Lust and thirst-37-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 37

موہت: آنٹی، آنٹی جی، وہ وہ کھل گیا ہے۔ 

نیہا: ہاں کیا؟ (نیہا جیسے خوابوں کی دنیا سے واپس لوٹی) اچھا ٹھیک ہے۔ تھینکس بیٹا۔ 

موہت مڑ کر واپس جانے لگا۔ نیہا اپنی شلوار کو ہاتھوں سے پکڑے کھڑی تھی۔

“رکو موہت،” نیہا نے کانپتی آواز میں کہا۔

 موہت نے پلٹ کر نیہا کی طرف دیکھا، “جی آنٹی جی؟” 

نیہا: میں نے سنا ہے یہاں جھاڑیوں میں بہت سانپ بچھو ہیں۔ 

موہت: جی آنٹی ہیں، پر وہ دریا کے پاس ہیں، یہاں پر نہیں۔ 

نیہا: نہیں، مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ تم یہیں رکو، میں پیشاب کر لیتی ہوں۔ 

موہت: پر یہاں نہیں ہیں آنٹی۔ 

نیہا: وہ دیکھو جھاڑیوں کے بیچ بل (سوراخ)  ہے۔ 

نیہا نے ہاتھ سے جھاڑیوں کے بیچ اشارہ کیا، پر وہ اپنی آنکھوں سے اپنی چوت کی طرف اشارہ کر رہی تھی، جو اس کی شلوار کے چپکنے کی وجہ سے اس کی جھانٹیں نظر آ رہی تھیں۔ موہت بھلے ہی کم عمر کا تھا، پر نیہا کا اشارہ سمجھ گیا، لیکن کچھ بول نہ پایا۔ 

نیہا: دیکھو تم میری طرف نہ دیکھنا، پر یہیں کھڑے رہنا۔ میں موت لو، پھر چلے جانا۔ پتہ نہیں کب کوئی سانپ نکل کر آ جائے۔ 

موہت بیچارہ وہیں سر جھکا کر کھڑا ہو گیا۔ نیہا موہت کے حال پر من من مسکرا رہی تھی۔ نیہا موہت سے صرف چار قدم کے فاصلے پر تھی۔ اس نے اپنی شلوار کو نیچے کیا اور پھر پیشاب کرنے کے لیے بیٹھ گئی۔ پھر پیشاب کرنے کی تیز آواز موہت کے کانوں میں پڑی۔ جس پریشر سے نیہا کی پھدی سے پیشاب  کی دھار نکل کر زمین پر گر رہی تھی، اس سے بہت تیز سیٹی کی آواز سی آ رہی تھی۔ موہت کا لنڈ اس کی پینٹ میں موتنے کی آواز سن کر جھٹکے پر جھٹکے کھا رہا تھا۔ 

لیکن موہت کی ہمت نہیں ہو رہی تھی اس طرف دیکھنے کی۔ نیہا بیٹھی ہوئی بھی اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ پھر موتنے کے بعد جیسے ہی نیہا کھڑی ہوئی، تو اس نے اپنی چوت کی طرف دیکھا، تو اس کی چوت کے پھانکوں میں سے اس کا  رس بہہ کر نیچے لٹک رہا تھا۔ اس کی چوت کا رس شہد کی طرح ایک لمبی سی تار بنائے ہوئے لٹک رہا تھا۔ یہ دیکھتے ہی نیہا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ 

اس نے بغیر اسے صاف کیے اپنی شلوار پہن لی اور پھر ناڑا باندھتے ہوئے موہت کے پاس آئی۔

نیہا: “چل ہو گیا،”

یہ کہہ کر وہ موہت کے آگے چلنے لگی۔

نیہا: “ویسے موہت بیٹا، مجھے تو یہاں کوئی سانپ نظر نہیں آیا۔”

اس نے موہت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ 

موہت: وہ دراصل آنٹی جی، وہ سانپ دھوپ میں کم ہی باہر نکلتے ہیں۔ 

نیہا: اچھا۔ موہت، تمہیں تو پیشاب نہیں کرنا نا؟ ابھی کر لو، کیونکہ ابھی تو سارے سانپ اپنے بلوں میں گھسے ہوں گے۔ 

موہت: نہیں آنٹی، مجھے پیشاب نہیں آیا ہے۔ 

نیہا: اچھا چل پھر، میں نے سوچا تھا شاید تب تک مجھے کوئی سانپ دیکھنے کو مل جاتا۔

نیہا نے موہت کی پینٹ میں بنے ہوئے ابھار کو دیکھ کر کہا، اور پھر اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور اس کے آگے آگے چلنے لگی۔

موہت: پر آنٹی جی، یہاں سانپ تو شام کے وقت ہی نکلتے ہیں۔ 

پھر نیہا واپس ٹیوب ویل کے پاس آ گئی۔ اور پھر دونوں نے باقی بچے کپڑے دھوئے۔ تھوڑی دیر وہیں بیٹھ کر آرام کیا۔ ایک گھنٹے میں ہی سارے کپڑے خشک ہو گئے تھے۔ کملا نے نیہا کو کہا کہ وہ اب اندر جا کر اپنی پینٹی اور برا پہن لے۔ اس کے بعد کملا اور موہت کپڑے اٹھانے کے لیے چلے گئے، اور نیہا نے روم میں جا کر اپنی برا پینٹی پہن کر دوبارہ اپنا سوٹ پہن لیا۔ 

