Keeper of the house-147-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 147

میں — ضرور سر

نسرین جلال — وِتھل کا نام بار بار آ رہا ہے، پھر ویسے راحیل، تمہیں پتا ہے وِتھل کون ہے؟ 

میں — پتا نہیں۔ 

نسرین جلال — وہ بشیرے  کا بھائی ہے۔ 

میں — اوہ، مرتے وقت بھی دھمکی دے رہا تھا اپنے بھائی کی، جس دن وہ آئے گا اس کا بھی آخری دن ہوگا۔

چیف — وِتھل کوئی عام ڈان نہیں ہے، وہ شہر کے ڈان وکٹر کا رائٹ ہینڈ ہے۔

چیف کی بات سُن کر  میری آنکھیں کھل گئی  اور میں چونک گیا۔ 

نسرین جلال — تم نے یہ نام سنا ہے؟ 

میں — ہاں، مجھے ملنا ہے، میرا ڈائی ہارٹ فین ہے۔

نسرین جلال اور چیف حیرانی اور کنفیوژن سے مجھے دیکھتے رہے۔ 

پھر نسرین جلال — اوکے سر، اب ہم چلتے ہیں۔

اور ہم باہر آ گئے، پارکنگ میں آتے ہی نسرین جلال نے مجھے پکڑا اور کِس کرنے لگی، جس سے میرا دماغ ٹھنڈا ہو گیا۔

میں — ٹھیک ہوں، فکر نہ کرو، چلیں، وہ ابھی بھی سب کار میں ہی بیٹھی ہیں، اور اس کا کیا کرو گی جو ہمارا پیچھا کر رہا تھا؟ 

نسرین جلال — مسکرا کر، تم سے کچھ چھپ نہیں سکتا، میں دیکھ لوں گی۔۔ اب چھوڑو، لیٹس پارٹی۔

میں — ان تینوں کا اثر ہو گیا ہے آپ پر۔۔

 پھر کیا تھا، سب پہلے انکل کے گھر گئے، شام تک وہیں رہے، اور شام کو آ گئے اپنی موج مستی کرنے، بیچ میں دادا جی کا بھی فون آیا کہ دو دن بعد آئیں گے وہ گھر آفس میں بہت مصروف ہیں۔

رات تک سب کو چڑھ گئی تھی، کومل کو تو گود میں اٹھا کے سلاکے آیا، تو باقی سب بھی سو گئے، میں بھی جانے لگا تو

نسرین جلال — میرے ساتھ، میرے پاس، میری بانہوں میں۔ 

میں — بہک گئی  تو بھی ؟ 

نسرین جلال — بہک جانے کو دل کرتا ہے آ ج تو۔۔۔ اور پھر مسکرانے لگی

میں — آپ کو چڑھ گئی ہے، چلو سوتے ہیں، اور اسے گود میں اٹھا کے کمرے کی طرف لے چلا۔ 

