں سے ایک ہیں۔۔۔ ان کا نام ہے آصف ملک

کومل — کیا؟؟؟؟ اس کا مطلب وہ شازیہ کے پاپا ہیں؟۔۔ ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔اور ہنستے ہنستے فرش پر گر گئی

انکل — ایسے کیوں پاگلوں کی طرح ہنس رہی ہو۔۔ بتاؤ گی کچھ  مجھے بھی

لیکن وہ ہنستی رہی

(نوٹ :۔۔۔دوستوں کہانی میں اگر ناموں کی تھوڑی تبدیلی کردی جائے تو میرے خیال میں بُرا نہیں رہے گا ۔ بلکہ آپ کو پڑھنے میں کنفیوژن نہیں ہوگی ۔۔کیونکہ نسرین نام کی دو لڑکیاں ہوگئی ایک نسرین جلال اور دوسری نسرین   باجی  ( تو نسرین باجی کو نسرین سُلطان  کے نام سے آگے کہانی میں لکھا اور پڑھا جائے گا۔ شکریہ)

نسرین سُلطان — چھوٹی کھڑی ہو جاؤ ورنہ جانتی ہو مجھے

شویتا — ہا ہا ہا، آئی ایم سوری باجی، میں اس لیے ہنس رہی تھی کہ جو بھائی کی اوقات دکھا رہی تھی، اس کی اوقات تو بھائی کے پاپا کی دین ہے ہا ہا ہا ہا۔۔ پھر بھی اس میں گھمنڈ ہے، سوچ رہی ہوں جب اسے پتا چلے گا تو کیا ہوگا۔۔ ہا ہا ہا ہا ہا، سوری سوری باجی، میرے بھائی کو غریب بھکاری کہہ رہی تھی، اچھا ہے اب میں مزے کروں گی، بھائی کے پیسوں کو وہ فضول ہی تقسیم کر دیتی اور بھائی کو ہم سب سے الگ کر دیتی، صحیح کہا نہ باجی؟ 

کاشف — میں خوش نصیب ہوں کہ میری بیٹی ایسی عظیم فیملی اور عظیم انسان کے بیٹے کی بہن بن گئی ہے۔۔ اور تمہارے ساتھ ہی آگے بھی پڑھے گی۔۔ مجھے امید ہے کہ یہ تمہاری طرح نیک دل اور محنتی بنے گی۔

شویتا — پاپا وہ تو ہوں میں۔۔ کم مت سمجھیے مجھے

ہم یوں ہی نارمل باتیں کرتے رہے، پھر سونے چلے گئے۔ شویتا اپنی ماں کے پاس سوئی اور نسرین سُلطان اور نسرین جلال الگ کمرے میں، لیکن میں جانتا تھا کہ رات کو نسرین جلال ضرور آئے گی۔۔ اور ہوا بھی وہی، میں سونے کا ناٹک کرنے لگا کہ وہ کیا کرتی ہے۔

نسرین جلال — لگتا ہے سو گیا، پھر چل کر میرے  پاس آگئی اور میرے  ماتھے پر گالوں پر کس  کیا اور میرے  بغل میں آ کر بانہوں میں سِمٹ گئی اور مجھ کو نہارنے لگی۔

میں — اپنے دیکھ لیا ہو تو سو جائیں۔ 

نسرین جلال — اوہ تو جناب جاگ رہے ہیں، تو پھر اتنا ناٹک کیوں؟ 

میں — بس آپ کو جاننے کی کوشش کر رہا تھا۔

نسرین جلال — تو جان لیا یا باقی ہے؟ 

میں — آنکھوں میں دیکھ کر نہیں ابھی تک پورا نہیں جانا۔

 اور پھر اس کے اوپر آ گیا۔

نسرین جلال — یہ تو جناب کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں  مجھے۔

