Keeper of the house-143-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 143

میں سالا کیا جواب دوں، سمجھ سے باہر ہو گیا، میرا تو پوپٹ ہی ہو گیا، شرم سے کیا کہوں، باجی پاس میں ہی تھی۔   

کومل — باجی ، آپ بھائی سے اس طرح چپک رہی ہو جیسے کوئی بھولا بھٹکا محبوب  مل گیا ہو، آپ میری باجی  ہوئی تو پھر۔۔ بھائی کی بھی؟

اس سے پہلے کہ وہ بات پوری کرتی، اریبہ بول پڑی۔

اریبہ — ارے چِل چِل یار، اتنے دنوں بعد ملی ہوں تو ایکسائٹمنٹ میں ہو گیا۔

نسرین سُلطان — باقی باتیں راستے میں، اوکے، جلدی چلو۔

نسرین جلال — (دل میں) ہوں، تو یہ بھی راحیل کو لائیک کرتی ہے، ہائےاوپر والے ، جان ہی لو گے کیا میری، صرف یہی تو مانگا ہے پوری زندگی میں آپ سے، آپ تو بچی کی جان لے کر ہی مانو گے۔

٭٭٭٭٭

اور یہ سب نکل گئے مووی اور شاپنگ کے لیے۔۔تو  ہم انہیں  یہیں پر چھوڑتے ہیں اور چلتے ہیں ایک گاؤں میں۔۔ دیکھتے ہیں کہ آخر وہاں ایسا کیا ہے جس کا اس  کہانی میں اس کا ذکر ہو۔

٭٭٭٭٭

مہتاب او مہتاب 

آئی چاچا

مہتاب — ہاں چاچا جی۔ 

بابا — بیٹی، سارا گھر کا کام سنبھالتی ہے، خود کا بھی خیال رکھا کر، میں چاہتا ہوں تو پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے تو تیرے پاپا کو میں اوپر منہ دکھانے کے قابل ہو جاؤں۔۔بہت  کام کرنے والے ہیں نہ۔

مہتاب — چاچا، میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی، مجھے کوئی شادی نہیں کرنی۔۔۔ اورواپس  اندر چلی جاتی ہے۔ 

چاچی — بس بس، تعریف کروا لو، آپ کو بس یہی نظر آتی  ہے آگے پیچھے۔۔ اور یہ شیطانوں کی نانی ہے، بس آپ کے سامنے بھولی بنتی ہے۔

چاچا — او جلی۔۔ خود کی سگی بیٹی بھی اتنا کام نہ کرے جتنا مہتاب کرتی ہے، پچھلے دس سالوں سے تیری پاؤں کی مالش، گھر کا سارا کام، مجھے سنبھالنا، اور پورے شہر میں نام روشن تو کر دیا ہے پڑھائی میں، اور کیا چاہیے تجھے۔۔ اور بچی ہے، شرارتیں تو کرے گی ہی۔

چاچی — ہاں، سر پر چڑھا لو، آج ہی پڑوس میں دینو کو پیٹ کر آئی ہے۔۔

چاچا — ہا ہا ہا ہا، ضرور اسی نے تنگ کیا ہوگا۔۔ کرنے دے اسے جو دل میں آئے، بارہویں کے بعد چلی جائے گی، میرا دل  نہیں ہے اسے بھیجنے کا، لیکن  اس کے خوابوں کو توڑ نہیں سکتا ہوں۔

ادھر مہتاب شادی کے نام سے ہی شرما کر کمرے میں آ گئی تھی، تبھی اس کی بہترین دوست صغراں آئی اور اسے شرماتے دیکھ کر۔

صغراں — اوئے اوئے میری جان، آج شرما رہی ہے۔۔کیا کوئی پسند آ گیا ہے؟

مہتاب — چل ہٹ، مجھے ایسے کام پسند نہیں۔۔ تجھے پتا ہے نہ مجھے پڑھنا ہے اور کچھ بننا ہے۔۔ چاچا چاچی کا نام اونچا کرنا ہے۔

صغراں — تو میری دھنو، شادی تو کرے گی ہی یا وہ بھی نہیں کرے گی؟ ویسے کیسا لڑکا پسند ہے۔۔میری دھنو کو؟

مہتاب — تو پھر شروع ہو گئی۔

صغراں — بتا نہ یار

مہتاب کھڑی ہوئی اور پھر بولی۔

مہتاب — مجھے پیسوں والا نہ ہو تو بھی چلے گا۔۔سمارٹ نہ ہو تو بھی چلے گا۔

صغراں — ارے تو کیسا چاہیے؟ 

مہتاب — میرا شہزادہ تو  ایسا ہو،کہ  وہ میری کیئر کرنے والا ہو۔۔ رشتوں کو جوڑنے والا ہو۔۔ اور میری عزت کرنے والا ہونا چاہیے۔۔ جسے میں بے انتہا پیار کروں، وہ بھی مجھے بے انتہا پیار کرے، بس۔۔ اتنا سا۔

صغراں — او مرجاؤاں  گُڑ کھاکے۔۔ پھر تو کنواری ہی مرے گی تو۔۔ میں چاچا کو بول دیتی ہوں کہ آپ کی مہتاب کنواری ہی مرے گی اور آپ اس کی شادی کی ٹینشن میں ہارٹ اٹیک سے۔۔ ہا ہا ہا۔ 

