Perishing legend king-329-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 329

ویر:

وی آر لیونگ!!! تھینک یو فور  یور  ٹائم!!!! 

 

ففففکککک!!!!’ 

 

ویر نے سہانا کے ہاتھ کو تھاما  اور اسے کھینچ کے باہر لے آیا۔

 

اس نے اسے ایک بینچ پر وہیں بٹھایا اور اس کا غصہ شانت کرنے کے لئے وہ چل دیا  وہیں پر لگی ایک آئس کریم کی بڑی سی شاپ میں، 

 

پر جیسے ہی وہ آگے آیا، سامنے کا نظارہ دیکھ کے ہی وہ حیران  رہ گیا۔

 

کیا خوبصورتی تھی اس جگہ کی۔

 

اگر  مال  ہو  تو  ایسا۔۔۔

 

پری:

ایک دن آپ کے پاس اس سے بھی اچھا مال ہوگا۔ اے  مچ بِگر ون

 

پری…!!!’

 

کچھ بھی ہو جائے، پری کبھی بھی موٹیویشن دینا بند نہیں کرتی تھی۔

 

ویر دیکھ رہا تھا ان جگہوں کو، 

 

کیا خوب طریقے سے سٹیچوز کا استعمال کیا گیا تھا۔

 

ہمم؟ ویسے آئیڈیا بُرا نہیں ہے۔ اگر ان ٹیٹووں میں ہمارے ملک کے بہادر جنگجوؤں کی تصویریں ہوتی  تو ؟’

 

پری:

دیٹس اے  نائس آئیڈیا  ماسٹر! اسے سٹِکی نوٹ میں ایڈ کیجئے۔ ہم اپنا خود کا مال بنائیں گے اس تھیم پر۔۔۔ آئی ول سپورٹ یو۔۔۔ آلویز!

 

ہاہاہاہا~ وی اسٹل ہیو ا لانگ وے ٹو گو۔ بائی دی وے میرے پوائنٹس کا کیا؟ اتنی کم پوائنٹس نائٹ واکر کے مشن کے لئے کیوں؟’ 

 

پری:

میں نے بتایا تھا نا ماسٹر۔ مشن جتنی اچھے طریقے سے پورا ہوگا، پوائنٹس اس حساب سے ملیں گے۔ 

 

تو میں نے اس بار کیا غلطی کر دی؟’ 

 

پری:

3 پیپل ڈائیڈ۔ 

 

اوہہہہ!!!’ 

 

پری:

مل گیا آنسر؟ 

 

یپ  اینی ویز! لیٹس گو!!!’ 

 

اس نے آئس کریم خریدی، اور سہانا کے پاس لے کے گیا۔ اور واقعی، سہانا کا غصہ کچھ حد تک شانت ہو چکا تھا۔

 

سہانا نے نہ صرف خود ڈھیر ساری شاپنگ کی بلکہ ویر کے لئے بھی اس نے کافی کچھ خرید کے اس سے دلوایا۔

 

خاص کر ایک اچھا سا سوٹ، جسے ویر نے پہن کے وہیں چینج کر لیا تھا۔ اور اس نے خود بھی ایک خوبصورت سی ڈریس پہنی ہوئی تھی۔

 

کیونکہ انہیں یہاں سے اب جانا تھا اپنی دوسری منزل کی طرف، 

 

*تھڈ

 

کار کا  دروازہ بند ہوا، 

 

سہانا :

چلیں؟

 

ویر:

ہممم!!! 

