Keeper of the house-135-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 135

دادا جی۔۔۔تمہاری ماں بہت نیک دل عورت تھیں۔ وہ تو بس تمہارے پاپا نے ایک اچھا کام کیا تھا، اس لیے انہیں پسند کر لیا، ورنہ شمائلہ  جیسی لڑکی اُس کو کبھی  بھی نہ ملتی۔ اسی نے تو اس گھر کو، گھر بنایا۔ جھگڑے اور لڑائیاں سب گھر کے باہر رکھوائیں۔ تمہیں یہ سن کر ہنسی آئے گی کہ جو لوگ تمہارے پاپا کے ساتھ رہتے تھے، وہ موت سے ہنستے ہوئے ملتے تھے، مگر تمہاری ماں کے سامنے ان کی نظر یں بھی جھک جاتی تھی۔ تمہاری ماں ان کے کان پکڑ لیتی تھیں، مگر سچ یہ تھا کہ وہ سب تمہاری ماں کو ‘بھابھی ماں’ کہتے تھے اور دل سے عزت کرتے تھے۔

میں ۔۔۔ دادا جی، میرے پاس ماں کی بس ایک ہی تصویر ہے، کیا میں ان کی اور پورے خاندان کی تصویریں دیکھ سکتا ہوں؟ میں سب کو دیکھنا چاہتا ہوں۔

دادا جی ۔۔۔ بیٹا، جب تم جاؤ گے تو ہم تمہیں پورا فوٹو البم دیں گے، جس میں پورے خاندان کی تصویریں بھی ہیں اور تمہاری ممی کے خاندان کی بھی۔ وہ لوگ شاید سب کچھ بھول گئے ہوں گے، خیر۔۔ جب وقت آئے گا تو تمہیں سب بتایا جائے گا۔ تمہارے ننھیال والے تمہارے پاپا کو پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ تمہارے پاپا تمہاری ماں کو بھگا کر لے آئے تھے۔ ان باتوں کو چھوڑو اور چلو، ہمارے ساتھ اندر آؤ۔

میں دادا جی کے ساتھ ان کے اسٹڈی روم میں آ گیا۔ انہوں نے ایک ریک سے ایک کتاب ہٹائی، تو ایک خفیہ راستہ کھل گیا۔ ہم اندر چلے گئے۔

دادا جی ۔۔۔ تم کوئی عام بچے نہیں ہو۔ تمہیں ابھی بہت کچھ جاننا ہے۔ تمہارے پاپا نے بے حد دولت کمائی اور عزت بھی بنائی، مگر ابھی کے لیے یہ لو۔۔  یہ کارڈ ہے تمہارے لیے، جس سے تم جتنا چاہو، اتنا پیسہ خرچ کر سکتے ہو۔

میں (حیرت سے)۔۔۔ کتنا، دادا جی؟

دادا جی (مسکرا کر): اتنا۔۔ جتنا تم سوچ بھی نہیں سکتے ہو۔ آؤ، تمہیں کچھ اور دکھاتے ہیں۔

پھر دادا جی نے ایک پینٹنگ کو ہٹایا، جس کے پیچھے ایک لاک سسٹم تھا۔ انہوں نے اس پر پاس ورڈ ڈالا، تو ایک طرف دروازہ کھل گیا۔ اندر سونے کی اینٹیں رکھی ہوئی تھیں۔

میں ۔۔۔یہ کیا ہے، دادا جی؟

دادا جی ۔۔۔ بیٹا، یہ سب تمہارے لیے ہے، جو آنے والے وقت میں کام آئے گا۔ بھروسے کے لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنا، پرکھنا، اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا۔۔ اور ابھی تو بہت کچھ باقی ہے۔ میں نے تمہیں سب سے چھپا کر رکھا، بس لوگوں کی امید اور تمہاری حفاظت کے لیے۔ ایسا نہیں کہ تمہارے دادا کے پاس طاقت نہیں ہے، مگر یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ کون اپنا ہے اور کون پرایا۔ اس لیے ہوشیار رہنا۔

میں ۔۔۔ جی، دادا جی۔

پھر ہم باہر آ گئے۔

میں ۔۔۔  دادا جی، میں ایک ہفتہ دارالحکومت میں  رہنا چاہتا ہوں۔۔ پھر وہیں سے کالج  چلا جاؤں گا۔ میں چاہتا ہوں کومل بھی اپنے ممی پاپا سے مل لے۔

دادا جی ۔۔۔ ضرور۔۔  ہمیں بھی تمہارے پاپا کے اسپتال اور کمپنیز کو سنبھالنے کے لیے جانا ہے، تو ہم ساتھ ہی چلیں گے۔ تم تیاری کر لو۔

میں۔۔۔ پرسوں چلیں گے، دادا جی۔ آپ بھی انکل سے مل لینا، بہت اچھے انسان ہیں۔

دادا جی ۔۔۔ ضرور

رات کا کھانا ہم سب نے مل کر کھایا۔ وہیں میں نے خانی چاچا کو کہا کہ میری بائیک میری  اگلی منزل  والے فلیٹ پر پہنچا دیں۔

رات کو سب سو چکے تھے، تب نسرین جلال آہستہ سے اٹھی اور میرے  کمرے کے باہر آ کر کھڑی ہو گئی۔ اس نے دھیرے سے دروازے کا لاک کھولا اور اندر جھانکا۔میں  گہری نیند میں تھا۔ وہ دروازے کے پاس ہی کھڑی ہو کر مجھے  تکتی رہی۔ پھر آہستہ سے اندر آگئی اورمیرے ماتھے پر ایک نرم بوسہ دے کر باہر آ گئی۔ جیسے ہی وہ پلٹی، سامنے چھوٹی چچی کو پایا۔

