Lust and thirst-36-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 36

کملا:  “شلوار باندھ کر جلدی آ جا۔”

اور پھر وہ جا کر وہیں بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد نیہا بھی وہاں آ کر بیٹھ گئی۔ 

جیسے ہی نیہا آ کر وہاں بیٹھی، کملا نے آنکھ نچاتے ہوئے اس سے پوچھا، “کچھ کام بنا کیا؟” 

نیہا: کیا، میں سمجھی نہیں؟ 

کملا: ارے تیری پھدی میں موت کا پریشر بنا کیا؟ 

نیہا: ہاں، تھوڑا تھوڑا۔ (نیہا ایسی شرما رہی تھی جیسے وہ کوئی کنواری لڑکی ہو۔) 

اور پھر وہ دونوں بیٹھ کر کپڑے دھونے لگیں۔ اب بس کچھ ہی کپڑے بچے تھے۔ نیہا کے کپڑے اب پوری طرح بھیگ چکے تھے۔ کملا نے دیکھا کہ موہت اب واپس آنے ہی والا ہے۔ پھر دونوں چپ ہو گئیں۔ موہت پھر سے وہیں آ کر بیٹھ گیا۔ اس بار موہت بڑے غور سے نیہا کی چھاتیوں کو دیکھ رہا تھا۔ اور نیہا بھی جھک جھک کر اپنے مموں کا دیدار اسے کروا رہی تھی۔ بیچ بیچ میں وہ موہت کی طرف دیکھتی، اور جب دونوں کی نظریں آپس میں ٹکراتیں، تو نیہا اس کی طرف دیکھ کر پیار بھری مسکراہٹ اس کی طرف پھینکتی۔ یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔ کملا کو لگا کہ اب اگلا قدم اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ اس نے دھیرے دھیرے نیہا کی کمر میں اپنی کہنی مارتے ہوئے اشارہ کیا۔ نیہا تھوڑی دیر بعد کھڑی ہو گئی۔ کملا جان بوجھ کر اپنا سر جھکائے بیٹھی رہی۔  

نیہا: کملا، میں ذرا موت کر آتی ہوں۔ 

جیسے ہی موہت نے نیہا کے منہ سے یہ بات سنی، اس کے لنڈ میں سرسراہٹ دوڑ گئی۔ جب اس نے نیہا کی طرف دیکھا تو وہ کھڑی تھی۔ نیہا نے ایک بار اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی شلوار کے اوپر سے ہی اپنی پھدی پر کھجانا شروع کر دیا۔ جیسے ہی موہت کی نظریں اس جگہ پر پڑیں، موہت کی  تو جیسے سانس ہی اٹک گئی ۔ 

اس کی شلوار بھی گیلی ہو کر اس کے بدن سے چپک گئی تھی۔ اگر آگے اس کی قمیض کا پلّو نہ ہوتا، تو اس کی پھدی بھی اس کی چپکی ہوئی شلوار سے صاف جھلک پڑتی۔ تب تک کملا نے بھی موہت کو آواز لگائی اور اسے کپڑے دیتے ہوئے بولی، 

کملا: یہ لے، اسے بھی وہاں ڈال آ۔ خشک ہو جائیں گے۔ 

نیہا انہیں جھاڑیوں کی طرف جا رہی تھی، جہاں موہت نے کپڑے سکھانے کے لیے ڈالے تھے۔ جیسے ہی موہت کملا کے ہاتھ سے کپڑے لے کر مڑ کر جانے لگا، تو اسے ایک اور جھٹکا لگا۔ اس بار نیہا نے بھی اپنے دماغ سے کام لیا۔ اور اس نے جو کیا، اس نے آگ پر تیل ڈالنے  کا کام کیا۔ اس نے جانے سے پہلے اپنی قمیض کے پچھلے پلّو کو پیچھے سے اپنی کمر میں لپیٹ لیا تھا۔ گیلا ہونے کی وجہ سے وہ اس کی کمر سے چپک گیا تھا۔ 

جیسے ہی موہت مڑا، تو اس کی نظر نیہا کی مٹکتی گانڈ پر پڑی۔ اس کی شلوار گیلی ہو کر اس کی گانڈ سے ایک دم چپکی ہوئی تھی، اور اس کی شلوار اس کی گانڈ کی دراڑ میں دھنسی ہوئی تھی۔ یہ سب موہت کے لیے برداشت سے باہر تھا۔ کریم کلر کی گیلی شلوار میں نیہا کی گانڈ کی  پوری گولائی  صاف دکھائی دے رہی تھی۔ 

اس کا لنڈ اس کی پینٹ میں اور تن گیا۔ آگے چلتی نیہا نے ایک بار پیچھے پلٹ کر دیکھا، تو اسے موہت کی پینٹ لنڈ کے مقام سے ابھری ہوئی نظر آئی۔ اس کے لنڈ نے تن کر آگے سے پینٹ کو اٹھا رکھا تھا۔ یہ دیکھ کر نیہا نے پھر سے وہی قاتلانہ انداز میں مسکراتے ہوئے موہت کی آنکھوں میں جھانکا، اور پھر چلتے ہوئے جھاڑیوں کے پیچھے چلی گئی اور اپنی شلوار کا ناڑا کھولنے لگی۔ 

