Keeper of the house-131-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 131

میں نے بھی اسے گلے لگا لیا، وہ میرے ماتھے اور گالوں پر بوسہ دینے لگی اور مجھے غور سے دیکھ کر چیک کرنے لگی، پھر ایک بار پھر زور سے مجھ سے لپٹ گئی، بغیر کسی کی پرواہ کیے۔

پیچھے سے نسرین جلال چلتی ہوئی ایس پی رانی شگفتہ کے پاس آئی۔

نسرین جلال ۔۔۔ کیا بات ہے؟ کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے انہیں؟

ایس پی رانی شگفتہ ۔۔۔انہیں مار پیٹ اوراقدام  قتل کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے۔

نسرین جلال ۔۔۔ آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے؟ کسی نے شکایت کی ہے؟ کیا آپ کے پاس گرفتاری کا وارنٹ ہے؟ وہ سب چھوڑیں، کچھ ہوا بھی ہے یا بس اندازے لگا رہی ہیں؟

ایس پی رانی شگفتہ ۔۔۔یہ سارے گاؤں والے زخمی حالت میں یہاں پڑے ہیں، کیا یہ ثبوت نہیں؟

نسرین جلال (مسکراتے ہوئے)  ۔۔۔اچھا؟ اور اگر میں یہ کہوں کہ یہ سب زخمی لوگ خود یہاں تک لائے گئے ہیں؟ اگر میں یہ کہوں کہ یہ انہیں یہاں کے بڑے اسپتال میں داخل کرانے کے لیے لائے تھے، تو پھر؟

ایس پی رانی شگفتہ ۔۔۔ تو پھر وڈیرہ شاکر اور اس کے بیٹے کو وہاں باندھ کر کیوں رکھا گیا ؟

نسرین جلال ۔۔۔ کہاں باندھ کر رکھا گیا ہے؟ مجھے تو کچھ نہیں دکھ رہا۔۔ شاید آپ کی نظر کمزور ہو گئی ہے، ایس پی رانی شگفتہ

رانی شگفتہ نے چونک کر پلٹ کر دیکھا تو وڈیرہ شاکر اور ناصر دونوں غائب تھے۔

ایس پی رانی شگفتہ۔۔۔ تم ہو کون، جو بیچ میں آ رہی ہو؟

نسرین جلال ۔۔۔ میں کون ہوں، یہ میں بتا نہیں سکتی، لیکن جسے تم گرفتار کرنے کے لیے کھڑی ہو، وہ میرا سب کچھ ہے۔۔ اور مجھے یہ بالکل پسند نہیں کہ کوئی اس پر انگلی اٹھائے۔ اور تم نے تو اسے ہتھکڑی لگانے کی کوشش کی ہے۔

نسرین جلال نے اپنا آئی کارڈ نکال کر دکھایا، جسے دیکھ کر رانی شگفتہ نے فوراً سیلوٹ مارا، اور اس کے پیچھے باقی پولیس والوں نے بھی!

داداجی خاموشی سے نسرین جلال کو دیکھ رہے تھے۔۔کیونکہ انہیں اس کی آنکھوں میں بہت کچھ دکھائی دے رہا تھا، بس تصدیق کرنا باقی تھا۔

نسرین جلال ۔۔۔ آپ سے دفتر میں ملوں گی کل، تب بات کریں گے۔۔ آپ اس کیس کی پوری رپورٹ بنا کر رکھیں، چاہے رات کو خود بنائیں یا کسی سے بنوائیں، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں  بس جب میں آؤں، تو سب کچھ میرے سامنے ہونا چاہیے۔

(رک کر، دھیمے مگر زوردار لہجے میں)
اب تم جا سکتی ہو۔۔اب یہ کیس میں خود دیکھوں گی

میں بس رانی  شگفتہ کو گھور رہا تھا اور نسرین باجی نسرین جلال کو۔

نسرین باجی (دل میں)۔۔ہائے ۔۔ ابھی شادی بھی نہیں ہوئی اور یہ راحیل کے کال نہ اٹھانے پر اتنی دور سے سب کچھ چھوڑ کر یہاں آ گئی ہے۔۔ اس لڑکی کی دیوانگی بڑھتی جا رہی ہے۔

نسرین جلال، میری  طرف چلتی ہوئی آئی، پھر میرے  گال پر ہاتھ پھیر کر بولی

نسرین جلال۔۔۔ کیسے ہو؟

میں بس اسے دیکھتا رہا، پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر داداجی کے پاس لے گیا۔

نسرین جلال(داداجی کے سامنے جھک کر) ۔۔۔سلام  داداجی

داداجی۔۔۔خوش رہو بیٹی۔۔ گھر چلتے ہیں، کھانے کا وقت  ہے وہیں بات کرتے ہیں۔ ابھی تم بھی دور سے آئی ہو، تھکی ہوئی ہوگی۔۔ (پھر پلٹ کر)۔۔کل حویلی میں دوپہر کو دعوت ہوگی، تو سبھی جشن میں ضرور آئیں۔

