Keeper of the house-148-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 148

اور شازیہ دُور نکل گئی تھی سوئٹزرلینڈ، اب دیکھتے ہیں کہ فیوچر میں کیا لکھا ہوگا، دونوں کا آپس میں ملنا، اور کب ملے گی مہتاب راحیل سے، کیسا ہوگا پہلا انٹریکشن۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میں صبح اٹھا تو سونا میری بانہوں میں سمٹ کر سو رہی تھی۔ کل رات میں نے کم پی تھی تو تھوڑا ہوش تھا، اس لیے جلدی ہی نیند کھل گئی۔ میرا شیڈول خراب ہو رہا تھا، اس لیے میں باہر آ گیا اور باہر آدھا گھنٹہ تیز رفتار جاگنگ کی۔ پھر بنگلے میں بنے باغ میں آ کر سنگل ہینڈ اور ڈبل ہینڈ پش اپس مارے، پھر سِٹ اپس مارے اور نیچے گھاس میں پنچ مارنے لگا۔ اس کے بعد آدھا گھنٹہ کک کی پریکٹس کی۔ سیکیورٹی پر تعینات پولیس والوں کی گانڈ پھٹی پڑی تھی، اور وہ آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھ رہے تھے  کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔

پھر نسرین جلال بھی باہر آ گئی اور میرے پاس آ کر کہنے لگی، 

نسرین جلال: “گڈ مارننگ 

میں: “گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ 

پولیس والوں کے گارڈز کے سر پر بم پھٹا، ان کا منہ کھل گیا کہ یہ بندہ اسے “سویٹ ہارٹ” کہہ رہا ہے جس کا نام سنتے ہی اچھے اچھے غنڈوں کی گانڈ سے ہوا نکل جاتی ہے۔ 

نسرین جلال: یہ لو پروٹین شیک، اس سے انرجی بنی رہے گی۔ 

میں: اوکے، جو آپ کہیں۔۔ مجھے آج اور کل انکل کے ہاں رکنا ہوگا، دادا جی آ رہے ہیں تو میں شاید آپ کے پاس نہ رہ سکوں۔ 

نسرین جلال: مجھے میری امید سے زیادہ مل گیا ہے اور مجھے پتا ہے کہ پرسوں صبح تم نکل جاؤ گے۔ پتا نہیں پھر کب ملنا ہوگا۔۔ اس لیے میں سمجھ سکتی ہوں، میں بھی چلوں گی۔ 

میں: ہوگا، ضرور ملنا ہوگا۔ میں اپنی اتنی ہاٹ گرل فرینڈ سے دور رہ سکتا ہوں کیا؟ یو آر ویری اسپیشل ٹو می، جلد ہی ملینگے اور فون تو ہے ہی نا۔ میں موقع ملتے ہی آپ سے ملنے آ جاؤں گا۔ 

نسرین جلال: ہممم

میں:ڈونٹ وری ، ابھی دو دن ہوں نا۔ خود سیڈ ہو رہی ہو اور مجھے بھی کر رہی ہو۔ لگتا ہے رات کو پیار کم پڑ گیا۔ 

نسرین جلال شرما کر کھڑی ہوئی اور کہنے لگی:میں۔۔ میں ناشتہ تیار کرتی ہوں۔

 اور اندر جانے لگی۔ 

میں: ہا ہا ہا ہا ہا 

صبح 10 بجے، کومل کے گھر 

کومل کی ماں: یہ لڑکی پیکنگ بھی ڈھنگ سے نہیں کرتی، ناک میں دم کر رکھا ہے اس نے۔ 

کاشف: اوہو بیگم ، وہ سمجھدار ہے، وہ سب کر لے گی۔ 

ہم سب باہر ہال میں ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ 

اریبہ: “اوئے، پھر کب آئے گا؟ 

میں سمجھ گیا کہ وہ کیا کہنا چاہتی تھی۔ 

میں: آپ کو ٹائم ملے تو آپ ہی آ جانا، وہاں اچھے سے گھوم لیں گے۔ 

اریبہ مسکرا کر:پکی بات ہے  نا؟ کہیں یہاں کی طرح۔۔۔

میں جلدی سے:بلکل پکی بات ہے۔۔۔۔

نسرین جلال: (دل میں) تو دکھا تو سہی گھوم کے، تیرے پیچھواڑے سے گولی نکال دوں گی، کالموئی چڑیل کہیں کی۔ ہائے اوپر والے، کچھ تو رحم کر، بس یہی تو مانگا ہے، کیوں بچی کی جان لینے پر تلے ہو؟ 

کومل کی ماں باہر آ کربولی:  گھوڑی جیسی ہو گئی، کیا  جانے کی تیاری نہیں کرنی۔ پھر ہمیشہ کی طرح بولتی رہے گی کہ میرا یہ رہ گیا، وہ رہ گیا۔ 

لیکن کومل تو کومل ہی تھی، اسے کہاں فرق پڑنا تھا۔ وہ کھڑی ہوئی اور پھر اپنے پاپا کا کارڈ نکالا، پھر راحیل کی جیب سے کارڈ نکالا، پھر اپنا کارڈ نکالا اور اپنی ماں کو دکھاتے ہوئے کہنے لگی، 

