A Dance of Sparks–177–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 177

اسی دوران تھائی  وانگ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی نرم انگلیوں سے کندھے کو سہلاتے ہوئے لاڈ بھرے انداز میں میرے ساتھ چپک گئی۔

میں نے تھائی  وانگ کی طرف  مڑکر دیکھا  اور ساتھ ہی  میں مسکرا دیا۔  میری مسکراہٹ دیکھ کر تھائی وانگ نے میرے رخسار کو تھامے ہوئے آگے ہو کر میرے ہونٹوں پر کس کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ نویتا جو میرے ساتھ دوسرے سائیڈ سے چپک کر بیٹھی ہوئی تھی اُس نے میرے کندھے کو سہلاتے ہوئے میرے کندھےے کو چومنے لگ گئی۔  وہ دونوں بنا وقت ضائع کئے خوشی اور شہوت سے میرے اوپر ٹوٹ پڑی کیونکہ وہ میرے آنے سے پہلے ہی ایک دوسرے کو کافی گرم کرچکی تھیں۔

تھائی وانگ میرے رخساروں کو چھوڑ کر میرے  لن کو مٹھی میں بھر کر دبانے لگی۔پھر  اس نے میرے ٹراؤزر کی ڈوری کو پکڑ کر کھولا اور ٹراوزر  نیچے سرکنے لگی تو میں نے بھی اپنے کہولے اُٹھا کر اُس کا ساتھ دیا اور اُس نے ٹراؤزر کسکا کر نیچے  پاؤں تک کر دیا۔ اور دوبارہ نظریں اٹھاکر لن کی طرف متوجہ ہوئی۔  لن راڈ کی طرح سخت  جھومتا ہوا  تھائی وانگ کو سلامی دینے لگا۔

تھائی وانگ لن کو دیکھتے ہی دھیمی سی سرگوشی کرتے ہوئے بولی ۔

” اُف اس کو سنبھالتے سنبھالتے میری  بس ہوجاتی ہے ، یہ مجھ اکیلے کے بس کی بات ہی نہیں”

ساتھ ساتھ تھائی وانگ لن پر گول گیرے کے گرد   اس  کی موٹی کیپ پر انگوٹھا پھیرتی رہی اور بےاختیار بول پڑی۔

“کتنی موٹی  کیپ ہے ،”تھائی وانگ نشیلی آواز میں بولی،”بہت اچھا لگ رہاہے۔ اور مجھے سب سے زیادہ  یہی پسند ہے ۔”

 تھائی وانگ کی بات سن کر نویتا میرے کندھے سے ہونٹ ہٹا کر گھٹنوں کے بل ہوتے  ہوئے آگے کی جانب آکرجھکی  تھائی وانگ کے ہاتھ میں پکڑے لن کو دیکھ کر آنکھیں پھاڑے ایسے دیکھنے لگی ، جیسے وہ پہلی دفعہ ایسا لن دیکھ رہی تھی۔ نویتا حیرت میں ششدر رہتے ہوئے دونوں ہاتھ اپنے رخساروں پر رکھ کر بولی۔

“اووووو  مااااائی ۔۔ ویری نائس ڈک ۔ “نویتا مزے لے کر بولی،”ہاتھ پیچھے کرو میں پکڑ کر دیکھوں۔”

تھائی وانگ لن کو چھوڑنے کی بجائے ہاتھ کو لن کی جڑ تک لے جا کر بولی۔

“یہ لو اوپر سے پکڑ کر دیکھو کتنا ہارڈ ہے۔”

وہ لڑکی ٹوپے سے نیچے لن پر گرفت جماتے ہوئے بولی۔

وااااااااؤ سوووووو سو سٹرانگ اینڈ ہارڈ یہ تو میری مٹھی میں بھی نہیں آرہا  اففففففف”نویتا کی لرزتی ہوئی سرگوشی نکلی،”یاااار میں  اتنا بڑا اپنے اندر لےلوں گی۔”

نویتا  لن کی تعریف کرتے ہوئے کبھی لن کو دباتے ہوئے اس کی مضبوطی چیک کرتی کبھی انگوٹھے سے ٹوپے کے کناروں کو رگڑتے ہوئے ٹوپے کی نرمی چیک کرتی۔ ایک وقت میں دو سیکسی لڑکیوں کے ہاتھوں میں میرا لنڈ تھا اور میں کبھی تھائی وانگ کو دیکھ رہاتھا اور کبھی نویتا کو اور مزے  کے مارے لن کے ٹوپے پر مازی کا قطرہ نمودار ہوا۔