نسرین جلال ۔۔۔ وہ۔۔ میں۔۔ میں بس دیکھنے آئی تھی کہ راحیل سو گیا یا نہیں۔

چھوٹی چچی (مسکرا کر اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے)۔۔۔ تم بہت اچھی لڑکی ہو۔ کبھی اس کا دل مت دکھانا۔ پہلے ہی اس نے بہت دکھ دیکھے ہیں۔۔ ہمیشہ خوش رہو۔

یہ کہہ کر وہ چلی گئیں، اور پیچھے چھوڑ گئیں نسرین جلال کو، جس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ مگر چھوٹی چچی کی باتوں سے اس کے چہرے پر شرمیلی سی لالی چھا گئی، اور وہ مسکراتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔

اگلا دن بس ایسے ہی گزرا، مگر پورے دن نسرین جلال کے چہرے پر ایک خاص چمک تھی، جو نسرین باجی بخوبی سمجھ سکتی تھی۔

رات کو نسرین جلال کومیرے  پاس آنے کا موقع نہیں ملا، کیونکہ کومل کے سوالات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ لیکن رات ایک بجے وہ چپکے سے اٹھی، آہستہ سے میرے  کمرے میں پہنچی، دروازہ اندر سے بند کیا، موبائل میں صبح پانچ بجے کا الارم لگایا، اور میرے  قریب لیٹ کرمیری   بانہوں میں سمٹ گئی۔

نسرین جلال دل ہی دل میں۔۔۔ شاید یہی سکون پانے کے لیے ہر محبت کرنے والا بانہوں میں سمٹنا چاہتا ہے۔

یہ کہتے ہوئے اس نے میرے  لبوں کو نرمی سے چومنا شروع کر دیا۔

مجھ  کو جب اس لمس کا احساس ہوا تو میں نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں، نسرین جلال کو دیکھتے ہی مسکرا دیا اور اسے اپنی بانہوں میں کس  لیا ، اور میرے دل میں درد سا اُٹھا ۔ کہ یہ مجھے کتنا پیار کرتی ہے اور میں دل کے زخم چھپا کر رکھتا ہوں۔ اور پیار بانٹنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ لیکن جس پیار کی نسرین جلال کو ضرورت ہے وہ میں اُس کو نہیں دے سکتا۔ میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

راحیل  پاگل۔۔۔تم رو رہے ہو ؟ اففف ۔۔۔نسرین جلال نے ہاتھ بڑھا کر میرے گیلے رخسار کو چھوا اور بجلی کی طرح تڑپ کر میری آنکھوں کو چومنے اور چاٹنے لگی ۔۔وہ میرے آنسوں کو بھی ہاتھ سے صاف نہیں کررہی تھی کہ  کہیں ضایع  نہ ہوجائے۔۔انکے ہاتھ کا میرے رخسار پہ لمس۔۔آگے کو بڑھنے سے قریب آتا جسم۔۔اندھیرا ۔۔اور یہ قربت۔۔میں ملےجلے جذبات سے سلگ اُٹھا ۔۔میں نے انکے آنسو پونچھتے منہ کو اپنے  چہرے سے پیچھے ہٹایا۔۔۔مت صاف کریں۔۔۔

سوری ۔۔میں نے غلط کیا ؟؟؟ وہ منمنائی اور خود کو قصور وار سمجھنے لگی

نہیں تم نہیں ۔۔مگر یہاں  درد  زخم ہے ۔۔میں نے انکا ہاتھ دل پہ رکھا

نووومی وہ سسکیں اور میں نے انہیں اپنی طرف کھینچا۔۔اور وہ اور زیادہ میرے  میرے سینے میں گھس گئی۔

راحیل ۔۔۔۔وہ کسمسائیں۔۔

یہ کسمساہٹ اور بدن کی رگڑ۔۔۔۔۔میرے جسم میں دُکھ درد کے ساتھ ایک دوسری  میٹھی سی آگ بھڑک اٹھی

اُس کے جسم کی مہک۔۔اسکا نشیلا قرب۔۔اسکے بدن کی لرزش اور حدت۔۔۔۔میں ہوش کھو رہا تھا۔ اور مجھے پر شہوت کے جذبات غالب آنے لگے شاید میرے دل کے درد نے اپنی دوا کا کے لیئے جسم کو استعمال کرکے درد کو کم کرنے کی کوشش کی ہو۔ مجھے نہیں پتہ ۔لیکن میرا جسم ہولے ہولے لرزنے لگا۔میں نے بازووں کا گھیرا سخت کیا۔

پتہ ہے ۔۔تم بہت خوبصورت ہو۔۔بہت حسین ہو۔۔آپ کو دیکھ کر۔۔پتہ ہے میرا دل کیا چاہتا ہے ۔۔ میں نے بہکتی سرگوشی کی۔۔میرا جذبات سے برا حال تھا۔۔میرا لن فل راڈ ہوکر انکی رانوں سے جا ٹکرایا۔۔مخصوص سخت چھبن۔۔محسوس کرتے ہی اسکا بدن لرزا۔۔میرا لن انکی رانوں سے ٹکراتا انہیں لرزا گیا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page