Keeper of the house-149-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 149

آدمی: لو بھائی، لگ گیا۔ 

راکا: جی بھائی۔ 

وِتھل: بہن چود، چوتیا سمجھا ہے؟ تین مہینے سے میں نے کچھ نہیں بولا تو دیکھ راکا، دھندہ زبان کا ہوتا ہے، تجھے پتا ہے نا، تیرا پرانا پارٹنر کب سے میرے چکر کاٹ رہا ہے۔ 

راکا: بھائی، تھوڑا وقت اور، میں کرتا ہوں بھائی۔ 15 کروڑ بھیجتا ہوں، میں کل مل جائیں گے آپ کو۔ 

وِتھل: 50 کروڑ کا مال ہے۔ 

راکا: بھائی، انٹریسٹ دوں گا بھائی، 10 کروڑ زیادہ، پلیز بھائی، میں آپ کا وفادار ہوں۔ 

وِتھل: ٹھیک ہے۔۔ اور لونڈیاں بھی بھیج، بہن چود، شہر میں فریش مال ملتا ہی نہیں ہے۔ 

راکا: جی بھائی، کڑک بھیجتا ہوں۔ 

کال ڈسکنیکٹ ہو گئی۔ 

راکا:10 مست کڑک لڑکیاں اٹھاؤ، 2 نمبر شہر  سے، مال آئٹم  نمبر ون ہونا چاہئے۔ اور انسپکٹر شاہد کی ڈیڈ لائن ختم ہونے والی ہے، تو شہر نمبر 3 میں  سلطان کو بھیج دو، وہ لوکل گھرکوں کی مدد سے کام کر دے گا اپنا۔ اور اسے مالدار لوگوں کا پتا کرنے کو کہا تھا۔ 

آدمی: جی بھائی، ہو گیا ہے۔ دو اسکول کی لونڈیا ہے اور ایک لونڈا۔ ہاں، ان کے باپوں کا  اپنا بزنس ہے،  آرام سے 20-25 کروڑ مل سکتے ہیں۔

٭٭٭٭٭ 

دو دن اور گزر گئے۔ میں نے بہت اچھے دن گزارے۔ رات کو ایک بار پھر نسرین جلال کو پیار دیا، لیکن اس کے ساتھ سیکس آج بھی نہیں کیا ۔ لیکن  ایک بات اور ہو رہی تھی جو مجھے نہیں پتا تھی۔ میری دونوں بہنیں لندن سے کومل کے ذریعے ایک ایک لمحے کی خبر رکھ رہے تھے  اور فوٹوں بھی اُن کو مل رہے تھے۔ جو مجھے نہیں پتا تھا۔ ان تینوں کی دوستی مظبوط  ہوتی جا رہی تھی۔۔ اور اُن تینوں کی یہ دوستی ایک سال بعد بم بن کر مجھ پر گرنے والی تھی۔۔ جس کا مجھے اندازہ بھی نہیں تھا۔۔ کیونکہ کومل تو کومل تھی، پتا نہیں وہ اُن کے دماغ میں کیا بھر رہی تھی اور انہیں کیا بتا رہی تھی، کیا پلان بن رہے تھے۔ 

رات کو میری ساری پیکنگ نسرین سُلطان اور نسرین جلال نے کی۔۔ اور آج دونوں ہی میرے پاس سو گئیں۔۔ کیونکہ آگے کب ساتھ رہنے کا موقع ملے، کسی کو نہیں پتا تھا۔

٭٭٭٭٭ 

صبح ہم ٹرین میں روانہ ہو گئے تھے، نئے سفر کی طرف تو وہیں نسرین جلال اپنے پرانے روپ میں آ گئی تھی اور سیکریٹ بیس میں دھنائی کرتی ہوئی

نسرین جلال: “آخری بار پوچھ رہی ہوں، تو کیوں پیچھا کر رہا تھا؟ 

غنڈہ:”سرکار، میں تو اس لڑکے کا پیچھا کر رہا تھا

نسرین جلال کچھ سوچ کر فون اُٹھا کر اُسے ایک فوٹو دکھا کرپوچھتی ہے: اس کا پیچھا؟ 

غنڈہ: (گردن ہاں میں ہلا دیتا ہے) 

اورپھر سے اُس غنڈے کی  گانڈ پر چترول ہونی شروع ہوجاتی ہے ۔ پاس کھڑے افسران بھی ڈر رہے تھے کچھ بولنے سے۔ نسرین جلال ڈنڈے سے اسے اس طرح مار رہی تھی کہ جیسے اسے جان سے مار دے گی ابھی۔ 

انسپکٹر:میڈم، مر جائے گا

نسرین جلال  (غصے سے) : ویسے بھی مرے گا، یہ اب بھونک کتے۔۔ جتنا کچھ تو جانتا ہے ۔

اور وہ غنڈہ پوری کہانی بتا دیتا ہے ، اور اسی سے نسرین جلال کو کسی کا پتا چلتا ہے جس سے وِتھل کی واٹ لگنی تھی۔ اور اُس کو پکڑنے کے لیئے نسرین جلال اپنی ٹیم کے ساتھ نکل پڑتی ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭

ادھر شہر نمبرچار میں

پولیس انسپکٹر: ابے، کوئی منسٹر تھوڑی ہی آ رہا ہے، نئی ایس پی ہی تو آ رہی ہے۔ 

ہوالدار: صاب، لفافہ کھول کے دیکھ لو نا، پھر پتا چل جائے گا کہ کون آ رہا ہے۔ 

پی آئی:اچھا، دکھا ذرا۔” (نام پڑھ کر) “بہن چود، جلدی سے سبھی تھانوں کو انفارم کر دو کہ بغیر لنڈ والی گانڈ مارنے والی ایس پی رانی  آ رہی ہے۔ اور بہن چود، آفس ٹھیک کر۔ اسے یہی جگہ ملی تھی کیا؟ اب ہمارے شہر کی خیر نہیں۔ جتنے دن رہے گی، سب کی گانڈ مار کر رکھے گی ۔ ہفتہ خوری بند کر دو۔ 

