Keeper of the house-157-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 157

میں:ریکارڈنگ کرو اور میرے اور ان غنڈوں کے علاوہ کچھ نہیں آنا چاہیے… اور گھبرانا مت، کیونکہ یہ لوگ آگے تمہارا یوز کرنے کے بعد تمہارے باڈی پارٹ نکال کے بیچ دیتے، تمہیں مارکر کچرے میں پھینک دیتے۔۔ تم بھی دیکھو، میں کیا کرتا ہوں ان کے ساتھ۔

پھر میں کیمرے کے سامنے 

شہر   والو، میرا نام ہے رکھوالا۔ میرے 2 ویڈیوز پہلے بھی آ چکے ہیں، اب   یہ تیسرا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا، جو کسی بھی لڑکی، عورت، بہو، بیٹی، بہن کے ساتھ زبردستی کرے گا اور میری نظر میں آ گیا، تو پھر سے دیکھ لو اس کے ساتھ میں کیا کروں گا۔ آج یہ لوگ کچھ لڑکیوں کے ساتھ یہی کرنے والے تھے، انہیں بیچنے والے تھے، ریپ کرنے والے تھے۔ لڑکیاں کھلونا نہیں، یہ بات سمجھ لو، ورنہ میں سمجھاؤں گا تو تم زندہ نہیں رہو گے۔۔ اور رکھوالا کیسے سمجھاتا ہےیہ بھی زرا غور سے  دیکھ لو

اور میں نے ان کی آنکھیں نکالی، زبانیں ، پاؤں کی انگلیاں، سب کاٹ دیں۔ 

اور آخر میں کیمرے کے پاس آ کے بولا 

سلطان

سلطان

سلطان

اب تیری باری ہے۔۔تیری الٹی گنتی شروع ہو گئی اب

اتنے میں کار بھی آ گئی، جس کی آواز سے ساری لڑکیاں گھبرا گئیں۔ 

میں:میں نے بلائی ہے، کیا گھر نہیں جانا ہے آپ سب کو؟ 

سب: (گردن ہاں میں ہلانے لگیں) 

میں: پھر تو گھر جانے کے لیئے  یہاں سے جان ہی  ہوگا،لیکن  اس سے پہلے آپ سب کو اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنی ہوگی، میری سیفٹی کے لیے، پلیز، تاکہ آپ میرا ایڈریس نہ دیکھ سکو۔ 

سب: اوکے

اور پھر انہیں صرف برا پینٹی میں ہی گھر لے کے آ گیا… کومل کو کال پر ہی بتا دیا تھا۔ ہم جیسے ہی گھر پہنچے، ایک ایک 2-2 کر کے 5 کو اندر لے کے آیا۔ کومل مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ 

میں:اب آپ لوگ پٹی ہٹا لو۔ سب نے پٹی ہٹائی تو کومل انہیں نظر آئی۔ پھر سب میری طرف دیکھنے لگیں

میں: آپ سب کمفرٹیبل ہو جاؤ، بس کوئی پوچھ تاچھ نہیں، اوکے؟ گیسٹ روم ہے، اس میں کچھ کپڑے ہیں، انہیں ایڈجسٹ کر کے پہن لو۔ کل دن میں میں آپ کے لیے ارینجمنٹس کر دوں گا۔۔ آپ ان کے ساتھ جائیں۔ 

تب ایک لڑکی:میرا گھر یہیں ہے، میں اپنی بہن کے ساتھ رہتی ہوں۔ 

میں: آپ آ جاؤ، میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔ 

پھر سب اندر چلی گئیں۔ تب 

کومل:واہ ۔۔واہ۔۔ کیا دیکھ  رہے ہو۔۔ خوش تو آج بہت ہوئے ہو گے، 5 خوبصورت  لڑکیاں اور وہ بھی صرف انڈرگارمینٹس میں

میں:ارے یار، کیوں فلمی ڈائیلاگ مار رہی ہے؟ ان کے کپڑے جلا دیے تھے۔۔ اور کل میں اسکول نہیں جاؤں گا، اوکے؟ ان کو ان کے گھر پہنچانے کا ارینجمنٹ کرنا ہے نا

کومل: (شاک سے) آپ یہ کام خالد بھائی سے کہہ کے بھی کروا سکتے ہو نا، کوئی دوسرا بہانہ دیکھو رکنے کا

میں:میری ماں، وہ یہاں پورا گھر ہماری فوٹو دیکھ لیں گی، تیرے میرے، مطلب ہمارے روم میں، کیونکہ تو میرے علاوہ تو کہیں سوتی نہیں، سمجھا کر، تیرے بھائی کی آئی ڈی سب کے سامنے آ جائے گی

کومل: ہمم، لیکن  مار تو پڑے گی، آج کل بہت بگڑ گئے ہو۔

 اور اپنے نازک  ہاتھوں سے مجھے مارنے لگی۔ جب اندر کی لڑکیاں باہر آئیں تو انہوں نے جب یہ دیکھا کہ رکھوالے  کو مار پڑ رہی ہے تو وہ بھی ہنس پڑیں۔

سب کے ہنسنے سے کومل جھینپ گئی۔ 

کومل: (شرما کر) میں کھانا لگواتی ہوں۔ 

اور میں نے اس لڑکی کو کار سے گھر پہنچا دیا۔ 

  یہ تو پہلا انکاؤنٹر انجانے میں ہی ہو گیا، لیکن  اس کی چنگاریاں دور تک جانے والی تھیں

