A Dance of Sparks–182–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 182

“اگر وہ تیار نہیں ہوئی تو؟ “تھائی وانگ نے کہا۔

“تو پھر کوئی اور ترکیب سوچیں گے۔ بہر حال، صبح میں خود جانکی سے بات کروں گا۔ “میں نے کہا۔

اگلے روز جانکی دیوی سے بات ہوئی تو وہ فورا ہی اس کے لیے تیار ہو گئی

“اگر کوئی خطرہ محسوس کرو تو وہاں سے نکلنے میں دیر مت کرنا۔ “میں نے کہا۔

” سنا تو میں نے بھی یہی ہے کہ وہ آشرم جرائم کا بہت بڑا اڈا ہے اور جرائم پیشہ لوگ گرفتاری سے بچنے کے لیے وہیں پناہ لیتے ہیں اور جب ان کا معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے تو وہ آشرم سے نکل کر دوبارہ اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ بہرحال میں کوشش کروں گی کہ معاملہ الجھنے نہ پائے۔ ” جانکی دیوی نے کہا۔

 جانکی دیوی کے جانے کے بعد اس رات میں نے ماسٹر ہو چن سے بات کی۔ اس نے یہ دلچسپ خبر سنائی کہ ٹائیگر کی موت کے بعد پیڈرو نے زیر زمین دنیا کی کمان سنبھال لی تھی اور اس نے اعلان کیا تھا کہ جب تک ٹائیگر کے قتل کا بدلہ نہیں لے گا۔ چین سے نہیں بیٹھے گا۔ ٹائیگر نے میرے سر کی قیمت ایک ملین بھات مقرر کر رکھی تھی۔ پیڈرو نے یہ قیمت دو ملین بھات کردی۔ پیڈرو کے بارے میں معلوم کرنا ضروری تھا کہ وہ کون ہے اور یہ معلومات صرف اور صرف را من پر سادہی حاصل کر سکتا تھا۔ رامن پرساد کو یقین تھا کہ اسے ٹائیگر کے کسی آدمی نہیں دیکھا تھا۔ وہ سات آٹھ دن پا میلا کے ساتھ رہا تھا اور اس دوران میں اس نے یہ بات خاص طور سے نوٹ کی تھی کہ کبھی کسی آدمی کو اپنی نگرانی کرتے ہوئے نہیں پایا تھا۔ لیکن پھر یکا یک مجھے ایک اور خیال آگیا۔ پرساد نے بتایا تھا کہ شروع میں اسے پامیلا کے ساتھ دیکھ کر انہیں کسی قسم کا شبہ ہوا تھا اور اس کے بارے میں کچھ معلومات بھی حاصل کی گئی تھیں۔ اس کا مطلب تھا کہ پر ساد کو ان کے کسی اڈے پر بھیجنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔

“تم اس کی فکر مت کرو باس۔ وہ مجھے نہیں پہچان سکیں گے۔ ” پرساد نے کہا ” تمہیں یاد ہے جب میں یہاں سے گیا تھا تو میرے بال چھوٹے تھے اور لباس سے بھی میں بندے دا پترہی لگ رہا تھا اور ویسے بھی کئی روز ہو چکے ہیں۔ اگر بال بڑھا کر مونچھیں رکھ لی جائیں تو ان کے فرشتے بھی مجھے نہیں پہچان سکیں گے۔

“لیکن اس میں کئی روز لگ جائیں گے۔” میں نے کہا۔

“کئی روز ۔ ” پرساد مسکرایا “مونچھیں اور بال تو چٹکی بجاتے میں آسکتے ہیں۔ وہ الماری میں سے براؤن بالوں والی ایک وگ اور مونچھیں نکال لایا۔

“یہ چیزیں کئی روز پہلے میں نے یہاں لا کر رکھی تھیں اور اب ان کے استعمال کا وقت آگیا ہے۔” اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کروگ سر پر جمائی اور ٹوتھ برش ٹائپ کی مونچھیں ہونٹوں پر چپکا لیں۔ اس حلیے میں واقعی اس کے چہرے میں بڑی تبدیلی آگئی تھی۔

“میں ایسے ہی ذرا ان کے علاقے کا ایک چکر لگا کر آتا ہوں۔ اگر کوئی گڑبڑ نظر آئی تو پر وگر ام بدل دیں گے۔”

میں جانتا تھا کہ پر ساد میرے روکے نہیں رکے گا اس لیے میں نے اسے روکنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔ اس کی واپسی تقریباً چار گھنٹوں بعد ہوئی تھی۔ اس وقت شام کے پانچ بج رہے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ نویتا کو کار سے اترتے دیکھ کر میں چونکے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔ وہ بہت خوف زدہ نظر آرہی تھی۔ اندر آکر اس نے مجھے اور تھائی کو دیکھا تو اس کے چہرے کے ناثرات بدل گئے۔ وہ الجھی ہوئی نظروں سے پر ساد کی طرف دیکھنے لگی پرساد نے وگ اور مونچھیں اتار دیں تو نویتا کے منہ سے گہرا سانس نکل گیا۔

“ہم نے تو تمہیں اس روز پتایا جانے والی کوچ پر سوار کرایا تھا۔ تم دوبارہ یہاں کیوں آگئیں؟” تھائی وانگ نے اسے گھورا۔

