A Dance of Sparks–169–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 169

” بند کرو بکواس ” پامیلا چیچنی۔  

پرساد پستول اور ریوالور اٹھانے کے لیے آگے بڑھا تو ٹائیگر نے بڑی پھرتی سے اس کی ٹانگ میں ٹانگ پھنسا دی۔ پر ساد لڑکھڑا کر پامیلا سے ٹکرا گیا۔ پامیلا بھی لڑکھڑا کر پیچھے گر گئی۔ ہر ایک نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کو شش کیا تھی۔ ٹائیگر نے قالین پر پڑے ہوئے پستول کی طرف چھلانگ لگائی مگر پرساد نے سنبھل کر اسے چھاپ لیا۔ رانا  بھی اپنے ریو الور کی طرف جھپٹا لیکن میں کسی طاقت ور اسپرنگ کی طرح اپنی جگہ سے اچھلا۔ میرا ایک پیر رانا  کے بائیں کندھے پر اور دوسرا پیشانی پر لگا تھا۔ وہ بلبلاتا ہوا پیچھے الٹ گیا تھا۔ میں اس کے قریب کھڑی ہوئی لڑکی سے ٹکرایا اور ہم دونوں صوفے پر گرے۔ صوفہ پیچھے کی طرف الٹ گیا۔ اس لڑکی کے منہ سے خوفناک چیخ نکل گئی تھی۔ پامیلا صوفے کے پچھلی طرف گری تھی۔ ریوالور اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر صوفے کے نیچے جا گرا تھا۔ بھاری بھر کم شانگ پہلے تو کچھ گڑ بڑایا پھر وہ پامیلا کو گرفت میں لینے کی کوشش کرنے لگا۔ پامیلا نے اس کی کلائی پر دانت گاڑ دیے اور بری طرح بھنبھوڑنے تھی۔ شانگ بلبلا اٹھا۔ پر ساد ٹائیگر کی گرفت میں آچکا تھا لیکن پھر اچانک ہی اس نے ٹائیگر کے چہرے پر سرکی زور دار ٹکر ماری۔ اس کی ناک سے خون بہ نکلا۔ پر ساد نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بازی پلٹ دی۔ اب وہ ٹائیگر پر تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا۔ ٹائیگر جس طرح پر ساد کے ہاتھوں پٹ رہا تھا اس سے ایک اندازہ ہوا کہ اس جیسے بڑے بڑے بدمعاش خود اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں۔ وہ خود کسی کا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں رکھتے۔ ان کے رعب و دبدبے اور طاقت کا دارد داران کے گرگوں پر ہوتا ہے۔ رانا اٹھ کر کھڑا ہو چکا تھا۔ غصے کی شدت سے اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔ بھلا یہ بات اس کے لیے قابل برداشت کیسے ہو سکتی تھی کہ جو لونڈا اس کے خوف سے چھپتا پھر رہا تھا آج اس پر اس طرح بے خوف ہو کر حملہ آور ہو۔

مجھے یہ اندازہ لگانے میں دشواری پیش نہیں آئی تھی کہ وہ گینڈے کی طرح طاقت ور تھا لیکن اس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ لڑائی کے داؤ بیچ سے واقف نہیں تھا اور مجھے اس پر یہ برتری حاصل تھی کہ میں لڑائی کے فن سے واقف تھا۔ رانا نے مجھ پر حملہ کیا لیکن میں وار بچا گیا۔ دوسرے حملے میں میرا ہاتھ اس کی گرفت میں آگیا لیکن میں نے بازو چھڑانے کی کوشش کرنے کے بجائے کھڑے کھڑے اچھل کر الٹی قلا بازی کے انداز میں اپنے جسم کو دہرا کیا اور اس کی گردن کو دونوں ٹانگوں کی کینچی میں لے کر اپنے آپ کو نیچے کی طرف جھٹکا دیا۔ میں خود تو نیچے گرا تھا لیکن رانا بھی سر کے بل نیچے گرا اور قلا بازی کھاتا ہوا دیوار سے جا ٹکرایا۔ اس نے اٹھنے میں بھی بڑی پھرتی دکھائی تھی میں اس سے پہلے ہی اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے گھونسا مارنے کے لیے حملہ کیا۔ میں نے بڑی پھرتی سے اس کا ہاتھ پکڑلیا اور اچھل کر اس کی بغل میں زور دار کک لگا دی۔ وہ بلبلا اٹھا۔ اس کا بازو ابھی تک میری گرفت میں تھا۔ میں نے اچھل کر ایک اور کک لگائی اور اس کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ وہ لڑکھڑا کر اس لڑکی پر گرا جو اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اچانک فائر کی آواز سن کر میں پلٹا۔ بھاری بھر کم شانگ نے نہ صرف ریوالور پر قبضہ کرلیا تھا بلکہ پامیلا بھی اس کی گرفت میں تھی۔ اس نے پامیلا کو بازو کی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ پامیلا کے چہرے پر کرب کے تاثرات نمایاں تھے۔

