A Dance of Sparks–163–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 163

ہم آدھے گھنٹے بعد وہاں سے اٹھ گئے تھے۔ رامن پر ساد ہمیں جا سکا ٹاؤن کے علاقے میں واقع ایک فلیٹ میں لے آیا تھا۔ یہ فلیٹ اس نے اپنے لیے لے رکھا تھا اور یہاں ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں۔ پا میلا کچھ بجھی بجھی سی لگ رہی تھی اور اس کی باتوں سے بھی مایوسی جھلک رہی تھی۔

میرا خیال ہے تمہیں کوئی ایسا صدمہ پہنچا ہے جس نے تمہیں اپ سیٹ کر رکھا ہے۔۔ میں نے اس کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے کہا۔۔ کوئی ایسی بات ہے تو ہمیں بتاؤ۔ شاید ہم تمہاری کوئی مدد کر سکیں۔

 مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ اس کمینے سے میں اکیلی ہی نمٹوں گی۔۔ پامیلا نے کہا۔

اوہ ۔۔ میں نے چونکنے والے انداز میں کہا ۔۔میرا خیال ہے تمہارے کسی بہت قریبی دوست نے تمہیں دھوکا دیا ہے۔

 ایسا ویسا دھوگا۔۔ پر ساد بیچ میں بول پڑا ۔۔ یہ ایک اجنبی کو چاہنے لگی تھی اور اسے اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھی تھی۔ وہ اجنبی کچھ عرصے تک تو اسے یہ باور کرانے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ صرف اس کا ہے۔ دراصل وہ یہاں اپنے قدم جمانا چاہتا تھا اور جب اس کا مقصد پورا ہو گیا تو اسے نظر انداز کرنے لگا۔ پامیلا کو اس بات کا دکھ ہے۔

اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے۔۔  میں نے کہا ۔۔اس  کا نام پتا بتاؤ۔ ہم اسے پکڑ کر سڑک پر جوتے لگائیں گے۔

 وہ بہت بڑا گینگ لیڈر ہے۔۔ پامیلا نے کہا۔

وہ چند لمحے خاموش رہی پھر رانا کے خلاف بولنے لگی۔ میں یہی چاہتا تھا کہ وہ اپنے منہ سے کچھ اگلے۔ یہ زیر زمین دنیا بھی بڑی عجیب ہے۔ یہاں ایک دوسرے کے خلاف سازشیں چلتی رہتی ہیں اور پامیلا جیسی حسین لڑکیاں ان سازشوں میں بڑے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کبھی تو وہ اپنے آقا کے لیے جان تک دینے  کو تیار ہو جاتی ہیں اور کبھی کسی معمولی سی بات پر اس طرح بگڑتی ہیں کہ اپنے آقا کو تباہی کے غار میں دھکیل دیتی ہیں۔ پامیلا کا شمار بھی ایسی ہی لڑکیوں میں ہوتا تھا۔ اس نے رانا  اور ٹائیگر کے کہنے پر مجھے بم سے اڑانے کی کوشش کی تھی اور اب مجھے اپنا ہمدرد پا کر دارا کے خلاف دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔

را نا سنگا پور سے آیا تھا۔۔ میں نے پامیلا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔ اور آج ہی مجھے پتا چلا ہے کہ سنگا پور میں اس کے کچھ آدمی پکڑے گئے ہیں اور مالی طور پر بھی اسے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

تت تمہیں کیسے پتا چلا ؟۔۔ پامیلا نے چونک کر میری طرف دیکھا۔

ایسی خبریں چھپی نہیں رہتیں۔۔  میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔۔انڈر ورلڈ میں تو سب ہی لوگ یہ بات جان چکے ہیں کہ سنگا پور میں پکڑے جانے والے را نا کے آدمی تھے۔

 یہ سچ ہے۔۔ پامیلا نے کہا۔۔ سے کل شام کو یہ اطلاع ملی تھی اور وہ پاگل ہوا پھر رہا ہے۔ سنگا پور میں اس کے آدمیوں کے پکڑے جانے کے حوالے سے یہ بات بھی سننے میں آئی ہے کہ ان کی مخبری روحان نے کی تھی۔

لیکن روحان تو یہاں بنکاک میں ہے۔ وہ سنگا پور میں کسی کی مخبری کیسے کر سکتا ہے ؟۔۔ میں نے کہا۔

