Keeper of the house-139-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 139

کھانے کے بعد سب باہر لان میں آ گئے۔ میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا کومل کے پاس پہنچا۔

میں۔۔۔ مجھے معاف کر دو، میری بہن۔۔ میں نے غلطی کی۔۔ لیکن کیا کروں؟ جس کے ماں باپ کو اس کے اپنے لوگوں نے دھوکے سے مار دیا ہو، جو دشمنوں کے ساتھ مل گئے ہوں، وہ کیا کرے؟ تم ہی بتاؤ؟

کومل میرے گلے لگ کر رونے لگی۔ وہ ظاہری طور پر تو شرارتی تھی، لیکن اندر سے بہت سمجھدار بھی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ ناراض نہیں رہی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ میرا غصہ کس بات پر تھا۔ بس وہ ڈر گئی تھی۔۔ کیونکہ سامنے اس کے والد کھڑے تھے۔ وہ میری حالت کو بھی خوب سمجھتی تھی۔

کچھ دیر کے  بعد جب ہم سب لان میں بیٹھےتھے تو میں نے کاشف حیات سے پوچھا۔

میں۔۔۔ اب بتائیے، انکل! آپ کی ملاقات پاپا سے کیسے ہوئی؟

٭٭٭٭٭٭٭

اب کہانی تیسری شخصیت یعنی ڈرائیور اور کاشف حیات انکل کے نقطۂ نظر سے آگے بڑھے گی۔

کاشف حیات انکل کا ماضی

کاشف حیات انکل۔۔۔ یہ ملاقات کچھ یوں ہوئی، بیٹا۔۔ تقریباً بیس سال پہلے، جب میں دارالحکومت میں انسپکٹر تھا، ہمیں خبر ملی کہ سب سے زیادہ مطلوب مجرم، جو ہتھیاروں کا غیر قانونی سوداگر تھا، جھونا بستی میں پہنچ چکا ہے۔ اور اس نے دارالحکومت  کے ایک بڑے بزنس مین اور اس کے خاندان کو اغوا کر لیا ہے۔

یہ بستی جرائم پیشہ لوگوں کا گڑھ تھی۔ وہاں کوئی قانون نہیں تھا، صرف طاقت چلتی تھی۔ عام پولیس وہاں قدم رکھنے کی ہمت نہیں کرتی تھی۔ مگر میرے سر پر ایمانداری کا بھوت سوار تھا۔ میں جرم کو اپنی آنکھوں کے سامنے نہیں دیکھ سکتا تھا، اور یہ کیس میرے ہی تھانے کا تھا۔ میں نے 25 پولیس اہلکاروں کو ساتھ لیا اور چپ چاپ اسے پکڑنے نکل پڑا۔ میرا ارادہ اس کا وہیں انکاؤنٹر کرنے کا تھا، اور شاید میں کر بھی دیتا، اگر۔۔ اگر کوئی غدار ہمارے بیچ نہ ہوتا۔

ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی کسی نے دشمنوں کو خبر دے دی۔ جیسے ہی ہم وہاں پہنچے، ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔ ہمارے پاس بس ایک ہی آدمی بچا، ہمارا ڈرائیور، جسے میں نے پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ باقی ہم سب بری طرح پھنس چکے تھے۔ ہمارے آس پاس 300 سے زیادہ خطرناک مجرم تھے۔ وہ قانون کو مذاق سمجھتے تھے، جب چاہے کسی کو اٹھا لیتے، جب چاہے کسی کو مار دیتے۔ یہاں تک کہ وزیر اور منسٹرز  بھی ان سے ڈرتے تھے، کیونکہ کئی سیاستدانوں کے تعلقات ان کے ساتھ تھے۔

ہماری موت ہمارے سامنے تھی۔۔ ہمیں بچانے کوئی نہیں آ سکتا تھا، کیونکہ کوئی بھی ان کے خلاف جانے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ ان سب کا سرغنہ ‘رانا’ تھا، ایک سات فٹ لمبا درندہ، جس کے نام سے پولیس کے بڑے افسران تک کانپتے تھے۔ وہ ان کے لیے ہر غیر قانونی کام کرتا تھا۔

ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے، بس اوپر والے  کو یاد کر سکتے تھے۔ مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں تھی، مگر غصہ بہت تھا، خاص کر اس غدار پر، جس نے ہمیں دھوکہ دیا۔ میں بس اسے ایک بار اپنے ہاتھوں سے ختم کرنا چاہتا تھا۔

جب ڈرائیور کو معلوم ہوا کہ ہم پکڑے جا چکے ہیں، تو اس نے تھانے اور دیگر اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر کسی نے اس کی نہیں سنی۔ جب ہر جگہ سے مایوس ہو گیا، تو اچانک اسے یاد آیا کہ ایک ایسی جگہ ہے، جہاں شاید اس کی سنی جائے۔ وہ فوراً اپنی جیپ لے کر وہاں بھاگا۔

گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی، کیونکہ وقت بہت کم تھا۔ وہ تیزی سے ایک عالی شان حویلی کے سامنے پہنچا، جہاں ایک تختی لگی تھی۔
‘رانا مینشن’

