Keeper of the house-145-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 145

نسرین جلال — (گلے لگ کر) اوکے اوکے، پریشان مت ہو، فریش ہو جاؤ، میں کافی بناتی ہوں اور پین کلر لاتی ہوں۔۔ سر درد ٹھیک ہو جائے گا۔

اور جیسے ہی وہ جانے لگی۔۔ میں نے ہاتھ پکڑ کر واپس کھینچ لیا اور گلے لگا لیا

میں — یو آر ویری اسپیشل ٹو می، میں کبھی آپ کو کھونا نہیں چاہوں گا۔۔ اس لیے کے جھوٹے رشتوں سے اچھا ہے ہم اس رشتے کو نام نہ دیں۔

اور پھر ایک گہری کسنگ  ہوئی ہمارے درمیان، جس سے نسرین جلال کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی، اور وہ جانے لگی۔ 

نسرین جلال — (دل میں) یو آر مائن، مائن اونلی مائن، مائی لَو، جیسے جیسے تم اور زیادہ قریب آتے جاؤ گے میرے ہی ہوتے جاؤ گے، اور ایک دن وہ بھی آئے گا جب ہم دل سے پیار میں  ایک ہو جائیں گے، پھر صرف ایک شادی  کی کمی ہوگی، جو میں دنیا کو دکھا پاؤں گی کہ راحیل صرف سونا کا ہے، اور سونا صرف راحیل کی۔۔آئی لَو یو

٭٭٭٭٭٭٭

راکا — بہن چود، یہاں کیا ہو رہا ہے، یہ مادرچود شاہد بتا نہیں رہا اور جان سے مار کے بھی فائدہ نہیں اسے۔۔ اور اُدھر وِتھل بھائی کے لوگ پیسے مانگ رہے ہیں، میں کیا کروں۔

آدمی — بھائی، ڈرگس کی ریٹ بڑھا دیں کیا؟ 

راکا — تو بھی پیسہ پورا نہیں ہو پائے گا، بہن چود، کڈنیپنگ ہی کرنی پڑے گی، پتا کرو کہ دو نمبر کا پیسہ کس کے پاس زیادہ گھوم رہا ہے۔۔ ایک کام کرو، سکول سے کسی کو اٹھانے کی تیاری کرو،لیکن  پہلے مالدار پارٹی دیکھو پھر اُس کو اُٹھانا۔ 

آدمی — جی بھائی

٭٭٭٭٭٭٭٭

میں — دوسرے کمرے میں گیا تو مجھے ہنسی آ گئی، کوئی اُلٹی تو کوئی سیدھی سو رہی تھی، کل کی ڈریس میں ہی، مجھے بھی شرارت سوجھی، میں باتھ روم گیا، پانی کی بالٹی بھری اور تینوں کے اوپر پھینک دی اور باہر بھاگ آیا۔

تھوڑی دیر بعد ایک کے بعد ایک تینوں باہر آئیں اور میری ہنسی چھوٹ گئی۔ 

کومل — بھائی، یہ فیئر نہیں ہے۔ 

نسرین سُلطان — اچھی نیند آ رہی تھی

اریبہ — ایسا بھی کوئی کرتا ہے؟

میں — ہا ہا ہا ہا ہا، مزا آ گیا۔ 

نسرین جلال — ارے، ایسے کپڑے پہن کر کون نہاتا ہے؟ 

تینوں — نے انگلی میری طرف کر دی۔ 

میں — میں نے کیا کیا، نیند میں پھسل گئی ہوں گی باتھ ٹب میں، لگتا ہے نشہ اب تک نہیں اترا… ہا ہا ہا۔ 

نسرین جلال — جاؤ، اندر جا کے ڈریس چینج کر لو، میرے کپڑے آ جائیں گے

ہم سب ہال میں بیٹھے تھے اور خوب مستی کر تے رہے ، تب نسرین سُلطان بولی 

نسرین سُلطان — بھائی، ایک بار کالج جانا پڑے گا، لیو ایپلیکیشن دینے، تاکہ ہم دونوں آرام سے انجوائے کریں۔ 

میں — اوکے، ٹھیک ہے

اریبہ — ساتھ چلو گے؟

کومل — میں چلوں گی، مجھے بھی دیکھنا ہے کالج کیسا ہوتا ہے، اور بھائی بھی چلے گا، میں ہوں نہ۔ 

نسرین جلال — چلو، میں بھی چلتی ہوں، مجھے بھی آفس تھوڑا سا کام ہے۔۔ راستے میں ہی تمہارا کالج ہے۔

ہم سارے ہی نکل گئے، میں پہلی بار کوئی کالج دیکھ رہا تھا، باجی  کا کالج ٹاپ 5 میں سے ایک تھا، انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی

میں — واہ، کالج تو اچھا ہے۔ 

نسرین سُلطان — اندر سے بھی اچھا ہے اور سب اچھے ہیں یہاں۔

باجی نے مجھے بازو سے پکڑ رکھا تھا اور مسکرا کر کالج کی خوب تعریفیں کر کے  بتا رہی تھی