نیہا نے گھر آتے وقت جو جو ہوا سب کملا کو بتا دیا۔ دونوں ہنسی مذاق کرتے ہوئے گھر پہنچ گئیں۔ 

نیہا: اچھا اب میں چلتی ہوں۔ تُو نے تو اب میری پھدی میں اور آگ لگا دی۔ اب خود ہی انگلیوں سے کام لینا پڑے گا۔ 

کملا: اچھا سن، تیرا پتی کب جانے والا ہے منڈی؟ 

نیہا: بس جانے ہی والے ہوں گے۔ 

کملا: اچھا، ایسا کر، تُو پھر جا کر اپنے پتی کو کھانا وانا کھلا۔ اور خود کھا کر گھر آ جانا۔ پھر تیری پھدی کو ٹھنڈا کرتی ہوں۔ 

نیہا: موہت تو گھر آ گیا ہے نا؟ 

کملا: آ گیا ہے تو کیا ہوا، وہ کون سا گھر میں ٹک کر بیٹھتا ہے۔ ابھی کھانا کھا کر گراؤنڈ میں کھیلنے چلا جائے گا۔ 

نیہا: اچھا ٹھیک ہے، اگر موقع ملا تو ضرور آؤں گی۔ 

اس کے بعد نیہا اپنے گھر آ گئی۔ نیہا نے گیٹ پر دستک دی تو تھوڑی دیر بعد گیتا نے آ کر گیٹ کھولا۔ نیہا اندر آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کا پتی کلونت اٹھ چکا تھا اور کھانا کھا رہا تھا۔ “اٹھ گئے آپ؟ اور یہ کھانا کس نے بنایا؟” 

گیتا: میں نے بنایا موسی، وہ موساجی کو دیر ہو رہی تھی۔ آپ بھی ہاتھ منہ دھو لو، میں آپ کے لیے بھی کھانا لگا دیتی ہوں۔ 

نیہا: (گیتا کے گالوں کو پیار سے سہلاتے ہوئے) بہت اچھا کیا تُو نے۔ ساحل اور تُو نے کھانا کھا لیا؟ 

گیتا: ہاں ہم نے ابھی کھایا ہے۔ 

اس کے بعد گیتا نے نیہا کو بھی کھانا دیا۔ کلونت کھانا کھا کر منڈی کے لیے نکل گیا۔ کلونت کے جانے کے بعد نیہا نے تھوڑا بہت گھر کا کام کیا۔ پھر گیتا اور ساحل کو بول کر کملا کے گھر چلی گئی۔ نیہا کے جانے کے بعد گیتا نے گیٹ بند کیا اور پھر ایک دم سے خوشی سے اچھل پڑی۔ اسے جس وقت کا بے صبری سے انتظار تھا، آج وہ وقت آ ہی گیا تھا۔ 

گیتا  گیٹ بند کر کے روم میں گئی۔ ساحل بیڈ پر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ گیتا بیڈ پر چڑھی اور ساحل کو اپنی بانہوں میں بھر کر اپنے سے چپکا لیا۔ ساحل ایک دم سے گھبرا گیا۔ 

ساحل: کیا کر رہی ہو موسی، ماں آ جائیں گی۔ 

گیتا: (ساحل کے ہاتھ کو پکڑ کر اپنے مموں پر رکھتے ہوئے) تیری ممی کملا آنٹی کے گھر گئی ہیں۔ ہم دونوں گھر پر اکیلے ہیں۔ 

ساحل: سچ؟

ساحل بھی پچھلے کچھ دنوں سے پھدی کے لیے ترس رہا تھا۔

گیتا: (اپنے ہونٹوں کو ساحل کے ہونٹوں کی طرف بڑھاتے ہوئے) سچ۔ ساحل مجھے پیار کرو۔

گیتا نے ساحل کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا، اور پھر اپنے ہونٹوں کو ساحل کے ہونٹوں سے لگا دیا۔

گیتا کی یہ بات سنتے ہی اس نے قمیض کے اوپر سے ہی گیتا کی چھاتی کو مسل دیا۔ گیتا تو جیسے پاگل ہو گئی۔ اس نے پاگلوں کی طرح ساحل کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ ساحل بھی اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا۔ اب تک چچی کے ساتھ چدائی کا کھیل، کھیل کر ساحل بہت کچھ سیکھ کر اب اس میں ماہر ہوتا جا رہا تھا۔ دونوں کے ہونٹوں میں جیسے کوئی جنگ چھڑ گئی ہو۔ 

دونوں پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کے ہونٹ چوس رہے تھے۔ گیتا کے منہ سے اُمہہ اُمہہ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ جب دونوں کا سانس لینا مشکل ہو گیا تو گیتا نے اپنے ہونٹوں کو ساحل کے ہونٹوں سے الگ کیا اور پھر اپنی ادھ کھلی نشیلی آنکھوں سے ساحل کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی، 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page