 

اور وہ دونوں ہی وہاں سے نکل گئے، 

 

ڈاؤن ٹاؤن کی طرف۔ کیونکہ یہی ان کی منزل تھی۔

 

آخر اسی کے لئے تو وہ شاپنگ کرنے بھی آئے تھے۔ شروتی نے جو کل کارڈ سہانا کو پھینک کے دیا تھا  اس کے ساتھ ایک فلائر بھی تھا۔

 

جو تھا۔۔۔ 

 

اور آخر میں جو کارڈ اس نے پھینکا تھا سہانا کے منہ پر وہ تھا، ایک انویٹیشن کارڈ۔

 

اور،  انویٹیشن تھا۔۔۔

 

نٹالیا  مارٹن کا۔۔۔۔

۔

۔

۔

لاس  ویگاس… 

ڈاؤن ٹاؤن… 

شام ~ 7:54 بجے

 

*سکررررررریییییچچچچھ

 

کار آکے سیدھا  رکی۔ اندر موجود تھے ویر اور سہانا  جو ابھی ابھی فورم شاپس ایٹ سیزرز سے آ رہے تھے۔ دونوں ہی اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔

 

*تھڈ

 

وہ باہر نکلے اور کار کا دروازہ بند ہوا۔

 

ویر:

کہاں ہے مس شروتی؟

 

سہانا:

اس نے کہا تھا کہ وہ انٹرینس کے باہر ایک کلب ہے وہاں ملے گی۔ دیکھو آس پاس، کوئی کلب وغیرہ دکھ رہا ہے کیا؟

 

ویر نے نظریں گھمائیں تو پاس ہی اسے ایک کلب دکھائی دیا۔

 

ویر:

 کال کرنا  بیٹر ہوگا آئی گیس۔

 

سہانا:

ہم! ویٹ آ  منٹ

 

ویر کی بات مان کر سہانا نے شروتی کو کال لگایا اور بات کرتے ہی انہیں پتا چلا کہ وہ اسی کلب میں تھی، جہاں ویر دیکھ رہا تھا۔

 

سہانا:

اندر ہی ہے وہ وہاں اس والے کلب میں۔ لیٹس گو

 

دونوں ہی اس طرف چل دیئے۔ لگ بھگ 8 بج رہے تھے اور کلب کے اندر کا ماحول مستی اور جگمگاتی ڈی جے  لائٹس سے بھرا پڑا تھا۔

 

تھرکتے کولہوں کی ڈانس، لاؤڈ اسپیکرز پر بجتے انگریزی گانے، کاک ٹیلز انجوائے کرتے لوگ، صوفے پر بیٹھے وی آئی پیز اور آدھ ننگے کپڑوں میں ناچتی لڑکیاں۔

 

ویر اور سہانا ان لوگوں کے بیچ سے نکلنے کے لئے آگے بڑھے تبھی اسی میں ایک نشے میں دھُت گوری لڑکی ویر کی چھاتی سے آکے چپک گئی۔

اور اپنی پتلی کمر کو وہ یوں مٹکاتے ہوئے ویر کے لن پہ اپنی گانڈ کو  رگڑتے ہوئے، اپنی نشیلی آنکھوں سے اسے  اپنی طرف  مائل کرنے لگی، 

 

ویر کی نظریں اس لڑکی کو اوپر سے نیچے تک اسکین کر رہی تھیں۔ لڑکی خوبصورت تو تھی۔ پر، ویر کے من میں ایک ہی بات نکلی، 

 

آئی ہیو  زیرو  انٹریسٹ ان یو، گرل!’ 

 

پری:

ہاہاہاہا

 

اور اس کی اس بات پر پری بھی ہنس اٹھی۔ ویر کو 36 کام تھے۔ اگر وہ ایسی ایسی ہر ایک لڑکیوں پر گرنے لگا تو وہ کہیں کا نہیں رہ پائے گا۔ اور ویسے بھی، ماہرہ، سونیا، سہانا، راگنی جیسی لیڈیز کے مقابلے میں اس لڑکی کی خوبصورتی پھیکی معلوم پڑ رہی تھی۔

 

بس ایک نظر ڈال کر اس نے اپنی نظریں موڑ لیں، اور ادھر سہانا نے جب یہ سب دیکھا تو وہ ویر کی کلائی تھام  کر اسے کھینچ کر آگے بڑھ گئی، 

 

سہانا:

تمہیں مزہ تو بڑا آ رہا ہوگا، ہے نا؟

 

