Perishing legend king-328-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 328

ادھر ممبئی میں ہی، ویر کے پُرانے گھر میں اروحی اور کاویہ اپنی باتوں میں لگی ہوئی تھیں۔

 

کاویہ بیڈ پر لیٹی چھت کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اپنی شکایتیں جتا رہی تھی، اور وہیں اروحی کاویہ کے کالج کا ورک کر رہی تھی۔

 

کاویہ:

اغغغغہ!!! اگلی بار کا کمپٹیشن میں ہی جیتوں گی دیکھنا آپ۔

 

اروحی:

تم جیت جاتی، اگر وہ پراگیہ پارٹیسپیٹ نہیں کرتی تو۔

 

کاویہ:

وہی!!!! ہی ہی ہی ہی~ پر اپنے لاسٹ ایئر کے بعد وہ کالج تو  لِیو کر ہی دیں گی۔ تب میں اپنے لاسٹ ایئر میں فائنلی فرسٹ پلیس لے سکوں گی۔

 

آروحی:

سٹوپڈ! ابھی ہی ہرانے کی کوشش کیوں نہیں کرتی تم؟

 

کاویہ:

بیکاز شیز بیٹر  دین می۔

 

آروحی:

ایکسکیوزز۔۔۔۔!!!

 

کاویہ:

نووووو ~ میں نے سچ کہا۔ لیکن وہ سب چھوڑیں۔ یہ ویر بھئیا کب فارن سے لوٹیں گے؟ کچھ بتایا کیا آپ کو؟

 

آروحی نے کاویہ کے سوال پر سر” نا”  میں ہلا دیا، 

 

کاویہ:

اغغغغہ!!! یہ ویر بھئیا بھی  نا۔ ہر بار بنا بتائے لمبی ٹرپس پر نکل جاتے ہیں۔ ہمف~ آئی ہیٹ ہِم۔

 

آروحی:

اچھا؟ کچھ دن پہلے وہ کون تھا جو اپنے نیکلیس کو بار بار دیکھ کے “آئی لو یو ویر بھئیا” چلّا رہا تھا؟ آئی گیس کوئی تو تھا۔ ہم….!؟ پر کون؟

 

کاویہ (شرماتی ہوئی):

آہہہ!!! و-وہ تو میں ایسی ہی بس… ویٹ!!! آپ بھی تو۔۔۔آپ بھی تو جان بوجھ کے بار بار اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتی ہو نا؟ اس دن بھی منال کے سامنے جان بوجھ کے آپ نے کیا تھا تاکہ وہ آپ سے آپ کی کان کی بالیوں کے بارے میں پوچھے۔ جو کہ اس نے پوچھا بھی تھا۔  وئیرنٹ یو شوئنگ آف دیدی؟؟؟

 

آروحی (شرماتی ہوئی):

وا-واٹٹٹ؟؟؟

 

وہ اچانک ہی جھینپ سی گئی، 

 

آروحی (شرماتی ہوئی):

وا-واٹ  ربِش/بکواس!!!؟؟؟

 

کاویہ:

مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی آپ۔ چھوٹی بہن ہوں آپ کی۔ سب پتا ہے مجھے۔ میں تو ایٹ لیسٹ۔۔۔ ایٹ لیسٹ۔۔ *شرماتی ہوئی* اوپن لی سب کچھ کرتی ہوں۔ پر آپ تو۔۔۔ سب سے چھپتے ہوئے شو آف کرتی ہو۔

 

آروحی (شرماتی ہوئی):

ی-یووو!!!! جاؤ نہیں بنا رہی میں تمہاری یہ ڈرائنگ ورائنگ… سٹوپڈ!!! 

 

کاویہ:

کیااااا؟؟؟  اب آپ… اب آپ اس کا غصہ میری ڈرائنگ پر نکالو گی؟

 

آروحی:

اٹس یور کالج ورک۔ میک اٹ بائی یور اون۔

 

کاویہ:

پر آپ جانتی ہو کہ آپ کی ڈرائنگ مجھ سے اچھی ہے۔

 

آروحی:

ہاں تو یہ ابھی ابھی کہے گئے  لفظوں  کو بولنے سے پہلے دھیان میں رکھنا تھا۔

 

کاویہ:

اغغغغہ!!! سوری  نا…! 

