Keeper of the house-137-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 137

ہہہ ہااااے میں مرگئی۔۔۔۔جیسے ہی  لن اندر گھسا نسرین جلال کا جسم تڑپا اور اس نے نشیلی کراہ بھری، اور ااپنی چیخ کو منہ میں ہی دبا دیا۔

میں خمار کی انتہا پر تھا۔۔میں نے لن واپس کیپ تک کھینچا۔۔اُس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور پھر دھکا دیا۔۔لن تنگ پھدی میں پھسلتا پورا گھسا۔۔۔نسرین جلال کی تڑپ اور سیکسی آہیں ۔۔میری وحشت اور نسرین جلال کی تڑپ ۔۔میں نے پھر سے تھوڑی دیر ویٹ کیا ، جیسے ہی اُس نے نیچے سے اپنی گانڈ ہلائی ، تو میں نے ہلکے ہلکے  لنڈ کو اندر باہر کرنے لگا ۔۔5 منٹ آرام آرام سے اندر باہر کرتے جیسے ہی اُس کی پھدی نے لنڈ کو ایڈجسٹ کیا میں نے ہلکی سی سپیڈ تیز کی ۔۔ادھر میں نے سپیڈ تیز کی ادھر اُس نے مجھے اپنی ٹانگوں میں جھگڑا۔۔اور باہوں میں مجھے کس لیا۔۔اور اُس کا جسم جھٹکے لینے لگا۔۔اور میرے لنڈ پر پر گرم پانی کی بوچھاڑ ہوگئی ۔۔میں بھی اُس کی جگڑن کی وجہ سے تھوڑی دیر رک گیا، کیونکہ اُس نے مجھے بہت کس کر پوری جان لگا کر پکڑا ہواتھا۔۔ جیسے ہی اُس کی پکڑن ڈھیلی ہوئی میں نے پھر سے اُس کی پانی بہاتی پھدی میں لنڈ اندر باہر کرنا شروع کیا۔ اور آہستہ آہستہ میری سپیڈ بڑھنے لگی تھوڑی ہی دیر میں وہ پھر سے گرم ہوکر سسکنے لگی ۔۔اور آہیں بھرنے لگی ۔

 اُس کی گرم آہیں اور سسکیاں میرا جوش اور بڑھانے لگی اورمیں پورے جنون میں بھرپور پمپنگ کر نے لگا۔۔

لنڈ اور پھدی کے ملاپ نے  ایسی پچ پچ پچک پچک کی کہ نسرین جلال بےحال ہو کر رہ گئی۔۔اسکا جنسی اشتعال بھی عروج پہ تھا ۔۔اور ہوتا بھی کیوں نا۔۔میرے جیسا  ہٹا کٹا مظبوط بدن لڑکا جو اس پر چڑھا ہوا تھا۔

آااہ ہاااااے راحیل ۔۔۔۔نسرین جلال کی کراہ گونجی

اس کی کراہیں مجھے اکسا رہی تھیں۔۔میں تھوڑا اوپر ہوا۔۔لن پورا باہر نکال کر دوبارہ جمایا نسرین جلال کی ٹانگوں کو  کندھوں پر رکھا اور بھرپور دھکا مارا۔۔یہ جوشیلا  دھکا تھا۔۔لن سیدھا بچہ دانے تک گھسا اور نسرین جلال کی بلند کراہوں سے کمرہ گونج اٹھا۔

