The Game of Power-94-طاقت کا کھیل

The Game of Power

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی جانب سے  رومانس ،ایکشن ، سسپنس ، تھرل ، فنٹسی اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی ہوئی ایک  ایکشن سے بھرپور کہانی، ۔۔ طاقت کا کھیل/دی گیم آف پاؤر ۔۔یہ  کہانی ہے ایک ایسی دُنیا کی جو کہ ایک افسانوی دنیا ہے جس میں شیاطین(ڈیمن ) بھی ہیں اور اُنہوں نے ہماری دُنیا کا سکون غارت کرنے کے لیئے ہماری دنیا پر کئی بار حملے بھی کئے تھے  ۔۔لیکن دُنیا کو بچانے کے لیئے ہر دور میں کچھ لوگ جو  مختلف قوتوں کے ماہر تھے  انہوں نے ان کے حملوں کی  روک تام  کی ۔۔

انہی میں سے کچھ قوتوں نے دنیا کو بچانے کے لیئے ایک ٹیم تیار کرنے کی زمہ داری اپنے سر لے لی ۔ جن میں سے ایک یہ  نوجوان بھی اس ٹیم کا حصہ بن گیا اور اُس کی تربیت  شروع کر دی گئی۔ یہ سب اور بہت کچھ پڑھنے کے لئے ہمارے ساتھ رہیں ۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

طاقت کا کھیل قسط نمبر -- 94

اس کی بات سن کر میں گہری سانس لیتے ہوۓ  بولا۔:

 ٹھیک ہے جو ہونا تھا ہو گیا اب تم کیا چاہتی ہو؟ کیا تم اب بھی میری طرف سے دل صاف نہیں کر پائی ؟تم جانتی ہو کہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی کیونکہ میں نے تمہارے ماسٹر پر پہلے حملہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ میری دنیا کو تباہ کرنے آیا تھا ۔پہل اس کی جانب سے ہوئی تھی بچاؤ کا ہر شخص کو حق ہوتا ہے مجھے بھی تھا اور  وہ حق میں نے استعمال کیا اپنے حملہ آور سے خود کو بچایا  اور جوابی کاروائی کی ۔۔ ہمارے ہاں تو اس کو سیلف ڈیفنس کہتے ہیں تم لوگوں کے ہاں پتہ نہیں اس کو کیا کہتے ہوں گے۔۔

لیلیٰ سسٹم۔۔

 ماسٹر میں سیلف ڈیفنس کے بارے میں جانتی ہوں پر پھر بھی وہ کیا کہتے ہیں پرانی محبت کو انسان بلائے نہیں بھولتا۔۔۔۔!

پرانی محبت اور پرانی شراب بندہ چاہے بھی تو الگ نہیں  ہوسکتا۔۔!  اس لیے میں اب تک اپنے پرانے ماسٹر کو نہیں بھول پائی کیونکہ میرے اس ماسٹر کے ساتھ صرف سسٹم تک تعلقات ہی نہیں تھے بلکہ۔۔۔

اتنا بول کر وہ ایک لمحے کے لئے خاموش ہوئی اور پھر بات دوبارہ بات جاری رکھتے ہوۓ بولی ” میرے اس ماسٹر کے ساتھ جسمانی تعلقات بھی تھے اور یہ بات میں آپ کو بتا چکی ہوں ماسٹر ۔۔

 میں بولا

تو ٹھیک ہے جو بھی تمہارے تعلقات تھے اس میں میری کیا غلطی تھی ۔۔ تم مجھے کیوں قربانی کا بکرا بنا رہی ہو جو ہونا تھا وہ ہو گیا میں نے جان بوجھ کر تھوڑا ہی کیا۔۔ !  یا تو میں تم لوگوں کے پلینٹ پر آ کر تم لوگوں کے پرحملہ کرتا تب تو میری غلطی ہوتی پر  میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔۔ میں نے جو کچھ بھی کیا تھا تمہارے ماسٹر کو روکنے کےلئے کیا تھا۔۔۔میں نے تمہارے ماسٹر کو وارننگ بھی دی تھی کہ تم واپس جا سکتے ہو لیکن وہ نہیں مانا اور تم الٹا مجھ سے گلا کر رہی ہو۔۔۔

میری بات بھی شاید اس کی سمجھ میں آ گئی تھی۔ جس کا اظہار کرتے ہوۓ وہ بولی

 لیلیٰ سسٹم۔(دوسرا سسٹم۔ )

 ٹھیک ہے ماسٹر میں آگے سے ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گی۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔میں آپ سے معافی مانگتی ہوں

 میں بولا۔

 مجھے رانی نے رات کو ہی بتا دیا تھا کہ میرے پاس دو سسٹم ہونے کی وجہ سے یہ آپشن موجود ہے کہ میں اپنے جسم سے کسی بھی سسٹم کو نکال کر اس کو ختم کر سکتا ہوں کیونکہ میں ہوسٹ ہوں۔۔!

سسٹم کی اتھارٹی میرے پاس ہے۔۔ لیکن میں پھر بھی تمہیں ایک موقع دینا چاہتا ہوں

 میری بات سن کر اس کا ڈر مجھے واضح اس کی آواز سے محسوس ہو رہا تھا جس کا اظہار  کرتے ہوئے اس نے  کہا “نہیں ماسٹر اب ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا میں آگے سے آپ کو یقین دلاتی ہوں آگے سے ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گی۔۔۔!

