Raas Leela–47– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -47

تھوڑی دیر تک ایسا کرنے کے بعد، میں نے رفتار پکڑنی شروع کر دی، اور اپنے لنڈ کو اس کے منہ میں زیادہ سے زیادہ گھسیڑ دیا۔ اس سے اسے احساس ہوا کہ اس رفتار پر، میں بہت جلد اس کے منہ میں پچکاریاں ماروں گا۔ وہ یہ سوچنے کی کوشش کرنے لگی کہ ایسا ہونے پر وہ کیا کر سکتی ہے۔ اس نے سوچا کہ جب میں جھڑتے ہوئے پچکاریاں مارنا شروع کروں گا، تب وہ اسے اپنے ہونٹوں سے رگڑتے ہوئے لنڈ کو باہر نکال دے گی۔ 

وہ میرے منی کو اتنے قریب سے نکلتے ہوئے دیکھنے کی امکانات سے نمایاں طور پر پرجوش تھی۔ میرا اس کے چہرے پر پچکاری مارنا یہ بات  اسے پریشان نہیں کر رہی تھی، بلکہ اسے لگا کہ یہ دیکھنا سنسنی خیز ہوگا، اور وہ بعد میں صفائی کر سکتی ہے۔ اسے لگا کہ وہ میرے بڑے لنڈ سے اس کے منہ میں نکلنے والی میرے منی کو اپنے گلے سے نیچے نہیں اتار پائے گی، اور ایسا ہونے پر وہ اسے سنبھال نہیں سکتی تھی۔ 

اب میرا لنڈ اور سخت ہو گیا تھا اور لنڈ کا سر بھی پھول کراور بھی بڑا ہو گیا تھا۔ اس وقت میں پورا لنڈ اس کے منہ میں گھسا دیتا تھا، لیکن صرف جزوی طور پر باہر کھینچ رہا تھا۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو اس کے سر سے ہٹا دیا، اور اس نے سوچا کہ وہ  میرے جھڑنے پر میرا لنڈ باہر نکالنے میں مدد کرے گی۔ اچانک، میں نے اپنے جسم کے زور کا استعمال کرتے ہوئے اُس کے  اوپر چھڑ گیا ، جس سے میری جانگیں  اس کے سر کے اوپر آ گئیں اور میری بھاری رانیں اس کے کندھوں پر ۔ وہ خوف اور بے چینی سے زیادہ جوش سے کراہنے لگی، اور میں اس کے منہ میں  دھکے مارنے لگا۔ میرے پاؤں اسی طرح ہلنے شروع ہو گئے جیسے اس کے ہلے تھے جب وہ جھڑ رہی تھی، جب وہ کچھ ہی لمحوں پہلے میرے منہ میں جھڑ گئی تھی۔ 

وہ گھبراہٹ کی حالت میں تھی، لیکن کم از کم اس بار اسے پتا تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ اسے لگا کہ بغیر کوئی ہنگامہ کھڑا کیے، وہ اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔ ہنگامہ وہ اس وقت بالکل نہیں چاہتی تھی، اس لیے اس نے میری منی کو نگلنے سے اچھی شروعات کی تھی۔ 

میرے لنڈ کا ٹوپا اس وقت اس کے گلے کے داخلی دروازے کے بالکل سامنے تھا۔ میں عروج پر پہنچا اور اس کے منہ میں پچکاری مار دی۔ منی کی بڑی دھار اس کے گلے کو بالکل جا کر لگی اور وہیں چپک گئی، اور وہ فوراً اس گاڑھے اور موٹے گولے کو نگلنے کی کوشش کرنے لگی۔ واحد مسئلہ یہ تھا کہ اس کی چپچپاہٹ کی وجہ سے، وہ منی کو اس رفتار سے نگل نہیں پا رہی تھی جس رفتار سےمنی میرے لنڈ سے  نکل رہی تھی۔ 

ساتھ ہی میں لنڈ کو آگے پیچھے بھی کر رہا تھا، جس سے میرے انڈے اس کی ناک سے ٹکرا کر ناک کو بھی دبا رہے تھے۔ اس کے منہ میں میرا لنڈ ٹھونسا ہوا تھا، اس لیے وہ صرف ناک سے ہی سانس لے سکتی تھی یا جب لنڈ باہر نکلتا تھا تب ہی۔ میں اس کی سانس لینے کی تکلیف کے دوران اپنے منی کی پچکاریاں مار رہا تھا۔ 