ویر:

ہم؟ کیوں بھلا؟

 

سہانا:

سامنے سے لڑکی آکے چپک رہی تھی اور رگڑنے لگی تھی۔ اتنی بھولے کیوں بن رہے ہو؟

 

ویر:

اس کی جگہ اگر کوئی اور آکے چپکتا  تو شاید مزہ آ جاتا۔

 

جیسے ہی اس نے یہ کہا۔۔۔۔

سہانا چلتے چلتے اچانک ہی رک گئی اور پیچھے پلٹ کے اس نے ویرکی آنکھوں میں دیکھا۔

 

کہنا کیا چاہ  رہا تھا یہ لڑکا؟ کہیں وہ…!  ؟؟؟

 

کہیں وہ یہ تو نہیں کہنا چاہ رہا تھا کہ اس لڑکی کی جگہ سہانا خود ہوتی تو  !! …

 

دونوں کا یہ آئی کنٹیکٹ 5 سے 6 سیکنڈز کے لئے بنا رہا۔ نہ ویر نے کچھ کہا اور نہ ہی سہانا نے۔ ایک عجیب سا  رشتہ جنم لے رہا تھا ان دونوں کے بیچ۔

 

لیکن، سہانا نے اگلے ہی پل اس  طرح سوچتے ہوئے  دماغ کو جھٹک  دیا۔ وہ واپس مڑی اور ویر کے ہاتھ کو تھام کراندر کی طرف اسے لے جانے لگی۔

 

بنا کچھ کہے ہی، ان دونوں کے بیچ کچھ نہ کچھ باتیں تو ضرور ہو چکی تھیں۔ صرف ایک دوسرے کے نینوں سے۔ جیسے سہانا  معلوم کرنا چاہ رہی تھی کہ کیا ویر کا اشارہ اس کی طرف تھا؟ اور ویر یہ دیکھنا چاہ رہا تھا کہ کیا سہانا نے اس کی باتوں کو اپنے اوپر لیا تھا؟ اور اگر لیا تھا تو وہ کیا کرنے والی تھی؟ پر۔۔۔نینوں کی کشمکش زیادہ دیر نہ چلی۔ دونوں ہی ایک  جگہ پر آ کر اٹک چکے تھے۔

 

اس  جگہ کو بھرنے کے لئے دونوں کو ہی اپنے من کی باتیں سامنے رکھنے کی ضرورت تھی۔ جو دونوں ہی نہیں کرنے والے تھے۔

 

وہ آگے بڑھے اور اندر جیسے ہی وہ پہنچے، وہ ایک نئے ہال میں داخل کر گئے۔

 

لائٹس اور بھی پھیکی تھیں یہاں، یہ ایک طرح سے ریسٹ روم کی طرح تھا۔ باہر کا شور یہاں کم سنائی دے رہا تھا۔ جگہ جگہ مررز لگے ہوئے تھے جہاں  بہت سی بکنی پہنے لڑکیاں کھڑی ہوکے اپنا اپنا میک اپ ٹھیک کرنے میں لگی ہوئی تھیں۔

 

اور انہی میں سے ایک جگہ کھڑی ہوئی تھی، 

 

شروتی!!! 

 

ویر:

وہ رہی آپ کی ڈیئر فرینڈ۔

 

اس نے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ سہانا نے نظریں دوڑاتے ہوئے دیکھا تو شروتی وہاں کھڑی مرر میں خود کو سَنوار  رہی تھی۔

 

اور ویر جیسے ہی آگے بڑھا، شروتی نے مرر میں سے ان دونوں کو آتے دیکھ لیا۔

 

وہ آئینے میں ویر کو گھور رہی تھی۔

 

سہانا:

چلیں بھی اب؟

 

شروتی:

ہم! کیوں نہیں!؟ لیٹس گو

 

سہانا:

تو اس لئے تم نے مجھے یہاں بلایا تھا  ہاں؟

 

شروتی:

فون پر بتایا تو تھا  نا میں نے۔

 

سہانا:

تم نے کہا تھا کہ ایک کلائنٹ نے تمہیں کنٹیکٹ کیا ہے۔ تم نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کلائنٹ کون تھا۔ دی فیکٹ دیٹ اٹ ٹرنڈ آؤٹ ٹو  بی ہر… آروی!!!! 