مہتاب — رُک جا کمینی، رُک، تجھے میں بتاتی ہوں، مذاق اڑاتی ہے۔

صغراں — بڑی آئی خوابوں کے شہزادے والی۔

مہتاب پیچھے رُک کر آسمان کو دیکھتی ہوئی بولی۔

مہتاب — ہمم، آئے گا صغراں، ضرور آئے گا، اور میں اسے پھر جانے نہیں دوں گی۔۔ کان پکڑ کر اپنے پاس چھپا کر رکھ لوں گی۔۔ جانے ہی نہیں دوں گی۔

اور لگ گئی اپنے کام میں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اسی وقت شہر میں

 میں نے فلائٹ بک کر دی ہے، شازیہ کو سوئٹزرلینڈ لے کر چلیں گے۔۔ شاید کوئی بات شیئر کرے، تمہارا بھائی بھی تو وہیں ہے۔۔ ہم کل نکلیں  گے، اسکول سے پرمیشن لے لی ہے میڈیکل کا کہہ کر۔۔ تو اس لیئے اسکول کی طرف سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی، جب تک شازیہ ٹھیک نہ ہو جائے۔

شازیہ کی ماں — ٹھیک ہے جی، میں پیکنگ کرتی ہوں۔

اوپر والی منزل میں ایک خوبصورت سے کمرے میں بستر پر شازیہ الٹی لیٹی ہوئی تھی  اور اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔۔ آج اسے آئے ہوئے 20 دن سے زیادہ ہو گئے ہیں، لیکن اس کے چہرے پر ایسے تاثرات تھے  جیسے اس نے سب کچھ کھو دیا ہو،وہ خود میں اتنا کھوئی ہوئی تھی کہ  اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا کہ آس پاس کیا ہورہا ہے،اور کیا نہیں۔۔ اس کی تو دنیا ہی بدل   گئی تھی، اسے تو بس رہ رہ کر ایک ہی بات روز دن رات سوئی کی طرح چبھتی اور بے چین کرتی رہتی ، جو اس کے دماغ میں سوتے جاگتے گونجتی رہتی ۔

ایک بار مجھ پر یقین کرو۔۔ میں وجہ نہیں بتا سکتا ہوں تمہیں

راحیل۔۔۔ آئی ایم سوری، میں تمہارے لائق نہیں ہوں، تم صحیح تھی، اور ٹرسٹ می، میں کبھی تمہارے سامنے نہیں آؤں گا، اور آیا تو اجنبی ہی ہوں گا، مجھ غریب سے دُور رہنے میں ہی تمہاری بھلائی ہے۔۔ آئی ایم سوری، لیکن  اتنا ضرور کہوں گا کہ میں نے تمہیں بے انتہا پیار کیا تھا۔۔ اور میرا پیار  سچا  تھا، اتنا ہی سچا جتنا روشن  آسمان ہے، اتنا ہی گہرا جتنی سمندر کی گہرائی ہے۔

یہ آخری الفاظ روز اس کی روح کو چیرتے تھے، اور کچھ دن بعد جب اس کی ملاقات اسکول میں ہوئی تو وہ اجنبی ہی بنا رہا۔۔ کاش اس وقت اس کی مجبوری سمجھی ہوتی، وہ تو ایک لڑکی کو بچا رہا تھا، وہ کیسے ہوس کا بھوکا ہو سکتا تھا۔۔ جب کہ وہ میرے ساتھ سب کچھ کر سکتا تھا،لیکن  اس نے کبھی نہیں کیا اور نہ ہی اُس نے کبھی کوشش کی اس طرح کی۔

اصل میں شازیہ کو آنے کے تین دن بعد کنول  کا گفٹ یاد آیا، اس نے کھولا تو اس میں لیٹر تھا اور اس میں ایک میموری کارڈ تھا۔ جب شازیہ نے چلایا تو دو فولڈر تھے، جن میں ایک ویڈیو اور ایک آڈیو تھی۔ جب شازیہ نے چلایا تو اس کی آنکھیں پھٹی  کی پھٹی رہ گئیں، جس میں روی اور جاوید اس کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے اسے راحیل کو سیکس کے لیے فورس کر رہے تھے اور ویڈیو کا کہہ کر بلیک میل کر رہے تھے، اور ایک آڈیو تھی کنول  کی، جو سچ بتا رہی تھی کہ کیا ہوا، کیسے راحیل نے بچایا اسے ۔یہ سب سن کر اور دیکھ کر اس کے آگے سب کلیئر ہو گیا تھا، اور تب سے ہی وہ جذبات اور کھونے کے ڈر میں ڈوبتی چلی گئی، اور اسے محسوس ہوا کہ اس نے کیا کھو دیا دوسروں کی باتوں میں آ کر۔۔ اور پھر اس نے روشنی  اور کرن  سے ڈرا دھماکے کے کلیئر کیا تو کنفرم ہوتے ہی اسے اس کی دنیا لٹتی نظر آئی، اور وہ اس حال میں آ گئی جو ہر وقت راحیل سے معافی مانگتی رہتی تھی۔۔ اس کی آنکھوں کے آنسو کبھی خشک ہی نہیں ہوتے تھے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page