Lust and thirst-31-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 31

اس لیے ساحل نے تقریباً کاجل کی پوری چھاتی کو ہی منہ میں بھر لیا اور زور زور سے چوسنے لگا۔ کاجل کے بدن میں سرسراہٹ سی دوڑ گئی۔ اس کے نپل پر عجیب سی گدگدی ہونے لگی۔ بلبلا کر اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ساحل کے سر کو پکڑ لیا۔ 

کاجل: آہہ امہہ ماں، گدگدی ہو رہی ہے۔ ہٹو نا؟ 

لیکن ساحل اب کہاں سننے والا تھا۔ وہ تو زور زور سے اس کی چھاتی کو چوس کر اس کے نپل کو لال کر رہا تھا۔ کاجل کو بھی مزہ آ رہا تھا،مگر کنواری لڑکی تھی، اس لیے اسے وہ گدگدی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ اب ساحل کاجل کے اوپر آ گیا تھا۔ کاجل کی اسکرٹ اس کی رانوں کی جڑھ تک چڑھ کر اکٹھی ہو گئی۔ کاجل کو اپنی پینٹی کے اوپر سے اپنی چوت پر کچھ سخت سا چبھتا ہوا محسوس ہوا،لیکن وہ بغیر کچھ بولے لیٹی رہی۔  

ساحل نے اس کی چھاتی سے منہ ہٹا کر دوسری چھاتی کو منہ میں بھر لیا اور زور زور سے چوسنے لگا۔ کاجل ایک بار پھر سے تڑپ اٹھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں میں ساحل کے سر کو دبوچ رکھا تھا۔

“آہہ ساحل، بس کرو، مجھے نہیں ہوتا آہہ،” کاجل نے کہا۔

 ساحل نے کاجل کی چھاتی کو منہ سے باہر نکالا اور کاجل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا، 

ساحل: کیا ہوا، اچھا نہیں لگا کیا؟ 

کاجل: اچھا لگا مگر۔۔۔ 

ساحل: مگر کیا؟ 

کاجل: تُم بہت زور سے چوستے ہو، بہت گدگدی ہوتی ہے۔ 

ساحل: آگے اور کرنا ہے؟ 

کاجل: ساحل، پکا نا کچھ ہو گا تو نہیں؟ 

ساحل: کچھ نہیں ہوتا، دیکھنا کتنا مزہ آئے گا۔ 

پھر ساحل اس کے اوپر سے اٹھ کر اس کی رانوں کے بیچ میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اس کی اسکرٹ کو اوپر اٹھا کر دونوں ہاتھوں سے اس کی پینٹی کو نیچے کھینچنے لگا۔ کاجل نے شرما کر اپنے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ ساحل نے کاجل کی پینٹی کو دونوں طرف سے پکڑا اور دھیرے دھیرے سرکاتے ہوئے نیچے اتار دیا۔ سامنے کا نظارہ دیکھ کر ساحل کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ 

اب اس کی آنکھوں کے سامنے کاجل کی ایک دم کوری اور گوری چوت تھی، جس پر ایک بھی بال نہیں تھا۔ ایک دم چکنی۔ اس کی چوت کے ہونٹ  آپس میں چپکے ہوئے تھے،  جیسے گوند سے جوڑے ہوں۔ ساحل نے اس کی چوت کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو کاجل کی چوت کے ہونٹوں  پر گھمایا تو کاجل کا بدن ایک دم سے کانپ گیا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھول کر ساحل کی طرف دیکھا۔

 “کیا ہوا؟” ساحل نے کاجل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ 

کاجل: کچھ نہیں۔۔۔ (اور پھر اس نے مسکراتے ہوئے اپنا چہرہ دوسری طرف گھما لیا۔) 

ساحل نے دھیرے دھیرے کاجل کی کنواری چوت کے ہونٹوں  کو سہلانا شروع کر دیا۔ کاجل آنکھیں بند کیے ہوئے اس نئے کھیل کا مزہ لے رہی تھی۔ ساحل نے دیکھا کاجل کا چہرہ اب لال ہو گیا تھا۔ مطلب صاف تھا کہ اسے بھی اس کھیل میں مزہ آ رہا ہے۔ اس نے کاجل کی چوت کے ہونٹوں  کو سہلاتے ہوئے اپنا نیکر اتار دیا اور پھر اپنے ایک ہاتھ سے کاجل کی چوت کی پھنکیوں کو پھیلا دیا، جس سے کاجل کی چوت کا گلابی رس سے بھیگا ہوا سوراخ ساحل کی آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ اپنی چوت پر ساحل کے ہاتھوں کی گرمی محسوس ہوتے ہی کاجل تھوڑا سا سسک اٹھی۔ اس نے اپنی آنکھیں کھول کر ساحل کی طرف دیکھا تو اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ساحل اس کی رانوں کے بیچ میں گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا اور اس کا 5 انچ کا لنڈ ہوا میں جھٹکے کھا رہا تھا۔ 

