A Dance of Sparks–180–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 180

پامیلا کے قتل (دوسرے روز مجھے پامیلا کی موت کی خبر مل گئی تھی)  والے واقعے کو پانچ دن ہو چکے تھے۔ پولیس کے سرگرمیاں اگر چہ ماند پڑ گئی تھیں لیکن مجھے یقین تھا کہ ٹائیگر اور رانا کے آدمی شکاری کتوں کی طرح ہماری تلاش میں پورے شہر میں پھر رہے ہوں گے۔

پتایا۔ یہ خوب صورت ساحلی شہر بنکاک کے مشرق میں تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ غیر ملکی سیاحوں کے لیے یہاں بہت سی دلچسپیاں تھیں۔ تھای باشندے بھی بڑی تعداد میں اس طرف جاتے رہتے تھے۔ ہائی وے نمبر تین سے ڈھائی تین گھنٹوں کا راستہ تھا۔ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کے علاوہ پرائیویٹ بس اورکو چز بھی چوبیس گھنٹے چلتی رہتی تھیں۔ اس روز ہم صبح پانچ بجے گھر سے نکلے تھے۔ اسٹیئرنگ کے سامنے حسب معمول پر ساد تھا۔ اس کے ساتھ والی سیٹ پر میں اور پیچھے تھائی وانگ اور نو یتا بیٹھی ہوئی تھیں۔ مشرقی بس ٹرمینل تک پہنچنے کے لیے پورا شہر پار کرنے کی ضرورت تھی۔

 ہمارا پروگرام یہ تھا کہ نو تا کو پتایا جانے والی بس پر بٹھا کر ہم جانکی دیوی والے بنگلے پر واپس چلے جائیں گے۔ اس وقت سڑکوں پر ٹریفک برائے نام ہی تھا۔ پرساد کو تیز رفتاری سے کار چلانے میں زیادہ دشواری پیش نہیں آرہی تھی۔ مختلف سڑکوں اور پھر سو کم وٹ روڈ پر ہوتے ہوئے ہم چھ بجے سے پہلے ہی بس اسٹیشن پہنچ گئے تھے۔ ہر دس پندرہ منٹ بعد کوئی نہ کوئی بس اڈے سے نکل رہی تھی۔

نو یتا خوف زدہ تھی۔ میں بھی محتاط نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ نو یتا ایک کوچ پر بیٹھ چکی تھی۔ تھائی وانگ نے اسے کچھ رقم بھی دے دی تھی۔ ہم اس وقت تک ٹرمینل پر کھڑے رہے جب تک بس حرکت میں نہیں آگئی۔

واپسی پر ہم ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئے تھنگ ڈسٹرکٹ کی طرف نکل آئے اور مختلف چھوٹی سڑکوں پر ہوتے ہوئے ٹاکسن برج پار کر کے تھان بوری ڈسٹرکٹ میں داخل ہو گئے۔ وہاں سے جانکی دیوی والے بنگلے تک پہنچے میں زیادہ دشواری پیش نہیں آئی تھی۔ بنگلے میں پہنچنے کے تھوڑی ہی دیر بعد تھائی وانگ ناشتا تیار کرنے کے لیے کچن میں گھس گئی۔ ناشتے کے لیے کچھ چیزیں ہم راستے سے لیتے آئے تھے۔ جانکی دیوی کو ہم نے کل رات ہی اپنے پروگرام سے آگاہ کر دیا تھا اس لیے نو بجے کے قریب اس کا فون آگیا۔

“تمہارے لیے ایک اہم اطلاع ہے روحان۔” جانکی نے کہا۔

؟میں سن رہا ہوں۔”  میں نے کہا۔

” تم نے بتایا تھا کہ اس رات کے ہنگامے میں شانگ، تھائی وانگ کی گولی سے زخمی ہو گیا تھا۔” جانکی دیوی نے کہا ”میں نے اس چینی کا سراغ لگالیا ہے؟

“کیا۔ ” میں اچھل پڑا۔  میں نے جانکی کو اس قسم کی کوئی ذمے داری نہیں سونپی تھی کیونکہ میں اسے ان ہنگاموں سے دور ہی رکھنا چاہتا تھا۔

”  میں نے تو تمہیں ایسا کوئی کام نہیں کہا تھا جانکی دیوی۔” میں نے کہا۔

” محض اتفاق سے ہی اس کا پتا چلا ہے۔” جانکی دیوی نے جواب دیا ”کل شام تمہارا فون آنے کے تھوڑی ہی دیر بعد میری ایک دوست سومالی مجھ سے ملنے آگئی تھی۔ وہ ایک پرائیویٹ اسپتال میں سرجن ہے۔ اس نے بتایا کہ چند روز پہلے آدھی رات کے بعد اس کے گھر میں دو آدمی گھس آئے تھے۔ ایک بھاری بھر کم چینی اور دوسرا انڈین تھا۔ وہ دونوں زخمی تھے۔ چینی کو بازو میں گولی لگی تھی اور اس انڈین کی ناک اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ میرا خیال ہے یہ اس رات کی بات ہے جب تمہاری رانا وغیرہ سے جھڑپ ہوئی تھی۔ انہوں نے سونالی کے چھ سالہ بیٹے کو یر غمال بنالیا اور سونالی سے اپنا علاج کرواتے رہے۔ وہ دونوں اب بھی اس کے گھر پر ہیں۔ انہوں نے سونالی کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ان کی موجودگی کے بارے میں کسی کو بتایا تو نہ صرف اس کے بیٹے کو بلکہ اسے بھی موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔

