Keeper of the house-158-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 158

 میں نیچے سے، تو کبھی وہ اوپر سے کودنے لگی۔ تھوڑی ہی دیر میں اُس کی چوت نے میرے لنڈ کو  جگڑنا شروع کر دیا اُس کی چوت پہلے سے ہی ٹائٹ تھی میرے لنڈ پر لیکن اب اور زیادہ میرے لنڈ کو کسنے لگی ۔ تو اریبہ کے ساتھ کی چودائی کے ایکسپیرنس سے میں سمجھ گیا کہ وہ جھڑنے والی ہے ۔ تو میں نے اور کس کس کے نیچے سے گھسے مارے جس سے وہ پڑپڑاتی ہوئی ، مجھے چوت چوسوانے والی لڑکی کے گلے لگ کر ڈھیر ہوگئی اور اُس کی پھدی میرے لنڈ کو بھگونے لگی۔

 پھر میں کھڑا ہو کر دوسری  کو گھوڑی کی پوزیشن میں لایا اور لنڈ ایک ہی جھٹکے میں ڈال دیا۔ اب وہ تڑپنے اوربلبیلانے لگی، اور آگے کی طرف زور مار کر میرا لنڈ پانی چوت میں سے نکالنے لگی لیکن  میں نے اُس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑ ا رکھا اور دوسرے جھٹکے میں آدھے لنڈ کا کا آدھا اور گھسا دیا، اب تین چوتھائی لنڈ اُس کی چوت میں تھا میں نے اُس پر صبر کرکےاتنے ہی لنڈ سےاُسے چودتا رہا۔ کچھ ہی دیر میں لنڈ کی رگڑ اور مسلسل گھسائی  سے اس کی سسکیاں آنے لگیں۔ اور باقی دونوں لڑکیاں اس کے ممے  چوسنے لگے۔ تین طریقوں سے سیکس کا احساس پا کے اس کی چوت پانی چھوڑنے لگی۔ تو میں پھر سے ایک کس کے جھٹکا مار کر پورا لنڈ اُس کی چوت میں غائب کر دیا جس سے اُس نے ایک اور سُریلی چیخ ماری  اور تڑپ کر آگے ہونے کی کوشش کی لیکن میں نے اُس گانڈ کو دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔ اور دونوں لڑکیوں نے بھی اُس کو جھپی ڈال کر پکڑا اور ایک اُس کے مموں کو مسلنے اور چوسنے لگی اور دوسری اُس کے ہونٹ اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔اور تھوڑی دیر میں ہی وہ دوبارہ میرے لنڈ کے مزے لینے لگی اور کچھ ہی دیر میں اُس کا جسم کانپنے لگا اور وہ سُریلی سسکیاں اور آہیں بھرتی ہوئی جھڑنے لگی۔ 

پھر میں نے تینوں کو گھوڑی بنا کے، بیچ والی جو کہ تیسری بچی تھی لنڈ لیئے بغیر ، تو میں نے اُس کی چوت میں لنڈ کو صاف کر کے ایک کرارا جھٹکا مار کر گھسا دیا۔ اب اُس کے تڑپنے اور پڑکنے کی باری تھی ۔ وہ چیختے ہوئے تڑپنے لگی لیکن اُس نے اپنی چوت سے لنڈ نکالنے کی کوشش نہیں کی جوان کی بچی چیختے ہوئے تڑپتے ہوئے بھی لنڈ کے آگے ٹکی رہی ، اور میں بھی جم کر اُسے  چودنے لگا۔

 اور باقی دونوں کی چوت میں انگلیاں گھساکر اُن کو بھی ساتھ ساتھ مزہ دینے لگا۔ پورے کمرے میں ہم چاروں کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔۔ میں لگاتار اسے چودتا رہا۔ میرے لنڈ کی لمبائی اورموٹائی، زبردست رگڑ کے ساتھ تیز چدائی سے اس کی چوت کا بند بھی زیادہ دیر نہ ٹک سکا اور ٹوٹنے لگا اور پھر زور کے جھٹکے سے وہ پانی چھوڑتی ہوئی الٹی ہی بیڈ پر گر گئی۔ اس کے ٹھنڈے ہوتے ہی میں نیچے لیٹ گیا۔ اب ایک پھر سے  میرے لنڈ پر بیٹھ گئی اور اوپر نیچے ہوکر اُچھلنے لگی اور اس کی چوت کا پانی بھی لیک ہونے لگا تھا۔ پہلے میری انگلیاں مارنے سے اور اب لنڈ پر وہ اُچھلتی ہوئی پوری مدہوش ہو گئی تھی۔باقی دونوں مجھے چومنے کس کرنے اور میرے جسم پر اپنے ممے رگڑتی جارہی تھی، دونوں میرے دائیں بائیں بیٹھی ہوئی تھی اور میرے دونوں ہاتھ سایڈوں میں پھیلے دونوں کی چوتڑوں کے نیچے اور انگلیاں ان کی پھدیوں میں گھسی ہوئی تھی جس پر وہ اپنی بھی ہلکی ہلکی اپنی چوتڑوں کو ہلاتے ہوئے انگلیاں اندر باہر کرنے میں لگی ہوئی تھی۔تھوڑی دیرمیں ہی تینوں پھر سے تیار ہوکر جھڑنے والی  ہوگئی تھیں۔ میں نے 2 کو الگ کیا اور ایک کو اپنے نیچے لیا اور اس کے اوپر چڑھ کر چودنے لگا۔