” یہ تمہیں کہاں سے ملی؟” میں نے نویتا کے بولنے سے پہلے پر ساوسے پوچھا۔

میں سوکھم واٹ روڈ کی طرف سے آرہا تھا کہ یہ ہوٹل بلیوارڈ کے سامنے کھڑی ہوئی نظر آگئی۔ میں گاڑی روک کر اس کے پاس آگیا۔ میں نے اس سے بات کرنا چاہی تو یہ ڈر کر پیچھے ہٹ گئی۔ ممکن ہے کہ مجھے کوئی غنڈا سمجھ کر شور مچا دیتی لیکن میں نے اسے اپنا نام بتایا اور کچھ پچھلی باتیں یاد دلائی  میں تو یہ خاموشی سے میرے ساتھ کار میں بیٹھ گئی۔ تم لوگوں کو دیکھنے سے پہلے تک یہ ڈری ہوئی تھی اور شاید یہی سوچ رہی تھی کہ کسی غلط آدمی کے ہاتھ لگ گئی۔”

“تم واپس کیوں آگئیں؟ اس مرتبہ میں نے نویتا سے پوچھا۔ ” جب میں پتایا پہنچی تو بڑی مشکل سے میں نے اپنی خالہ کا ایڈریس تلاش کیا لیکن پتا چلا کہ وہ چیانگ رائے گئی ہوئی ہے اور ایک ہفتے بعد واپس آئے گی۔ وہاں مجھے خالہ کا ایک دوست مل گیا۔ وہ بھی محکمہ سیاحت میں ٹورسٹ گائیڈ ہے۔ اس نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مجھے اپنے گھر میں رہنے کو جگہ دے دی۔ تین چار روز تو خیریت سے گزر گئے اور پھر ایک روز وہ شراب کے نشے میں  میرے کمرے میں گھس آیا ۔ وہ اپنی ہمدردی کی قیمت وصول کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اس رات بڑی مشکل سے اپنے آپ کو بچایا اور صبح  ہوتے ہی وہاں سے نکل گئی۔ دو تین دن ایک ہوٹل میں گزارے۔ وہاں بھی میں ہر وقت اپنے لیے خطرہ محسوس کرتی رہی۔ کل میں نے محکمہ سیاحت کے دفتر سے خالہ کے بارے میں معلوم کیا تو پتا چلا کہ اس نے ایک ہفتے کی مزید چھٹی لے لی ہے۔ میں آج دوپہر کو  بنکاک آگئی اور یہاں تم لوگوں کو تلاش کرتی پھر رہی تھی۔ مجھے یہ بھی خوف تھا کہ اگر شا نگ کے آدمیوں نے دیکھ لیا تو مجھے گولی مار دیں گے۔

بنکاک جیسے شہر میں ایڈریس کے بغیر کسی کو تلاش کر لیتا جوئےشیر لانے سے کم نہیں۔ یہ تو تمہاری خوش قسمتی ہے کہ تم پر ساد کی نظروں میں آگئیں اور وہ تمہیں یہاں لے آیا ۔ ویسے مجھے ایک اور بات یاد آرہی ہے۔” میں چند لمحوں کو خاموش ہوا پھر بولا ” اس روز تم نے بتایا تھا کہ شانگ کے ساتھ شام کے وقت بنکاک پہنچی تھیں اور رات گیارہ بجے تک ہوٹل کے کمرے میں رہی تھیں پھر ٹائیگر اور شانگ کے ساتھ اس کو ٹھی میں آگئی تھیں جہاں رانا تم لوگوں کا منتظر تھا۔ کیا اس دوران میں کسی اور آدمی سے بھی تم لوگوں کی ملاقات ہوئی تھی؟

“نہیں۔” نویتا نے مختصر سا جواب دیا۔

“اس کا مطلب ہے کہ ٹائیگر پامیلا، رانا اور شانگ کے سوا کوئی اور تمہیں نہیں پہچانتا۔ “میں نے کہا ”پا میلا اور ٹائیگر مرچکے ہیں۔ شانگ چیانگ رائے واپس جاچکا ہے اور رانا ایک ایسی جگہ روپوش ہے جہاں سے کئی روز تک وہ باہر نہیں آئے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہیں فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے اور تم آزادی سے گھوم پھر سکتی ہو۔”

بات نویتا کی سمجھ میں آگئی تھی۔ اور پھر اسی رات رامن پر ساد اپنے مشن پر روانہ ہوا تو نویتا بھی اس کے ساتھ تھی۔ میری باتوں سے نویتا کا خوف بڑی حد تک ختم ہو گیا تھا اور اس کا اعتماد کسی حد تک بحال ہوا تھا۔ ان دونوں کی واپسی رات دو بجے کے قریب ہوئی تھی۔ تشویش ناک خبر یہ تھی کہ پیڈرو نے مجھے موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے ایک ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دیا تھا جس میں بنکاک کے چار سفاک ترین پیشہ ور قاتل شامل تھے۔ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ مجھے جہاں بھی دیکھیں، پکڑنے کی کوشش کرنے کے بجائے میرے ٹکڑے کردیں اور وہ ٹکڑے ایک بوری میں بند کر کے تحفے کے طور پر مہاراج کو بھیج دیے جائیں۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page