A Dance of Sparks–167–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 167

دیوار کی بلندی اس طرح تین چارفٹ رہ گئی کھی اور اوپر خاردار تاروں تک بھی ہاتھ آسانی سے پہنچ سکتا تھا۔ پرساد نے جیب سے الیکٹرک ٹیسٹر نکالا اور ایک ایک تار کو چیک کرنے لگا۔ اندیشہ تھا کہ شاید رات کو ان تاروں میں برقی رو چھوڑ دی جاتی ہو لیکن کسی تار میں کرنٹ نہیں تھا۔ اس نے ٹیسٹر جیب میں رکھ لیا اور کٹڑ سے تار کاٹنے لگا۔ آٹھ آٹھ انچ کے فاصلے پر نیچے سے اوپر تک پانچ تار لگے ہوئے تھے۔ اس نے ایک طرف سے تمام تارکاٹ دیے۔

ہم دونوں دیوار پر چڑھ کر بڑی آہستگی سے اندر کود گئے۔ درختوں کی وجہ سے اس جگہ اگرچہ اندھیرا تھا مگر کوٹھی کی کھڑکیوں میں روشنی ہو رہی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے اور الگ الگ کھڑکیوں میں جھانکنے لگے۔ ایک کھڑکی سے جھانکتے ہی میں چونک گیا۔

وہ شان دار فرنیچر سے آراستہ بہت کشادہ ہال نما کمرا تھا۔ ایک صوفے پر رانا  اس لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جو دو سرے آدمی کے ساتھ آئی تھی اور دوسرے صوفے پرپا میلا اس موٹے آدمی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ درمیانے قد کے اس آدمی کی عمر پینتالیس کے لگ بھگ رہی ہوگی۔ اس کے چہرے پر چینیوں جیسی مشابہت تھی۔ وہ نیلے رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے تھا مگر ٹائی نہیں تھی۔ سفید قمیص کا کالرکوٹ کے کالر کے اوپر تھا۔ سامنے کا اوپر والا ایک دانت ٹوٹا ہوا تھا۔

پامیلا اور اس دوسری لڑکی کے جسم پر لباس برائے نام ہی تھا۔ دراز قامت کی مالک وہ لڑکی بھی بڑی حسین تھی۔ ان کے سامنے شراب کے گلاس رکھے ہوئے تھے۔ وہ کچھ باتیں بھی کر رہے تھے مگر کھڑکی بند ہونے کی وجہ سے آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ ٹائیگر اس کمرے میں نظر نہیں آرہا تھا۔ پر ساد دبے قدموں چلتا ہوا میرے قریب پہنچ گیا اور آگے کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔ چند قدم چل کر ہم رک گئے۔

ہم برآمدے سے یا عقبی دروازے سے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔۔ اس نے میرے کان میں سرگوشی کی ۔۔البتہ چھت پر پہنچ جائیں تو زینے کے راستے راہداری میں پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرف آؤ۔

ہم دونوں دیوار کے ساتھ ساتھ گھومتے ہوئے دوسری طرف آگئے اور وہاں سے چھت پر پہنچنا ہمارے لیے زیادہ مشکل ثابت نہیں ہوا تھا۔ پرساد نے سیڑھیوں والے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر احتیاط سے گھمایا تو دروازہ آواز پیدا کیے بغیر آسانی سے کھلتا چلا گیا۔ سیڑھیوں کا یہ دروازہ اندر سے لاک کرنے کی ضرورت شاید اس لیے نہیں سمجھی گئی تھی کہ وہ اس بنگلے کو محفوظ سمجھتے تھے اور کسی کے اندر داخل ہونے کا اندیشہ نہیں تھا۔

سیڑھیوں پر اور نیچے راہداری میں اندھیرا تھا کیونکہ راہداری سے ہال میں داخل ہونے والا دروازہ بند تھا۔ ہم دونوں نے اپنے اپنے خنجر نکال لیے اور دبے قدموں سیڑھیاں اترنے لگے۔

اس راہداری کا دوسرا دروازہ باہر کی طرف کھلتا  تھا، سیڑھیوں کے نیچے کی جگہ پر شاید ہاتھ روم بنا ہوا تھا اور دوسری طرف بھی ایک دروازہ تھا جو بند تھا۔ ہم دونوں ہال والے دروازے کے قریب رک گئے۔ میں نے جھک  کر کی ہول سے آنکھ لگا دی۔ ٹائیگر اب بھی کمرے میں نظر نہیں آرہا تھا۔ اس موٹے آدمی نے اپنا کوٹ اتار کر صوفے کی پشت پر ڈال دیا تھا۔ اس نے بغلی ہولسٹر  پہن رکھا تھا اور بائیں بغل کے نیچے ریوالور کا دستہ جھانک رہا تھا۔ میں سیدھا کھڑا ہو گیا۔

