Keeper of the house-144-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 144

آئی ایم سوری راحیل، پلیز مجھے معاف کر دو، میرا غرور، میرا مان ، میرا دل، سب ٹوٹ گئے ہیں، تمہارے بغیر اب میری زندگی کا کوئی وجود نہیں، آئی ایم سوری، پلیز آ جاؤ۔۔  میں کبھی شکایت نہیں کروں گی، جو تم کہو گے وہ مانوں گی، تمہیں جو اچھا لگے وہ کرنا، کبھی سوال نہیں پوچھوں گی، لیکن  میری زندگی میں واپس آ جاؤ، پلیز آ جاؤ۔

 اور اس کے آنسو پھر سے بہ نکلے۔۔ روز بس یہی دن رات سوچتی رہتی تھی ۔۔ اس کے جینے کی خواہش، اس کی امید بس راحیل ہی تھا، اور ڈاکٹر نے بھی کہہ دیا تھا کہ اسے اس ڈیپریشن سے باہر نکالیے، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

اور  ایسی بھی ایک لڑکی تھی جو راحیل کے احسانوں کے بوجھ تلے  دبی تھی، کنول، جو فی الحال کامرس کی پڑھائی کر رہی تھی۔ چھٹیوں میں بھی اسے اب دوستی کا فرض نبھانا تھا، وہ اس قابل بننا چاہتی تھی کہ دوبارہ راحیل کے پاس جا سکے۔۔ اس لیے دن رات بزنس کی پڑھائی کرتی رہتی تھی۔۔ کیونکہ اسے ہر حال میں اس کے پاس جانا تھا، اب یہ دوستی تھی یا پیار، پتا نہیں، لیکن کنول کی لائف مقصد اب راحیل کو سپورٹ کرنا تھا۔

٭٭٭٭٭٭

اِدھر یہاں نسرین جلال اپنے پیار کے ساتھ تھی، شاید یہی لڑکی اب تک خوش نصیب تھی، جو اب تک اپنے پیار کے ساتھ وقت گزار پا رہی تھی۔

اور میں سب کے دلوں کے حال سے بے خبر مووی اور شاپنگ کو انجوائے کر رہا تھا، اس بات سے بے خبر کہ کوئی ہمارا کا پیچھا سایے کی طرح کر رہا ہے، لیکن  جو پیچھا کر رہا تھا، وہ یہ بھول گیا کہ ایس پی نسرین جلال بھی ساتھ ہے، اس کی نظر اسی پر ہی تھی۔۔ آج ویسے بھی  نسرین جلال کے چہرےپر خوش  کا تاثر کچھ زیادہ ہی تھا، اور رہ رہ کر اس کے چہرے کی مسکراہٹ اُس کی خوشی کی چغلی بتا رہی تھی۔

نسرین سُلطان — (کان میں) آج میری بھابھی بڑی چہک رہی ہے، رات کو بھائی نے کہیں پیار زیادہ تو نہیں کر دیا؟ 

نسرین جلال — چپ بدمعاش، زیادہ بولنے لگی ہے، ویسے رات کو کچھ کیا نہیں ہے، لیکن  شاپنگ پر لایا ہے نہ، ہر لَور کا خواب ہوتا ہے اپنے لَور کے ساتھ گھومنا، شاپنگ کرنا، اس لیے خوش ہوں۔۔ تمہارا بھائی پیار کرنے سے اب بھاگ  رہا ہے، لیکن جائے گا کہاں، اتنا پیار اور کیئرنگ دوں گی کہ پیچھا نہیں چھڑا پائے گا۔ 

نسرین سُلطان — کیپ گوئنگ بھابھی، میرا فُل سپورٹ ہے، اس چٹکی کو اپنی طرف کر لو، پھرسمجھو کہ تم نے  50 فیصد جنگ ہی جیت لی ، وہ کچھ بھی کروا سکتی ہے، ویسے مجھے لگتا ہے کہ مقابلہ بہت ٹف رہے گا۔

نسرین جلال — میرا پیار کمزور نہیں ہے، میں جگہ بنا لوں گی، ویسے بھی مجھے اس کا پیار ملتا رہتا ہے، میں اسی میں خوش ہوں، اور اوپر والے  نے چاہا تو مجھے میرا پیار ضرور ملے گا۔

٭٭٭٭٭٭٭

وتھل سائیڈ 

آدمی — بھائی، وہ ہتھیار آ گئے ہیں، اور اس بار کچھ آدمی بھی آئے ہیں ،  وکٹر بھائی سے ملنے

وتھل — ان کی خاطر داری کرو، اس بار ضرور کچھ بڑا ہونے والا ہے۔۔ اور اپنا آدمی اس لونڈے کے پیچھے لگا ہے نہ؟ 

آدمی — جی بھائی، سی سی ٹی وی سے جانکاری نکال کے اس کے پیچھے لگا رکھا ہے، پوری جانکاری نکال کے دیتا ہوں بھائی آپ کو۔

