کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی جانب سے رومانس ،ایکشن ، سسپنس ، تھرل ، فنٹسی اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی ہوئی ایک ایکشن سے بھرپور کہانی، ۔۔ طاقت کا کھیل/دی گیم آف پاؤر ۔۔یہ کہانی ہے ایک ایسی دُنیا کی جو کہ ایک افسانوی دنیا ہے جس میں شیاطین(ڈیمن ) بھی ہیں اور اُنہوں نے ہماری دُنیا کا سکون غارت کرنے کے لیئے ہماری دنیا پر کئی بار حملے بھی کئے تھے ۔۔لیکن دُنیا کو بچانے کے لیئے ہر دور میں کچھ لوگ جو مختلف قوتوں کے ماہر تھے انہوں نے ان کے حملوں کی روک تام کی ۔۔
انہی میں سے کچھ قوتوں نے دنیا کو بچانے کے لیئے ایک ٹیم تیار کرنے کی زمہ داری اپنے سر لے لی ۔ جن میں سے ایک یہ نوجوان بھی اس ٹیم کا حصہ بن گیا اور اُس کی تربیت شروع کر دی گئی۔ یہ سب اور بہت کچھ پڑھنے کے لئے ہمارے ساتھ رہیں ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
نوٹ : ـــــــــ اس طرح کی کہانیاں آپ بیتیاں اور داستانین صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ساری رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی تفریح فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے دھرایا جارہا ہے کہ یہ کہانی بھی صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔
تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
طاقت کا کھیل قسط نمبر -- 98
اس کے خاص آدمی نے جب یہ دیکھا کہ کاشف کی حالت بگڑ رہی ہے تو اس نے فورا اپنا موبائل نکال کر روشن بھائی کو کال ملا دی۔۔۔
روشن بھائی کے خاص آدمی نے کال اٹھائی اور ساری بات روشن بھائی کو بتائی روشن بھائی جو اس وقت ایک پارٹی میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔وہ وہاں سے اپنی گاڑیوں میں نکلا اور کاشف جتوئی کے فارم ہاؤس کی جانب روانہ ہو گیا۔۔
روشن بھائی شہر کا جانا مانا ڈون تھا ۔۔۔ جس کے کئی غیر قانونی کام تھے۔۔۔ لیکن پولیس کی اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس پر ہاتھ ڈالتی۔۔۔۔ اس کی پہنچ ایوانوں میں بیٹھے لوگوں تک تھی۔۔۔ اس کا کوئی آدمی اگر پکڑا بھی جاتا تو وہ کچھ ہی دنوں میں حوالات سے باہر آجاتا اور پھر اس پولیس والے کے خاندان کی کوئی خبر نہیں ہوتی ۔۔۔کہ انہیں کہاں دفنا دیا گیا ہے۔۔۔ یہ خوف اور ہراس اتنا پھیلا ہوا تھا کہ کوئی بھی پولیس والا ہمت جٹا ہی نہیں پا رہا تھا روشن بھائی پر ہاتھ ڈال سکے۔۔۔۔۔
روشن بھائی کا قافلہ پانچ گاڑیوں پر مشتمل ہوتا تھا ۔۔۔آج بھی وہ پانچ گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں سوار کاشف جتوئی کے فارم ہاؤس پر پہنچا ۔۔۔۔ کاشف جتوئی بھی روشن بھائی کا ایک کارندہ ہی تھا جسے روشن بھائی نے فوڈ چین میں ڈالا ہوا تھا۔۔