 اگلے ہی لمحے نویتا لن پر جھکتے ہوئے اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے  زبان نکالتے ہوئے زبان کی نوک کو ٹوپے کےسوراخ پر رکھ کر  مازی کا قطرہ چکا۔ اور پھرزبان  کی نوک کو سوراخ میں دباتے ہوئے لن پر مٹھیاں بھر کر زور سے ٹوپے کوچوسا مارنے لگی۔ جبکہ تھائی وانگ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے نیچے سے لن کو دبانے لگی۔  نویتا کی زبان کا لمس محسوس کرکے میں نے اپنا نچلا ہونٹ دبا کر ہلکی سی سسکاری لی۔ چند لمحوں بعد نویتا نے زبان کو ٹوپے کے چاروں طرف گھما کر منہ کھول کر لن منہ میں بھر کر چوسنا شروع کر دیا۔ میں نے سسکاری لیتے ہوئے ایک ہاتھ سے لن پر جھکی نویتا کاموٹا مما پکڑ لیا جبکہ دوسرے ہاتھ سے تھائی وانگ کامما  پکڑ کر دبانا شروع کر دیا۔ ادھر نویتا کے ہونٹوں کی گرفت لن پر مضبوط ہوئی دوسری طرف تھائی وانگ سسکاری لیتے ہوئے اوپر کی جانب ہوکر میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی دسترس میں لے کر فرنچ کسنگ کا آغاز شروع کر چکی تھی۔ ہماری پوزیشن کچھ یوں تھی میں بیڈ پر ٹانگیں نیچے  کر کے بیٹھا ہوا تھا جبکہ  نویتا دو زانوں ہو کر لن پر جھک کر چوپے لگائے جا رہی تھی۔ جبکہ تھائی وانگ لن کو چھوڑ کربیڈ پر چھڑکر  گھٹنوں پر کھڑی ہو کر میری گردن کی پشت پر ہاتھ رکھ کر فرنچ کس کرنے لگی تھی۔ اور میں نے ایک ہاتھ سے تھائی وانگ کے ممے  کو پکڑکر اس کو مسل اور سہلا رہاتھا،  اور دوسرے ہاتھ سے اس نویتا کا مما  پکڑے ہوئے  سہلائے  جا رہا تھا۔  نویتا ایک ہاتھ سے لن کو پکڑ کر لن منہ میں ڈال کر چوپے لگائے جا رہی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ سے ٹٹوں کی گولیوں کو انگلیوں سے سہلا رہی تھی۔ اس ڈبل ٹرپل مزے نے مجھے پوری طرح مدہوش کر دیا تھا۔

 کچھ دیر بعدتھائی وانگ نے مجھے کس کرنا چھوڑی اور مجھے اپنی طرف گھماتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گئی۔ اس طرح سے دونوں کے ممے میرے ہاتھوں سے چھوٹ گئے ۔اور اس دوران میرے پلٹنے سے نویتا کے منہ سے لن بھی نکل چکا تھا۔ تھائی وانگ نے اپنے ہاتھ بڑھا کر میرے سر پر رکھے اور میرے سرکو اپنی پھدی کی طرف دباتے ہوئے مجھے اپنی پھدی پر جھکنے کا اشارہ کیا،میں نے تھائی وانگ کی پھدی کو دیکھتے ہوئے تھوڑا پیچھے ہو کر گھٹنوں کے بل ہو کر تھائی وانگ کی پھدی پر جھکتے ہوئے ہاتھ سے پھدی کے ہونٹوں کو کھول کر اندر کی سرخی کا جائزہ لینے لگا۔ اسی دوران تھائی وانگ نے نویتا کو مخصوص اشارہ کیا۔ نویتا جلدی سے میری گانڈ کی طرف آ کر  مجھے چومنے لگی۔  مجھے گدگدی سی ہونے لگی اس پوزیشن میں میری گانڈ پوری ڈوگی سٹائل میں تھی۔ اور نویتا میری گانڈ کو چومنے چاٹنے لگی تھی۔ اور میرے گانڈ کے چھیدپر اپنی گرم گیلی  زبان پھیرنے لگی۔

اففففف۔۔ یہ احساس میرے لئے نیا تھا۔ اور پھرچند سیکنڈ اسی طرح میری گانڈ کو چاٹنے چومنے کے بعد وہ میری رانوں کے بیچ میں سے سر گزارنے لگی یہ  دیکھ کرمیں نے اپنی  رانوں کو کھول کرچوڑا کردیا اور  نویتا میری رانوں کے بیچ میں سے گزر کر سیدھی لیٹ گئی۔ سیدھی لیٹتے ہی اس نے لن کو پکڑ کر سر اوپر کرتے ہوئے لن کو منہ میں لے کر چوسنے  لگی۔ نویتا کے لن چوستے ہی میں نے سسکاری لیتے ہوئے تھائی وانگ کی پھدی پر سر جھکاتے ہوئے زبان نکال کر پھدی کے شروع والے حصے کو چاٹنا شروع کر دیا۔ جیسے ہی پھدی کو زبان نے چھوا  تھائی وانگ کی سسکاری پورے کمرے میں گونج اٹھی۔ ہم بیڈ پر ایک لائن میں لگے  ہوئے تھے۔  تھائی وانگ آگے لیٹی ہوئی تھی جس کی پھدی کو میں گھٹنوں کے بل ہو کر چاٹ رہا تھا۔ جبکہ نویتا میرے پیچھے لیٹی ہوئی تھی میری رانوں میں سر گھسا کر لن کو منہ میں ڈالے چوسے جا رہی تھی۔ میں تھائی وانگ کی پھدی کو چاٹتے ہوئے اس کی رانوں کو بھی سہلا رہا تھا۔ تھائی وانگ بے چینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیڈ کی چادر کو مٹھیوں میں بھینچ کر نچلا ہونٹ کاٹتے ہوئے سسکاریاں لیتے ہوئے کہے جا رہی تھی ۔

” آہہہہہہہہہ میری جان نکل رہی ہے افففففف ہہہہہہہہہم   پلیزززززز بس کرو۔”

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page