 

جب آروحی نے اپنی چھوٹی بہن کی رونے والی شکل دیکھی تو ایک لمبی آہ چھوڑ کر وہ واپس سے اس کے کام میں لگ گئی۔

 

آروحی (آہ بھرتے ہوئے):

فائن

 

کاویہ:

ایہی ہی ہی ہی ہی~ آئی نو! یو آر دی بیسٹ

آروحی (کھسپساتے ہوئے):

سٹوپڈ….! 

 

یہ کہتے ہوئے اس کا ہاتھ خود بخود اپنے بال کانوں کے پیچھے کرنے چلا گیا  اور۔۔۔

 

اس کی بالیاں اس کی انگلیوں کو چھو رہی تھیں۔ اس نے جس شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کی تھی اس نے اگلے ہی لمحے اس کے گالوں کی لالی بڑھا دی۔

 

سٹوپڈ…!’ 

 

اس کے اندر سے پھر آواز آئی۔ لیکن اس بار صرف اس کے خیالوں میں، اور کسی اور کے لیے۔۔۔

۔

۔

۔

لاس ویگاس… 

فورم شاپس ایٹ سیزرز… 

شام ~ 5:46 بجے

 

شام کا وقت ہو رہا تھا۔ موسم بھی حسین تھا۔ کُل ملاکر گھومنے پھرنے کے لئے ایک پرفیکٹ ٹائم۔

 

اور آج ویر اور سہانا  وہی کرنے نکلے تھے۔

 

اتنے دنوں سے جو کچھ بھی مغز ماری انہوں نے جھیلی تھی، اس سے باہر نکلنے کے لئے ایک بریک  لینا  ضروری تھا۔

 

اور شاپنگ سے بہتر اور کیا ہی ہو سکتا تھا۔ ایک وجہ اور بھی تھا شاپنگ کرنے کا۔ جو کہ شروتی کے ذریعہ دکھائے گئے اس کارڈ میں موجود تھا۔

 

سہانا ہی گاڑی چلا رہی تھی اور ویر بیٹھا ہوا تھا اس کے  سائیڈ  میں۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ جگہ کے سامنے تھے۔

 

سہانا:

ہم پہنچ گئے۔

 

ویر:

ہم؟  اوہ! یہ جگہ کافی۔۔۔

ویر نے دور سے ہی جگہ کو دیکھتے ہوئے کہا، 

 

سہانا:

بڑی ہے؟

 

ویر:

ہممم! ساتھ ہی مہنگی بھی لگ رہی ہے۔

 

سہانا:

آف کورس مہنگی ہے۔ سب سے مہنگی ہے یہ شاپنگ کے لئے۔ ون آف دی فائنسٹ پلیسز ٹو شاپ۔ لاسٹ ٹائم میں آئی تھی تو کافی کچھ خریدا تھا میں نے۔

 

ویر:

آئی سی! تو آپ پہلے یہاں آ چکی ہیں؟

 

سہانا:

آف کورس! ناؤ کم! بی کوئیک! لیٹس گو

 

وہ دونوں ہی باہر نکلے، اور انٹرینس پر پہنچے۔

 

انٹرینس کو دیکھ کر ویر حیران رہ گیا اور وہیں کھڑا رہا۔

 

اور اس کے منہ سے اپنے آپ ہی نکل گیا، 

 

واؤووووو!!!” 