میں نے  اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کس کرنا شروع ہوا جو گہری کسنگ  میں بدل گیا، سونا کی آنکھوں میں پیار کی خماری تھی، میں سائیڈ میں لیٹ گیا اور اسے اپنی بانہوں میں لے کر اپنے اوپر لٹا لیا۔ 

نسرین جلال — بالوں میں ہاتھ گھما کر، کیا ہوا، تم جو چاہو کر سکتے ہو

میں — میں جانتا ہوں کہ میں سب کچھ کرسکتا ہوں اور ہم نے کیا بھی ہے ۔ لیکن میں اس پیارے رشتے کو سیکس میں کھونا نہیں چاہتا، مجھے نہیں پتا لیکن میں تمہاری پرواہ کرتا ہوں، میں ہمیشہ تمہیں مس کرتا ہوں، مجھے ایک ایسا ساتھی ملا ہے جسے میں اپنے پاس دل کی گہرائی میں رکھنا چاہتا ہوں۔۔ لیکن  مجھے لگتا ہے کہ اگر صرف سیکس  ہی ہمارے درمیان میں رہا  تو میں تمہیں کھو دوں گا۔

نسرین جلال — ایسا کچھ نہیں ہوگا، لیکن تمہارا دل جو  کہتا ہے تو وہی کرو، جب تمہارا دل اجازت دے گا تب ہی ہم آگے بڑھیں گے۔

 پھر اپنے دل میں۔۔۔ ایڈیٹ، میں پوری تمہاری ہوں،اور میں نے پہلے بھی تمہیں کبھی نہ روکا ہے اور  نہ ہی روک سکتی ہوں، اب تو صرف موت ہی ہمیں جدا کر سکتی ہے۔

میں — آج مجھے اپنی بانہوں میں سلا لو۔

نسرین جلال نے پھر مجھے اپنے سینے سے لگا کر سلا لیا، پتا نہیں لیکن نسرین جلال کی بانہوں میں مجھے سیفٹی فیل ہوتی ہے، اور جب باجی  کے پاس سوتا ہوں جب وہ اپنی گود میں سلاتی ہے تو سکون سے نیند آ جاتی ہے، عجیب سا احساس ہے، ایک کے ٹچ میں پیار اور پناگاہ کا تصور  ہے تو دوسرے کے ٹچ میں پیار اور سکون ہے۔ 

میری نیند صبح جب کھلی تو میرا چہرہ ابھی بھی نسرین جلال کے سینے میں ہی تھا اور میرا ہاتھ اس کے ٹاپ کے اندر اس کی کمر پر تھا۔ میں تھوڑا ہلا تو وہ بھی جاگ گئی۔ اسے احساس ہوا کہ میرا ہاتھ کہاں پر ہے تو وہ مسکرا اٹھی۔

نسرین جلال — مجھے نسرین سُلطان کے اٹھنے سے پہلے جانا ہوگا، 4 بجے ہیں، تم سو جاؤ۔

 پھر مجھے کس کیا اور چلی گئی۔

میں اٹھ گیا اور باہر آیا، پھر نکل گیا جاگنگ پر۔ شہر کا ماحول اتنا صاف نہیں تھا کیونکہ یہ دارالحکومت ہے تو رش ہر وقت رہتا تھا۔ ابھی میں رننگ کر ہی رہا تھا کہ ایک کار تیزی سے اسپیڈ سے نکل گئی اور آگے جا کر دیوار سے ٹکرا گئی اور پلٹ گئی۔ میں بھاگ کر اس کے پاس گیا تو اندر ایک آدمی پھنسا ہوا تھا۔ میں نے اسے باہر نکالا تو وہ بولا۔ 

آدمی — مجھے کہیں چھپا دو، کچھ لوگ میرے پیچھے پڑے ہیں، میں ایک چیف ایڈیٹر ہوں نیوز چینل کا۔۔ میرے پاس کچھ ثبوت ہیں جو وہ لوگ چھیننا چاہتے ہیں، پلیز ہیلپ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page