وتھل — ٹھیک ہے، اور راکا کو جو ہتھیار اور ڈرگس بھیجے تھے، اس کی پیمنٹ نہیں بھیجی اس نے، اسے بول دے، مرنا ہے کیا اسنے، بہن چود، چوتیا، تین مہینے سے لٹکا رکھا ہے، وہ تو وکٹر بھائی اپنے کو جانتا ہے، اس لیے دھندا دیکھ کر کچھ نہیں بول رہے، لیکن مجھے تو حساب دینا ہی ہوگا، اوپر سے دوسرے شہر  کا دھندا بھی چوپٹ ہو گیا ہے۔ جا کوئی چھمّیا بھیج، مست سی ، پورا دماغ خراب ہو گیا ہے میرا، بہن چود، لنڈ کو خالی کروں تو کچھ دماغ کام کرے۔

آدمی — جی بھائی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مووی کے بعد 

کومل — بھائی، ڈنر؟ 

میں — نو پلیز، مجھے باہر کا نہیں پسند۔ 

کومل — تو پب؟ 

اریبہ — واؤ ۔۔ پب، ڈانس، اور مستی

میں — یار،تم لوگ وہاں پر  ڈرنک کرو گی ؟ 

نسرین جلال — میں ہوں نہ، ڈونٹ وری

پھر سب وہاں پہنچ گئے، وہاں کی حالت دیکھ کر تو میرا دماغ چکرا گیا، اوہ مائی گاڈ، یہ کیا ہے، لڑکیاں لڑکے نشے میں دھُت ہو کر ایک دوسرے کی بانہوں میں جھول رہے تھے

میں — کیا یہاں پرائیویسی نہیں مل سکتی؟ 

نسرین سُلطان، اریبہ — ہاں، روم ملتا ہے نہ۔۔۔۔ اوپس، زبان پھسل گئی۔ 

میں — آپ لوگ یہاں آتی ہو؟ 

نسرین جلال — ڈونٹ وری، یہ سب سے سیف پب ہے، یہاں کی سیکیورٹی ہائی ہے، صرف ٹاپ رچ لوگ  ہی یہاں آتے ہیں، ڈونٹ وری۔

میں — گھور کر، تو آپ بھی؟ 

نسرین جلال — سیکیورٹی چیک کرنی پڑی تھی ایک بار، تو پتا ہے، اب چلیں یا اور انکوائری کرنی ہے؟ پھر اریبہ اور نسرین سُلطان کی طرف دیکھ کر۔

پھر ہم لوگ ایک پرائیویٹ روم میں بیٹھ گئے وہاں  سب پینے لگ گئے اور میں کولڈ ڈرنک پی رہا تھا۔

نسرین جلال — اگر سب کہہ رہے ہیں تو ایک دو شاٹ تمہیں بھی لینے چاہئیں، آگے تمہارے کام آئیں گے، کہیں بیٹھنا پڑا تو بغیر پیے راحیل کیسے مینج کرو گے؟ 

میں — آپ مرواؤ گی، بہک گیا تو؟

نسرین جلال — میں ہوں نہ

میں — آپ کو بھی شرارت سوجھ رہی ہے۔

نسرین جلال — (دل میں) میرے جانو، اس بہانے ہی سہی، کچھ پیار تو کرو گے۔

اگلی صبح

میں نے اپنی آنکھیں کھولیں، سالا کمرہ الگ تھا، چاروں طرف میری ہی فوٹو تھی، تبھی تیز درد ہوا سر میں

میں — آہ، میرا سر۔۔۔ مجھے اپنا سر بہت بھاری لگ رہا تھا۔

پاس سے آواز آئی۔۔۔ کیا ہوا

میں نے پاس میں دیکھا تو میری آنکھیں کھلی  کی کھلی رہ گئیں، نسرین جلال صرف برا میں تھی، اس کی 34 کی بریسٹ برا میں میرے سامنے تھی، اور کئی جگہ کاٹنے کے نشان تھے، میرے دماغ نے تھوڑا پروسیس کیا، میں فٹافٹ کھڑا ہو گیا۔ 

میں — یہ میں نے کیا کر دیا؟ 

نسرین جلال کھڑی ہوئی تو وہ ایک لوئر پہنے ہوئے تھی نیچے، جسے دیکھ مجھے راحت ملی۔ 

نسرین جلال — رات کو تو بڑا پیار آ رہا تھا، اب دُور بھاگ رہے ہو

میں — میں، میں، میں

نسرین جلال — ریلکس، کچھ نہیں ہوا، بولا تھا نہ میں ہوں سنبھالنے کے لیئے۔

میں — وہ سب کہاں ہیں؟ 

نسرین جلال — سو رہی ہوں گی، رات کو انہوں نے  مستی  کم تھوڑی کی ہے

میں — اور یہ نشان؟ 

نسرین جلال — مسکرا کر، تمہارے ہی پیار کے نشان ہیں، ویسے اسے لڑکے لڑکیاں لَو بائٹ کہتے ہیں۔۔ کل رات بے انتہا پیار آ رہا تھا مجھ پر۔۔ تو اسی کے نشان ہیں۔

میں — سب آپ کا کیا دھرا ہے، پتا نہیں چلا کب نشہ اوپر حاوی ہو گیا

نسرین جلال — کوئی بات نہیں، تھینک یو، کل مجھے تھوڑا ہی سہی ، تھوڑا اور  پیار مل گیا۔

میں — پلیز مجھے اس لفظ سے ہی نفرت ہے، لیکن آپ کے لیے میرے دل میں گہری فیلنگز ہیں، جنہیں میں سمجھ نہیں پاتا ہوں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page