A Dance of Sparks–164–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 164

اس دھماکے میں کئی بے گناہ مارے گئے تھے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔۔ میں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بات جاری رکھی۔۔ لیکن کیا تمہیں معلوم ہے کہ رانا  اس نوجوان کو کیوں ہلاک کرنا چاہتا ہے؟۔۔ میں نے خاموش ہو کر اس کی طرف دیکھا پھر جواب کا انتظار کیے بغیر بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔۔اس لیے کہ وہ نوجوان رانا  کے ایسے جرائم کا چشم دید گواہ ہے جو اسے پھانسی کے تختے پر پہنچا سکتے ہیں۔ رانا نے اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے ماں باپ کو ذبح کر دیا تھا۔ وہ رانا سے چھپتا پھر رہا تھا لیکن اب وہ…؟

تت۔۔ تم ۔۔پامیلا ایک بار پھر ہکلائی۔

تمہارا خیال ٹھیک ہے۔ میں ہی وہ شخص ہوں جسے رانا  اپنا بدترین دشمن سمجھ کر ہر قیمت پر موت کے گھاٹ اتارنا چاہتاہے ۔

میں نے سر پر سے وگ اور بالائی ہونٹ پر چپکی ہوئی باریک سی مونچھیں اتار دیں۔ وہ اچھل پڑی۔ اس کا چہرہ خوف سے ایک دم سفید ہو گیا تھا۔ اس نے مجھے پہچان لیا تھا۔

ڈرو نہیں۔ میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔۔ میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ اس کا ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈا ہو رہا تھا۔۔ میں نے تمہیں اسی روز پہچان لیا تھا جب گیسٹ ہاؤس کی اوپری منزل پر میں نےشوچائی  اور رانا کی پٹائی کی تھی اور اس سے اگلے ہی دن سے میرا یہ دوست تمہارے ساتھ رہا ہے۔۔ میں نے رامن پرساد کی طرف اشارہ کیا۔۔اگر ہم چاہتے تو تمہیں کسی بھی وقت موت کے گھاٹ اتار سکتے تھے لیکن تم سے ہماری کوئی دشمنی نہیں۔ میں جانتا ہوں، تم بے قصور ہو۔ رانا  تمہیں استعمال کر رہا ہے اور اب شاید اس کی نظروں میں تمہاری کوئی اہمیت نہیں رہی۔ اس لیے وہ تمہیں مسلسل نظر انداز کر رہا ہے۔ اس نے تمہارے ساتھ دھو کا کیا ہے، تمہارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ تم شاید  سمجھتی ہو کہ اب اسے تمہارے جسم سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ اس لیے وہ تمہیں نظر انداز کر کے دوسری لڑکیوں پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ بات صرف اتنی سی نہیں ہے پامیلا۔۔ میں چند لمحوں کو خاموش ہوا پھر بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔ اب تم اس کے لیے بیکار ہو چکی ہو۔ البتہ ایک لحاظ سے تم اس کے لیے اہم ہو سکتی ہو کہ تم اس کے بہت سے رازوں سے واقف ہو اور اسے جیسے ہی اس بات کا احساس ہو گا وہ تمہیں بھی کوشلیا اور دوسری لڑکیوں کی طرح موت کے گھاٹ اتار دے گا اور ابھی تھوڑی دیر پہلے تم نے بتایا تھا کہ وہ سنگا پور والے معاملے میں تم پر بھی شبہ کرنے لگا ہے۔

اس نے کھل کر شک کا اظہار نہیں کیا لیکن اس کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ بات میرے ذریعے سے باہر نکلی ہو۔۔پامیلا نے کہا۔

شبہ اور کیسا ہوتا ہے۔۔ میں نے اسے گھورا ۔۔وہ ایک دودن تم پر نگاہ رکھے گا اور پھر۔۔۔

پھر مجھے کیا کرنا چاہیے ؟۔۔ وہ کانپ اٹھی۔

وہی جو تم کرنا چاہتی ہو۔۔ میں نے اس کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے کہا۔۔ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اس معاملے میں تمہاری ہر مدد کرنے کو تیار ہیں۔

تمہاری باتیں سن کر مجھے لگتا ہے کہ وہ شیطان اب واقعی مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا۔۔ پامیلا نے کہا ۔۔میں اب واقعی اسے معاف نہیں کروں گی۔ تم بتاؤ۔ تم کیا چاہتے ہو ؟