اپ ڈیٹ 77 

اگلے دن جب کومل اسکول چلی گئی، تب میں نے باقی لڑکیوں کے ساتھ ناشتا کیا

میں: اگر آپ کی عزت بچانے والے کے لیے کچھ ہے آپ کے دل  میں، تو آپ کبھی میری شکل کا ذکر مرتے دم تک نہیں کریں گی۔۔ آپ کو جنہوں نے کڈنیپ کیا تھا، وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں، اس لیے کوئی نہیں جانتا کہ آپ کڈنیپ کر کے کیسے لائی گئی تھیں اور کس نے کہاں سے کڈنیپ کیا تھا۔۔ ہاں، جس نے آرڈر دیا تھا، اب وہ مرے گا۔ اس کا کٹا سر پورے شہر  والے دیکھیں گے۔ یہ سارے راز بس آپ کے دل میں ہی رہنے چاہئیں

لڑکیاں: ہم وعدہ کرتی ہیں کہ آپ کے بارے میں کسی کو نہیں بتائیں گی، لیکن  جانے سے پہلے ہم آپ سے کچھ چاہتی ہیں

میں:کیا

لڑکیاں: ناشتے کے بعد۔ 

اور ناشتے کے بعد ایک اور چلی گئی، اس کی ٹرین  کی ٹکٹ تھی  اور ٹرین کے جانے کا ٹائم ہوگیا تھااس لیے۔ پھر باقی 3 میرے پاس آئیں۔ میں کچھ سمجھ پاتا اس سے پہلے ہی مجھے کِس کرنے لگیں

میں: (شرما کر) اس کی ضرورت نہیں ہے

لڑکی:یہ سب ہماری خوشی سے ہے اور ہم رات کو ہی ڈیسائیڈ کر چکی تھیں کہ صبح ایک پیار بھرا احساس آپ سے لے کے جائیں گے، اس لیے ہمیں روکیے مت

میں کچھ بولنا چاہتا تھا، لیکن  میرے الفاظ میرے منہ میں ہی  رہ گئے اور وہ سب مجھ پر ٹوٹ پڑیں ۔ ایک کِس کر رہی تھی، باقی نے میرے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔ کچھ دیر تو میں بھی نارمل رہا، لیکن  پھر میں بھی ان کا ساتھ دینے لگا۔ انہوں نے اپنے کپڑے اتار دیے۔ ان سب کےسنگ مرمر سے ترشے ہوئے  بدن میرے سامنے تھے، اور میرے اندر کی آگ بھی جل اٹھی۔ میں بھی ان کا ساتھ دینے لگا۔ کسی کے مموں  کو چوس رہا تھا، تو دوسری کے مموں  کو دبا رہا تھا، اور ایک میری ٹانگوں کے بیچ میں نیچے بیٹھ کر میرے لنڈ کو چوسنے لگی۔ چاروں طرف سے گرم سانسوں کے احساس سے ہی میرا پورا تن بدن بھڑک اٹھا تھا۔ میں بیڈ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ 

ایک الٹی لیٹ کے بیڈ پر میری لنڈ کوچوسنے لگی ، تو ایک نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ کے میری گولیوں کو چوسنے لگی۔ کچھ دیر ایسے ہی چسانے کے بعد میں بیڈ پر لیٹ گیا۔ 

ایک مجھے کِس کرتی رہی اور میں اسے، اور باقی 2 میرے لنڈ کو لولی پاپ کی طرح چوس رہی تھیں۔۔ پھر تیسری بھی کِس چھوڑ میرے لنڈ کو چوسنے لگی۔ میرا موٹا لنڈ تینوں کو رس پلانے لگا اور پھر ایک نے اٹھ کے اپنی چوت کو میرے ہونٹوں کی طرف چٹوانے کے لیے آگے کر دی، تو ایک اپنی چوت کی گرماہٹ برداشت نہیں کر پائی اور اپنی گیلی چوت کو میرے لنڈ پررکھ کر  بیٹھنے لگی۔ میں نے اس کی کمر کو پکڑ کے نیچے سے جھٹکا مارا، تو چوت کی پھانکوں  کو پھاڑتا ہوا لنڈ آدھا گھس گیا۔

اُس نے چیختے ہوئے  اٹھانا چاہا ، لیکن  اٹھ نہ پائی۔ پیچھے والی لڑکی نے اُسے پکڑ لیا ۔ میں چوت کا پانی چوسنے سے اور گرم ہو گیا اور پاگل سانڈ کی طرح جھٹکے مار کے اس کی چوت کے اندر لنڈ گھسیڑ دیا.

 وہ چیخ رہی تھی اور تڑپ رہی تھی لیکن میں نے اُس کی چوت کو پھدا بناتا چودتا گیا ۔ چوت چسوانے والی  نے جب اُس کو چیختے اور تڑپتے دیکھا تو دوسری لڑکی نے اُسے  کہا کہ اس کے مموں سے کھیلو ، تو وہ اُس  کے مموں کوپکڑ کر  مسلنے اور چوسنے لگی، تو وہ تھوڑی دیر میں ہی اپنا  درد بھول کر مستی میں چدوانے لگی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page