 تھپ۔۔ تھپ۔۔ تھپ۔۔آہہہہہہہ۔۔ اُففففففف ۔۔سیییییی کی سُریلی آوازیں  آنے لگی۔

 اس کی چوت میرے لنڈ کی رگڑ  سے بری طرح پھڑپھڑاتی ہوئی پانی چھوڑ رہی تھی اور چدائی کی آواز سے باقی دو کی بھی سسکیاں نکلنے  لگیں۔۔ تو ان  کو بھی میں جس لڑکی کوچود رہاتھا اُس کے سر پاس اُن کو لیٹایا اور چودتے ہوئے کہنیوں کے بل ہوکر ان کی  پھدیوں میں اپنی انگلیاں ڈال کر   اپنے نیچے والی لڑکی کی پھدی کی ٹکائی کرنے لگا۔جس سے وہ دو منٹ میں ہی جھٹکے کھا کر جھڑنے لگی ۔ تو میں اُس کو چھوڑکر اُسکے دائیں طرف لیٹی لڑکی پر جھپٹ پڑا اور ایک جھٹکے میں اُس کی چوت میں لنڈ ڈال کر زوردار جھٹکے مارنے لگا۔ وہ بھی کیونکہ اپنی پیک پر تھی تو میرے چند ہی زوردار جھٹکوں اور لنڈ کی گھسائی اور گہری ٹکائی سے سسکتے ہوئے جھڑنے لگی ۔ ادھر تیسری لڑکی بھی اپنے چوتڑ اُٹھا اُٹھا کر اپنی پیک پر پہنچ چکی تھی۔ تو میں نے جیسے ہی اُس کی چوت میں کرارا جھٹکا دے کر لنڈ گھسایا تو وہ بھی مزے سے چیختے ہوئے جھڑنے لگی ۔ اب تینوں کی ٹینکیاں اچھی طرح سے خالی ہوکر  پڑھی تھیں لیکن میں ابھی بھی باقی تھا، تو پھر تینوں اُٹھ کر اور مل کے میرے لنڈ کو چوسنے لگیں اور کچھ دیر میں میں بھی اپنے اینڈ  پر پہنچ گیا۔ ان تینوں نے اپنے منہ کھول لیے اور میرے لنڈ نے بھرپور پانی تینوں کو پلایا، تینوں ہی اچھی طرح سے چُدنے کے بعد مطمئن تھیں۔ پھر ہم تینوں ہی ساتھ لیٹ کر اپنی اپنی سانسیں اعتدال پر لانے کے لیئے سکون سے لیٹے رہے ، اُس کے بعد ہم تینوں ایک ساتھ واشروم میں گھس گئے کیونکہ کوئی ابھی انتظار کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا ہم سب کو زور کا پیشاب لگا ہوا تھا ، ہم تینوں نے ایک ساتھ ہی اپنی اپنی پیشاب کی دھاریں چھوڑیں ان تینوں کی جب پیشاب کی دھاریں نکلی تو واشروم میں  ایک مزے کی سیٹھی نما  سُروں کی تال  سی مل کر بجنے لگی وہ تینوں شرم سے  ہنستی ہوئی سر جھکائے پیشاب کرتی رہی ، اور ایک دوسرے کو ہنستے ہوئے چھیڑتے رہی ، اُس کے بعد ہم ایک ساتھ ہی نہانے لگے ، نہاتے ہوئے بھی ہم چھیڑچھاڑ کرتے رہی اُن میں سے ایک کچھ زیادہ ہی  تیز تھی وہ چھیڑتے ہوئے کبھی ایک  پھدی میں انگلی کر دیتی کبھی دوسرے کی اور کبھی وہ ایک دوسرے کے ممے دباتی میرے لنڈ کو مسلتی اور  چوپا بھی لگا دیتی ، اسی طرح مستی کرتے ہوئے ہم تینوں ہی پھر سے گرم ہوگئے اور انہوں نے ایک بار  پھر سے باتھ روم میں مجھ سے زبردست چدائی کروائی۔ تینوں کی چوت میرے لنڈ سے اچھے سے کھل گئی تھی اور ان کی آنکھوں میں چدائی سے ہوئی خماری اب صاف نظرآ رہی تھی۔۔ نہانے کے بعد وہ چلی گئیں اور میں واپس باتھ ٹب میں لیٹ گیا۔ 2 گھنٹے کی نیند پوری کی۔۔ 3 کے ساتھ 2 بار سیکس کرنے سے کافی تھکاوٹ ہو گئی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page