 میں فوری طور پر جواب دینے کے بجائے خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ میں دل ہی دل میں مسکرا رہا تھا کہ رانا  کی ایک اہم ساتھی کو اس سے توڑنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ وہ نہ صرف رانا  بلکہ ٹائیگر وغیرہ کے بہت سے جرائم کی بھی چشم دید گواہ تھی۔ پولیس کو اب بھی ان لوگوں کی تلاش تھی جنہوں نے خانقاہ کے سامنے بم دھماکا کرایا تھا اور جس میں کئی بے گناہ مارے گئے تھے۔ شوچائی اور ٹائیگر وغیرہ کے خلاف اگر چہ بدھ کے مجسمے سے سونا چرانے والی رپورٹ بھی موجود تھی لیکن وہ معاملہ ٹھنڈا پڑگیا تھا اور پولیس کو بھی شاید اس معاملے سے زیادہ دلچسپی نہیں رہی تھی لیکن بم دھماکے میں کئی لوگ مارے گئے تھے۔ پولیس کے سامنے پامیلا کا بیان ہنگامہ کھڑا کر سکتا تھا۔ ہم تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ اس دوران میں،  میں نے پامیلا سے رانا  وغیرہ کے بارے میں بہت سی باتیں معلوم کرلی تھیں اور پامیلا کو بہت سی باتیں سمجھا بھی دی۔

جب ہم پر ساد کے فلیٹ سے نکلے تو رات کا ایک بج چکا تھا۔ باہر آنے سے پہلے میں نے ہونٹ پر باریک مونچھیں اور سرپروگ جمالی تھی۔ گلی سے نکل کر ہم بڑی سڑک پر آگئے۔ ایک خالی ٹک ٹک  مل گیا۔ پر ساد پا میلا کو اس ٹک ٹک پر لے کر روانہ ہوا ، میں تھائی وانگ کے ساتھ چوراہے کی طرف پیدل چلتے گئے ، تھائی وانگ چلتے چلتے اچانک ہی لڑکھڑا گئی ،  اگر میں اسے نہ پکڑتا تو وہ یقینا گر پڑتی۔

 پارٹ ون

میں نے پرساد کے فلیٹ میں بھی یہ بات نوٹ کی تھی کہ تھائی جتنی دیر وہاں رہی تھی، بے چینی سی ہوتی  رہی تھی۔ کبھی وہ بیٹھ جاتی اور کبھی اٹھ کر ٹہلنے  لگتی ۔ وہ اس طرح لڑکھڑائی تھی جیسے نشہ ٹوٹ رہا ہو۔ وہ ہاتھ موڑ کر کمر اور پشت سہلانے لگتی اور کبھی دوسرےہاتھ سے ، میں  تشویش آمیز نگاہوں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔ مجھے سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ اس کی یہ حالت کیوں ہو رہی تھی۔ تھائی تقریباً  تین مہینوں سے ہانگ سو کی بتائی ہوئی ایکسر سائز چھوڑ چکی تھی ،  اور اب یہ بے چینی اسی کا نتیجہ تھی۔

کیا ہوا تھائی؟ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟۔۔ میں نے انجان  بنتے ہوئے پوچھا۔

میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اب تک بڑی مشکل سے برداشت کرتی آرہی ہوں۔۔ تھائی نے کراہتے ہوئے کہا ۔۔کوئی سواری تلاش کرو اور جلد گھر پہنچنے کی کوشش کرو۔

میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ چوراہا تقریباً سو گز آگے تھا۔ وہاں ٹیکسیاں اور ٹک ٹک کھڑے نظر آرہے تھے۔ لیکن وہاں تک پہنچنے سے  پہلے ہی ایک ٹک ٹک ایک گلی سے نکل کر ہمارے سامنے آکر رُک گئی،  ہم دونوں اس میں بیٹھ گئے۔ ٹک ٹک کنگ ٹاکسن اسٹیچو والے چوراہے پر چھوڑ کر باقی راستہ ہمیں پیدل ہی طے کرنا پڑا،  اور یہ راستہ بڑی مشکل سے طے ہوا۔ بنگلے کے گیٹ میں داخل ہو کر میں تو اندر سے گیٹ بند کرنے لگا،  اور تھائی اس دوران میں برآمدے میں پہنچ چکی تھی اور میں بر آمدے والا دروازہ بند کر کے اندر آیا تو تھائی بیڈ پر اُلٹی  پڑی ہوئی تھی۔ اس کی پیٹھ برہنہ تھی۔ میں نے بیڈ کے نیچے سے چھڑی اٹھائی اور آنکھیں بند کر کے تھائی کی پیٹھ پر وار کرنے لگا۔ ہر ضرب پر وہ کراہ اٹھتی لیکن میں آنکھیں بند کیے اس

کی  پیٹھ پر چھڑیاں برساتا رہا۔

جب اُس کی پیٹھ پوری لال سُرخ ہوگئی اور وہ بھی بے سُدھ ہوگئی تو میں نے چھڑی کو واپس بیڈ کے نیچے رکھا ، اور ٹیبل کی دراز میں سے زخموں پر لگانے والا لوشن اُٹھایا ، اوربہت آہستہ آہستہ اور پیار سے اُس کی پیٹھ پر لگانے لگا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page