رانا  نے اپنے ذرائع سے تصدیق کری ہے۔ سنگا پور کے اخبارات میں اس کا نام چھپا ہے۔ اس نے یہاں سے سنگا پور کے کسی پولیس آفیسر کو فون کیا تھا۔ رانا  پہلے ہی اس کی تلاش میں تھا۔ وہ اس پر کئی وار کر چکا ہے لیکن وہ ہر مرتبہ بیچ نکلتا ہے۔ اسے کچر عرصہ پہلے بم سے اڑانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ پھر بچ نکلا اور ایک مہینہ پہلے تو وہ گیسٹ ہاؤس میں رانا  اور شوچائی کی پٹائی کرکے چلا گیا۔ رانا  کو یقین ہے کہ گیسٹ ہاؤس سے فرار ہوتے ہوئے اسے کم سے کم دو گولیاں ضرور لگی تھیں۔ گیسٹ ہاؤس میں لان سے دیوار تک خون کے دھبے دیکھے گئے تھے۔ رانا  اور ٹائیگر کے آدمیوں نے شہر کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسپتال چھان مارے لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

 اب رانا  کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ کیا چاہتی ہوتم ؟ ۔۔میں نے اس کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے پوچھا۔

 وہ مجھ پر بھی شبہ کرنے لگا ہے اور مجھے دوسری عورتوں کے سامنے ذلیل کرتا رہتا ہے۔ میں اس سے ایسا انتقام لینا چاہتی ہوں کہ وہ زندگی بھریا د رکھے۔ ۔ پامیلا نے کہا۔

کیوں نہ ہم مل کر کام کریں۔ مجھے بھی اس سے کچھ پرانا حساب چکانا ہے۔۔ میں نے کہا۔

کیا ؟۔۔ اس نے چونک کر میری طرف دیکھا۔

 رانا نے تمہیں دکھ پہنچایا ہے۔ تمہارے اعتماد کو ٹھیں پہنچائی ہے۔ تمہارے دل کو چور چور کیا ہے۔ اگر تم اس سے انتقام لینے میں واقعی سنجیدہ ہو تو ہم تمہارا ساتھ دے سکتے ہیں۔ ویسے تم پہلی لڑکی نہیں ہو جو رانا  کے فریب کا شکار ہوئی ہو۔۔ میں نے کہا۔

اس کا مطلب ہے کہ ۔۔۔

 ہاں۔۔ میں نے اس کی بات کاٹ دی ۔۔رانا  ایک جرائم پیشہ آدمی اور پیشہ ور شکاری ہے۔ ۔ میں اس کی آتش انتقام کو بھڑ کانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔سنگاپور کی باتوں پر شاید تمہیں یقین نہ آئے لیکن یہاں کی چند مثالیں دوں گا۔ میں جن لڑکیوں کے نام لے رہا ہوں انہیں تم بھی بہت قریب سے جانتی ہوگی۔ کوشلیا۔۔ وہ ہندو لڑکی جسے رانا  نے اپنے جال میں پھانس کر پہلے اسے مہاراج کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا اور اسے اپنے بستر کی زینت بناتا رہا۔ جب اس کا مقصد پورا ہو گیا، اس سے طبیعت بھر گئی،  تو اسے نہایت بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ شائی وان ۔۔ اس کے بارے میں تو تم نے آج ہی سنا ہو گا۔ اخباروں میں بھی چھپا ہے اس کے متعلق۔ گزشتہ رات رانا کے آدمیوں نے اسے اس وقت گولیوں سے بھون ڈالا جب وہ رانا  کے خلاف فریاد لے کر پولیس اسٹیشن جارہی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے اس شائی وان کو ایک مکان میں زندہ جلا دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ صرف یہی  دو مثالیں نہیں ہیں۔ میں تمہیں اور بھی بہت سی لڑکیوں کے نام گنوا سکتا ہوں جو رانا  کے ظلم کا شکار ہوئی ہیں۔ ایک تازہ ترین مثال تو تم خود ہو۔

 پامیلا پھٹی پھٹی سی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن میں اسے موقع دیے بغیر بولتا رہا

 تم نے رانا  کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ اسے اس وقت پناہ دی جب وہ یہاں اجنبی تھا اور پولیس اس کی تلاش میں تھی۔ تم نے نہ صرف اسے پناہ دی بلکہ اپنے آپ کو بھی اس کی سپردگی میں دے دیا ۔ اس کے قدم رفتہ رفتہ جمتے  گئے۔ تم نے اسے ٹائیگر تک بھی پہنچا دیا۔ وہ نہ صرف خود تمہیں کھلونے کی طرح استعمال کرتا رہا بلکہ تمہیں اپنے نئے دوستوں کے سامنے بھی پیش کرتا رہا،  جن سے وہ کوئی فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ تم اس کی خوشی کی خاطر سب کچھ کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ تم نے ایک ایسے شخص کو بھی بم سے اڑانے کی کوشش کی جسے تم جانتی تک نہیں۔

 تم۔ یہ سب کچھ کیسے جانتے ہو ؟۔۔ وہ ہکلائی۔ اس کے چہرے پر ہلکا سا خوف تھا اور آنکھوں میں وحشت تھی۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page