Keeper of the house-150-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 150

رضیہ:گھر کا سامان لینے گئی تھی، آج وہی لڑکا مل گیا جس نے اُس دن صبح میری ہیلپ کی تھی ۔ اور آپ نے ہی تو سکھایا ہے نا کہ ہیلپ کرنے والے کو تھینک یو بولنا ہوتا ہے۔ 

انسپکٹر شاہد:گڈ گرل بیٹا، باہر سیف نہیں ہے۔ ہم جلد ہی یہاں سے دور نکل جائیں گے۔ 

رضیہ: پاپا، آپ مجھے سچ بتا سکتے ہیں، میں ایک پولیس افسر کی بیٹی ہوں

انسپکٹر شاہد:سب ٹھیک ہے بیٹی، کچھ باتیں بتا نہیں سکتا، تو ایسی باتوں کو مجھ پر ہی چھوڑ دو۔ پرسوں اسکول کھل رہے ہیں، آپ تیاری کرو، پھر ایک سال بعد آپ کالج جاؤ گی۔ آپ بس ان سب باتوں کا دھیان رکھو، باقی میں سنبھال لوں گا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلا دن

میں: اٹھ جا مہارانی۔۔ 10 منٹ میں جم میں چاہئیے مجھے تو

کومل: آہ، سونا ہے مجھے۔ 

میں: واپس بھیج دوں گا اگر نہیں پہنچی تو۔ 

دس منٹ بعد جم میں 

میں: دیکھ، میرے ساتھ تجھے پتا ہے ہمیشہ رسک رہتا ہے۔ کم از کم تجھے بھاگنا تو آنا ہی چاہیے۔ 5 کلومیٹر رننگ، ایک گھنٹے میں، اوکے؟ جب تک میں رننگ وغیرہ کر کے آتا ہوں

کومل: او ہیلو۔۔جناب  واپس بھیجنے کی دھمکی زرا دوبارہ دے کر دکھانا۔۔ اگر جینے کی خواہش نہ ہو تو

میں: چپ چاپ نکل گیا شہر میں رننگ کرنے اور لگ بھگ 15 کلومیٹر کا چکر لگا  کے جب واپس آ رہا تھا، تب پاس کے بنگلے سے ایک بزرگ نے آواز دی،

بزرگ: بیٹا، نئے آئے ہو؟ 

میں:سلام کر کے ، ہاں، کل ہی آئے ہیں، اسکول میں پڑھنے، میں اور میری بہن

بزرگ: یہ تو اچھی بات ہے، کافی وقت سے یہ بنگلہ خالی پڑا تھا ۔۔ اچھا ہوا آ گئے۔ گنے چنے گھر ہیں یہاں۔ ناشتے پر آؤ بیٹا، بڑی خوشی ہوگی۔ 

میں:جی بابوجی، آتا ہوں، 8:30 پر ٹھیک رہے گا؟ 

بزرگ: ہاں بیٹا، کوئی بات  نہیں ہے۔

یہ  کہہ کر وہ چلے گئے۔ 

میں بھی گھر آیا تو دیکھا کومل کی رننگ مشین 5000 میٹر شو کر رہی تھی اور وہ نیچے فرش پر لیٹی ہوئی تھی۔ 

میں: میری پیاری بہنا، بھائی کے ساتھ رہنا آسان نہیں ہے۔ 

کومل آنکھیں بند کیے ہوئے ہی بولی :یہ تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ کے لیے تو پہاڑ بھی چڑھ جاؤں میں۔۔ سمجھے

میں اسے گود میں اٹھا کر:چل، نہا لے، پاس کے بنگلے میں بریک فاسٹ کرنے جانا ہے۔۔ اسے باتھ ٹب میں لٹا کے۔۔روم بند کر رہا ہوں، جلدی تیار ہو جانا، اوکے؟ کتابیں اور ڈریس لینے بھی جانا ہے ہمیں۔۔ پرنسس صاحبہ

میں روم میں آیا، نہایا اور تیار ہو گیا اور باہر انتظار کرنے لگا۔ کومل بھی آ گئی۔ ہم دونوں ہی تیار تھے، ہمیں کتابیں، ڈریس، اور کافی کچھ لینا تھا۔ 

بزرگ کے گھر 

آؤ بیٹا، آؤ آؤ۔ 

میں: آپ نے ہی تکلیف کی۔ 

بزرگ: تکلیف کیسی بیٹا؟ یہاں آتے ہی کتنے ہیں پڑوس میں؟ 50 میٹر کی دوری پر کچھ ہی گھر ہیں اور یہاں ہم دو ہی لوگ رہتے ہیں، ایک میری بہو اور میں۔ باقی پوتا بزنس کے سلسلے میں باہر رہتا ہے۔ ایک بیٹا اور بہو تھی، ان کی کار ایکسڈنٹ میں موت ہو گئی۔ اور ایک بہو کی بہن ہے، وہ وکیل ہے، کبھی کبھی ہی آتی ہے، اس کی بھی شادی ہو گئی ہے۔

میں: معاف کیجیے گا

پھر ناشتے کے ٹیبل پر ہم سب بیٹھے، تب ان کی بہو آئی۔ 

بزرگ: آؤ بہو، یہ ہمارے پڑوس میں رہنے آئے ہیں اور یہ میری بہو نسیمہ ہے

میں اور کوملنے اُسے سلام کیا۔ 

نسیمہ نے بھی ہمارے سلام کا جواب دے کر پوچھا: تو آپ یہاں سٹڈی کرنے آئے ہیں؟ 

کومل: جی، ہم ڈون اسکول سے 12ویں کلاس تک پڑھیں گے۔ 

نسیمہ: کتنی پیاری آواز ہے آپ کی، یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔ میں وہاں پڑھاتی ہوں، ابھی جوائن کیا ہے۔ گھر بیٹھے بور ہو جاتی ہوں، اس لیے 5ویں اسٹینڈرڈ تک کے بچوں کو پڑھاتی ہوں۔ 