نسرین سُلطان ۔۔۔پھر تو بھی آ جانا یہاں ہی، ہم خوب مستی کریں گے 

میں — کالج تو سچ میں اچھا ہے، لیکن آپ کو پتا ہے نہ، پھر بھی  کوشش کروں گا، اوکے۔ 

ایک طرف کچھ لڑکے اور لڑکیاں بیٹھے تھے

لڑکی — اسماعیل، وہ دیکھ، نسرین سُلطان اور اریبہ آ رہی ہیں۔

اسماعیل — پرسوں لیو لی تھی، بتائے بغیر نہیں گئی تھی۔

لڑکی — وہ تو ٹھیک ہے، لیکن  یہ اس کے ساتھ ہینڈسم کون ہے، اس کا بوائے فرینڈ لگتا ہے۔۔ ہاٹ ہے یار، کیا جوڑی ہے۔ 

اسماعیل — نہیں یار، وہ ایسی نہیں ہے۔۔ پچھلے ایک سال سے تو نہیں آیا کوئی بوائے فرینڈ اس کا۔۔ تو اب کیسے؟ 

باقی سب — ارے، تو تجھے بتا کے بنائے گی کیا للو۔۔ تو تو لُوٹ گیا۔۔۔ ہا ہا ہا۔ 

اسماعیل — یار، ایسا نہیں ہو سکتا، میں بات کروں گا۔۔ میں اسے پیار کرتا ہوں۔ 

دوسری لڑکی — ارے یار، چھوڑ نا، بھول جا، دوست ہی بنا رہ نا۔۔ فالتو میں اس کی دوستی بھی کھو دے گا۔ 

اسماعیل — میں اسے پیار کرتا ہوں، بس پروپوز کرنے والا ہی تھا یار۔۔ اور مجھے پتا ہے وہ ہاں ہی بولتی۔ 

سب — بیٹا، کتا پال، بلی پال، پر فہم نہیں، وہ بہت سیدھی لڑکی ہے اس معاملے میں، سمجھا۔ 

ادھر ہم 

نسرین سُلطان — تو بھی چل نا پرنسپل آفس۔ 

میں — کیا کروں گا، آپ انہیں لے جاؤ، میں سامنے کینٹین میں کافی پیتا ہوں۔۔ جلدی آ جانا پلیز

اریبہ — اوکے، میں رُک جاتی ہوں، لیکن  چھٹی  کے لیے موجود ہونا ضروری ہے

نسرین جلال — ڈونٹ وری، میں جلدی ہی لے آؤں گی، پولیس کا کچھ تو فائدہ ہوگا ہی۔۔ آخرکار میں ایس پی ہوں۔ ۔ 

میں چل کے کینٹین آ گیا۔۔ کینٹین میں پوری بھیڑ تھی، میرا دماغ چکرا گیا، کالج خالی پڑا تھا اور کینٹین چڑیا گھر لگ رہا تھا، خیر، میں نے کافی آرڈر کی اور ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا، آس پاس والے گھور کر مجھے دیکھنے لگے اور باتیں کرنے لگے۔ 

باہر 

اسماعیل — وہ کینٹین گیا ہے، میں ابھی اسے اچھے سے سمجھا دیتا ہوں کہ نسرین سُلطان سے دُور رہے

لڑکی 3 — دیکھ، مجھے سین کچھ اور نظر آ رہا ہے، میری بات مان، نسرین سُلطان سے ہی پوچھ لینا۔۔ ان کے ساتھ اور لڑکیاں بھی تھیں۔ 

لڑکا دوست — ارے، وہ بوائے فرینڈ ہے، تبھی تو اتنا کلوز تھی، نسرین سُلطان اس کے وہ، یہی تو دکھا رہی تھی۔۔ دیکھا نہیں کیسے چپک چپک کے مسکرا رہی تھی۔

لڑکی — جاؤ اور مرو، میرا کام سمجھانا تھا، تم لڑکیوں کو نہیں سمجھ سکتے ہو۔

اسماعیل تین دوستوں کے ساتھ کینٹین پہنچ گیا اور ٹھیک میرے  سامنے بیٹھ گیا اور مجھے گھورنے لگا۔۔لیکن مجھے  کوئی فرق نہیں پڑھ رہا تھا۔ 

اسماعیل — دیکھ بھائی، تو جو بھی ہے، لیکن  اس لڑکی سے دُور رہنا۔

میں نے  سامنے دیکھا، پھر ایگنور کر دیا

اسماعیل — ابے، پیار سے سمجھا رہاہوں، میں اس لڑکی سے پیار کرتا ہوں۔

میں  اپنی کافی ریسیو کر کے، (دل میں) کون ہیں یہ چوتیے، فوکٹ میں اُلجھ رہے ہیں۔۔ بہن چود، کوئی اریبہ کا لَور تو نہیں ہے۔۔ میں کالج میں کوئی گڑبڑ نہیں چاہتا ہوں۔ 

اسماعیل — میرا کالر پکڑ کے، ابے ہم تجھے پیار سے سمجھا رہے تھے اور تو ایگنور کر رہا ہے۔

میں کالر سے اُس کا ہاتھ ہٹا کے۔۔۔ دیکھ بھائی، تجھے جس کے ساتھ رہنا ہے رہ، اور میں کسی لڑکی کو نہیں جانتا ہوں، سمجھا، جس کا تیرے ساتھ کوئی بھی رلیشن ہو، اس لیے تیری بھلائی اسی میں ہے کہ مجھ سے دُور رہ۔

اسماعیل — ابے، ہمارا کالج، ہم سے ہوشیاری

 اور مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تو میں نے ہاتھ پکڑ لیا۔

اسماعیل کا دوست — دیکھا، یہ نسرین سُلطان کا بوائے فرینڈ ہے، مار۔۔ اسے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page