کمرے میں نسرین جلال میری گلے میں بانہیں ڈال کے 

نسرین جلال — تو اب کہاں جاؤ گے میری بانہوں سے نکل کے؟ 

مجھے گرا کر میرے اوپر چڑھ گئی۔

میں — آپ کے ارادے نیک نہیں ہیں۔

نسرین جلال — اچھا؟ 

میں — لگتا ہے آپ کو کچھ  دینا ہی پڑے گا۔ 

اور پھر نسرین جلال کے دونوں ہاتھ اوپر کر کے اپنے ایک ہاتھ سے پکڑ لیے اور پھر کِس کرنے لگا، میری سانسوں کی گرماہٹ سے اور کِس سے سونا بہکنے لگی، میرا دوسرا ہاتھ اس کے پیٹ پر چلنے لگا، جس سے اس کی تڑپ اور جوش  اور بڑھ گیا،لیکن  میں کِس کرتا رہا اور ہاتھ دھیرے دھیرے ٹاپ کے اندر لے گیا اور دھیرے دھیرے اس کے بوبز پر گھمانے لگا، میرے  ہاتھ کا لمس پا کر سونا کے بدن میں بجلی سی دوڑ گئی اور وہ میرے ہونٹوں کو اور زور سے چوسنے لگی، میرا ہاتھ لگاتار اس کے بوبز کو ہلکا ہلکا دبا رہا تھا۔۔ پھر میں نے اپنے ہاتھ کو دھیرے دھیرے نیچے اس کے لوئر کے اندر لے کے جانے لگا تو وہ مچھلی کی طرح تڑپنے لگی، اور جیسے ہی میرے ہاتھ کی انگلی نے سونا کے پیروں کے بیچ اس کے حساس حصے کو ہلکا سا رَب کیا، اس کا سارا جسم ہل گیا، اس نے اپنے ہاتھ چھڑا کے مجھے کس کے بانہوں میں لے لیا اور بے دردی کے ساتھ میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی، اور نیچے میری انگلی اس کی چوت کے حساس اسپاٹ کو رَب کر رہی تھی، جس سے اس کی چوت سے  گرم پانی بہنے لگا تھا ، پھر میں نے اس کے ہونٹوں کو چھوڑ کے اس کے ٹاپ کو پورا اوپر کر دیا اور اس کی 34 کی کڑک بوب میری آنکھوں کے سامنے تھیں، جو اب بھی پہلے کی ہی طرح سے ان ٹچ نظرآرہی تھی، اس کے نپل کڑک نوکیلے ہو رکھے تھے، میں نے اپنا منہ کھول کر زبان سے ایک کو سَک کیا تو اس کی سسکاری نکل گئی، اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بیڈ شیٹ کو کس کے پکڑ لیا، میں سلولی سلولی بوبز کو چوسنے لگا اور نیچے انگلیوں کی رگڑ سے سونا مدہوشی  اور پیار کی وادیوں میں کھو گئی تھی، ایکسائٹ ہونے کی وجہ سے اس کی چوت بے انتہا پانی چھوڑ رہی تھی۔۔ پھر میں نے دونوں ہاتھوں سے اس کے لوئر کو نیچے کھینچا تو سونا نے روکنے کی کوشش کی اور اپنی نشیلی آنکھوں سے مجھے دیکھا، میں نے پھر بھی لوئر کو پینٹی سمیت نیچے اتار دی، اب سونا کی چوت میری آنکھوں کے سامنے تھی اور اس کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا، اپنے ہونٹوں کو اس کی چوت کے پاس لے کے آیا تو میری سانسوں کو محسوس کر سونا اور تڑپنے لگی، میں نے اس کے پیروں کو اور پھیلایا تو اس کی چوت کا گلابی حصہ میری آنکھوں کے سامنے تھا، میں نے ایک بار سونا کو دیکھا، پھر اپنی زبان سے اسے ٹچ کیا، سونا نے میرے بالوں کو کس کے پکڑ لیا، میں دھیرے دھیرے اس کے حساس اسپاٹ کو چوسنے اور رَب کرنے لگا، میرا ایک ہاتھ اس کے بوبز کو دبا رہا تھا، دو طرفہ اسے برداشت نہیں ہو رہا تھا اور وہ زور زور سے سسکاریاں لینے لگی، اور کچھ دیر میں ہی اس کی چوت کا بندھن ٹوٹ گیا اور اس کا جسم کانپتے ہوئے اپنا پانی چھوڑنے لگا۔۔ میں اوپر آیا اور اسے بانہوں میں بھر کر اپنے سینے سے لگا لیا۔

میں اُس کو اپنے سینے سے لگائے آرام سے لیٹا رہا،اور وہ اپنی سانسیں اعتدال پر لانے کی کوشش کرتی رہی۔ اور میرے سینے  سے چپکی لیٹی رہی، جب کافی دیرمیں نے کچھ نہ کیا اور نہ ہی دوبارہ آگے بڑھا تو نسرین جلال نے میرے سینے پر سے سر اُٹھاکر میرے چہرے کو   

نسرین جلال — کیاہوا راحیل ، تم خاموش لیٹ گئے ۔ آگے نہیں بڑھنا ، کیونکہ تم سیٹسفائی نہیں ہوئے؟

میں — مجھے آپ کے ساتھ ہر پل اچھا لگتا ہے، آپ کی خوشی معنی رکھتی ہے، سیکس کر کے  سیٹسفائی  ہونا ، یہ سب ضروری نہیں ہے، میں نے کہا تھا، یو آر اسپیشل فار می۔

نسرین جلال — آئی نو۔

میں — سو جاؤ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اور پھر ہم دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں سو گئے، جہاں نسرین جلال اپنا آدھا ہی سہی،سُکھ  پا کے خوش تھی کہ آج ایک قدم اور آگے بڑھ گئی،کیونکہ میں نے اُس کو چودنے کے بجائے صرف اُسے پیار کیا اور اُسے سکون دیا ، جس سے وہ سمجھ گئی کہ میں اُسے صرف سیکس ڈول نہیں سمجھ رہا ، بلکہ میرے دل میں اُس کے لیئے ایک خاص مقام ہے ،وہ اسی پر بہت خوش ہوگئی کہ  اُس نے  میرے  دل میں جگہ بنا لی۔۔ تو وہیں میں  آج بھی شازیہ کی وجہ سے نسرین جلال کے پیار اور سرنڈر کو سمجھ کے بھی اپنا نہ پایا،اگر مجھے پتہ نہ ہوتا تو شاید میں خود کو پہلے کی طرح اُس سے سیکس کرنے سے خود کو نہ روکتا ، لیکن جب سے مجھے اُس کی دل لگی ، اُس کے پیار اور میرے اوپر خود کو نچاور کرنے کا پتہ چلا تھا ۔ تب سے وہ میرے کچھ اسپیشل تو ہوگئی تھی ۔ لیکن اُس سے سیکس کرنے سے میں تھوڑا گھبرا رہاتھا۔ بلکہ میں خود سے گھبرا رہاتھا کیونکہ مجھے پیار سے نفرت ہوگئی تھی ،کہ اس طرح سے کہیں میں اُس کے   دل میں اور زیادہ گہرائی میں نہ چلا جاؤں جہاں سے اُس کی واپسی کےدروازے بند ہوجائیں، اور میں سوچ رہاتھا کہ اگر اُس نے پیار کا اظہار کر دیا تو کہیں میں کچھ ایسا نہ کربیٹھو کہ اُس کا بھی میری طرح سے دل ٹوٹ جائے اور وہ بھی میری طرح سے پوری زندگی اس آگ میں جلنے لگے۔ شاید یہی پیار کے ایفیکٹس ہوتے ہیں، پہلا پیار ایسا اثر کرتا ہے کہ چاہ کر بھی انسان بھول نہیں پاتا۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page