وہ جھاڑیوں کے پیچھے کچھ چار پانچ فٹ کے فاصلے پر تھی۔ اب ان کے بیچ ہری گھاس کی جھاڑیاں تھیں، اور کچھ سوکھی جھاڑیاں تھیں، جن پر اس نے کپڑے ڈالے تھے۔ جن جھاڑیوں کے پیچھے وہ کھڑی تھی، وہ مشکل سے اس کے گھٹنوں تک آ رہی تھیں۔ موہت جھاڑیوں پر کپڑے ڈالتے ہوئے نیہا کی ہی طرف دیکھ رہا تھا، جو اپنی شلوار کا ناڑا کھولنے میں لگی ہوئی تھی اور بیچ بیچ میں اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیتی تھی۔ 

 

موہت نے دیکھا کہ نیہا کو شلوار کا ناڑا کھولنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ مگر وہ وہیں کھڑا دیکھتا رہا تھا۔ آخر کار نیہا نے اسے ہاتھ سے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔ موہت کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ نیہا کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ ادھر نیہا کا بھی یہی حال تھا۔ حالانکہ موہت ساحل کی عمر کا ہی تھا، پھر بھی جیسے جیسے موہت اس کی طرف بڑھ رہا تھا، اس کا بدن بھی عجیب سی بے چینی کی وجہ سے کانپ رہا تھا۔ 

موہت نے کانپتے قدموں کے ساتھ نیہا کے پاس پہنچ کر کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا،

موہت:  “جج۔۔۔ جی آنٹی؟”

 نیہا کا بھی وہی حال تھا۔ “وہ موہت، وہ لگتا ہے ناڑے کی گانٹھ اٹک گئی ہے۔ کھل نہیں رہی۔ مجھے بہت تیز موت آ رہا ہے۔ دیکھو کیسے پھنس گئی۔ کھول دو نا۔”

 نیہا نے اپنے ناڑے کی گانٹھ موہت کو دکھاتے ہوئے کہا۔ 

نیہا کے یہ بات سن کر  جیسے اس کی سانس اس کے گلے میں اٹک گئی ہو۔ اس نے اپنے گلے میں اٹکے تھوک کو نگلتے ہوئے کہا،

موہت: “کیا آنٹی؟” 

نیہا: ارے اس طرح گھبرا کیوں رہا ہے؟ ناڑے کی گانٹھ ہی تو کھولنی ہے۔ جلدی کر، کہیں میرا موت بیچ میں ہی نہ نکل جائے۔ 

نیہا نے یہ سوچ لیا تھا کہ آج وہ موہت کو ہر حال میں پٹا کر رہے گی۔ نیہا کے منہ سے ایسی باتیں سن کر موہت کا برا حال تھا۔ وہ اپنا سر جھکائے نیہا کے سامنے کھڑا تھا۔ نیہا نے اپنی قمیض کے پلّو کو آگے سے اٹھا کر کہا،

نیہا:  “چل جلدی کھول نا۔”

 جیسے ہی اس کی نظر نیہا کی شلوار کے اگلے حصے پر پڑی، اس کے دل کی دھڑکنیں اس قدر بڑھ گئیں،  جیسے وہ میلوں  بھاگ کر آیا ہو۔ نیہا کی شلوار اس کی چوت پر ایک دم چپکی ہوئی تھی۔ اس کی چوت کے جھانٹوں کے بال  اس میں سے صاف دکھائی دے رہے تھے۔

موہت کا لنڈ اب اتنا اکڑ گیا تھا کہ اس کے لنڈ  میں درد  ہونے لگا تھا۔ موہت نے نیہا کی جھانٹوں بھری چوت کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے کانپتے ہاتھوں کو نیہا کی شلوار کے ناڑے کی طرف بڑھایا۔ اور موہت نے نیہا کی شلوار کا ناڑا پکڑ کر کھولنے کی کوشش شروع کر دی۔ ناڑے کی گانٹھ پھنسی نہیں تھی، یہ بات نیہا بھی جانتی تھی۔ مگر موہت جان بوجھ کر کچھ زیادہ ہی وقت لگا رہا تھا۔

اس کے کانپتے ہاتھوں کی انگلیاں بار بار نیہا کی ناف پر رگڑ کھانے لگیں۔ جیسے ہی نیہا کو اپنے ننگے پیٹ اور ناف پر موہت کی نرم انگلیوں کا احساس ہوا، اس کے منہ سے سسکی نکل گئی،

 “سسی۔۔۔ آہہہ موہت۔”

نیہا نے یہ کہتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور موہت کے کندھوں کو پکڑ لیا۔ 

اب دونوں کے جسموں میں بس چند انچ کا فاصلہ تھا۔ نیہا کا پیٹ اور کمر تھرتھرا رہے تھے۔ آخر کار موہت نے نیہا کی شلوار کا ناڑا کھول دیا۔ اور پھر نیہا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا، جو اپنی آنکھیں بند کیے کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئی تھی۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page