جب اسے سانس لینے میں دشواری ہوئی تو وہ کھانسنے لگی، تو اس کی ناک سے میری منی نکل آئی۔ میں نے اس کے منہ کے اندر پمپنگ اور پچکاریاں مارنا جاری رکھی۔ بلغم اور منی سے اس کی ناک، منہ اور گلا بھر گیا، جس سے کھانسی ہوتی تھی، اور اب نگلنا اور بھی مشکل ہو گیا۔ اس نے بے بسی کی  نگاہوں سے میری طرف دیکھا، تو میں نے لنڈ باہر نکال لیا اور آخری چند پچکاریاں اس کے چہرے پر مار دیں، جس سے میری منی اس کے منہ، آنکھوں، گالوں، ماتھے اور بالوں تک پھیل گئی۔ 

کچھ لمحوں کے بعد، ہم دونوں  ایک دوسرے کو سہارا دے کر فرش سے اٹھے اور آپس میں لپٹ گئے۔ پھر جیسے ہی ہمیں احساس ہوا کہ کیا ہوا، ہم الگ ہوئے اور اپنے کپڑے پہننا شروع کر دیے۔ جب کپڑے پہن لیے، تو اچانک مجھے روپالی کی سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ ہم دونوں صورتحال کا تجزیہ کر رہے تھے اور اب پچھتا رہے تھے۔ 

میں نے کہا، “پیاری روپالی بھابی، ہم دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہوا، اس کے لیے مجھے بہت افسوس ہے اور میں پچھتا رہا ہوں۔ میں اس سب کے لیے آپ سے معافی مانگتا ہوں، کیونکہ میں نے ہی یہ سب شروع کیا تھا۔ جیسا کہ آپ جانتی ہیں کہ میں غیر شادی شدہ ہوں اور اس حادثے نے میرے اندر آگ لگا دی تھی۔ میرے اندر چھپی ہوئی جنسی خواہش کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ میری پیاری، میں نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیا تھا، اور یہ صرف آپ کے ساتھ قریبی لمس کے بہاؤ کی وجہ سے ہوا۔ مجھے دوبارہ افسوس ہے، اور اس کے لیے میں ہی ذمہ دار ہوں، اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ہے۔”

روپالی نے سسکیاں بند کر دیں،  اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔ اسے بہت شرم محسوس ہو رہی تھی اور اس نے نرم لہجے میں جواب دیا،

“نہیں۔۔ کاکا، اس میں آپ خود کو اکیلا قصوروار نہ مانیں، میں بھی اس کے لیے برابر کی ذمہ دار ہوں۔ اگر میں نے سٹول کو ڈھیلا نہ کیا ہوتا تو شاید یہ حادثہ نہ ہوتا، اس لیے میں بھی اس پورے واقعے کے لیے برابر کی قصوروار ہوں۔ ہمارے درمیان جو کچھ ہوا، وہ وقتی جوش کی وجہ سے ہوا۔ میں نے بھی تعاون کیا اور آپ کو حوصلہ دیا۔”

دل ہی دل میں اندر ہی اندر  ہم دونوں اس خوشگوار حادثے سے بہت خوش تھے، لیکن ایک دوسرے کے سامنے معصومیت، نیکی اور عاجزی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ 

میں نے کہا، “بھابی، آپ اس کا ذکر کسی سے بھی نہ کیجیے گا، اور میں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ یہ ایک راز ہی رہے گا۔ اب آپ خود کو سنبھالیں۔”

اس کے بعد بھابی باتھ روم میں جا کر خود کو صاف کرنے لگی اور اس نے دوسرا بلاؤز پہن لیا کیونکہ پہلا بلاؤز اس حادثے میں پھٹ گیا تھا۔ 

اس دوران، داخلی دروازے پر گھنٹی بجی کیونکہ بچے پارک سے واپس آ گئے تھے۔ دوپہر 2 بجے کے قریب، روپالی نے مجھے اپنے فلیٹ میں دوپہر کا کھانا پیش کیا، اور ہم نے بہت ہی عام اداکاری کی جیسے ہمارے درمیان کچھ بھی نہیں ہوا ہو، لیکن ہم دونوں ایک دوسرے کی طرف جنسی طور پر اس قدر متوجہ تھے کہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہمارے جنسی اعضاء جل رہے تھے۔ لنچ کرنے کے بعد میں جھپکی لینے جا رہا تھا۔ 

دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد میں سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ تبھی میرے موبائل فون پر ایک انجان نمبر سے کال آئی۔ ایک دو بار گھنٹی بجی اور پھر فون کٹ گیا۔ 

میں دیکھ رہا تھا کہ یہ کس کا فون ہو سکتا ہے، لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی۔ میں نے سوچا کہ فون ملا کر پوچھتا ہوں، پھر خیال آیا کہ شاید کسی سے غلطی سے فون لگ گیا ہوگا اس لیے کاٹ دیا۔ تبھی فون کی گھنٹی دوبارہ بجی اور ایّنا کا فون آیا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page