رانی والی بات میں نے جھوٹ بولی تھی رانی نے مجھے ایسا کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔۔ یہ میں نے  اپنے پاس سے کہانی گھڑی تھی تاکہ میں اس کو اچھے سے قابو کر سکوں اور اس کے دل میں ڈر بیٹھا سکوں۔

 بےشک وہ منہ سے مجھے بولتی رہے کہ میں وفادار رہوں گی پر آگے اس کا کیا پتہ تھا کہیں پھر سے ایسی حرکت کر دے سانپ کا ڈسا رسی سے بھی ڈرتا ہے اور احتیاط کرتا ہے  اسی لئے میں نے یہ بات کہہ دی مجھے یقین تھا کہ اب وہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گی۔۔ وہ پورا دن میں اور رانی لیلیٰ سے اکھڑے ہی رہے ۔۔ ہم دونوں سیدھے منہ اس سے بات نہیں کر رہے تھے ۔۔۔

میرا مقصد  اس کو احساس دلانا تھا کہ اس نے کون سی غلطی کی اور یہ بات اب وہ بھی اچھے سے سمجھ گئی تھی اس لیے رات کو جب کمرے میں میں سونے کے لیے گیا تو لیلی کی بہت ہی مایوسی بھری آواز میرے کانوں میں گونجی..

لیلیٰ (دوسرا سسٹم )

 ماسٹر اب تو مجھے معاف کر دیں مانتی ہوں مجھ سے غلطی ہو گئی پر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ مجھ سے ہمیشہ کے لیے ناراض ہو جائیں ۔۔مزید اگر آپ مجھ سے ناراض ہوئے تو میں ختم ہو جاؤں گی میری ایبلٹی پوائنٹس نیچے گر رہے ہیں آپ کی ناراضگی کی وجہ سے کیونکہ کسی بھی سسٹم سے اس کا ہوسٹ اگر ناراض ہو جائے تو اس کے پوائنٹس گرنا شروع ہو جاتے ہیں اور آپ یہ مت سمجھنا کہ میں پوائنٹس کےلیے آپ کو راضی کر رہی ہوں بلکہ میں واقعی شرمندہ ہوں اور میں دوبارہ ایسی کوئی بھی حرکت نہیں کروں گی۔۔۔ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں اگر میں نے ایسی کوئی حرکت کی تو آپ کے پاس یہ آپشن موجود ہے آپ مجھے اپنے جسم سے باہر نکال سکتے ہیں اور مجھے ختم کر سکتے ہیں۔۔

 رانی بھی لیلیٰ کو اتنا مایوس دیکھ کر  بول پڑی۔

رانی سسٹم۔:

ماسٹر میرے کہنے پر آپ اسے معاف کر دیں۔۔

میں رانی کی سیاسی چالوں کو اچھے سے سمجھ رہا تھا کیونکہ اس کے ساتھ میرا کافی وقت گزر گیا تھا

وہ لیلی پر احسان جتاتے ہوئے مجھ سے یہ کہہ رہی تھی حالانکہ میں خود بھی لیلی کو اب معاف کرنے کا سوچ چکا تھا ۔۔

 پر رانی کی بات سن کر میں سمجھ گیا کہ وہ اس طرح لیلی کو اپنے احسانوں تلے دبا کر اس کو قابو کرنا چاہ رہی ہے ۔۔اس لیے میں نے بھی کہا ٹھیک ہے رانی تمہارے کہنے پر میں اس کو معاف کر رہا ہوں اور میں اس سے ناراض نہیں ہوں۔۔ آگے سے دھیان رکھنا میں تم لوگوں کا پورا ساتھ دے رہا ہوں تو تم لوگوں کو بھی میرا ساتھ دینا چاہیے ورنہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں میں پہلے بھی جہاں دوسری زندگی گزار رہا تھا وہاں اب بھی گزار سکتا ہوں پہلے بھی میں محنت مزدوری کر رہا تھا اب بھی میں کر سکتا ہوں۔۔ ہاں تم لوگوں کے آنے سے اتنا فرق پڑا ہے کہ میں محنت مزدوری سے نکل کر کسی اچھی جگہ پہ کام کر رہا ہوں ورنہ میری باقی زندگی تو ویسی کی ویسی ہی ہے۔۔ اس میں اتنا کوئی خاص فرق نہیں پڑا بس صرف میں کسی اچھی جگہ کام کر رہا ہوں اور تھوڑا بہت طاقتور ہوں۔۔

لیلیٰ (دوسرا سسٹم )

ہاں میں نے دیکھا ماسٹر اب تو اتنے دن ہو گئے میں بھی آپ کے اندر موجود ہوں جتنی تبدیلی آپ کے اندر آنی چاہیے اتنی نہیں آئی  سسٹم کا فائدہ آپ کو نہیں ہوا یہ فائدہ میں آپ کو دلاؤں گی۔۔۔ آپ دنیا میں ان گنے چنے لوگوں میں سے ہیں جن کے پاس اتنی قابلیت ہے کہ ان کے پاس دو سسٹم موجود ہیں۔ میرے پاس اتنا کچھ ہے کہ میں نے ابھی آپ کو اس کا دو پرسنٹ بھی نہیں بتایا۔ کل سے آپ ایک نئی دنیا کو دیکھیں گے۔۔۔

میں بولا۔۔

ٹھیک ہے دیکھتے ہیں کل کیا ہوتا ہے ابھی تو مجھے نیند آرہی ہے میں سونے لگا ہوں ۔۔

اتنا بول کر میں آنکھیں بند کر لیٹ گیا۔۔

 جبکہ مجھے خاموش دیکھ کر لیلی اور رانی بھی خاموش ہو گئی۔۔

رات کے پچھلے پھر میری آنکھ کھلی تو بگلی سامنے ہی صوفے پر موجود تھی میں اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا:  کیا بات ہے ؟

طاقت کا کھیل /The Game of Power

کی اگلی قسط بہت جلد پیش کی جائے گی۔

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے دیئے گئے لینک کو کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page