A Dance of Sparks–162–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 162

تھائی نے اسے جانکی دیوی کے گھر کا پتا اچھی طرح سمجھا دیا اور اس کے کچھ دیر بعد وہ رخصت ہو گیا۔

اس شام 8 بجے  کے قریب جانکی دیوی کا فون آگیا۔ وہ اس  وقت اپنے کلینک پرتھی

سارا معالمہ طے ہو گیا ہے۔” اس نے بتایا ”وہ ہمارے بتائے ہوئے پروگرام پر عمل کرنے کو تیار ہے۔ میں نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ پس منظر میں رہ کر اس کی بھر پور مدد کروں گی۔ اسے نہ صرف اس بھکشو سے نجات مل جائے گی بلکہ میں اس کا علاج بھی کروں گی۔

 بھکشو کو یہ شبہ تو نہیں ہوا کہ وہ تمہارے پاس ہے؟۔۔ میں نے پوچھا۔

نہیں۔۔۔ جانکی نے جواب دیا ۔۔۔آج صبح وہ  کلینک پر آیا تھا۔ یہ پوچھنے کے لیے کہ شائی وان مجھ سے کوئی مشورہ کرنے یا دوا وغیرہ لینے کے لیے تو یہاں نہیں آئی تھی۔ بہر حال دہ  تسلی کر کے چلا گیا تھا۔  لیکن کہہ نہیں سکتی کہ اسے میری بات کا یقین آگیا تھا یا نہیں۔ میں آج دن بھر خاصی محتاط رہی ہوں۔ میں نے اپنے آس پاس کسی ایسے شخص کو بھی نہیں دیکھا جس پر شبہ ہو کہ وہ میری نگرانی کر رہا ہے۔

گڈ۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ پرساد آج رات بارہ بجے کے بعد کسی وقت تمہارے ہاں پہنچ جائے گا۔

ٹھیک ہے۔ میں انتظار کروں گی۔۔۔ جانکی نے جواب دیا۔

 میں نے فون بند کر دیا اور تھائی کو جانکی دیوی سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتانے لگا اور پھر اسی رات گیارہ بجے کے قریب میں نے سنگا پور فون کیا۔ انسپکٹر چیانگ شو شاید میری کال کا منتظر تھا۔ وہ میری آواز سنتے ہی بولا۔

 تمہاری اطلاع بالکل درست تھی مائی سن۔ میں نے کل رات ہی تمہارے بتاتے ہوئے فون نمبروں سے ان تینوں کے ایڈریس معلوم کر کے دو گھنٹوں کے اندر اندر ان کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کرلی تھیں اور آج صبح سویرے تینوں جگہوں پر بیک وقت چھاپے مارے گئے تھے۔ ان کا یوریشین پارٹنر پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ البتہ انڈیا سے تعلق رکھنے والا  پارٹنر بھولا ناتھ اور پاکستانی پارٹنر جمال پکڑے گئے ہیں۔ جمال رانا کافرسٹ کزن ہے اور بھولا ناتھ کے قبضے سے دس کلو گرام ہیروئن آمد ہوئی ہے جسے وہ یورپ کی طرف اسمگل کرنے کا منصوبہ بنا  رہے تھے۔ ان لوگوں سے ہم تفتیش کر رہے ہیں۔ اور امید ہے کہ ان  سے مزید سنسنی خیز انکشافات ہوں گے۔

تھینک یو چیانگ انکل۔۔۔ میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا ۔۔۔میرے سرسے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا۔ یہ رانا  کے خلاف میری پہلی بڑی کامیابی ہے۔ اب میں اسے یہاں بھی ٹکنے نہیں دوں گا۔

یہ  لوگ بہت خطرناک ہیں مائی سن۔ اپنا خیال رکھنا۔۔۔انسپکٹرچیانگ شو نے کہا ۔۔۔اپنا نمبر دو تاکہ کبھی تم سے رابطہ کرنا ہو تو فون کرلیا کروں گا۔

میں نے ماسٹر ہو چن کا نمبر  دیا ۔۔کبھی کوئی بات ہو تو اس نمبر پر کال کردیا کریں۔ میں بعد میں خود ہی آپ کو فون کرلیا کروں گا ۔

میں نے فون بند کر دیا اور تھائی وانگ کو بتانے لگا کہ سنگا پور میں رانا  کے تین خاص آدمیوں میں سے ایک پولیس کے ہاتھوں مارا گیا ہے اور دو گرفتار ہو گئے ہیں جن میں ایک رانا  کا کزن ہے۔ پولیس نے ان سے بھاری مقدار میں ہیروئن بھی برآمد کی ہے۔

رانا کو یہاں اطلاع مل چکی ہوگی۔ وہ تو اپنے بال نوچ رہاہوگا۔۔ تھائی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