وہ گھبرایا ہوا گاڑی سے اترا اور دروازہ بجانے لگا۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلا، اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کی سانسیں رک گئیں۔ سرخ آنکھیں، لمبی داڑھی، اور سات فٹ کا قد۔۔ وہ ہل گیا۔

لیکن پھر بھی ہمت کر کے بولا۔۔۔ مجھے رانا عقیل جی سے ملنا ہے

اس دیو قامت شخص نے غور سے اس کے چہرے کی دہشت دیکھی، پھر نرمی سے کہا۔۔۔آپ اندر چلیے، بیٹھک میں انتظار کریں۔ وہ کھانے سے فارغ ہو کر آ رہے ہیں۔

ڈرائیور کانپتے قدموں سے اندر گیا اور بے چینی سے چکر کاٹنے لگا۔ کچھ ہی دیر بعد، چھ فٹ کا ایک خوبصورت نوجوان اندر داخل ہوا۔ اس کا گورا رنگ، چہرے پر مسکراہٹ، موچھیں، اور گھنی داڑھی۔۔ عمر کوئی 24 سال رہی ہوگی۔ اس کے پیچھے وہی سات فٹ کا دیو ہیکل شخص کھڑا تھا۔

یہ کہانی اب شدت اختیار کر رہی ہے، جہاں ایک ایماندار ڈرائیور مدد کے لیے ایک ایسے شخص کے در پر پہنچا، جس کا نام ہی دہشت کی علامت تھا۔امید کی آخری کرن

ڈرائیور گھٹنوں کے بل گر کر بولا۔۔۔  مالک۔۔ اب صرف آپ ہی ہماری مدد کر سکتے ہیں۔۔ صرف آپ ہی ۔

وہ شخص، جو کرسی پر بیٹھا تھا، سکون سے اسے دیکھ کر بولا ۔۔۔ ہمم۔۔  پہلے آپ کھڑے ہو جائیے، آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں۔

پھر اس نے پلٹ کر آواز دی۔۔۔ علی۔۔ انہیں پینے کے لیے کچھ دو۔ اور ہاں، اب بتائیے، کیا مسئلہ ہے؟

ڈرائیور نے کانپتی آواز میں ساری کہانی سنائی۔۔ کیسے انسپکٹر کاشف حیات اور اس کی ٹیم جھونا بستی میں پھنس چکی تھی، کیسے انہیں چاروں طرف سے گھیرا جا چکا تھا، اور کیسے موت ان پر منڈلا رہی تھی۔

وہ شخص کچھ دیر خاموشی سے سنتا رہا، پھر گہری سانس لے کر بولا۔۔۔ لیکن  ہم اس معاملے میں آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں؟ یہ آپ کے سرکاری محکمے کا کام ہے، اور ہم سرکار سے دور رہتے ہیں۔

ڈرائیور نے بے بسی سے کہا۔۔۔ آپ ایسا مت کہیے! وہاں جو پولیس والے گئے ہیں، وہ صرف ایماندار ہی نہیں، بلکہ سچے جانباز بھی ہیں۔ وہ ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جان دینے پر آمادہ ہو گئے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں موت یقینی ہے۔ ایک معصوم خاندان بھی وہاں قید ہے۔ آپ خود بتائیے، کیا ایسے لوگوں کو بچانا ہمارا فرض نہیں؟ جو جانتے بوجھتے بھی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے۔

یہ سن کر وہ شخص چند لمحے خاموش رہا۔ شاید سوچ رہا تھا۔۔ اور پھر بولا ۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔ ان کو کچھ نہیں ہوگا۔

پھر اس نے علی کی طرف دیکھا
علی

جی بھائی؟

سالار اور عمرخان کو فوراً فون کرو، انہیں یہاں بلاؤ۔ اور دانش، الیاس اور جمال کو بھی بلاؤ۔ انہیں کہنا کہ بہت جلدی ہے

علی نے فوراً لینڈ لائن سے کال ملائی، اور تمام لوگ رانا مینشن کی طرف روانہ ہو گئے۔

ڈرائیور خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا۔ اور وہ شخص۔۔ وہ بس آرام سے چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔ اس کے چہرے پر نہ کوئی خوف تھا، نہ کوئی پریشانی۔ بس یہ سکون دیکھ کر ڈرائیور کے پسینے چھوٹنے لگے، کیونکہ اسے اچھی طرح پتہ  تھا کہ یہی شخص  تھا جو سندھ اور پنجاب میں کیا قیامت ڈھا چکا تھا۔ اور اب وہ رالحکومت  میں تھا۔۔تو یہاں کیا ہونے والا ہوگا؟۔

سب آگئے جن کو بُلایا گیا تھا،  اُنہوں نے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی کچھ پوچھا ، بس اپنے اپنے ہتھیار لیئے اور دوگاڑیوں میں سوار ہوگئے۔ ایک گاڑی سب سے آگے تھی، جو کہ فورویل نہیں ایک ہیوی بائک تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page