 

سہانا (سمائلز):

لُکس نائس رائٹ؟

 

ویر:

اٹس ایکچولی ایمیزنگ

 

سہانا:

ہاہا~ لیٹس گو! ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ 8 بجے تک ہمیں وہاں بھی پہنچنا ہے۔

 

ویر نے ہامی بھری۔ اور وہ دونوں اندر چل دیئے۔ اندر برانڈز کے شو رومز ایسے موجود تھے جیسے منڈی میں الگ الگ کھانے کے ٹھیلے لگے ہو۔

 

اور برانڈز بھی ایسے ایسے کہ جن کا صرف نام ہی کافی تھا اپنی ویلیو بتانے کے لئے۔

 

گوسی، ایچ اینڈ ایم، ورسیس، نہ جانے کیا کیا.۔۔۔

 

ایسے ایسے برانڈز موجود تھیں جو ویر اپنے دیش میں شاید ہی کسی مال میں مشکل سے دیکھ پاتا تھا۔

 

ویر:

دِس۔۔۔

 

سہانا:

یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ آؤ  اندر چلیں۔

 

ابھی وہ آگے بڑھے ہی تھے کہ اچانک اسے کچھ محسوس ہوا  اور اسے وہیں ٹھہرنا  پڑا، 

 

*رنگ* *رنگ

 

سہانا کا فون بج اٹھا۔

 

اور اسکرین پر نام تھا، 

 

یادیو!!! 

 

اپنی بھوئیں کو سکیڑتے ہوئے وہ اسکرین کو دیکھ کر اور پھر ویر کو، 

 

سہانا:

اَم؟!! گیو  می اے  سیکنڈ  اوکے؟

 

ویر:

شیور!!! 

 

اور ادھر سہانا تھوڑا  ڈسٹنس لیتے ہوئے  ویر سےآگے آئی ۔

جبکہ ویر کی نظریں سہانا کے بیک کا ایک پل کیلئے ایکسرے کرنے لگیں۔ سہانا کے بھاری  کولہے بھی اپنے آپ مثال  کی تھیں۔

سہانا نےایک نظر پیچھے موڑ کر دیکھا اور پھر آگے دیکھ کر بات کرنے لگی، 

 

سہانا:

ہیلو؟؟

 

یادیو:

تم لوٹی نہیں ابھی تک؟ اور کیا بات ہے؟ اتنی بزی ہو گئی اپنی دوست کے ساتھ کہ ایک فون تک نہیں کیا اپنے ہسبینڈ کو؟

 

بس! یہ جیسے آخری الفاظ تھے جو سہانا ابھی اس وقت سننا چاہتی تھی۔ گانڈ گِھس گِھس کے کیسے وہ لوگ یہاں کچھ دن  سے زندہ تھے ان کرمنلز کے بیچ میں، یہ بات صرف وہی جانتے تھے۔ اور یہاں اس کا پتی یہ سوچ رہا تھا کہ وہ یہاں مزے کر رہی ہے۔

 

پل بھر کے لئے سہانا کے منہ میں گالی آئی تھی۔ لیکن اس نے اپنے آپ کو کنٹرول کر لیا، 

 

سہانا:

واٹ ڈو  یو مین؟ میں یہاں کوئی انجوائے کرنے نہیں آئی ہوں یادیو! آئی ایم ہئیر فار ورک۔

 

یادیو:

اچھا؟ ہاہا! ارے بھائی ایسا کیا ورک آ گیا؟

 

سہانا (لمبی سانس چھوڑتے ہوئے):

دیکھو! میں ابھی بزی ہوں۔ ہم بعد میں بات کریں گے۔

 

یادیو:

بزی؟ بھلا کس لئے؟ ایسا کیا ہو رہا ہے وہاں؟ اور ذرا اپنی فرینڈ شروتی سے تو بات کراؤ۔ کافی وقت سے اس سے بات نہیں ہوئی ہے۔

 

سہانا (من میں):

دِس… دِس  ایڈیئٹ۔۔۔

 

سہانا:

یادیو!!! وہ یہاں نہیں ہے۔ اوکے؟ اب میں رکھ رہی ہوں۔

 

یادیو:

نہیں ہے؟  تو تم کہاں ہو؟

 

سہانا:

میں شاپنگ کے لئے آئی ہوں۔

 

یادیو:

اکیلی؟؟؟

 

سہانا:

نہیں! ویر ہے ساتھ میں۔

 

یادیو:

ویر؟  کون ویر؟

 

سہانا:

ہوہہہ؟ میں نے تمہیں بتایا تھا  نا؟ ویر! سونو سے جس کی پہچان ہے؟ اس کی کار سے جس کا ایکسڈنٹ ہوا تھا؟  کچھ یاد آیا؟