“آوہ۔۔” میں یہ بات سن کر اچھل پڑا۔ مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ شانگ کے ساتھ دوسرا آدی رانا تھا۔ اس رات وہ میرے ہاتھوں بری طرح پٹا تھا۔” کیا تم مجھے سونالی کے گھر کا پتہ  بتا سکتی ہو؟”

“اگر تمہارا کچھ کرنے کا ارادہ ہے تو اس طرح سومالی اور اس کے بیٹے کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔ ” جانکی دیوی نے کہا۔

“میں صرف اس مکان کی نگرانی کرنا چاہتا ہوں تاکہ جب وہ لوگ وہاں سے نکلیں تو ان کا تعاقب کر کے ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلوم کیا جائے۔ یقین کرد جانکی۔ میں کوئی مداخلت نہیں کروں گا۔ “میں نے کہا۔

تمہارا نہیں تو اور کس کا یقین کروں گی۔” جانکی نے کہا اور چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بولی”سونالی کا مکان اس جگہ سے زیادہ دور نہیں جہاں تھائی وانگ کا مکان تھا۔ ٹاکسن روڈ پر اسٹریٹ ایٹی ٹو میں دائیں طرف تیسرا مکان ہے۔

“گڈ۔”  میں نے کہا ”اگر کوئی اور بات معلوم ہو تو مجھے فورا اطلاع دینا۔” میں نے فون بند کر دیا اور تھائی کو صورت حال سے آگاہ کرنے لگا۔

“ٹا کسن روڈ۔ اسٹریٹ ایٹی ٹو۔” اس کی آنکھوں میں چمک سی ابھر آئی ”میرا مکان اس کے سامنے نہر کی طرف تھا۔ اسٹریٹ ایٹی ٹو میں میری ایک دوست رہتی ہے۔ ایک منٹ مجھے سوچنے دو۔ میں اس کا فون نمبر یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔”

یہ ایک دلچسپ صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔ تھائی وانگ طویل عرصے سے اس علاقے میں رہائش پذیر تھی۔ کچھ لوگوں سے اس کے تعلقات ضرور ہوں گے اور اتفاق سے اسٹریٹ ایٹی ٹو میں اس کی کوئی دوست بھی موجود تھی۔

“ایک منٹ !” تھائی وانگ خود کلامی کے انداز میں بولی اور پھر کاغذ اور بال پین اٹھا کر کچھ لکھنے لگی “یہ ہے اس کا نمبر میں ابھی معلوم کرتی ہوں۔

وہ فون کا ریسیور اٹھا کر نمبر ملانے لگی۔ لائن ملنے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی۔ دوسری طرف سے فورا ہی کال ریسیو کرلی گئی۔

” ہیلو۔۔ مائے ۔میں تھائی وانگ بول رہی ہوں۔ “تھائی وانگ بولی۔ کچھ دیر تک دوسری طرف کی آواز سنتی رہی پھر بولی

 “ہاں۔ مجبوری ہے۔ میں فی الحال سامنے نہیں آسکتی۔ تمہاری گلی میں سونالی نام کی کوئی ڈاکٹر رہتی ہے۔ اس کے بارے میں کچھ معلوم کرنا ہے”

“اس بے چاری کے ساتھ تو بہت بڑی ٹریجڈی ہو گئی ہے تھائی۔ ” دوسری طرف سے کہا گیا” دو بد معاش پانچ چھ روز سے اس کے گھر میں گھسے ہوئے تھے۔ اسے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے بارے میں کسی کو بتایا تو وہ اسے اور اس کے بیٹے کو قتل کر دیں گے۔ آج صبح چار بجے وہ اس کے بیٹے کو یر غمال بنا کر اس کے گھر سے نکلنا چاہتے تھے۔ سونالی نے مزاحمت کی تو انہوں نے نہ صرف اس کے بیٹے کو قتل کردیا بلکہ سونالی بھی شدید زخمی ہوئی ہے۔ وہ اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اسپتال میں پڑی ہے۔ اس کے گھر پر پولیس کا پہرا ہے۔ پولیس والے اس گلی میں رہنے والوں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کون لوگ تھے مگر تم اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہی تھیں؟”

“مجھے اس بارے میں کچھ بھنگ ملی تھی۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے میرا گھر جلایا تھا۔ میں سونالی کی مدد کرنا چاہتی تھی”

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page