Keeper of the house-151-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 151

لڑکی: “کون سی کلاس میں آیا ہے؟ 

میں: 12ویں اسٹینڈرڈ میں۔ 

دوسرا لڑکا:اوہ، تو کیا پرانے سینئر کو وِش نہیں کرے گا؟ چل، گڈ مارننگ بول۔ 

میں: “گڈ مارننگ سرز، گڈ مارننگ میمز۔ 

لڑکا: میرا چشمہ نکال کر، ابے، اس میں سے دکھتا بھی ہے کیا تجھے یا یوں ہی لگا رکھا ہے؟ 

لڑکی:ارے، یہ تو بہت سِن سِیئر بچہ ہے، جانے دو اسے یار، ہی اِز سو کیوٹ

لڑکے: اوکے جا، جب بھی ملے، ایک ہفتے تک گڈ مارننگ اور گڈ آفٹر نون کرنا

میں: جی سر، ضرور کروں گا۔ 

اور میں آ گیا کلاس کی طرف، تھوڑی سی معلومات کرنے سے کلاس مل گئی

کلاس میں 

ہیلو ایوری ون، میرا نام ماہم چوہان ہے اور میں آپ کی کلاس ٹیچر ہوں۔ یہ کلاس سب سے برائٹ سیکشن ہے، تو مجھے امید ہے کہ نئے اسٹوڈنٹس بھی اچھے سے پرفارم کریں گے۔۔ اور نئے اسٹوڈنٹس اپنا تعارف دیں۔

 سب نے تعارف دیا، پھر 

میرا نام مِشل انیس ہے اور میری 11ویں میں 96 فیصد اور انٹرینس ایگزیک میں 90 فیصد ہیں

پھر میری باری آئی: ہائی ایوری ون، میرا نام راحیل رانا ہے۔ اور 11ویں کلاس میں 97 فیصد اسکور کیے ہیں، انٹرینس ایگزیک میں 92 فیصد۔

 سب پیچھے مڑ کر مجھے دیکھنے لگے۔۔لیکن  میں تو شکل سے ہی پڑھاکو لگ رہا تھا۔ اسی طرح سب کا تعارف ہو گیا۔ 

پھر کلاس سے جاتے وقت 

ماہم میم: کوئی بھی ہیلپ چاہیے ہو تو مجھے ضرور بتانا راحیل۔ 

میں:جی میم

اور انٹرول ہوا۔ میں باہر آنے لگا تو پیچھے سے آواز آئی 

ہائی راحیل۔ 

میں: (پلٹ کر) “مس رضیہ، آپ؟ 

رضیہ: “اوہ کم آن، مجھے رضیہ کہو، ہم کلاس میٹ ہیں نا۔ اور تمہاری بہن کہاں ہے؟ 

میں: “وہ سائنس اسٹریم میں ہے۔ 

رضیہ: جس حساب سے وہ اس دن بات کر رہی تھی، اس حساب سے نہیں لگتا کہ وہ تمہیں چھوڑ کر سائنس اسٹریم لے گی

میں: (مسکراہٹ کے ساتھ)  ڈونٹ وری، وہ تھوڑا سپیس دے رہی ہے مجھے۔۔ یا یوں کہو کہ تھوڑا فری ٹائم دے رہی ہے

رضیہ اور میں بات کرتے ہوئے کینٹین جا رہے تھے کہ پاس سے ایک لڑکی مجھ سے ٹکراتے ہوئے بولی 

لڑکی: دیکھ کر نہیں چل سکتے کیا، یا لڑکی کے ساتھ اتنا بزی ہو کہ دکھتا نہیں؟ پارک میں گھوم رہے ہو کیا؟ 

میں اور رضیہ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ 

وہ: پڑھنے آئے ہو، پڑھائی پر دھیان دو، سمجھے مسٹر۔۔ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ 

میں: بہت ناٹک آ رہے ہیں۔ 

وہ: ابھی شروع ہوئے ہیں، سمجھے؟۔۔ اور پلٹ کر اپنی دوستوں کے ساتھ چلی گئی۔ 

رضیہ: یہ کومل ایسی کیوں بی ہیو کر رہی تھی؟ 

میں: تمہارے ساتھ دیکھ کر ایسا کر رہی ہے، ڈونٹ وری۔۔ چلو کینٹین چل کر کچھ کھاتے ہیں۔ 

رضیہ: اوکے، ویسے تمہاری بہن تمہیں لے کر بہت ایگریسو ہے، اور تم ایسے کیوں بنے ہو؟ ہیرو جیسی باڈی ہے پھر بھی

میں: اچھا، تم نے کب دیکھ لی؟ 

رضیہ: (ہڑبڑا کر) اس دن تم پسینے میں بھگے ہوئے تھے تو نظرآ رہی تھی  (دل میں: ہیرو میرا۔۔ بڑی مشکل سے قسمت نے ملایا ہے۔) 

میں: مجھے کبھی ضرورت پڑی اگر  تمہاری ہیلپ کی۔ 

رضیہ: اوہ، تو جناب کو نمبر چاہیے؟ میرے ساتھ فلرٹ، جانتے ہو نا میرے پاپا پولیس میں ہیں

میں:میں نے کہاں کوئی غلط حرکت کی ہے؟ اب آپ کے پاپا پولیس میں ہیں تو آپ سے جان پہچان بناکے رکھنی ہوگی نا، پتا نہیں کب ضرورت پڑ جائے

رضیہ: اوہ، نائس ٹرائی، آئی ایم امپریسڈ۔ کون سا نمبر دوں؟ میری فگر کا یا فون نمبر؟۔۔ اور زور سے ہنسنے لگی