اب اگر تم دونوں میں سے کسی نے حرکت کی تو گولی مار دوں گا۔ ” شانگ چیخا۔

بازی پلٹ گئی تھی۔ ٹائیگر نے بھی بڑی پھرتی سے ریوالور اٹھا کر پرساد کو زد پر لے لیا تھا۔

رانا بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ چند لمحے میری طرف دیکھتا رہا پھر اچانک ہی میری کنپٹی پر زور دار گھونسا مار دیا۔ مجھے یوں لگا جیسے کئی کلو گرام وزنی ہتھوڑے سے ضرب لگائی گئی ہو۔ میں لڑکھڑا گیا۔ دماغ جھنجھنا اٹھا۔ آنکھوں کے سامنے نیلی پیلی چنگاریاں ہی رقص کرنے لگیں۔ میں بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالنے میں کامیاب ہو سکا تھا۔

رانا نے آگے بڑھ کر پا میلا کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

“آوارہ کتیا !” وہ اس کے بالوں کو جھٹکے دیتا ہوا غرایا ” تمہارا خیال درست تھا۔ اب مجھے واقعی تمہاری ضرورت نہیں رہی۔ پہلے تو شاید ایک ہی گولی سے تمہارا خاتمہ کردیا جاتا لیکن اب تمہاری موت اتنی آسان نہیں ہوگی۔ میں تمہارے اس خوب صورت جسم کو اس طرح کاٹوں گا کہ ۔۔۔

پامیلا نے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی۔ رانا نے اس کے بالوں کو جھٹکا دے کر سر اوپر اٹھایا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے پیٹ پر کئی گھونسے رسید کردیے۔ پامیلا ہر ضرب پر بلبلا اٹھتی۔ رانا نے ایک زور دار جھٹکا دے کر اسے نیچے گرا دیا اور لیک کر راہداری والے دروازے کے قریب پڑا ہوا خنجر اٹھا لیا۔

 ٹائیگر نے مجھے اور پرساد کو ایک طرف دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے ریوالور کی زد پر لے رکھا تھا۔ ہم دونوں میں سے کسی کے لیے اپنی جگہ سے حرکت کرنے کا موقع نہیں تھا۔ پامیلا اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ رانا نے پہلے اسے دو تین زور دار ٹھوکریں ماریں اور پھر اس کے سینے پر سوار ہو گیا۔

“میں تمہیں ایک وار میں نہیں، قسطوں میں موت کے گھاٹ اتاروں گا۔ پہلے یہ تمہارے خوب صورت ہونٹ، پھر رخسار اور پھر تمہارے یہ  ممے  جنہوں نے مجھے تمہارا دیوانہ بنا دیا تھا۔”رانا نے غراتے ہوئے کہا

 رانا اس کے سینے پر اس طرح بیٹھا تھا کہ پامیلا کی دونوں بانہیں بھی گھٹنوں کے نیچے دبا رکھی تھیں۔ پامیلا سرپٹخ رہی تھی۔ رانا نے بائیں ہاتھ سے اس کی ٹھوڑی کو گرفت میں لے لیا اور خنجر کی دھار اس کے ہونٹوں پر پھیر دی۔ پامیلا کے منہ سے خوف ناک چیخ نکلی۔ اس کا نچلا ہونٹ کٹ گیا تھا۔ رانا نے ٹھوڑی تک گوشت کاٹ ڈالا تھا۔ خون کا فوارہ بہ نکلا۔ میں کانپ کر رہ گیا۔ رانا نے پامیلا کا ایک رخسار بھی کاٹ دیا۔

میں نے اپنی جگہ سے حرکت کرنے کی کوشش کی مگر ٹائیگر نےریوالور کو اس طرح حرکت دی کہ میں اپنی جگہ پر کھڑا رہ گیا۔ رانا نے وحشیانہ انداز میں قہقہہ لگایا اور پامیلا کے بلاؤز پر ہاتھ ڈال کر زور دار جھٹکا دیا۔ اس کا سینہ برہنہ ہو گیا۔ رانا کے چہرے پر بے پناہ درندگی تھی۔ اس کا خنجر والا ہاتھ حرکت میں آیا اور پامیلا کے سینے پر دائیں طرف سے خون کا فوارہ بہہ نکلا۔ اس نے نجر کا دوسرا وار سینے کے بائیں طرف کیا تھا۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں اور میری بند آنکھوں کے سامنے وہ خوف ناک منظر ابھر آیا جب چی فانگ نے میری ماں پر اسی طرح خنجر سے وار کیے تھے۔ کردار بدل گئے تھے۔ منظر وہی تھا۔ پامیلا کی چیخوں کی آواز سے میں نے آنکھیں کھول دیں۔ رانا اب پامیلا کے پیٹ پر خنجر کی نوک سے ایک گہری لکیر کھینچ رہا تھا۔ پامیلا ذبح ہوتے ہوئے بکرے کی طرح مچل رہی تھی لیکن رانا نے اسے اپنے بوجھ تلے نیچے دبا رکھا تھا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page