کاجل: (تھوڑا گھبراتے ہوئے) یہ یہ تم نے اسے باہر کیوں نکال لیا؟ 

ساحل: تمہیں نہیں پتہ؟ 

کاجل: نہیں۔ 

ساحل: دیکھو، اب میں اپنے لن کو تمہاری پھدی میں ڈالوں گا۔ تو ہم دونوں کو بہت مزہ آئے گا۔ 

کاجل: (ساحل کی بات سن کر شرماتے ہوئے) ہا، تُم کتنی گندی باتیں کرتے ہو۔ تمہیں شرم نہیں آتی؟ 

ساحل: اس میں شرمانے والی کیا بات ہے؟ تم تو کہہ رہی تھی۔ بولو، کرنا ہے یا نہیں؟ 

کاجل: مجھے نہیں پتہ۔ جو تمہیں کرنا ہے جلدی کر لو۔ 

اس بات سے انجان کہ کاجل کنواری ہے اور اس کی چوت کی سیل بھی نہیں ٹوٹی، اور اس طرح بغیر کسی معلومات  کے سیکس کرنا کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، ساحل کو نہیں پتہ تھا۔ اس نے اپنے لنڈ کے ٹوپے کو کاجل کی چوت کے سوراخ پر ٹکا دیا اور دھیرے دھیرے سے آگے پش کیا تو کاجل درد کے مارے چیخ اٹھی۔ ساحل کا لنڈ اس کی چوت کے ہونٹوں کے درمیان  رگڑ کھاتا ہوا اوپر کی طرف پھسل گیا۔

کاجل : “آہہ ساحل۔۔۔” 

ساحل: (گھبراتے ہوئے) کیا ہوا؟ 

کاجل: بہت تیز درد ہوا۔۔۔ مجھے یہ سب نہیں کرنا۔۔۔ ہٹو میرے اوپر سے۔ 

ساحل ڈرتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا۔

ساحل: “مگر  درد تو نہیں ہوتا۔ سچ میں مزہ آتا ہے۔ میں سچ کہہ رہا ہوں،”

 اس نے کاجل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے کہ کاجل کچھ بولتی، باہر گیٹ پر دستک ہوئی۔ دونوں نے جلدی سے اپنے کپڑے پہنے، اور ساحل نے باہر جا کر گیٹ کھولا ، تو دیکھا کہ پائل واپس آ ئی  تھی۔

شام ڈھل چکی تھی۔ پائل رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگی۔ ساحل اور کاجل باہر آنگن میں بیٹھے تھے۔ اس نے کاجل سے کئی بار بات کی، لیکن  کاجل نے اسے درد کے بارے میں بتا کر چپ کروا دیا۔ ساحل کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ 

وہ یہی سوچ رہا تھا کہ چچی تو اس کا لنڈ اچھل اچھل کر اپنی چوت میں لے لیتی ہے، پر پھر کاجل کو کیوں درد ہوا؟ اس نے کیا غلط کر دیا؟ اس طرح کے کئی  سوال اس کے دل میں گھر کیے ہوئے تھے۔ 

اس رات تینوں نے کھانا کھایا اور سو گئے۔ اگلے دن نیہا بھی واپس آ گئی۔ کچھ دن یونہی گزر گئے۔  ساحل اور پائل کے درمیان کچھ نہیں ہو پا رہا تھا۔ پائل بھی اس وجہ سے پریشان تھی اور اپنی چوت میں لگی آگ سے تنگ تھی۔ 

اس دوران کاجل کچھ دن گیتا کے گھر رہنے کے بعد واپس چلی گئی۔ ساحل کو بھی چوت کا چسکا لگ چکا تھا، اس لیے وہ بھی چوت نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھا۔ لیکن  دوستوں اور اسکول میں وقت گزر جاتا تھا، اس لیے اب اُس کا بھی  سیکس کی طرف دھیان کم ہونے لگا تھا۔ 

ایک دن اسکول میں گیتا اور سمرن گراؤنڈ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ سمرن کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ گیتا پچھلے کچھ دنوں سے سب کچھ نوٹس کر رہی تھی، لیکن سمرن نے اسے اپنی پریشانی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ 

گیتا: سمرن، تُو اتنی پریشان کیوں ہے؟ 

سمرن: کچھ نہیں یار، بس طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ 

گیتا: دیکھ سمرن، تُو مجھ سے کچھ نہیں چھپاتی۔ پھر ایسی کیا بات ہے جو تُو مجھے نہیں بتا سکتی؟ دیکھ ہم دونوں کے درمیان کبھی کوئی بات چھپی رہی ہے کیا آج تک؟ بتا نا کیا بات ہے؟ 

سمرن: یار اب تجھے کیسے بتاؤں۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ساحل نے مجھے سونو کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page