Keeper of the house-156-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 156

اندر 4 لڑکیاں برا اور پینٹی میں فرش پر بیٹھی تھیں۔ ان کی شکل دیکھ کے ہی مجھے لگ گیا تھا کہ کم سے کم انہیں یہاں لائے 3-4 دن ہو گئے ہیں۔ اور ابھی جسے لائے تھے، اس کے کپڑے پھاڑ کے اسے بھی بٹھا دیا تھا۔۔ میں نے اندر دیکھا تو 11 لوگ اور تھے۔ میں نے دھیان سے انہیں دیکھا، ایک تو 6.5 فٹ کا ہوسناک انسان  لگ رہا تھا، جسے سبھی “سلطان بھائی، سلطان بھائی” بول رہے تھے

سلطان: ان لونڈیوں کو ایک کھرونچ نہیں آنی چاہیے، سمجھے؟ بھائی نے اسپیشل دھیان رکھنے کو بولا ہے، اسی لیے ایک سے ایک ٹاپ مال چون چون کے اٹھایا ہے۔ کل ان کو مین اڈے پر باقی کے ساتھ پہنچا دینا

سب: جی بھائی۔ 

سلطان: میں ابھی دوسرے کام سے جا رہا ہوں، بعد میں آ کے دیکھتا ہوں، چوکس رہنا سبھی، کوئی غلطی نہ ہو۔

 پھر سلطان 5 آدمیوں کے ساتھ نکل گیا

اب یہاں 11 آدمی تھے پورے۔۔ میں باہر آیا اور فون ملایا۔ 

میں:ایک کار میری فون کی لوکیشن پر لے کے آؤ۔۔ نمبر پلیٹ چینج کر لینا

دوسری طرف سے: جی، ہتھیار لے کے آئیں؟ 

میں: نہیں

 پھر میں اچھے سے ساری سچویشن سمجھنے لگا… باہر والے بندوں میں 2 کے پاس بندوقیں تھی، جن سے مجھے چھٹکارا پانا تھا۔ باقی سب کے پاس مجھے کوئی گن نظر نہیں آئی، شاید وہ لوگ اس جگہ کو سیف سمجھتے تھے۔۔ میں دھیرے سے واپس باہر آیا اور اپنی بائیک کے پاس گیا۔۔ اور بائیک سے سنیل کا خنجر نکالا اور بولا، “میرے بھائی، تو نہیں ہے آج پاس، لیکن تیرا خنجر ہے۔ چل، آج پھر رکھوالے کا ٹائم آ گیا۔ جب جب کسی لڑکی کی عزت کو یہ لوگ زبردستی تار تار کریں گے، تب تب رکھوالا ان پر وار کرے گا۔  

میں واپس پہنچ کر انتظار کرنے لگا، صحیح موقعے کا۔ اور وہ موقع جلد ہی مل گیا۔ لائٹ کے لیے ایک ہی بلب آن تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ یہاں کوئی رہتا ہے۔ میں دھیرے دھیرے چلتے ہوئے سب سے پہلے باہر والے کے پاس گیا اور اس کی گردن پر ایک وار کیا، وہ بیہوش ہو گیا۔۔ دوسرا جو دوسری سائیڈ تھا، ایک کونے پر تھا، وہ جیسے ہی اس طرف مڑ کے آنے کی  آواز آئی ، میں نے چھپ کر پیچھے سے اس کے منہ کو پکڑ کے گردن مروڑ دی، آواز ہی نہیں نکلی۔ اب 4 باؤنڈری کے اندر تھے اور 5 گودام کے اندر بچے تھے۔۔ میں نے گیٹ کو ناک کیا۔ 

اندر سے آواز: کیا ہوا بے

 میں نے کوئی ریپلائی نہیں کیا

 پھر سے آواز آئی: کیا ہوا بے، بولتا کیوں نہیں

 میں نے پھر کوئی جواب نہیں دیا

تب ایک نے دوسرے آدمی سے کہا:تو جا، تیرے پاس گن ہے نا

 اور مجھے یہی چاہیے تھا۔ مجھے گیٹ کے پاس چلنے کی آواز آئی اور جیسے ہی گیٹ کھلنے لگا، میں سامنے سے بھاگتا ہوا آیا اور دونوں گھٹنوں سے اس کی چھاتی پر وار کردیا۔ وہ اُڑتا ہوا سیدھا پیچھے گودام کی دیوار سے ٹکرایا۔ اندر دھڑام کی آواز ہوئی، جس سے گودام میں بھی سب الرٹ ہو گئے۔ اور باہر میں سب کو توڑ رہا تھا۔ جن کی آوازیں اندر تک جا رہی تھیں۔ باہر کی چیخیں اتنی تیز تھیں کہ اندر لڑکیاں تک ڈر سے رونے لگ گئیں اور اندر والے سب الرٹ ہو گئے تھے۔۔ میں باہر والوں کو اٹھا کے گودام کے گیٹ کی طرف پھینک رہا تھا۔ کسی کا سر ٹکراتا تو کسی کا منہ۔ پھر میں نے زور سے ایک لات گودام کے گیٹ کو ماری، جو تھوڑا سا ہلا۔ اور اندر دھڑام تھڈ تھڈ کی آواز ہوئی۔ میں بھاگ کے آیا، پھر لات ماری۔ اندر ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بائیک سپیڈ سے ٹکر مار رہا ہو۔ میں نے لات لگاتار مارتا رہا، جس سے دروازے کی کنڈیاں ٹوٹ گئیں اور دھڑ کی آواز سے دروازہ کھل گیا

