Keeper of the house-136-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 136

کیا چاہتا  ہے ؟؟؟ انکی لرزتی سرگوشی گونجی

دل کرتا ہے کہ چوم لوں ؟ میں نے بہکتی سرگوشی کی

چوم لوں ؟ یہ جواب کے ساتھ سوال بھی تھا ؟؟ اظہار کے ساتھ اجازت بھی۔۔

لیکن میں پتہ نہیں کیوں خود میں ہمت نہیں پاتا ۔۔ اب جب تم میرے قریب خود آگئی ہو۔۔ تو میں پپ  پتہ نہیں۔۔ ایک عجیب وحشت نے آن گھیرا  ہے۔۔

اور میں ان پہ جھکا۔۔ایک لمحے میں میرے گرم ہونٹ اسکے سینے پہ جم چکے تھے۔۔سینہ شرٹ کے نیچے ۔۔میرے ہونٹ آدھے شرٹ اور آدھے نرم ابھار سے ٹکرائے ۔۔

سسسسس ررررااااااااحییییییلل۔۔۔۔اس نے گہری سسکی بھری

اور میں نے ہونٹ جمائے۔۔نرم ابھاروں کا لمس۔۔میں نے شدت سے ہونٹ اور رخسار سینےپہ پھیرے

سسسسس ررراااحیل ۔۔وحشی انسان ۔۔شیو چھببتی ہے۔۔نسرین جلال کی لرزتی آواز ۔۔کپکپاتا بدن اور اکساتی سرگوشی

میں نے چہرہ اوپر اٹھایا۔۔اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔

برا لگا ؟ میں نے عجیب سا سوال کیا ؟؟؟

اور آپکے ہونٹ۔۔میں نے ہونٹوں کو چھوا۔۔وہ کپکپائیں اور میں نے جھک کر ہونٹوں کو چوما۔۔یہ اس کے بھی ضبط کی انتہا تھی۔۔جیسے ہی میرے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے ٹکرائے وہ بھڑکیں اور میرے ہونٹوں کو شدت سے چوستی مجھ پہ چھاتی گئیں۔۔میں بھرپور جوان ۔۔اور وہ مجھ سے عمر میں بڑی لیکن میرے پیار میں دیوانی ۔۔اس کی جذباتی کسنگ نے مجھے دہلا دیا۔۔وہ پرشور ندی  کی طرح تھی۔ اور میں وحشت زدہ ۔۔۔

میرےہاتھ اس کے بدن پر وحشت سے بہکے۔۔جیسے کوئی ڈوبنے والا الٹے سیدھے ہاتھ مارے۔۔میرے بہکتے ہاتھ اس کی کمر سےپھرتے بیک تک گئے ۔۔لن نے  اس کی رانوں میں ٹکر ماری ۔

آہہہہہہہہ۔۔وہ بہکتے ہوئے سسکی ۔۔۔۔ اس کا لرزتاجسم۔۔سانسوں کی تیزی کچھ کہہ رہی تھی۔

میں نفس کے گھوڑے پہ سوار تھا۔۔ایسا لڑکا جسکے لیےاُس  کا جسم طلسماتی سراب تھا۔۔میں شدت سے آگے بڑھا اور انہیں بازووں میں کھینچا اور بےتحاشا چومنا شروع کر دیا۔۔میرے ہونٹ میرے ہاتھ میرا جوش۔۔میں قرب کے نشے میں بہکتا جا رہا تھا۔۔

میرے ہونٹ نسرین جلال کی گردن سے سینے تک پھرے۔۔اور نسرین جلال نے نشیلی کراہ بھری

سسس آااہ۔۔۔۔۔نسرین جلال کے ہاتھ میرے بالوں میں جمے۔۔اور اس نے سختی سے میرےہونٹوں کو سینے پر دبایا۔۔نرم چھاتیوں پہ ہونٹ دبتے گئے اور میں نے ہونٹ گھما کر پوریے کلیویج پہ گھما کر جسم رگڑا۔۔