روشن بھائی تیزی سے اپنی گاڑی سے اترا اور لگ بھگ بھاگتا ہوا کاشف جتوئی کے پاس پہنچا۔۔۔۔اس کے ہاتھ سے بوتل کو کھینچتے ہوئے دور پھینکا پھر اسنے دونوں ہاتھوں سے اس کے کندھے پکڑ کر اس کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا : خود کو سنبھالو آخر مسئلہ کیا ہوا ہے؟ جو کوئی بھی مسئلہ ہے مجھے بتاؤ میں دیکھ لیتا ہوں۔۔
کاشف بولا۔:اس نے مجھے سب کے سامنے ہرایا اور پھر جب میں نے اسے مارنا چاہا تو اس نے مجھے تب بھی ذلیل کر کے وہاں پر زندہ چھوڑ دیا۔۔۔ اگر وہ مجھے مار دیتا تو اتنا دکھ ناں ہوتا لیکن اس نے مجھے زندہ چھوڑ دیا تاکہ میں سب کے سامنے ذلیل ہوتا پھروں۔۔
روشن بولا۔: کون تھا کس کی اتنی ہمت ہوئی کہ وہ تم سے ٹکرائے مجھے اس کا نام بتاؤ۔۔
کاشف بولا۔: میں اس کا نام تو نہیں جانتا لیکن وہ ریڈی فوڈ چین کی مالک نتاشا کے ساتھ آیا تھا
روشن بولا۔: یعنی اب ہمیں نتاشہ کو اٹھانا ہوگا۔۔ وہی اس کے بارے میں بتائے گی
کاشف بولا: وہ بہت زیادہ طاقتور ہے وہ اکیلا ہی ہمارے سب آدمیوں پر بھاری پڑ سکتا ہے۔۔۔ ہم لوگوں نے نتاشا کو اٹھانا نہیں ہے بلکہ اس تک پیغام پہنچانا ہے کہ اس لڑکے کو ہمارے فارم ہاؤس پر بھیجا جائے۔۔۔۔
روشن بولا: کیا بکواس کر رہے ہو تم۔۔۔ لگتا ہے تم نے زیادہ پی لی ہے اور وہ تمہارے دماغ پر اثر کر گئی ہے۔۔۔ اکیلا آدمی تمہارے سب آدمیوں پر بھاری کیسے پڑھ سکتا ہے۔۔؟
کاشف بولا۔۔۔۔ آپ نے اگر دیکھا ہوتا تو آپ بھی میری بات پر یقین کرتے۔۔۔۔
روشن بولا۔: میں کچھ نہیں جانتا میں اسے دیکھ لوں گا ۔۔
کاشف بولا۔: میری مانیں تو اپنا ارادہ بدل دیں۔۔۔۔
ابھی کاشف اپنی بات مکمل۔ کر پاتا کے روشن بھائی اسے جھرکتے ہوۓ بولا : بکواس بند کر ۔۔
٭٭٭٭٭
میں جب نیند سے جاگا تو خود کو بڑا فریش محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔
چند لمحے کھلی آنکھوں سے چھت کو گھورنے کے بعد میں اٹھ کر فریش ہونے کے لئے واش روم میں گھس گیا اور ضروری حاجات سے فارغ ہونے کے بعد چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر روم میں آیا اور کپڑے چینج کرنے کے بعد اپنے روم سے نکل کر جب میں ٹی-وی لانچ میں پہنچا تو دیکھا کے سبھی ٹی وی لانچ میں خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔۔
سبھی کو ایک نظر دیکھنے کے بعد میں گلا کھنگھارتے ہوئے زوہیب کے پاس جا کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور اسے باہوں کے حصار میں لے کر تسلی دیتے ہوئے بولا: آپ سب کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔اسے آپ سب اپنا ہی گھر سمجھے ۔۔ آپ جب تک چاہو یہاں پر رہ سکتے ہیں ۔۔۔
میری بات سن کر زوہیب کے والد جواب دیتے ہوۓ بولے :تمہارا بہت شکریہ بیٹا تم نے ہمیں رہنے کے لیے جگہ دی۔۔۔۔ہم تمہارا یہ احسان کیسے اتاریں گے۔۔
ان کی بات سن کر میں بولا۔: اس میں شکریہ والی کوئی بات نہیں ہے چاچا۔۔۔۔اور ویسے بھی میں آپ پر کوئی احسان نہیں کر رہا ۔۔۔۔جب میں مشکل میں تھا تو آپ لوگوں نے میری مدد کی تھی ۔۔۔۔۔ اور مجھے اپنے پاس اپنے گھر میں رہنے کے لئے جگہ دی تھی ۔۔ آج جب آپ مشکل میں ہیں تو میں آپ کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہوں ۔۔۔بس یہاں پر رہنے کے لیے کچھ شرطیں ہیں ۔۔۔۔جس سے گھر کا سکون بنا رہے گا۔۔۔ ناراض نہیں ہونا انکل