کینٹین میں رضیہ کے ساتھ آتا دیکھ کر کامرس اور سائنس اسٹریم والے جلنے لگے۔ دراصل ہر اسٹریم کے 3 سیکشنز ہیں اور ہر کلاس میں 50 اسٹوڈنٹس ہیں۔ 

وہ:دیکھ یار، یہ نیا لڑکا رضیہ کے ساتھ کیسے؟ یہ تو ویسے ہی بہت ہاٹ ہے اور اب یہ اس چمپو کے ساتھ؟ اس لڑکے کو رضیہ سے دور کرنا پڑے گا۔ 

تو ادھر 

کومل کی دوست: ابے، یہ نیا ایڈمیشن ہے نا اور یہ پہلے دن ہی رضیہ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ کتنے لڑکے پیچھے پڑے ہیں اس کے، مذاق ہے جو یہ کسی کو گھاس ڈال دے۔۔مگر یہ آج اس لڑکے کے ساتھ کیسے؟ 

کومل: اچھا، یہ نیا ایڈمیشن ہے؟  شکل سے بندر لگ رہا ہے

کومل کی دوست: ہمم، تبھی تو، اور بیک کلاس بھی لگ رہا ہے یار۔۔ پھر بھی اس کے ساتھ بیٹھی ہے، قسمت ہے لڑکے کی۔

تو ادھر میں رضیہ سے ہنس کر بات کر رہا تھا۔ 

رضیہ: اوہ مائی گاڈ، یو آر سو فنی۔۔ میرے ڈیڈ سے ملنا، وہ بہت اچھے ہیں۔ 

میں: تو جب تم بلاؤ گی، میں آ جاؤں گا، مجھے بھی ملنے میں خوشی ہوگی۔ 

رضیہ: جلد ہی بلاتی ہوں

اسکول کے بعد گھر میں 

میں:ارے،  میری جی ایف نہیں ہے وہ یار، مجھے اس سے کام ہے

کومل: آہاہا، جی ایف نہیں؟ شکل دیکھی ہے، اس چڑیل کے ساتھ لگے ہوئے تھے، آپ کی ساری رپورٹ لے لی ہے میں نے، مجھے وہ لڑکی بہت تیز لگتی ہے۔ 

میں:میری پیاری بہن، میری سویٹ بہن۔۔۔ اور پاس جا کر کومل کو بانہوں میں لے کر پیشانی پر بوسہ دے کر۔۔۔تجھے لگتا ہے میں ایسا کچھ کروں گا؟ یہ سب مشن کا حصہ ہے۔ مجھے کوئی پسند آئے گی اور تجھے نہ بتاؤں، ایسا ہوگا کبھی؟ تو ہی ڈھونڈ لینا میرے لیے، خوش؟ 

کومل: آپ سچ کہہ رہے ہو نا؟ 

میں: ہاں، چل کھانا کھاتے ہیں، پھر مجھے کام سے تھوڑی دیر جا نا ہے، سٹڈی والے ٹائم تک آ جاؤں گا میں۔ 

کومل:ٹھیک ہے، میں نسیمہ میم کے گھر جاتی ہوں تھوڑی دیر کے لیے

میں نکل گیا لائبریری کے لیے، کیونکہ پرانے نیوز پیپر مجھے وہیں سے مل سکتے تھے۔ اور کومل نسیمہ کے گھر چلی گئی۔ 

کومل: ہائے میم۔ 

نسیمہ: اوہ ہائے، اندر آؤ۔ تمہارا بھائی کہاں ہے، وہ نہیں دکھ رہا؟ 

کومل: وہ باہر گئے ہیں گھومنے پھرنے، 2 گھنٹے بعد آئیں گے۔ 

نسیمہ: کہیں تم سے چھپ کے دور کہیں جی ایف سے فون پر باتیں کرنے تو نہیں گیا نا؟ 

کومل: ہا ہا ہا، ارے نہیں نہیں، ان پر تو پتا نہیں کتنی لڑکیاں لٹو ہوئی ہیں، یہاں تک کہ ایس پی تک لٹو ہیں۔ سب سمجھتے ہیں مجھے کچھ پتا نہیں، بٹ آئی ایم سمارٹ۔ بھائی کا کسی کے کوئی رلیشن شپ نہیں ہے۔ 

نسیمہ: اوہ۔۔ یہ تو اچھی بات ہے۔ 

کومل: میم، آپ کے ہسبینڈ؟ 

نسیمہ:  وہ کبھی ویدیش، تو کبھی کہیں ہوتے ہیں، 3 مہینے میں غلطی سے آ جاتے ہیں

کومل: فیلنگ سیڈ، کیسے آپ جیسی اتنی خوبصورت  بیوی سے دور کام میں لگا رہ سکتا ہے؟ 

نسیمہ:ہمم، تنگ کر رہی ہو۔ 

کومل: لو، میں تو سچ ہی کہہ رہی ہوں۔ میں اگر آپ کے پتی کی جگہ ہوتی تو اتنی ہوٹ اینڈ بیوٹیفل بیوی کو چھوڑ کے نہ جاتی

اور پھر دونوں ہنسنے لگے

 میں نے لائبریری میں وہ سیکشن معلوم کیا  جہاں مجھے پرانے نیوز پیپر مل سکیں۔۔ اورکچھ  مشکوک جگہیں  بھی دیکھی جہاں سے کریمنلز ایکٹو ہوتے ہیں۔۔اُس کے بعد واپس گھر  آیا ، کومل کو نسیمہ کے گھر سے پک کیا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page