A Dance of Sparks–183–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 183

 ماسٹر ہو چن نے کئی بار مجھے خطرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ میں نے اس کی ہر بات کو ٹال دیا تھا لیکن اب صورت سنگین تر ہو چکی تھی۔ میں بزدل تو نہیں تھا۔ اب تک جو کچھ بھی ہوا تھا اس سے میرے اندر خود اعتمادی پیدا ہوئی تھی لیکن حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی میرے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی۔ میں ایک دو دشمنوں کا مقابلہ تو کر سکتا تھا لیکن قاتلوں کا ایک گروہ میرے پیچھے لگ گیا تھا۔ وہ شکاری کتوں کی طرح میری بو سونگھتے پھر رہے تھے۔

اگلے روز ایک اور تشویش آمیز خبر سننے کو ملی۔ پیڈرو کے آدمیوں نے فران نوک روڈ والے اس مکان کا سراغ لگالا تھا جہاں میں نے ٹائیگر کو ہلاک کیا تھا اور تہ خانے سے ٹائیگر کی گھڑی بھی انہیں مل گئی تھی جو لڑائی کے دوران میں اس کی کلائی سے نکل کر وہاں گر گئی تھی۔

یہ خبر بھی اس روز پر سادہی نے سنائی تھی۔ اس رات وہ گیسٹ ہاؤس کا چکر لگا کر آیا تھا اور جس میز پر وہ نویتا کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اس کے پیچھے والی میز پر بیٹھے ہوئے دو آدمی یہ باتیں کر رہے تھے۔

“پیڈرو تو کچھ زیادہ ہی تیز جارہا ہے۔” میں نے پرساد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ”  اس نے فران نوک والے مکان کا سراغ لگا لیا ہے۔ وہ یہاں بھی پہنچ سکتا ہے۔ سب سے پہلے وہ لوگ یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ مکان کس نے کرائے پر لیا تھا۔”

” مکان کے ایگری منٹ کے ذریعے تو وہ میرا سراغ نہیں لگا سکتے۔ میں نے ایک فرضی نام اور پتہ  لکھوایا تھا اور جب نوٹ سامنے رکھے ہوئے ہوں تو اسٹیٹ ایجنٹ بھی کسی بات پر زیادہ اصرار نہیں کرتا۔ اسے اپنے کمیشن سے مطلب ہوتا ہے۔ البتہ یہ کار ہمارے لیے کچھ الجھن پیدا کر سکتی ہے۔ ” پر ساد نے کہا۔

میں کچھ بولنے کے بجائے سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔

“کار کرائے پر لیتے وقت میں نے فلیٹ کا پتا لکھوایا تھا۔ اس فلیٹ سے وہ کچھ معلوم نہیں کرسکتے لیکن کار کی نمبر پلیٹ۔۔ یہ کار اس مکان میں بھی جاتی رہی ہے اور یہاں بھی۔ اس مکان کے پڑوسیوں سے وہ کار کے بارے میں بھی معلوم کرلیں گے اور پھر اگر وہ لوگ ادھر آگئے ، جیسا کہ مجھے توقع ہے، تو ان کے لیے یہ معلوم کرنا زیادہ مشکل نہیں ہو گا کہ اس کار کا تعلق اس بنگلے سے بھی ہے ۔”

” اور انہیں یہ بھی پتا چل جائے گا کہ یہ بنگلا جانکی دیوی کا ہے۔ اس طرح جانکی کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ ہم اسے خطرے سے آگاہ کر سکیں۔” میں نے کہا۔

“ایک طریقہ ہے۔” پر ساد بولا۔

” وہ کیا؟” میں نے پر امید نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

ہم یہ بنگلا فوری طور پر چھوڑ کر کسی محفوظ جگہ پر منتقل ہو جائیں اور میں آج ہی رات سوامی رگوناتھ کے آشرم پہنچ جاتا ہوں تاکہ جانکی دیوی کو اس خطرے سے بچایا جاسکے۔” پر ساد نے کہا۔

“تجویز معقول ہے۔” میں نے کہا اور فون کا ریسیور اٹھا کر ماسٹر ہو چن کا نمبر ملانے لگا۔ کال ماسٹر ہو چن کے ایک شاگرد نے ریسیو کی تھی لیکن میرا نام سنتے ہی اس نے ماسٹر ہو چن کو بلا دیا۔

“تم کہاں ہو۔ ” ماسٹر ہو چن میری آواز سنتے ہی چیچا ” تم اس وقت سخت خطرے میں ہو۔ تمہیں چاروں طرف سے گھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میری ایک اطلاع کے مطابق وہ تمہارے ایک ٹھکانے کا پتا لگا چکے ہیں۔ اس مکان کے تہ خانے سے انہیں ٹائیگر کی گھڑی اور کچھ ایسی چیزیں ملی ہیں جو تمہاری نشان دہی کرتی ہیں۔ پیڈرو کو سو فی صد یقین ہے کہ ٹائیگر کو تم نے ہی ہلاک کیا ہے۔ وہ تمہارے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔”