ٹائیگر نظر نہیں آرہا۔ ۔میں نے پر ساد کے کان کے قریب سرگوشی کی۔

اندر ہی ہو گا ۔۔ پرساد نے کہا ۔۔ ہوشیار۔ میں دروازہ کھولنے لگا ہوں۔

اس نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ ہینڈل گھماتا ، چٹ کی ہلکی سی آواز آئی اور راہداری میں تیز روشنی پھیل گئی۔ ہم دونوں بیک وقت گھوم گئے۔ راہداری میں  باہر کی طرف والا دروازہ کھلا ہوا تھا اور ٹائیگر ریوالور ہاتھ میں لیے کھڑاتھا۔ اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔ ریوالور کا رخ ہماری طرف تھا۔

خنجرپھینک کر ہاتھ اوپر اٹھا لو۔۔ ٹائیگر کے حلق سے غراہٹ نکلی۔۔ اتفاق سے میں نے تم لوگوں کو دیوار سے کودتے ہوئے دیکھ لیا تھا، پہلے تو میں یہی سمجھا تھا کہ تم لوگ چور ہو،  مگر یہ  چوری کا وقت نہیں ہے اور چور اس گھر میں کبھی نہیں گھستے جہاں تمام بتیاں جل رہی ہوں،  خنجر پھینکو۔

 اس کے حکم کی تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ہم دونوں نے خنجر پھینک دیے۔

 گڈ۔۔ٹائیگر بولا ۔۔ تمہیں تو شاید میں نے پہلے بھی دیکھا ہے مگر یہ مجھے اجنبی سا لگ رہا ہے۔۔ اس نے آخری الفاظ میری دیکھ کر کہے تھے۔

 ٹائیگر کا اور میرا آج تک آمنا سامنا نہیں ہوا تھا،  اور شاید اس لیے وہ مجھے پہچان نہیں سکا تھا

بہر حال دروازہ کھولو اور اندر داخل ہو جاؤ۔ ہم معلوم کرلیں گے کہ تم کون ہو اور کس نیت سے یہاں آئے ہو۔ اے۔ تم ایک ہاتھ سے دروازہ کھولو۔ دوسرا ہاتھ سرسے اوپر ہی رہنا چاہیے۔۔ٹائیگر  نے پر ساد کو اشارہ کیا۔

 پرساد نے دایاں ہاتھ جھکا کر دروازے کے ہینڈل پر رکھ دیا۔ اور اس دوران میں ٹائیگر بھی اس دروازے سے نکل کر راہداری میں ہمارے پیچھے آچکا تھا۔ پر ساد نے دروازہ کھول دیا۔

کمرے کا منظر بہت ہی شرم ناک تھا۔ رانا  اس دراز قامت لڑکی کو اپنی آغوش میں سمیٹے ہوئے تھا اور پامیلا دوسرے  آدمی کی آغوش  میں تھی۔ دروازہ کھلنے پر رانا نے لڑکی کے چہرے پر جھکا ہوا سر اُٹھا کر دیکھا اور پھر اس لڑکی کو دھکا دے کر ایک جھٹکے سے اٹھ کرکھڑا ہو گیا۔ وہ چند لمحے الجھی ہوئی نظروں سے میری طرف دیکھتا پر اس کے منہ سے ہلکا سا قہقہہ نکل گیا۔

بہت تبدیلیاں آگئی ہیں تم میں مگر میری آنکھیں دھوکا نہیں کھاسکتیں ۔۔ وہ میرے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے بولا ۔۔ تم بالا خر جال میں آہی گئے مسٹر روحان۔ اب دنیا کی کوئی طاقت تمہیں نہیں بچا سکتی۔

میرا نام سن کر ٹا ئیگر بھی اچھل پڑا

 یہ یہ …. یہ روحان ہے۔اس کے  لہجے میں شدید حیرت تھی ۔۔پھر تو اسے فورا ہی ختم کر دینا چاہئے تاکہ قصہ ہی تمام ہو جائے۔

 اس نے ریوالور کا رخ میری طرف  کردیا۔

 نہیں ٹائیگر ابھی نہیں۔۔ رانا  نے ہاتھ اٹھا دیا۔۔ اسے یہاں لانے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑی ہے۔ بڑا لمبا چوڑا جال پھیلانا پڑا تھا۔ یہ اس قدر آسانی سے ہمارے ہاتھ نہیں آیا جتنا تم سمجھ رہے ہو اور ابھی تو اس سے کچھ حساب بھی کرنا ہے۔ بہت نقصان پہنچایا ہے اس نے مجھے۔ اسے تو میں اس طرح تڑپا تڑپا کر ماروں گا کہ دو سرے بھی عبرت حاصل کریں گے اور رانا کے سامنے آنے کی ہمت نہیں کریں گے۔

یہ تمہاری خوش فہمی ہے رانا۔۔ میں نے اپنی اندرونی کیفیت پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

 یہ انکشاف میرے لیے خاصا سنسنی خیز ثابت ہوا تھا کہ پامیلا ٹوٹی نہیں تھی بلکہ اس کے ذریعے ہمارے خلاف جال پھیلایا گیا تھا۔۔

 اب وقت بدل چکا ہے۔۔ میں نے کہا۔۔پہلے میں تم سے چھپتا پھر رہا تھا اور اب بھاگنے کی تمہاری باری ہے ۔ تم زندگی بھر اس لیے بھاگتے رہو گے کہ تمہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page