A Dance of Sparks–176–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 176

” نویتا، ” تھائی نے بم پھوڑا” اُس کی زندگی ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح سے آئی ہے اور اُس کو میں پوری طرح سے ٹٹول چکی ہوں، میں چاہتی ہوں کے تم اُس کے جسم  کا مزہ لو، اور اس مزے کو اتنا لو کہ یہ تمہاری حسرت نہ رہے ، اور نہ ہی تم عورت کے جسم  کے ہاتھوں کمزور ہو بلکہ میں چاہتی ہوں کہ تم غالب رہو اور عورت تمہاری محتاج رہے ۔ کیونکہ میں دیکھ چکی ہوں اور سمجھ چکی ہوں کہ تمہارے ساتھ سیکس کرنے کے بعد  میں خود کو تمہاری دست نگر سمجھنے لگ جاتی ہوں، میری زندگی میں بھی کئی مرد اور لڑکے آئے ہیں لیکن جو فیلنگز مجھے تمہارے ساتھ آتی ہے وہ کسی کے ساتھ نہیں آئی ۔ اور میں سمجھ چکی ہوں کہ تم میں عورت کو تسخیر کرنے کی قوت ہے ۔ اور جو عورت ایک بات تم تسخیر کرلو۔ وہ پھر تمہاری دیوانی ہی رہے گی۔ وہ کسی صورت بھی تم سے متنفر نہ ہوسکے گی۔ اس لیئے میں چاہتی ہوں کہ تم اپنی اس تسخیر کی قوت کو استعمال کرنا سمجھ لو اور مختلف عورتوں کے ساتھ تعلق بنا کر اس کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ اس میں تمہاری فل سپورٹ کروں گی اور ساتھ دوں گی ، بغیر اپنے  دل میں بال برابر بھی کوئی خیال لائے کوئی شکوہ کیئے ۔ کیونکہ میں تم پر اپنا جسم ہی نہیں اپنی روح بھی وار چکی ہوں۔”

اتنا کہہ کر تھائی وانگ خاموش ہوگئی۔ اور میں سوچ میں ڈوب گیا کہ اس نے جو بھی باتیں کی ہیں وہ سب دل کو لگنے والی باتیں تھی۔ کوئی بھی ایسی بات نہیں تھی جس میں میرا نقصان ہو، بلکہ وہ مجھے زندگی کے نشیب وفراز سے روشناس کروانا چاہتی تھی۔ اور  اس میں مجھے ہر طرح سے سپورٹ بھی کرنے کو تیارتھی۔ اور واقعی آگے میرا جس قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑھنے والا تھا اُس میں عورتوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہوگی ، جن میں سے کچھ کو مجھے اپنے مقصد کے لیئے استعمال کرنا ہوگا۔ اور کچھ کے مقاصد کو میں نے پورا کرنا ہوگا۔ کیونکہ ایک ہاتھ دو تو ایک ہاتھ لو والا اصول یہاں پر لاگو تھا۔

“تھائی جو تم بہتر سمجھو میرے لیئے اُس پر مجھے  اپنے ساتھ پاؤ گی،” میں نے کہا،” کیونکہ تم اب میری  ساتھی ہی نہیں میرے جسم اور روح کا ایک حصہ  ہی ہو۔ اور میں تم سے الگ نہیں ہوسکتا۔”

میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ تھائی وانگ نے مجھے اپنی باہوں میں لے لیا اور بے تحاشہ مجھے چومنے لگی ، اُس کے چہرے پر ایسی رونق اور چمک آگئی تھی کہ جیسے اُسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئی ہو، یا جیسے کسی بچے کو اُس کا پسندیدہ کھلونا مل گیاہو۔اُس کا انگ انگ ناچنے لگ گیا تھا۔

“ٹھیک ہے تو تیار ہوجاؤ،” تھائی نے کہا” آج تمہیں زندگی کا اور نیا رنگ دیکھاتی ہوں ، بس جھجکنا مت  اور نہ مجھ سے کترانا، کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہوں، 10 پندرہ منٹ بعد نویتا کے کمرے میں آجاؤ”

یہ کہہ کر وہ اچھلتی ہوئی بیڈ سے اُتری، اور واشروم میں گھس گئی ، تھوڑی دیر بعد وہ وہاں سے نکلی تو اُس نے ایک شارٹ میکسی پہنی تھی جو کہ اُس کی رانوں تک تھی ، اور صاف محسوس ہورہا تھا کہ اندر اُس نےاور کچھ نہیں پہنا۔اُس کو  دیکھ کر میری بھی سانسیں اتھل پتھل ہوگئی، پہلے تو وہ تھوڑی دیر وہیں کھڑی رہی اور مجھےسیکسی پوز دیئے اُس کے بعد وہ میری طرف بڑھی اور میرے چہرے کو تھام کر میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر ایک گہرا چوسا مارا، پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔

” یاد سے آجانا اور کھل کے کھیلنا” تھائی کہتےہوئے اُٹھلاتی ہوئی ایسے ہی کمرے سے باہر نکل گئی کیونکہ پرساد بھی گھر میں نہیں تھا، وہ کسی کام سے گیا ہوا تھا اور اُس کی واپسی میں ابھی  کافی ٹائم لگنا تھا۔

ادھر میرے ٹراوزر میں لن نے سراُبھار کر مچھلنا شروع کردیا تھا، میرا دل تو کررہاتھا کہ تھائی کو یہیں پکڑ کر شروع ہوجاؤں ، لیکن نویتا کا سیکسی فگر جب نظروں میں آیا تو میں اپنا لن مسل کر رہ گیا۔

یہ دس پندرہ منٹ میں نے  بہت کچھ سوچتے ہوئے گزارے کہ مجھے جانا چاہئے ، تھائی کی بات ماننی چاہئے ، یا نہ جاؤ اور یہیں پر سوجاؤں وغیرہ وغیرہ ، لیکن لن صاحب نے جو ہلچل مچائی تھی تو میرے کسی ارادے کو اُس نے ٹکنے نہ دیا۔

تھوڑی دیر بعد میں اُٹھا اور نویتا کے کمرے کی طرف بڑھا ، دروازہ کھلا ہوا تھا لیکن درواسے کے پٹ ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے، میں جیسے ہی کمرے میں گھسا تو دروازے میں ہی  میرے قدم جام ہوگئے وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ ایسے لپٹی ہوئی تھی جیسے سانپوں کی جوڑی لپٹ جاتی ہے نویتا کے ہونٹ تھائی کے ہونٹوں میں پھنسے ہوئے تھے اور نویتا کے ہاتھ تھائی کے مموں کو مسل رہے تھے، دروازہ کھلنے کی آواز سُن کر نویتا ایک جھٹکے سے تھائی سے الگ ہوئی اور  بیڈ پر پڑے ہوئے کپڑے اٹھا کر اپنی برہنگی چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔

”اپنے اس خوبصورت جسم کو میرے روحان سے نہ چھپاؤ،” تھائی نے نویتا کو اپنی آغوش میں لیتے ہوئے کہا،” نویتا اُس کے دیکھنے سے تمہارے جسم پر کوئی داغ نہیں لگ جائے گا۔”

تھائی نے نویتا کے جسم پر سے   کپڑے ایک طرف  پھینک کراُس کو اوپر سے پلٹی مار کر اُس کے دوسری طرف ہوگئی اور بیڈ کے اس طرف کی سائڈ میرے لیئے خالی کردی۔اور نویتا میری طرف غور سے دیکھنے لگی ، اُس کی آنکھیں  جذبات  کی وجہ سے  لال  پڑی ہوئی تھی۔ وہ  مادرزاد ننگی لیٹی  مجھے گھور گھورکر دیکھ رہی تھیں۔ اور میں اس کے سیکسی فگر میں اس قدر مگن ہو گیا تھا کہ وہی کھڑے کھڑے ہی کبھی اُس کو دیکھ رہاتھا اور کبھی تھائی کو،کمرے کا دروازہ میرے پیچھے ویسے ہی کھلا ہوا تھا، دروازہ بند کرنے یا آگے بڑھنے کا مجھے ہوش ہی نہیں رہا۔  میرے اندر ایک عجیب سی ہلچل مچھ گئی تھی ۔ دو جوان  لڑکیوں  ایک ساتھ لپٹی ہوئی لیٹی میری ہی طرف دیکھ رہی تھی۔ خوبصورتی میں  اور سیکسی فگر میں دونوں ایک سے بڑھ کر ایک تھی۔ بڑے بڑے  اور ٹائیٹ ممے ۔۔ بالوں سے صاف اور رستے ہوئے گھاڑے پانی سے چمکتی ہوئی  ہلکی  موٹی  پھدی۔ افففففف میرے تو لن کے ساتھ ساتھ جسم کے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے ،اور لنڈ ٹراوزر میں کسی پٹاری میں بند سانپ کی طرح سے مچلنے لگا۔

 ٹھیک اسی دوران تھائی  اُٹھ کر  آگے بڑھی اور  میرے قریب آ کر میرا  ہاتھ پکڑ کر بولی۔

“کب تک آنکھیں سینکتے رہو گے “تھائی اُٹھلا کر بولی ،” آجاؤ ہم دونوں کو جوائن کرو۔”

 میں اوپر اوپر سے سنجیدہ لیکن اندرسے دل میں خوشی اور ٹراؤزر میں لن بے قراری سے پھڑپھڑا رہاتھا۔ اس لیے میں نے بھی تھائی کے ساتھ قدم آگے بڑھاتے ہوئے ان حسین لمحات کو بھرپور انداز میں انجوائے کرنے کے لیےبیڈ پر جہاں نویتا ایسے ہی لیٹی سیکسی انداز میں میری طرف دیکھ رہی تھی کے قریب ہوتا چلا گیا۔

تھائی وانگ مجھے بیڈ پر بٹھا کر میرے ساتھ بیٹھ گئی اور نویتا بھی اُٹھ کر میری دوسری طرف سے  میرے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page