” تمہیں یہ سب کیسے معلوم ہوا ماسٹر ہو چن !” میں نے پوچھا۔

“ہم نے تمہاری طرف سے آنکھیں بند نہیں کر رکھیں۔” ماسٹر ہو چن نے جواب دیا ”ہمارے آدمی چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں اور یہ خبر تو پورے انڈر ورلڈ میں گردش کر رہی ہے کہ پیڈرو نے تمہارے ایک ٹھکانے کا پتا چلا لیا ہے اور وہ بہت جلد تمہیں چھاپنے والا ہے۔ ویسے تم ہو کہاں پر۔ مجھے اپنی لوکیشن بتاؤ کہ میں اپنے آدمی بھیج دوں۔”

“یہ تمام خبریں مجھے بھی مل چکی ہیں ماسٹر۔ ” میں نے جواب دیا  “میں بھی اب یہ محسوس کر رہا ہوں کہ میری یہ پناہ گاہ محفوظ نہیں رہی۔ میں اس وقت ٹاکسن روڈ کے قریب ہوں اور ہم یہاں سےنکلنا چاہتے ہیں۔”

تمہارے ساتھ تھائی وانگ کے علاوہ اور کون ہے؟” ماسٹر ہو چن نے پوچھا۔

“دو افراد اور ہیں۔” میں نے جواب دیا۔

ٹھیک ایک گھنٹے بعد ایک سیاہ وین تمہیں کنگ ٹاکسن کے اسٹچو والے چوراہے کے قریب کھڑی ملے گی۔ گانگ کو تم پہچان لو گے۔ ویسے میرے کچھ آدمی ریلوے اسٹیشن کی طرف بھی موجود ہیں۔ میں انہیں خبردار کر دیتا ہوں۔”

 فون بند ہو گیا۔ میں نے ریسیور رکھ دیا اور ان لوگوں کو صورت حال سے آگاہ کرنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے وہاں سے نکلنے کی تیاری شروع کر دی۔ ہم نے ہر وہ چیز سمیٹ لی جس سے وہاں ہماری موجودگی کا ثبوت مل سکتا تھا۔ ویسے میرے خیال میں یہ بیکارہی تھا کیونکہ جب انہیں پتا چل جائے گا کہ ہم یہاں تھے تو کسی موجود گی یا عدم موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کنگ ٹاکسن کے مجسمے والا چوراہا وہاں سے صرف دس منہ کے فاصلے پر تھا۔ جب ہم بنگلے سے نکلے تو گیا رہ بج کر بیس مٹ ہوئے تھے۔ گاڑی ہم نے بنگلے ہی میں چھوڑ دی تھی۔ اسے استعمال کرنا اب خطرناک ہو سکتا تھا۔ گیٹ کو تالا لگا کر چابیوں کا کچھا تھائی نے اپنے بیگ میں ڈال لیا اور ہم چاروں اکٹھے ہی چورا ہے کی طرف چلنے لگے۔

ٹاکسن اسکوائر پر اس وقت خاصی رونق تھی۔ چورا ہے کے وسط میں بہت بڑا گول چبوترہ بنا ہوا تھا۔ چبوترے کے عین وسط میں ایک اور چبوترے پر کنگ ٹاکسن کا مجسمہ تھا۔ اس کے بیسں پر  چاروں طرف چار شیروں کے مجسمے تھے۔ اس بیس  کے اطراف میں ایک حوض سا بنا ہوا تھا۔ چاروں شیروں کے منہ میں فوارے لگے ہوئے تھے۔ شام کو یہ فوارے کھوئے جاتے تھے تو پانی اس تالاب میں گرتا رہتا تھا۔ بڑے چبوترے کے گرد تقریباً چارفٹ اونچالو ہے کا جنگلا تھا۔ آمد و رفت کے لیے چار آہنی سلاخوں والے دروازے بھی تھے لیکن وہ دروازے ٹوٹ پھوٹ چکے تھے۔ جنگلے کی کئی سلاخیں بھی غائب تھیں اور کئی جگہوں پر کچھ سلاخیں مڑی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔

جنگلے کے اندر والے چبوترے اور اس کے اطراف میں گولائی میں بنے ہوئے فٹ پاتھ پر چرسیوں اور موالیوں کا قبضہ تھا۔ یہ سب وہ لوگ تھے جو نشے کے عادی تھے اور ان کے پاس سر چھپانے تک کو جگہ نہیں تھی۔ دن میں تو یہ لوگ ادھر ادھر گھومتے رہتے اور شام ہوتے ہی یہاں جمع ہونا شروع ہو جاتے۔ چوراہے پر پہنچ کر میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ سیاہ وین کہیں بھی نظر نہیں آرہی تھی۔ اچانک سفید رنگ کی ایک کار اس گلی کے موڑ پر رکی۔ اس میں تین آدمی تھے۔ ایک ڈرائیونگ سیٹ پر اور دو پیچھے۔ وہ کار چند سیکنڈ وہاں رکی اور پھر گلی میں داخل ہو گئی۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page