ہاااااائے میں مرررر گئی رااااااحیل۔۔۔وہ میرے ساتھ لیٹی   ڈھے سی گئیں۔۔ اور میں نے اُسے اپنے نیچے کرتے ہوئے میں نسرین جلال پر لیٹتا بہکتا گیا۔۔میرے بہکتے ہاتھوں نسرین جلال کی چھاتیوں کو دباتے نیچےتک تھرکے اور نسرین جلال نے سسک کر تنےلن کو رانوں میں دبایا۔۔میں سخت ترین جسمانی ایکسرسائز اور میرا  صحت مند کسا ہواجسم   تھا۔۔۔میرا بھرپور موٹا تگڑا  لن نشیلے جھٹکے لیتا رانوں میں پڑکا۔۔رانوں کی نرمی اور گرمی۔۔وہ سسک کر مچلیں۔۔اور میرے ہاتھوں نے شرٹ  کو سرکایا۔۔یہ فطرت کی پکار تھی۔۔ میرے بہکتے ہاتھ نسرین جلال کے پیٹ سے ٹکرائے اور میں نے شرٹ  کو اوپر کھینچا۔۔نسرین جلال سدھ بدھ کھو چکی تھی۔۔میں شرٹ  کو کھینچتا  چھاتیوں تک لایا۔۔شرٹ چھاتیوں پہ اٹکی۔۔میں نے ہلکے زور سے کھینچا۔۔نسرین جلال نے بند ہوتی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور اپنی کمر چارپائی سے اٹھا دی۔۔جیسےہی کمر اٹھی میں نے شرٹ اوپر کھینچی اور چھاتیوں سے اوپر شانوں تک سرکا دی۔۔میرے ہاتھ انکی چھاتیوں پہ جمے اور میں نے شدت سے مسلا۔

سسسسس آااااہ ررااااااااااحیل۔۔میرے ہاتھوں کی سختی اور مسلنے سے نسرین جلال نے نشیلی کراہ بھری اور رانوں کو سختی سے کسا۔۔انکی پھدی دہک رہی تھی۔۔لن کے اوپر دہکتی پھدی اور گیلی ہوتی ٹراؤزر۔۔میں نے وحشت سے برئیزئر کھینچا اور نرم چھاتیوں پہ ٹوٹ پڑا۔۔میرے گرم ہونٹ ۔۔چھاتیوں کے موٹے نپلز کو چوستے ۔۔ہاتھ چھاتیوں کو دباتے تھرک رہے تھے۔

سسسس ااااف ہاااائے رااااحیللللل۔۔۔وہ مستی سے سسکیں

اس کے ہاتھ میری شرٹ سے گزرتے ننگی کمر پر پھرے۔۔میں نے نرم چھاتیوں کو چوس چوس کر انہیں بےحال کر دیا۔۔وہ پوری طرح گرم ہو چکی تھیں۔۔اندھیرے کمرے میں اس کی سسکیاں اور بہکتے ہاتھ میری شرٹ  کو اتار کر نجانے کہاں پھینک چکے تھے۔۔میرا بالوں بھرا سینہ نسرین جلال کے جسم سے ٹکرایا۔۔

سسس تتتیرے سسسینے پہ بببہت بال ہیں۔۔نسرین جلال نے وحشت سے سینے کے بالوں کو نوچتے ہوئے پوچھا

بببہت گھنے اور سیاہ۔۔میں نے مستی بھری سرگوشی کی۔۔لیکن آپکا جسم بہت چکنا ہے میں نے ہاتھ پیٹ سے ٹراؤزر  تک پھیرے اور انکا جسم سمٹا۔

ہاااے ۔۔اُس نے سسکی لی

میرے ہاتھ من مانی کرتے ٹراؤزر کو ہٹاتے پھدی تک پھسلے۔۔اور نسرین جلال نے فورا رانوں کو جوڑ کر سمٹنا چاہا۔۔میرا ہاتھ پھدی پہ پھسلا۔۔ہلکے بالوں کی چھبن اور چپچپاہٹ۔۔میرا  لوڑا پھٹنے کو تھا۔۔میں تھوڑا اوپر ہوا اور وحشت سے نسرین جلال کاٹراؤزر کھینچا۔۔ٹراؤزر گھٹنوں تک پھسلا۔۔نیم اندھیرے کمرے میں گوری رانیں چمکیں وہ تڑپیں۔۔اور میرے ہاتھ پھسل کر اس کی پھدی پہ جمے۔۔اس کی پھدی تھی گرم تندور۔۔میرا ہاتھ چکنی پھدی پہ پھسلا۔۔سخت مردانہ ہاتھ کی رگڑ سے اس کا بدن اچھلا۔۔۔