کومل: چِل ماں، میرے پاس پیسہ ہی پیسہ ہے۔ یہ دیکھو پاپا کا کارڈ، یہ میرا کارڈ، یہ بھائی کا کارڈ اور سنیل بھائی کا پیسہ اکاؤنٹ میں ہے۔ اور دادا جی آج آئیں گے ہی، ان سے بھی لے لوں گی۔ ریلکس رہو، میں اب بہت امیر ہوں۔ پھر سنیل اور بھائی کی شادی ہوگی تو بھابھیوں سے بھی لے لوں گی۔ اور دیکھو سامنے باجی بیٹھی ہے، ان کا تو ابھی بقایا ہے۔ سو مجھے کوئی فکر نہیں، آئی ایم رِچ ماں، میں مالامال ہوں۔ ابھی میرے کھیلنے کودنے کے دن ہیں۔ 

کومل کی ماں اپنا ماتھا پیٹ کر۔۔۔ہائے قسمت ہی پھوٹ گئی ہے اس لڑکی کی تو ، اس میں تو  ذرا عقل نہیں۔ 

میں: آنٹی، آپ فکر نہ کریں، میں ہوں نا۔ میں خیال رکھوں گا اور ویسے بھی جو ہمارا ہے وہ میری بہنوں کا بھی ہے۔ 

کومل:سنا میری کنجوس ماں؟ 

کومل کی ماں: رک، تجھے بتاتی ہوں

میں: چھوڑیں اسے۔ دادا جی کا فون آیا تھا، وہ اب کھانے کے وقت آئیں گے۔ آفس سے وقت نہیں مل پا رہا تو ابھی آ رہے ہیں ملنے کچھ دیر کے لیے۔ 

کاشف: کیا؟ پاپا آ رہے ہیں؟ تیاری کرو، اچھے سے کھانا بناؤ، انہیں نان ویج بہت پسند ہے۔ میں ابھی منگواتا ہوں۔ کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ بیگم  شروع کرو، آج میرے پاپا گھر آ رہے ہیں۔ سب شروع ہو جاؤ اور بچو، تم ٹی وی وغیرہ دیکھ لو۔ ہمیں کھانے کی تیاری کرنی ہے۔ آج میں کہیں نہیں جا رہا۔ 

ہم سب بس انکل کو ہی دیکھ رہے تھے کہ کمشنر بھی میرے دادا جی کے ڈر سے اتنا ہڑبڑاتا ہے۔ 

دوپہر 2 بجے

ڈائننگ ٹیبل 

دادا جی:بہت خوشی ہوئی کاشف، تمہاری ترقی دیکھ کر۔ اور اتنی پیاری بچی تمہاری ہی ہو سکتی ہے۔ جہاں جاتی ہے، وہاں سب کا دل جیت لیتی  ہے۔ اس کے لیے لڑکا ہم خود دیکھیں گے۔ 

کاشف: جی، جیسا آپ کہیں۔ سب آپ کا اور عقیل  بھائی کا ہی ہے۔ اس وقت آپ نے ہی تو مجھے اس قابل بنایا اور آج اس مقام تک پہنچ گیا ہوں۔ یہ زندگی عقیل  بھائی کی ہی تو دین ہے، ورنہ اس دن کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔ 

دادا جی: تو اب وقت ہے کاشف، سب کو چن چن کے مارنے کا۔ کسی کو پتا بھی نہ لگے اور سب کو ہم ختم کر دیں گے ۔ اپنی پاور دکھاؤ اور ڈھونڈ نکالو وکٹر کو۔ اس کے ہر اڈے کو۔ ہماری پہلی کڑی وہی ہے۔ اور تمہارے ساتھ جو وفادار لوگ، چاہے ریٹائرڈ ہو گئے ہوں، انہیں دوبارہ ایکٹیو کرکے لگاؤ۔ مجھے ہر چیز ہر بات کا پتا  ہونا چاہیے۔ اس کی بنیاد کو ہی اکھاڑ پھینکنا ہے اور کسی کو پتا نہیں چلنا چاہیے۔ اب ہمارا وقت ہے۔ جیسا انہوں نے کیا، ہم بھی وہی کریں گے۔ انتظار اور وار۔ 

کاشف: جی، جیسا آپ چاہیں، میں سب کو کام پر لگاتا ہوں۔ 

دادا جی:پیسے کی فکر نہ کرنا۔ یہ نمبر ہے ہمارا، ایک کال کرنا جو چاہئے ہوگا مل جائے گا، ہر قسم کی سپورٹ  ملے گی فل پاور لگاؤ، اور ڈھونڈ نکالو سب چوہوں کو، نیچے سے لے کر اوپر تک، کسی کو نہ چھوڑنا۔ 

نسرین جلال:میں بھی اسی کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ فی الحال اس کا رائٹ ہینڈ وِتھل ہے، اسے ڈھونڈ رہی ہوں۔ اسی سے ہی ہمیں وکٹر کا پتا لگے گا۔ 

دادا جی: اور راحیل، آپ کو پتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔ 

میں: جی دادا جی، ہم پرسوں صبح نکل رہے ہیں۔ 

دادا جی: تو ٹھیک ہے، شروعات وِتھل اور وکٹر سے ہی ہوگی۔ 

میں ابھی بھی کسی چیز کو لے کر کنفیوز تھا۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

وِتھل: ابے چوتیوں، تم سے کوئی کام بھی ہوتا ہے کیا؟ جو اب تک تم لوگ ایک چھوکری کا پتا نہیں کر پائے اور جو گیا اس کا بھی پتا نہیں۔ پھر راکا کو فون لگا ذرا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page