ہاااائے میرا لک ۔۔ہاااے میرا اندر۔۔وہ تڑپیں۔

اس کی گرم پھدی مجھے پاگل کر چکی تھی۔۔زیادہ سے زیادہ پندرہ  سے بیس   منٹ۔۔ لیکن یہ پندرہ  سے بیس   منٹ بہت طوفانی تھے۔۔میرے جوشیلے دھکوں اور تگڑے لوڑے نے نسرین جلال کو ہلا کر رکھ دیا۔۔وہ بھی تو  پیاسی تھی اور میں بھی جوشیلا ۔۔۔۔۔میرے اندر طوفان اٹھ رہے تھے۔۔ تیز طوفان میری وحشت کو بڑھا رہا تھا۔۔پیڈ پر  میرے جوشیلے دھکے بیڈ کو بھی ہلارہے تھے۔۔مزےکی طوفانی لہریں پورےجسم سے ہوتی ٹٹوں سے لن تک آئیں۔۔میرے دھکے تیز ہوئے۔۔بیڈ لرز رہاتھا۔۔نسرین جلال کا اکڑتا بدن ۔۔اور میرے شدت بھرے جھٹکے۔۔میں پہلے آرگیزم کے بہت قریب تھا۔۔میرا جسم اکڑا۔۔لن نے جھٹکے لیے ۔۔میرے دھکے تیز ہوئے۔۔اور لن سے مزے کی پچکاری نکلی۔۔

افففففف  یہ میرا آج کا  آرگیزم اور وہ بھی پھدی میں۔۔میرا جسم اکڑ چکا تھا۔۔میرے ہاتھ نسرین جلال کی چھاتیوں کو سختی سے دبوچے ہوئے تھے۔۔اور لن اسکی پھدی کو اپنے رس سے بھر رہا تھا۔۔میں زور دار جھٹکا دیتے نسرین جلال کے اوپر گرا۔۔تب نسرین جلال کی پھدی سکڑنا شروع ہوئی۔

ہاااائے رررررررررااااااااااااااحیل ۔۔۔اس کی ٹانگیں میرےشانوں سے کھسکتی کمر کےگرد قینچی ہوئیں۔۔بازوں میرے گلے کے گرد پوری طاقت سے ۔۔اففف اس کی سخت پکڑ۔۔ مجھےایسے لگا میرا دم گھٹ جائےگا۔۔نسرین جلال کی رانیں مجھے جکڑ رہی تھی اوربازوں بھینچ رہے تھے۔۔ سکڑتی سمٹتی پھدی لن کو نچوڑتی جا رہی تھی۔

آااااہہہہ ہہہااااائے ممممییں گگگگئی ۔۔نسرین جلال کے جسم نے جھٹکا لیا۔۔۔پھدی سے گرم پانی پھوٹا۔۔نسرین جلال آکٹوپس کی طرح مجھے بانہوں اور ٹانگوں کے شکنجے میں کستی۔۔میرے ہونٹوں کو شدت سے چوستی پوری شدت سے چھوٹ رہی تھی۔۔میں مستی سے نسرین جلال پہ گرا تیز سانسیں بھرتا مدہوشی کی  دھند میں ڈوبتا جا رہا تھا۔۔لن سے نکلتی پچکاریاں ختم  ہوئیں۔۔اکڑا لن ابھی بھی اُس کی پھدی میں پڑک رہاتھا۔

ہااااائے میری جان نکل گئی۔۔۔ نسرین جلال نے بھاری آواز میں سرگوشی کی اور جسم ڈھیلا چھوڑتی بیڈ  پہ بکھر گئی۔۔اسکے بازووں اور ٹانگوں کا شکنجہ نرم ہوا۔۔چکنی ٹانگیں میرے جسم سے پھسلتی بیڈ پر بے جان انداز سے گریں اور بازو ٹوٹی شاخوں کی طرح دائیں بائیں بکھرے

جذبات کا طوفان تھم رہا تھا۔۔جیسےہی جذبات کا دریا اترا۔۔میں کانپ اٹھا۔۔یہ کیا ہوگیا راحیل ۔۔۔۔۔تو نے نسرین جلال کو چود ڈالا۔۔ جو  صرف اپنی محبت  میں میرے بیڈ پر میرے ساتھ آگئی تھی۔۔میں نے کیا کیا سوچا تھا۔۔میرے ضمیر نے ملامت کی۔۔لیکن اب کیا حاصل۔۔نسرین جلال پھر سے میرا ملاپ ہوچکا تھا۔۔تو میں نے سوچا کہ سب کچھ وقت کے دھارے چھوڑ دیتا ہوں وقت خود فیصلہ کرے گا۔ کہ میرے لیئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔

میں نسرین جلال کو اپنی باہوں میں سمٹ کر دوبارہ سو گیا۔ میری  بانہوں میں سمٹ کر نسرین جلال کو بھی مکمل سکون مل گیا اور وہ بھی میٹھی نیند کی وادی میں کھو گئی۔

صبح الارم بجنے سے میری  آنکھ کھلی، میں نے دیکھا کہ میری ایک  ٹانگ نسرین جلال کے اوپر تھی اور نسرین جلال ابھی بھی میری بانہوں میں تھی۔

نسرین جلال(مسکرا کر) ۔۔۔ گڈ مارننگ

یہ کہہ کر اس نے میرے  لبوں پر ایک میٹھا بوسہ دیا۔

میں نے بھی مسکراتے ہوئے ۔۔۔ گڈ مارننگ

پھر میں نے بھی جواباً اسے ایک کس کیا۔

میں نے نسرین جلال کی گہری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
میں ۔۔۔ میری زندگی میں آنے کے لیے شکریہ

نسرین جلال (محبت سے)۔۔۔ ہمیشہ رہوں گی، سمجھے؟

میں۔۔۔ بالکل۔۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں، لیکن فی الحال مجھے ایک ڈیپ کس چاہیے۔

یہ کہتے ہی میں نے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر لیا اور گہری محبت سےبھرپور کس کرنے لگا۔

کافی دیر بعد جب میں پیچھے ہٹا تو نسرین جلال کی آنکھیں بند تھیں، اور اس کی سانسیں تیز ہو چکی تھیں۔

نوک نوک نوک

دروازے پر دستک ہوئی۔

میں۔۔۔کون ہے؟

دوبارہ دستک

میں۔۔۔ نسرین جلال، جلدی سے باتھ روم میں جاؤ۔

نسرین جلال فوراًاپنے کپڑے سمیٹتی  باتھ روم میں گھس  گئی۔کیونکہ ہم ابھی تک ننگے ہی تھے۔ میں نے بھی جلدی سے ٹراؤزر پہنا اور دروازہ کھولا تو سامنے کومل کھڑی تھی۔

کومل(غصے سے) ۔۔۔ کب سے دروازہ بجا رہی ہوں۔۔ کہاں تھے آپ؟ اور یہ دروازہ بند کیوں تھا؟ پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا؟

میں (شرارت سے) ۔۔۔ میری دوسری ماں۔۔ غلطی ہو گئی، پتہ نہیں کیسے دروازہ بند کر دیا تھا۔

کومل۔۔۔اچھا، اچھا۔۔ تیار ہو جاؤ، ہمیں نکلنا ہے۔۔ اور یہ محترمہ نسرین جلال کہاں غائب ہو گئیں؟

میں۔۔۔انہیں صبح صبح کافی پینے کی عادت ہے، نیچے گئی ہوں گی، دیکھ لو

کومل (آنکھیں ٹیڑی کرتے ہوئے) ۔۔۔آپ کو تو سب پتہ ہے۔۔ خیر، جلدی تیار ہو جاؤ

جیسے ہی کومل چلی گئی، میں نے نسرین جلال کو اس کے کمرے میں بھیجا وہ باتھ روم میں اب تک اپنے کپڑے پہن چکی تھی۔اور خود بھی نہا دھو کر تیار ہو گیا۔ پھر ہم سب نے اچھے سے ناشتہ کیا اور دارالحکومت  کے لیے روانہ ہو گئے۔

کومل کو  جیولری، کپڑے اور نہ جانے کیا کچھ دادی، دادا اور چچی نےدیئے تھے ۔ نسرین باجی کو دو سونے کے کڑے ملے، جبکہ نسرین جلال کو دادا جی نے کیا دیا، یہ معلوم نہ ہو سکا۔ مگر چچی نے اسے اپنی ماں کا ہار دیا اور ڈھیر سارا پیار دیا، جس سے اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ آج پہلی بار اسے احساس ہوا کہ خاندان کا پیار کیا ہوتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page