کومل: واہ، مطلب میں ہمارے اسکول کی ٹیچر کے ساتھ بریک فاسٹ کر رہی ہوں، پھر تو مزے ہو گئے میرے تو

نسیمہ:ہا ہا ہا، ارے میری ابھی شادی ہوئی ہے یار، فرینڈز ہو سکتے ہیں، یہ ٹیچر وغیرہ اسکول تک، اور آپ دونوں میرے ساتھ ہی چلنا۔ 

میں: تھینک یو۔۔ پھر سوچ کر۔۔ آپ کومل کو ساتھ لے جانا، میں بائیک سے ہی آؤں گا۔ 

نسیمہ: اوکے، نو پرابلم۔ 

پھر ناشتہ کر کے جانے لگے تو 

نسیمہ:آپ نے اپنا نام نہیں بتایا۔ 

میں مسکرا کر: بھابھی جی، میرا نام راحیل ہے۔۔ ویسے یہاں کتابیں اور اسکول ڈریس کہاں ملے گی؟ 

نسیمہ:ایک کام کرو، کچھ دیر بیٹھو، میں لے چلتی ہوں، اسی بہانے میری بھی سیر ہو جائے گی اور دادا جی کی بھی۔ 

کومل: واہ، چلیے۔۔ آپ کے ساتھ میری خوب جمے گی۔ 

ہم شو روم پہنچ گئے جہاں ہم نے اسکول ڈریس لی۔ 

کومل: بھائی، پرفیکٹ نا؟ 

نسیمہ: ارے، بھائی سے بھی کوئی پوچھتا ہے

کومل: مجھے میرے کپڑے تب پسند آتے ہیں جب بھائی اوکے کہے، انہیں یہ آج کی فیشن کے آدھے چھوٹے کپڑے پسند نہیں ہیں

میں: پرفیکٹ ہے، پرفیکٹ ہے۔۔ جلدی کر، 2 گھنٹے ہو گئے ہیں، اسکول ڈریس سے زیادہ تو باقی کپڑے دیکھ لیے تونے

نسیمہ: (دل میں)  انٹریسٹنگ۔ 

ہم پھر گھر آ گئے اور آج نوکر سے کھانا بنوایا اور دونوں گیم وغیرہ کھیلنے میں ہی ٹائم پاس کرنے لگے۔ 

٭٭٭٭٭٭

سلطان بھی یہاں کے لیے نکل چکا تھا اپنے شکار پر، اسے انسپکٹر شاہد کی فیملی کو اٹھانا تھا

تو ادھر 

راکا:15 کروڑ بھیج دیے ہیں، ایک مہینے بعد پھر بھیجنا ہیں، تو ایک کام کر، کڈنیپنگ اور پروٹیکشن منی کا کام بڑھا دے تاکہ نقصان  پورا کر سکیں۔ 

آدمی:بھائی، کر دیا ہے۔ بس آپ کی اجازت چاہئے اور لونڈے لونڈیا کو اٹھانا ہے۔ 

راکا: انہیں اٹھائیں گے،جب  لاسٹ انسٹالمنٹ دینی ہوگی وِتھل بھائی کو، پہلے انسپکٹر شاہد والا قصہ  ختم کریں گے۔۔ تاکہ دماغ ایک جگہ پر رہے۔۔ وہ لونڈیا اٹھوانے کے کام کا کیا ہوا جونی؟ 

جونی: بھائی، چل رہا ہے نا، ایک مہینے میں ٹاپ مال اٹھا کے یہاں آ جائے گا، 15 لڑکیوں کا بولا ہے، جو بھیجنی ہو بھیج دینا، باقی آپ کی خدمت کے لیے۔ 

راکا: “شاباش، خوش کر دیا تونے تو

جونی: آپ کے لیے کچھ بھی بھائی، اور کچھ بڑے  گھروں  کی ہونگی تو اپ ان کو چک کر واپس بیچ کر رقم  بھی وصول کر سکتے ہو

٭٭٭٭٭٭٭

میں شام کو: کومل یار، میں نارمل رہ کے اسکول جانا چاہتا ہوں تاکہ کسی کو شک نہ ہو، اور تو میم کے ساتھ آرام سے مست ہوکے جانا

کومل:یعنی چمپو بن کے آؤ گے، ٹھیک ہے، پھر تو ہم بھائی بہن بن کے نہیں رہیں گے اسکول میں ، ہم بھی انجان بن کے ہی رہیں گے، اوکے؟ 

میں: تیرے دماغ میں پھر خرافات چل  رہی ہے۔۔ چل، منظور ہے۔۔ میں ابھی آتا ہوں۔ 

پھر آ کر ایک کال کی کچھ منگوانے کے لیے

اگلا دن – اسکول ٹائم 

کومل نکل گئی اسکول کے لیے اور میں بھی کچھ وقت بعد، میں اسکول کے مین گیٹ پر تھا جہاں اسکول کے لڑکے مہنگی مہنگی بائیک اور کار سے اسکول آ رہے تھے۔   

سو میں نے سائیکل پارک کی اور چل دیا کلاس کی طرف۔ میں نے ایک سفید گول فریم والا چشمہ پہنا ہوا تھا، شرٹ بھی فٹنگ کی نہیں تھی۔ سامنے کچھ اسٹوڈنٹس، لڑکے اور لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں جو نئے ایڈمیشن کی کھچائی کر رہی تھیں۔ میری باری بھی آئی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page