 اندر والے 5 ہاتھوں  میں چھری لے کے میری طرف دیکھ رہے تھے اور میرے جسم پر خون لگا ہوا تھا۔۔ انہیں بس ہلکے اجالے میں ایک شخص منہ پر رومال باندھے نظرآ رہا تھا

غنڈہ: کون ہے بے تو جو یہاں مرنے آیا ہے

میں: وہی جو صرف ایک ہی بات سے اپنے آپے سے باہر ہو جاتا ہے اورپھر  وہ باہر آ جاتا ہے جسے نہیں آنا چاہیے ۔

 میں ایک آدمی کو اس کا پاؤں پکڑ کے گھسیٹ کے اندر اپنے ساتھ لا رہا تھا

سامنے سے ایک بندہ مجھے  مارنے آیا۔ میں اسے دیکھتا رہا۔ وہ مجھ پر وار کرتا، اس سے پہلے ہی میں آگے بڑھا اور اس کی چھاتی پر سائیڈ  پر ہوکر ایک کک لگادی۔ وہ واپس اُڑتا وہیں گھٹنوں کے بل گرا جہاں سے آیا تھا اور اسی پوزیشن میں رہ گیا جس میں گرا تھا۔ اس کے منہ سے خون نکل رہا تھا۔۔ اب ان کی آنکھوں میں ڈر نظرآنے لگا تھا

میں:یہی، یہی چاہیے اسے۔ ڈر، ڈر، ڈر، بے شمار ڈر۔۔ میں وہ ہوں جو تم سب کو درد دے گا۔ وہ درد جو تمہاری آخری سانس تک چلے گا۔ تم مرو گے نہیں اور ہر سانس تمہیں یاد دلائے گی تمہارے کرتوت جو تم نے کیے۔۔ میں زمیں پر موت کا فرشتہ ہوں جس کو بس تڑپتی ہوئی روح کودیکھنا پسند ہے۔۔ میں رکھوالا  ہوں جو کسی عورت پر جبر برداشت نہیں کر سکتا۔۔ اب تم دیکھو گے درد کس کو کہتے  ہیں۔

 اور پھر جو میرے پاس گرا ہوا تھا، خنجر سے اس کے ہاتھ کاٹ دیے

میرا نام “رکھوالا” سن کے لڑکیوں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو پھوٹ پڑے تھے کیونکہ انہیں اب پورا یقین تھا کہ وہ بچ جائیں گی۔ جس اوپر والے سے وہ پچھلے 3 دن سے دعا ئیں مانگ رہی تھیں، وہ ان کی پوری ہو گئی تھی

ادھر میں ایک کو پکڑ کے اس کے منہ پر، پسلیوں پر اور پیٹ میں مکے مارے جا رہا تھا اور وہ خون کی الٹیاں کرتے کرتے لیٹ گیا۔

باقی ڈر سے بولنے لگے:  یہ جانور ہے،درندہ ہے ۔۔ بھاگو یہاں سے، بھاگو

میں: ہا ہا ہا، وہ ہوتا تو رحم کر دیتا۔ میں رکھوالا ہوں جو کبھی معاف نہیں کرتا اور تڑپاتا ہوں، تڑپاتا ہوں اس کی روح کو۔

 پھر باقیوں کو بھی مار مار کے آدھ مرا کر دیا۔۔ پھر لڑکیوں کے پاس جا کے 

میں: آپ سب کے کپڑے؟ 

لڑکیاں: جلا دیے ان حرامیوں نے۔ 

میں نے ان سب کی رسی کھولی اور پھرکہا:آپ میں سے جو کمزور دل کی ہیں، وہ دوسری طرف منہ کر لیں۔ باقی میری مدد کریں۔

مگر  سب میں اتنی ہمت کیسے آئی، پتا نہیں،لیکن سب کھڑی ہو گئیں میری مدد کرنے کے لیے۔ 

میں: گڈ، ان سب کو گھسیٹ کے یہاں لائٹ میں لاؤ۔ میں باہر والوں کو لاتا ہوں۔

 پھر میں 2 کو کندھوں پر اور 2 کو گھسیٹ کے اندر لے کے آیا۔۔ اور پھر 1 کو اندر لے آیا۔ تھوڑی ہی دیر میں  سب اندر تھے

پھر ان لڑکیوں کے کہا:  اب  2 لڑکیاں ، پورا گودام چھان مارو۔۔ اور مجھے بتاؤ کہ کیا ملا۔ اور ڈرنا مت، یہاں اور کوئی نہیں آئے گا، اور آیا تو مرے گا وہ بھی۔ 

ایک لڑکی: آپ کے ہوتے ہمیں کسی سے  ڈر نہیں ہے۔ 

اور سبھی چلی گئیں۔ پھر میں نے جس لڑکی کو ابھی کڈنیپ کر کے لائے تھے، اسے بلایا۔ اسے سمجھایا۔ جب ساری لڑکیاں آ گئیں تب

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page