 

شروتی:

اب اسے نٹالیا کہہ کے بُلاؤ سہانا۔ سیلیبریٹی سے کم نہیں ہے اب وہ۔ اس ایک سال میں پوری میوزک انڈسٹری پر قہر  برسا کے رکھ دیا ہے اس نے۔ جہاں دیکھو بس اسی کے گانے چھا رہے ہیں آج کل۔

 

سہانا یہ سن کر ایک پریشانی میں ڈوب گئی۔

 

شروتی:

اب کیا سوچنے لگی؟

 

سہانا:

آئی جسٹ ڈونٹ گیٹ اٹ۔ لاسٹ ٹائم میں نے اسے بچپن میں ہی دیکھا تھا۔ سونو کے ساتھ۔ اور مجھے تب ایسا کچھ بھی یاد نہیں تھا کہ وہ سنگنگ میں ٹیلنٹڈ ہے۔ اور اب۔۔۔

 

شروتی:

پیپل چینج شروتی۔ اس نے محنت تو کی ہی ہوگی۔ اس طرح کی آواز اور اتنی فین فالونگ۔ صرف پیسہ پھینکنے سے نہیں مل جاتی۔

 

سہانا**: … 

 

ویر:

اَم! ہم چل رہے ہیں نا؟

 

شروتی (سمائلز):

آف کورس

 

مسکُراتے ہوئے وہ ویر کے بغل  میں آئی اور تینوں ہی باہر کی طرف نکلنے لگے، 

 

چلتے چلتے ہی شروتی دھیرے سے ویر کے پاس آئی اور، 

 

شروتی:

ہائے!!! کیسی لگ رہی ہوں میں؟

 

ویر نے اس پر اوپر سے نیچے نظر ڈالی اور اسے یہ ماننا ہی پڑا کہ شروتی کی پرسنلٹی بھلے ہی کیسی بھی تھی، پر آج لگ تو ایکدم پٹاخہ رہی تھی۔

 

ویر:

گُڈ

 

شروتی (سمائلز):

بس گُڈ؟ ایم آئی  نٹ  لُکنگ  ہاٹ؟

 

ویر:

اہم! یو  ڈو  ایکچولی…! 

 

ویر کی معصومیت پر وہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھی، یہ مسکان سچ میں ایسا لگا جیسے ایکدم سچی تھی۔

 

از دِس دی ریئل یو؟’ ویر کے من میں اس کی آواز آئی۔

 

یہاں سے روانہ ہوتے ہی وہ پہنچ گئے ڈاؤن ٹاؤن میں، جہاں نٹالیا کا میوزک کنسرٹ رکھا گیا تھا۔

 

باہر لوگوں کی لائن تو ایسی لگی تھی، معلوم ہو رہا تھا جیسے پورا ویگاس ہی یہاں اتر آیا تھا۔

 

ویر:

واٹ  دَ…!   ؟؟؟

 

شروتی:

دیکھ رہی ہو  سہانا؟ یہ وہی آروی ہے جو سونیا کے ساتھ بچپن میں کھیلتی تھی۔ فینز دیکھ رہی ہو اس کے؟ ہاہاہا~ آئی ڈونٹ ایون ری ممبر لاسٹ ٹائم میں نے کب اتنی بھیڑ دیکھی تھی ایک ساتھ۔

 

سہانا:

اندر چلو ورنہ اورپریشانی  ہوگی ہمیں۔

 

جیسے ہی ویر اندر جانے کے لئے ہوا تو اچانک ہی اس کے طرف ویژن میں ایک جانا مانا شخص دکھائی دیا۔

 

ہہہہ!؟   کینوز؟؟’ 