انکل بولے : اس میں ناراض ہونے والی کون سی بات ہے ۔۔۔اور تم شرطوں کا کہہ رہے تھے کیسی شرطیں ہیں بیٹا ؟
میں بولا۔: کچھ خاص نہیں ہے انکل ۔۔ ہم تینوں جیسے پہلے رہتے ہیں گراؤنڈ فلور پر ۔۔۔۔اب بھی ہم تینوں گراؤنڈ فلور ہی استعمال کریں گے۔۔اور اوپر بھی تین کمرے ہیں۔۔۔ میرا خیال ہے آپ سب کو ایڈجسٹ ہونے میں کوئی بھی پرابلم نہیں ہوگی۔۔۔اس لئے آپ اوپر والا فلور استعمال کریں گے ۔۔۔
اتنا بول کر میں ایک لمحے کے لئے خاموش ہوا اور پھر گہری سانس چھوڑ کر اپنی بات دوبارہ جاری رکھتے ہوۓ بولا۔ “بس ہماری چھوٹی سی شرط یہ ہے کے آپ اپنا سب کچھ علیحدہ کریں گے اور ہم اپنا سب کچھ علیحدہ ۔۔۔جس میں کھانا وغیرہ اور دوسری ضروریات ۔۔۔اوپر بھی ایک کچن کی سہولت موجود ہے۔۔۔ضرورت کی تمام اشیاء اس میں موجود ہیں پر پھر بھی اگر آپ کو جس چیز کی بھی ضرورت ہوئی آپ بتا دینا وہ میں مہیا کر دوں گا ۔۔ اس کا ایک سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کوئی کسی کی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرے گا جو جیسے جینا چاہتا ہے ویسے جئے امید ہے آپ کو میری بات بری نہیں لگی ہو گی ۔۔
ہماری باتوں کے دوران کرن بے آواز اپنی آنکھوں سے آنسو بہائے جا رہی تھی۔۔۔جبکہ اس کے ساتھ بیٹھی شمائلہ کی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی جیسے اسے یہی سب چاہیے تھا ۔۔۔ اس دوران زوہیب کی والدہ بار بار کرن کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔انہیں اس طرح کرن کو دیکھتا ہوا میں نوٹس کر چکا تھا اسی لئے میں انہیں مخاطب کرتے ہوۓ بولا : آپ اس طرح بار بار کرن کو دیکھ کر اسے پریشان مت کریں ۔۔۔۔میں ان کی پہلی زندگی کے بارے میں سبھی کچھ جانتا ہوں ۔۔۔ جن حالات میں کرن نے یہ کام کیا مجھے وہ بھی معلوم ہیں ۔۔۔اور میں اس معاملے پر بالکل بھی بات چیت نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔میں سب کچھ جانتا ہوں اس عورت کے بارے میں ۔۔۔۔
میری بات سن کر کرن نے تشکر بھری نگاہوں سے مجھے دیکھا ۔۔۔اسے اب تھوڑا بہتر محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
زوہیب جو اب تک خاموش تھا وہ بولا۔: تم ٹھیک کہہ رہے ہو یاسر ہم اوپر والے پورشن میں شفٹ ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔ہمارا باقی سامان تو وہاں ہی رہ گیا لیکن ہم اپنے کپڑے ساتھ لائے ہیں۔۔۔ باقی اگر ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو وہ ہم آپ سے مانگ لیں گے۔۔۔ میری نوکری اچھی جگہ لگی ہے ۔۔۔ جس کی وجہ سے ہمیں زیادہ پریشانی نہیں ہو گی ۔۔۔ میں سب سنبھال لوں گا۔ .
طاقت کا کھیل /The Game of Power
کی اگلی قسط بہت جلد پیش کی جائے گی۔
پچھلی اقساط کے لیئے نیچے دیئے گئے لینک کو کلک کریں