ہااائے میں مر گئی ۔۔

میں نے پھر ہاتھ رگڑا۔۔اسبار انگلی دانے کو رگڑتی انکی جان ہی لے گئی۔۔۔

ہاااائے میں مرگئی راحیل۔۔۔ وہ سسک سسک کر بولیں

میں تو جیسے فضاوں میں تھا۔۔نشیلی دھند اور مزہ۔۔میں نے فورا اپنا ٹراؤزر نیچے  کھینچا۔۔ اور لن تڑپ کر باہر نکلا۔۔ننگا لن سیدھا پھدی سے ٹکرایا

ہااائے راحیل۔۔۔وہ سسکیں اور میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر لن پہ رکھا

افففف رررراااااحیل۔۔۔اس کا ہاتھ لن پہ پھسلا اور اس نےسسک کر لن کو مٹھی بھرا۔۔اس کی نرم مٹھی سے لن جوش سے پھولا

ہااائے میں مر جاواااں۔۔۔بہت موٹا اور  لمبا ہے۔۔۔نسرین جلال کی بہکتی سرگوشی گونجی اور اس نے لن کو سختی سے دبایا۔۔لن لوہے کے راڈ کی طرح ٹائٹ تھا۔

اس کی نرم مٹھی میں میرا لن جھٹکے لے رہا تھا۔۔افففف نسرین جلال نے میرے لن کو دبایا اور پھدی پہ کھینچا

میں فورا اوپر ہوا اور نسرین جلال کا رہا سہا ٹراؤزر  بھی اتار کر دور پھینکا۔

ہااائے راحیل  میں مرگئی۔۔۔نسرین جلال کراہی

اور میں نے وحشت سے اسکی گداز رانوں کو کھولا اور خود درمیان میں آیا۔۔میرا تنا لن اس کی ابلتی پھدی پہ دستک دے رہا تھا۔۔میں جھکا اور نسرین جلال کی چھاتیوں کو وحشت سے چوستا لن کو پھدی پہ جما کر دھکا مارا۔۔لن پھدی سے پھسل کر بیڈ سے ٹکرایا

آرام سے راحیل۔۔۔ نسرین جلال نے میرے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر کہا

میں نے ہاتھ سے لن پکڑ کر دوبارہ پھدی پہ رکھا۔۔میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔میں نے لن پھدی پہ جما کر پھر سے دھکا مارا

یہ بھرپور وحشت کا جوشیلا دھکا تھا۔۔لن پھدی کو کھولتا ایک ہی دھکے میں آدھے تک گھسا۔

ہہہک آاااہ۔۔۔نسرین جلال نے سسک کر ہچکی لی۔۔اور وہ تڑپ کر کراہ گئی ۔۔اُس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کو روکا۔ لیکن اُس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

نسرین جلال کی تپتی پھدی میں میرا لن پھنس چکا تھا۔۔اور میری جوانی کی شروعات  کی وہ پہلی پھدی تھی۔۔پہلے اُس نے سیکھایا تھا، لیکن اب مجھے پتہ تھا کہ کیسے پھدی مارنی ہے ۔ کنول کی پھدی بجا بجاکر میں سیکھ گیا، تھا اور دوسری بات یہ کہ یہ فطرت ہے جو بندہ خود ہی سیکھ جاتا ہے۔

 پھدی کا اپنا نشہ اور اپنی گرمی ہوتی ہے۔۔۔نسرین جلال کی تنگ پھدی لن کو بھنچ رہی تھی۔۔مجھے ایسے لگا جیسے لن پر کوئ شکنجہ کس دیا گیا ہو۔۔ابھی میرے لنڈ 3 انچ ہی اندر گھسا تھا۔اور پھدی کسی بھٹی کی طرح تپ رہی تھی۔۔پھدی کی گرمی لن کو پگھلا رہی تھی۔۔میں نے تھوڑی دیر انتظار کیا، اور اُس کے مموں کو چوسنے اور مسلنے لگا۔پانچ دس منٹ ایسا کرنے کے بعد جب وہ تھوڑا نارمل ہوئی ۔تو میں تھوڑا سا اوپر ہوا۔۔اور نسرین جلال کی چھاتیوں کو مسلتے ہوئے اگلے دھکے میں آدھے سے زیادہ  لن گھسیڑ دیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page