 

سہانا:

ویر؟؟؟ کہاں کھو گئے؟

 

ویر:

آپ دونوں اندر چلیں میں آتا ہوں۔

 

سہانا:

ارے پر…!  ؟؟؟

 

ویر اتنا بول  کر وہاں سے اس بھیڑ میں الگ طرف میں گھس گیا اور ایک پل میں ہی تمام لوگوں  کے بیچ کہیں غائب ہو گیا۔

 

شروتی:

وہ آ جائے گا۔ لیٹس گو

 

سہانا:

نہیں!!! اسے آ جانے دیتے ہیں پھر۔۔۔

 

شروتی:

اچھا  بابا! ایک کام کرتے ہیں اس انٹرینس کے اندر تو چل دیتے ہیں؟ یہاں بہت بھیڑ ہو رہی ہے۔ اندر ہم اس کا ویٹ کر لیں گے۔

 

سہانا نے ہامی بھری اور وہ دونوں ہی اندر چلی گئیں۔ وہ ویر کو یوں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔

 

ادھر ویر بھاری بھرکم بھیڑ میں کینوز کو پیچھے پیچھے فالو کرتے ہوئے اس کے پاس بڑی مشکل سے پہنچا اور اس نے پیچھے سے ہی کینوز کا ہاتھ تھام کر اسے پلٹا دیا، 

 

ویر:

واٹ آر  یو  ڈوئنگ ہئیر؟

 

کینوز:

وا۔۔۔۔۔!!!

 

وہ پلٹی اور ویر کو سامنے دیکھ حیران رہ گئی۔

 

کینوز:

وییییررر!!!! 

 

ویر:

ییہ! یو  ہئیر؟

 

کینوز:

آہہہ! آئی… 

 

اس کا سر نیچے جھک گیا۔

 

ویر:

واٹ ہیپنڈ؟

 

کینوز:

اٹس۔۔۔۔ آئی جسٹ کیم ہئیر ٹو ریٹرن دی ڈریس۔ دئیرز آ  فیمس شاپ ہئیر۔ اینڈ وین آئی واز پاسنگ بائی۔۔۔ آئی گوٹ لوسٹ! ٹو مینی پیپل۔۔۔ یو  نو۔۔۔

 

اپنے کندھے اچکاتے ہوئے وہ تھوڑا انکمفرٹیبل وے میں بولی، 

 

ویر:

ریٹرننگ ڈریس؟ وائے سو؟

 

کینوز اپنی ایک بہت خوبصورت سی ڈریس کو ریٹرن کرنے آئی تھی۔ جو کہ یہی ایک شاپ سے لی گئی تھی۔

 

کینوز:

بیکاز آئی  رینٹڈ  اٹ… آہاہاہا

 

وہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔ بات صاف تھی۔ وہ ویسے ہی پیسوں کو لے کر تنگی میں تھی۔ مینشن میں بھی اس نے اپنی قسمت آزمانا  چاہا تھا پر اس کے ہاتھ کچھ نہ لگا۔ الٹا جان اور گوا  بیٹھی تھی وہ۔

 

کینوز نے ایک ڈریس یہاں سے رینٹ پر لی تھی، یہ سوچ کے کہ فیشن ماڈلنگ کے فوٹو شوٹ کے دوران، اس کی یہ فوٹوز بڑے بڑے میگزین فوٹوگرافرز تک شاید پہنچ جائیں اور وہ اسے اپنے ساتھ کام کرنے کے لئے بلائیں۔

 

پر جیسا اس نے سوچا تھا ویسا کچھ نہ ہوا۔ ان فوٹوگرافرز نے کینوز کو کم سے کم سیمی نیوڈ ہونے کا کہہ دیا تھا۔ کینوز ان چند لڑکیوں میں سے ایک تھی جو نیوڈیٹی میں اپنا ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔ اکثر اسے لوگ طعنے  مارتے تھے کہ ماڈل بننے کے خواب دیکھنا وہ چھوڑ دے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page