پھر ہم سب گھر آ گئے۔ آج داداجی کے رُتبے میں بہت سارے گاؤں جُڑ گئے تھے۔ وہ چاہتے تو اپنے تعلقات سے ایس پی کو نوکری سے ہٹا سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

رات کے 1 بجے، حویلی میں سب ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے۔ نسرین جلال اور نسرین باجی، داداجی کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ داداجی کو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ نسرین باجی کیپٹن  اجمل سلطان کی بیٹی ہے۔ وہیں، انہوں نے نسرین جلال کی آنکھوں میں بھی وہ سب دیکھ لیا جو دیکھنا تھا۔۔ ان کے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ تھی۔

پھر بہت ساری باتیں ہوئیں اور سب سونے چلے گئے۔ تینوں لڑکیاں ایک ساتھ ایک ہی کمرے میں تھیں، اور جب کومل سو گئی تو

نسرین باجی۔۔۔ اب  اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہو؟ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ جائیے، جس کے لیے اتنی دور آئی ہیں، ان سے ملو گی نہیں؟

نسرین جلال کھڑی ہوئی اور میرے کمرے  کے پاس آکر  کمرے کا دروازہ کھولا

اس نے دیکھا کہ میں  گہری نیند میں سو رہا ہوں۔ وہ آہستہ سے میرے  پاس آئی، فرش پر بیٹھ گئی، اورمیرے  چہرے کو دیکھنے لگی۔ پھر اپنا ہاتھ نکال کرمیرے  سر پر پھیرنے لگی۔وہ اتنے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی کہ میں نیند میں چونک گیا ۔اور میری نیند ٹوٹ گئی کیونکہ ویسے بھی میری تربیت ایسی ہوئی تھی کہ میں ایک آنکھ سے سوتا تھا۔ اور ہلکی سی بھی خلاف معمول کچھ ہونے سے فوراً میری آنکھ کھل جاتی ایسے جیسے کوئی اُٹھادے اور ہوشیار کردے۔

نسرین جلال کے لمس سے میری فوراً آنکھ کھل گئی اور میں پوری طرح سے ہوشیار ہوگیا لیکن ایسے ہی سوتا پڑا رہا ۔ اور سوچا کہ یہ کون ہے ۔ جو مجھ سے اتنا پیار جتا رہاہے۔ تبھی مجھے نسرین جلال کی ہلکی سی آواز سنائی دی جیسے وہ خود سے دھیمے لہجے میں بات کررہی ہو۔

نسرین جلال ۔۔۔ اتنے پاس آ گئے، مگر تم نے ایک بار بھی کال نہیں کی۔۔ تمہیں کیا پتہ ، میں تم سے دور کیسے رہتی ہوں؟ مگر تم ہو کہ کچھ سمجھتے ہی نہیں۔
پھر میرے  ہونٹوں پر ایک ہلکا سا کس  کیا۔ اُس کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے میرے پورے جسم میں جیسے بجلی کی ہلکی ہلکی لہریں سی ڈوڑ گئی۔ لیکن وہ بے خودی میں بڑبڑاتے ہوئے مسلسل کہتی جارہی تھی۔
نسرین جلال ۔۔۔ تم میرے دل کی حالت کب سمجھو گے راحیل؟ میں تم سے بے حد محبت کرنے لگی  ہوں۔۔ جب سے میں نے تمہیں سمجھا،  اور پھر میں جان گئی کہ میرے لیے تم سے بہتر کوئی نہیں ہوگا۔جب ہمارا پہلا ملن ہوا تھا تو اُس وقت بھی میں ایک طرح سےاپنا ہوش کھو بھٹی تھی نہیں تو میں اتنی کمزور نہیں ہوں کہ اپنا آپ کسی کو ایسے سونپ دوں ، لیکن تم پتہ نہیں ۔۔تم نے مجھ پر  کیا جادو کردیا کہ میں خود بھی بہتی رہی اور تمہیں بھی اپنے ساتھ بہاکر لے گئی جبکہ مجھے اچھی طرح سے پتہ چل گیا تھا کہ تم عورت کے جسم سے آشنا نہیں ہو۔ ۔اور میں نے تم پر اپنا جسم وار دیا۔میں  نے بہت سوچا کہ میں نے ایسا کیوں کیا لیکن میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ اور بس تم میرے دل میں بس گئے ہو۔ میری ہر تاؤیل کا میرا دل مجھے ایک ہی جواب دیتا ہے کہ میں تمہاری ہوں ، میرا جسم تمہارا ہے ، میری روح تمہاری ہے ،اور میرا دل بس تیرے ہی نام سے دھڑکتا ہے ۔۔ اور ہاں، مجھے پتہ ہے کہ میں تم سے عمر میں بڑی ہوں، مگر میں کیا کروں؟ ۔۔میرا خُود پر کوئی کنٹرول نہیں ، تمہار سوچ کے ہی میں بے خود سی ہوجاتی ہوں۔۔میں تم سے بے انتہا محبت کرتی ہوں۔۔آئی لو یو سومچ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page