ہوالدار: میں تو کب سے کہہ رہا ہوں۔۔ لیکن  آپ مان  ہی نہیں رہے تھے۔

کچھ دیر بعد

انسپکٹر: ویلکم میڈم، گڈ مارننگ۔ 

شگفتہ رانی: شہر سے ملے ہوئے بارڈر کی طرف جتنے پولیس والے ہیں، انہیں یہاں بلاؤ۔ دو گھنٹے ہیں سب کے پاس۔ کوئی کچھ بھی کر رہا ہو، مجھے فرق نہیں پڑتا، وہ سب مجھے یہاں چاہیے۔ 

پی آئی: “جی میڈم

شگفتہ رانی: “اگر نسرین جلال میم کا شک صحیح ہے تو میں ضرور یہاں سے کوئی کلو ڈھونڈ نکالوں گی

٭٭٭٭٭٭٭٭

ادھر  دوپہر کو ہم تیسرے شہر پہنچ گئے ، جہاں ایک کار آئی ہمیں ریسیو کرنے اور ہم بیٹھ کے چل دیے ہمارے نئے گھر جو کہ انکل کی ہی پراپرٹی تھی، بہت پیاری جگہ پر تھی  زیادہ ہائی فائی ہم  نہیں لے سکتے تھے ، لیکن یہ بھی کچھ کم نہیں تھی اگر  انکل نے لے رکھی تھی تو لگژری ہونی ہی تھی۔ تین دن بعد ہمارے اسکول شروع ہونے تھے اور اس سے پہلے مجھے کسی سے ملنا تھا، اسے ڈھونڈنا تھا۔

میں: میں تھوڑا سٹی دیکھ کے آتا ہوں، جب تک کچھ کھانے کو بنوا لے۔ 

کومل:اوہ بچو، می ٹو

میں: ٹھیک ہے میری ماں، آ جا۔ تیری شیطانیاں اور ضد بڑھتی جا رہی ہے۔ 

سٹی میں بائیک گھماتے ہوئے میں پوری سٹی کو ذہن  نشین کر رہاتھا۔سٹی میں آس پاس ملاکرکل  30 تھانے تھے۔ 

میں: اب وہ کہاں ملے گا یار؟ 

کومل: کیا بھائی؟ 

میں: کچھ نہیں۔ 

کومل: میکڈونلڈ، مجھے برگر کھانا ہے، پلیز پلیز۔ 

میں: آتے ہی بدمعاشی شروع ہو گئی نا۔ یہ چٹ پٹا مت کھایا کر، کل سے میرے ساتھ ٹریننگ کرے گی تو۔ 

کومل شاک ہوکر میری شکل دیکھنے لگ گئی۔

میں:کرنی ہے۔۔اور ضرور کرنی ہے، اوکے؟اب  ایسے کام نہیں چلے گا۔ 

میکڈونلڈ میں جب میں بیٹھا ہوا تھا، تب کسی نے پیچھے سے کہا:ہائی۔ 

میں: (پلٹ کر) :جی؟ 

وہ:پہچانا نہیں، میری ہیلپ کی تھی صبح آپ نے پارک کے پاس لڑکوں سے ۔ 

میں:اوہ ہاں، تو وہ آپ تھیں، بیٹھیے

وہ: تھینک یو، اس دن بول بھی نہ پائی۔ 

میں: “اٹس اوکے، آپ یہاں رہتی ہیں؟ 

وہ: پچھلے روڈ  پر کالونی میں، اور آپ؟ 

تب کومل آ گئی اور میرے بغل میں بیٹھ کر بولی : کہنے سے کیا ہوگا

میں: بیڈ مینرز کومل۔” (اور پلٹ کر) “آئی ایم سوری، ہم بھی وہیں رہتے ہیں، آج ہی آئے ہیں، اسکول میں پڑھنے۔

وہ: (کھڑی ہوکے) “ویلکم ہے آپ دونوں کا، اوکے، ٹی سی، پھر اسکول میں ملتے ہیں۔ میرا نام رضیہ ہے۔ نائس ٹو میٹ یو۔۔ اینڈ میٹ یو ٹو، اینگری کیوٹ گرل۔

میں:وہ برگر کھا لے، وہ تیرے غصے سے جل کر کالا پڑ گیا ہے۔ اب دیکھ، اس کی ہیلپ کی تھی تو تھینک یو تو بنتا ہے نا، تو خواہ مخواہ بھڑک رہی ہے اس پر۔ 

کومل: (منہ چھڑاتے ہوئے)

میں: چڑ مت یار، چل، رات کو اپنے ہاتھ سے پنیر کھلاؤں گا، اینڈ اوکے، خوش؟ 

کومل: یہ ہوئی نا بات۔۔ لیٹس گو برو، اور ہاں  اپنے ہاتھ سے کھلانا ہوگا

میں: (دل میں)  رضیہ کا باپ بھی تو پولیس والا ہے، پرسوں مل کے پوچھوں گا۔ ویسے اگر سکون سے کام کرنا ہے تو کسی کی مدد نہیں لے سکتا، مجھے خود راستہ بنانا ہوگا۔ پتا کرنا ہوگا سب کا۔ کسی کو بھنک لگ گئی تو گڑبڑ ہو سکتی ہے۔ 

انسپکٹر شاہد:رضیہ، باہر جانے سے منع کیا تھا نا؟ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page