میں اسے اپنی بوٹیاں نوچنے پر مجبور کردوں گا۔۔ میں نے کہا

ہم دیر تک اس موضوع پر باتیں کرتے رہے۔ ساڑھے بارہ بچے کے قریب جانکی دیوی نے فون پر اطلاع دی کہ پر ساد تھوڑی دیر پہلے شائی وان کو لے جا چکا ہے۔ اب مجھے شائی وان کی طرف سے اطلاع کا انتظار تھا۔

دو بجے کے لگ بھگ را من پرساد خود ہی آگیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات سے مجھے اندازہ لگانے میں دشواری پیش نہیں آئی کہ کوئی گڑبڑ ہوئی ہے۔

ہاں ۔ گڑ بڑ تو ہوئی ہے۔۔ اس نے میرے سوال کے جواب میں کہا۔۔ میں نے شائی وان کو لے جانے کے لیے ایک ہوٹل کے پارکنگ پلاٹ سے ایک گاڑی چرائی تھی۔ میں شائی وان کو سینٹ لوکی اسٹریٹ پر واقع پولیس اسٹیشن لے جانا چاہتا تھا لیکن جیسے ہی میں میتموم روڈ پر پہنچا ایک کار میرے پیچھے لگ گئی۔ مجھے کسی ممکنہ گڑبڑ کا اندازہ لگانے میں دشواری پیش نہیں آئی تھی ، کیونکہ اس کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر میں نے ایک آدمی کو بھکشو ؤں جیسے لباس میں دیکھ لیا تھا،  اور مجھے شبہ ہو گیا تھا کہ وہ تھنگ چو کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔  میرا شبہ درست نکلا۔ وہ تنگ چو ہی تھا جو ہمارا پیچھا کر رہا تھا،  میں نے پولیس اسٹیشن کے سامنے گاڑی روک لی۔ شائی وان کار سے اتر کر پولیس اسٹیشن کے گیٹ کی طرف جارہی تھی کہ پیچھے

سے آنے والی کار ایک لمحے کو وہاں رکی۔ اس کار سے یکے بعد دیگرے کئی گولیاں چلائی گئیں۔ شائی وان بیچ سڑک پر  ڈھیر ہو گئی۔ میں اس وقت اپنی کار ایک سائڈ اسٹریٹ پر موڑ رہا تھا۔ میں کارروک کر نیچے اتر آیا۔ دوسری کار تیز رفتاری سے سیدھی نکل گئی تھی لیکن اتفاق سے دو پولیس آفیسر موٹر سائیکلوں پر سوار اس طرف نکل آئے۔ انہوں نے کار کا تعاقب شروع کر دیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران میں کار بے قابو ہو کر فٹ  پاتھ پر چڑھ کر الٹ گئی۔ پولیس نے تھنگ چو کو شدید زخمی حالت میں حراست میں لے لیا ہے۔ شائی وان ختم ہو چکی ہے۔ اسے ایک گولی سر میں لگی تھی جس سے فوری طور پر اس کی موت واقع  ہو گئی۔

مجھے شائی وان کی موت کا افسوس ہوا تھا لیکن اس کی موت کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ جو خطرہ ہماری طرف بڑھ رہا تھا وہ فی الحال ٹل گیا تھا۔ رامن پر سار نے وہ رات ہمارے پاس ہی گزاری تھی۔ صبح ناشتا کر کے وہ چلا گیا۔

اور پھر اس رات ٹھیک دس بجے میں اور تھائی انڈین ریسٹورٹ میں داخل ہو رہے تھے۔ تھائی کے اصرار پر ہم نے اپنے حلیے کسی حد تک تبدیل کرلیے تھے۔ رامن پر ساد ایک لڑکی کے ساتھ کونے والی میز پر بیٹھا ہوا تھا۔ لڑکی کی پشت ہماری طرف تھی۔

میز پر بیٹھے میں اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا۔ قریب کی میز پر بیٹھتے ہوئے میں اچانک ہی پر ساد کی میز کی طرف بڑھا۔

اے پر سادہ تم تمہیں یہاں دیکھ کر مجھے حیرت ہو رہی ہے۔ چیانگ رائے سے کب آئے ؟۔۔ میں نے قریب پہنچ کر کہا۔

رامن پرساد نے بھی ہاتھ ملاتے ہوئے بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا تھا اور پھر اس لڑکی کی شکل دیکھ کر میں چونکے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔ ظاہر ہے وہ پامیلا تھی اور یہ وہی لڑکی تھی جو خانقاہ کے گیٹ پر مجھے وہ گلدستہ دے کر گئی تھی جس میں بم لگا ہوا تھا۔

رامن پر سا نے پامیلا کو یہی تاثر دیا کہ میں اس کا پرانا دوست ہوں اورا س سے اتفاقیہ طور پر یہ ملاقات ہو گئی ہے۔ اس کی دعوت پر ہم بھی اس میز پر بیٹھ گئے تھے۔ وہ بھی غالباً تھوڑی دیر پہلے ہی وہاں آئے تھے اور انہوں نے ابھی تک کوئی آرڈر نہیں دیا تھا،  لہذا یہ ذمے داری میں نے سنبھال لی۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page