 

یادیو:

ہہ؟ اوہہہہ! وہ!!؟؟ ہاں!!! ایک منٹ!!! تو تم اس کے ساتھ وہاں کیا کر رہی ہو؟

 

سہانا:

واٹٹٹٹ؟ آنے سے پہلے بتایا تو تھا کہ ایک فرینڈ کے ساتھ جا رہی ہوں میں ویگاس۔

 

یادیو:

واٹ دی ہیل سہانا؟ وہ کہاں سے تمہارا فرینڈ بن گیا؟ اور تم نے یہ تو نہیں بتایا تھا مجھے کہ تم اس کے ساتھ جا رہی ہو۔ مطلب تم جب سے ایک انجان لڑکے کے ساتھ۔۔۔۔۔۔

 

سہانا:

یادیووو!!!! تمہیں میری باتیں سننے کے لئے وقت رہے تب تو جانو گے نا۔

 

یادیو:

تم۔۔۔۔

 

سہانا:

تمہیں بتانے والی تھی۔ پر تمہارا تو دھیان ہی نہیں تھا میری باتوں پر۔ جب تم سے کہا کہ میں جا رہی ہوں۔ یور رسپانس  واز ~ “ییہ ییہ! گو!” 

 

یادیو:

وہ اس لئے کیونکہ میں میٹنگ میں تھا سہانا۔

 

سہانا:

آئی ڈونٹ کیئر یادیو!!! آئی ڈونٹ کیئر

 

یادیو:

یووو!!!! 

 

سہانا:

اور اب تم فری ہوئے ہو تو اب یاد آئی میری؟ سوچا کہ اب اپنی پتنی سے دو چار باتیں تو کر لوں  اس کا دل بہلانے کے لئے، 

 

یادیو:

تم جانتی ہو میں بزی تھا۔۔۔

 

سہانا:

اور میں تو پاگلوں کی طرح یہاں گانڈ اور پھدی مروا رہی ہوں  نا؟

 

یادیو سہانا کے منہ سے  بےہودہ  لفظی جملے سنتے ہی تھوڑا جھینپ سا گیا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ پہلی بار اس کے منہ سے گالی سن رہا تھا۔ پر بس بات یہ تھی کہ سہانا تبھی ایسی  لفظی جملے  تب ہی کیا کرتی تھی جب وہ بہت ہی غصے میں ہوتی تھی۔

 

یادیو:

سسہاناااا…! 

 

سہانا:

یادیو!! میں ابھی بلکل بھی موڈ میں نہیں ہوں کچھ بھی بات کرنے کے لئے۔ آئی ایم ہئیر ٹو فریشن اپ مائی سیلف آ بِٹ۔ سو لِیو می ایلون۔ اِز  دیٹ کلیئر؟

 

یادیو:

سہانا  تم۔۔۔۔

 

پر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، 

 

*کال اینڈز

فون کٹ ہو چکا تھا۔

من میں گالیاں لئے سہانا پیچھے کو آئی۔ اس نے دیکھا کہ ویر ایک سٹیچو/مورتی  کو دیکھ رہا تھا۔

 

غصہ شانت کر وہ  ویر کے پاس گئی اور اس سے چلنے کے لئے بولی، 

 

ویر:

ہو گئی بات؟

 

سہانا:

ہہ ہااں ! چلو

 

ویر:

ہم؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟

 

اس کے سوال پر سہانا نے ویر کو لمحے بھر کے لئے دیکھا اور پھر ‘ ہاں’  میں سر ہلا دیا۔

 

ویر:

ایسا لگا کہ آپ پریشان ہو۔۔۔ سو آئی جسٹ۔۔۔یو  نو۔۔۔

 

ویر کا بس اتنا کہنا ہی تھا کہ، 

 

سہانا:

آرررغغغغہ!!! فکنگ ہیل!!!!! واٹ  ڈَز  ہی تھنک آف ہِم سیلف؟؟؟؟؟ ایم آئی ہِز سروینٹ آر  واٹٹٹ؟؟؟؟ دیٹ سٹوپڈ ایڈیٹک ریٹ…. آرررغغغغہ!!! 

