A Dance of Sparks–181–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 181

“تم پولیس کو بتا کر اب بھی اس کی مدد کر سکتی ہو۔” مائے  نے اُس کی  بات کاٹتے ہوئے کہا ”اگر پولیس کو ان کے بارے میں بتا دیا جائے تو انہیں آسانی سے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔”

“ہاں میں پولیس سے رابطہ کروں گی اور ایک دو روز بعد تم سے ملاقات کروں گی۔” تھائی وانگ نے یہ کہتے ہوئے جواب کا انتظار کیے بغیر ریسیور رکھ دیا۔

” مائے کون ہے؟” میں نے پوچھا۔ میں قریب ہی بیٹھا ہوا تھا اور ساری باتیں سن لی تھیں۔

مجھے اس افسوس ناک واقع پر افسوس ہوا تھا۔ رانا واقعی خوں خوار بھیڑیا تھا۔ انسانی زندگی کی اس کے نزدیک واقعی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ وہ بڑی بے رحمی سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہا تھا۔

“مائے کا مساج پارلر ہے۔ ہوٹل پلازا میں لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو؟” تھائی وانگ نے سوالیہ نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔

“اگر یہ قابل اعتماد ہو تو اس سے کچھ کام لیا جا سکتا ہے۔ ” میں نے کہا “رانا کے ٹھکانے کا پتا لگانا ضروری ہے اور اس کا سراغ اسی گیسٹ ہاؤس سے ہی مل سکتا ہے جہاں پہلی بار میری اس سے مڈھ بھیڑ ہوئی تھی۔ میں اور پر ساد وہاں جا نہیں سکتے۔ تمہارا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ یہ کام کسی ایسی ہستی سے لیا جاسکتا ہے جس پر کسی قسم کا شبہ نہ کیا جا سکے۔

“ایسی صورت میں مجھے خود مائے کے پاس جانا پڑے گا تاکہ اسے بات سمجھائی جاسکے۔ ” تھائی وانگ نے جواب دیا ۔ اور پھر اسی رات بارہ بجے کے قریب ہم ٹاکسن روڈ کی اسٹریٹ ایٹی ٹوپر واقع مائے کے گھر میں موجود تھے۔ اپنے مکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں نے تھائی وانگ کے چہرے پر عجیب سے تاثرات دیکھے تھے۔ مکان کی جگہ پر ملبے کا ڈھیر ابھی تک پڑا ہوا تھا۔

مائے کی عمر بتیس کے لگ بھگ تھی۔ وہ دراز قامت اور حسین عورت تھی۔ اسے دیکھ کر مجھے یاد آ گیا کہ میں نے کسی میگزین کے ایک اشتہار میں اس کی تصویریں بھی دیکھی تھیں۔ وہ شادی شدہ تھی لیکن اس کا شوہر کئی سال پہلے برما گیا تھا اور اس کے بعد لوٹ کر نہیں آیا تھا۔ اس کے بارے میں خیال تھا کہ مرکھپ چکا ہے۔ زندہ ہو تا تو اس کے بارے میں کوئی اطلاع ضرور ملتی۔ مائے کو اپنی بات سمجھانے میں آدھا گھنٹا لگا تھا اور بالآخر وہ

ہمارا ساتھ دینے پر تیار ہوگئی تھی۔

“ٹھیک ہے۔” وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولی ،”میں کل ہی سے اس مشن پر کام شروع کر دیتی ہوں۔”

مائے سے رخصت ہو کر ہم واپس پہنچے تو رات کے دو بج رہے تھے۔ اس کے تیسرے ہی دن مائے سے ایک دلچسپ رپورٹ مل گئی۔ تھائی وانگ نے اسے خود فون کیا تھا۔ مائے نے بتایا کہ شانگ تو چیانگ رائے واپس جاچکا ہے اور رانا وقتی طور پر سوامی رگونا تھ  کے آشرم میں پناہ لے چکا ہے جبکہ کم اور چی فانگ بھی شہر میں کسی جگہ روپوش ہیں۔ سوامی رگوناتھ کے آشرم کے بارے میں میرا خیال تھا کہ وہ یتیم خانے کی طرح کا بے سہارا بچوں اور عورتوں کا کوئی ادارہ ہو گا لیکن تھائی وانگ میری یہ بات سن کر مسکرا دی تھی۔

“یہ اس طرح کا آشرم نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔” اس نے کیا۔

“آشرم تو آشرم ہی ہوتا ہے۔” میں نے اس کی پوری بات. سنے بغیر کہا۔ “میرا خیال ہے جانکی دیوی یہ کام کر سکتی ہے۔ وہ ہندو ہے اور کسی ہندو عورت کے لیے آشرم میں داخل ہونا زیادہ مشکل نہیں ۔