 

ویر:

ای-ایہہہ!!؟؟

 

اس کا یہ روپ دیکھ کر ویر کو پی ٹی ایس ڈی سا محسوس ہو رہا تھا۔

 

اوہہ فکککک!!! ییہ،،، یہ انہیں کیا ہوا؟’ 

 

پری:

سیمز لائک سہانا کی دوسری پرسنلٹی ٹریگر ہو رہی ہے ماسٹر

 

فف-فکککک!!! ویٹ!!! وہ ایسی کیوں دیکھ رہی ہے مجھے؟ شٹٹٹٹ!!!! دیٹس سکیری!!!!’ 

 

سہانا عجیب سی مسکان لئے ویر کا ہاتھ پکڑی اور اسے گھسیٹتے ہوئے اندر لے گئی، 

 

اوہہ فففففکککک!!!!’ 

 

(۔۔۔۔۔۔۔)

 

وہ جیسے ہی ایک شاپ میں گھسی، 

 

اس کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔

 

شاپ میں موجود ایمپلائے اس کے پاس آیا اور ادب سے پوچھا، 

 

ایمپلائے:

یسسس! میم! واٹ کین آئی ڈو  فار  یو؟

 

سہانا نے اپنی ایک انگلی پیچھے اس ایمپلائے کی طرف پوائنٹ کی، 

 

سہانا:

دیٹ!!!! 

 

تو پیچھے جب ایمپلائے نے دیکھا تو پایا کہ ایک بڑا  سا  ٹیڈی وہاں لٹکا ہوا تھا۔

 

ایمپلائے:

اوہہ دیٹ؟ ہاہا~ دیٹ ول کاسٹ یو  فار۔۔۔

 

سہانا:

برنگ می دیٹ!!!! 

 

ایمپلائے:

ہہ؟ او-اوکے!!! 

 

وہ ایمپلائے وہاں سے ٹیڈی نکال کے اس کے پاس لایا، 

 

ایمپلائے:

میم! دِس از کری ایٹڈ بائی آؤر فائنسٹ آف کرافٹسمین۔ دی کوالٹی آف دی فور اِز (یہ ہمارے بہترین کاریگروں نے تخلیق کیا ہے۔ کھال کا معیار یہ ہے…)

 

سہانا:

ہاؤ  ڈیور یبل از  دِس؟ (یہ کتنا پائیدار ہے؟)

 

ایمپلائے:

ہوہہہ؟؟؟

 

سہانا:

ہاؤ مچ  پنچز  اٹ کین سرویو؟ (یہ کتنے گھونسوں سے بچ سکتا ہے؟)

 

ایمپلائے:

وا-واٹٹٹ؟؟؟

 

اوہہہہ فککک!!!!! فک فک فک….!!!!’ 

 

ادھر ویر سہانا کے پیچھے کھڑے ہوکے جب یہ سب دیکھ رہا تھا تو بیچارے کے شریر میں رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔

 

سہانا کی دوسری پرسنلٹی باہر آ چکی تھی۔ شی واز  پیسڈ۔ ڈیفنیٹلی پیسڈ۔

 

وہ ایک ٹیڈی مانگ رہی تھی۔ جہاں ایمپلائے اسے یہ سمجھا رہا تھا کہ ٹیڈی کا فی اچھی کوالٹی کا تھا تو سہانا کو ان سب باتوں سے مطلب ہی نہیں تھا۔

 

وہ تو یہ پوچھ رہی تھی کہ یہ ٹیڈی کتنے گھونسے سہہ سکتا تھا؟  ذرا سوچیں کہ آپ کی ایک گفٹ کی دکان ہے۔ اور کوئی خوبصورت لیڈی آپ کے پاس آکے آپ سے پوچھے کہ آپ کی شاپ کا ٹیڈی کتنے گھونسے لے سکتا ہے؟ تو آپ کا منہ کیسا ہوگا؟

 

کچھ ایسے ہی تاثرات ابھی اس ایمپلائے کے چہرے پر تھے۔

 

پر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page