“پہلے میری بات سمجھ لو پھر اپنی بات کرنا۔ ” تھائی نے کہا ” تم نے رجنیش دیوتا کے بارے میں کچھ نہیں سنا ہوا۔ یہ ہندوستان کا سنیاسی تھا۔ یہ غالباً تیس سال پہلے کی بات ہے۔ اس نے ہندوستان کے شہر پونا کے قریب ایک چھوٹے سے آشرم میں عجیب و غریب اور پراسرار قسم کے روحانی خیالات کا پرچار شروع کیا۔ وہ فطرتا ایک عیاش آدمی تھا۔ عورت، شراب اور دولت اس کی سب سے بڑی کمزوری تھی مگر وہ کھل کر اپنی یہ خواہشات،  پوری نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے مذہب اور روحانیت کی آڑ لے کر ایسے خیالات کا اظہار کرنا شروع کر دیا جن میں بنیادی طور پر جنسی بے راہ روی کو آزادی کا نام دیا گیا۔ دولت مند گھروں کی آزادی پسند لڑکیاں اور لڑکے اس کے گرد جمع ہونے لگے۔ اس کے چیلوں کی تعداد میں روز

بروز اضافہ ہوتا رہا۔ نشہ اور جنسی بے راہ روی اس کے مذہب میں جائز تھی۔ وہ خود ایسی اخلاق سوز حرکتیں کرتا اور اپنے چیلوں کو بھی اس کی ترغیب دیتا۔ اس کے چیلوں میں ایسی غیر ملکی عورتیں اور مرد بھی شامل تھے جو روحانیت کی تلاش میں دنیا بھر میں بھٹکتے رہتے تھے”

ہندوستان میں رجنیش پر پابندیاں لگنے لگیں تو وہ امریکا منتقل ہو گیا۔ وہاں بھی لوگ اس کے گرد جمع ہونے لگے۔ ان کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا رہا۔ اس کے چیلوں کو روحانی آسودگی حاصل ہوئی یا نہیں؟ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن رجنیش کی خواہشات پوری ہو رہی تھیں۔ اس کے پاس عیاشی کا ہر سامان موجود تھا۔ سفر کے لیے لاتعداد رولس را ئز کاریں، رہائش کے لیے عالی شان مکان بڑھیا شراب اور جوان و حسین لڑکیاں۔ یہ وہ لڑکیاں تھیں جو روحانیت کی جستجو میں اس کے پاس آتی تھیں اور اس کے ایک اشارے پر بے لباس ہو کر اس کے قدموں میں لوٹنے لگتی تھیں۔ رجنیش روس کے راسپوٹین سے زیادہ گندہ اور غلیظ آدمی تھا۔ وہ کچھ ایسی پراسرار قوتوں کا مالک تھا کہ ایک مرتبہ اس سے نظریں ملانے والا بھی کوئی شخص اس کے جال سے نکل نہیں سکتا تھا۔1958ء میں جب امریکیوں نے محسوس کیا کہ اس کی تعلیمات نوجوانوں کو جنسی بے راہ روی اور گمراہی کی طرف لے جارہی ہیں تو امریکی حکومت نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس پر لاتعداد مقدمات بھی قائم ہوئے پھر اسے ملک بدر کر دیا گیا اور بالآخر 1990ء میں بھارت میں اس کا انتقال ہو گیا۔ ” تھائی وانگ چند لمحوں کو خاموش ہوئی پھر بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگی۔ ” یہ سوامی رگوناتھ بھی اسی قسم کا آدمی ہے جو چند سال پہلے بھارت ہی سے یہاں آیا تھا۔ کچھ عرصہ وہ انڈین ٹمپل میں رہا لیکن اس کی غیر اخلاقی اور حیا سوز حرکتوں کی وجہ سے اسے مندر سے نکال دیا گیا۔ اس نے بنکاک کے مشرق میں قدیم شہرسے کچھ فاصلے پر ایک آشرم بنالیا تھا۔ جہاں وہ ایسی ہی تعلیمات دیتا ہے جس کا پر چار رجنیش بھگوان کیا کرتا تھا۔ اس کے بارے میں وقتا فوقتاً اخبارات میں کچھ نہ کچھ چھپتا رہتا ہے۔ بعض اخبارات نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ یہ آشرم منشیات اور جرائم کا بہت بڑا اڈا ہے۔ لوگ سنگین جرائم کرنے کے بعد یہاں پناہ لیتے ہیں لیکن قانون آج تک اس کے خلاف حرکت میں نہیں آیا کیونکہ اس کے چیلوں میں بعض ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو حکومت میں اونچی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔”

“دلچسپ” میں نے اس کے خاموش ہونے پر کہا ”اس کا مطلب ہے ، مائے کی رپورٹ درست ہی معلوم ہوتی ہے اور میرا خیال ہے کہ جانکی دیوی کو مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے وہاں بھیجنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page