Lust and thirst-06-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 06

ساحل کا داخلہ گاؤں کے باہر ایک سرکاری اسکول میں کرا دیا گیا۔ مکیش ہر مہینے ساحل کے لیے کچھ پیسے بھیجتا تھا تاکہ اس کی پرورش میں کوئی کمی نہ رہے۔ پائل، جو رشتے میں اب ساحل کی چچی لگتی تھی، اس کا میکہ پاس کے ہی گاؤں میں تھا، جو ان کے گاؤں سے صرف تین کلومیٹر دور تھا۔ 

پائل کے میکے میں اس کی ماں، چھوٹا بھائی وجے، اور وجے سے چھوٹی بہن گیتا تھی، جو اس وقت اسی سرکاری اسکول میں گیارہویں جماعت میں پڑھ رہی تھی، جہاں ساحل کا داخلہ ہوا تھا۔ گیتا دیکھنے میں بہت زیادہ خوبصورت تو نہ تھی، لیکن ٹھیک ٹھاک تھی۔ اس کی ہائٹ پانچ فٹ سات انچ تھی۔ بھرپور جسم، اس کے ممے ابھی سے 38 سائز کے ہو گئے تھے۔ موٹی گانڈ اس کے چلنے سے ہمیشہ ہلتی رہتی تھی۔ پائل کا بھائی وجے، جس کی ابھی دو مہینے پہلے شادی ہوئی تھی، آرمی میں نوکری کرتا تھا۔ اس لیے وہ کچھ دن پہلے ہی واپس چلا گیا تھا۔ وجے کی بیوی پونم بھی کافی کھلے خیالات کی تھی۔ پونم اپنے نام کی طرح چاند کا ٹکڑا تھی۔ پورے گاؤں میں اس کی خوبصورتی کے چرچے تھے۔ ہر کوئی اسے دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتا تھا۔ 

کلونت سنگھ کا بیٹا، جو بہت پہلے مر چکا تھا، اس کے بارے میں پائل کے میکے والوں کو نہیں پتا تھا۔ان کو اس لیئے نہیں بتایا گیا تھا کہ کہیں ان کی ماں کے سامنے ان کے منہ سے کوئی ایسے الفاظ نہ نکل جائیں ۔ اس لیے جب ساحل کلونت سنگھ کے گھر رہنے آیا تو وہ اسے ان کا اپنا ہی بیٹا مانتے تھے۔ پائل نے بھی کبھی اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا۔ ان سب کے علاوہ پائل کے میکے میں اس کی ماموں کی لڑکی سونیا بھی رہتی تھی، جو عمر میں ساحل کے برابر تھی اور اسی کی کلاس میں پڑھتی تھی۔ 

اب دھیرے دھیرے ساحل اس گھر میں گھل مل گیا تھا۔ وہ اسکول سے گھر آتا تو سیدھا پائل کے کمرے میں چلا جاتا اور اس کے بیٹے ونش کے ساتھ کھیلتا رہتا۔ پائل بھی ونش کو ساحل کے حوالے کر دیتی اور اپنے گھر کے کام نپٹانے لگ جاتی۔ 

لن، چوت، اور پھدی جیسے الفاظ ساحل پہلے ہی سن چکا تھا۔ وقت کے ساتھ اس کی دلچسپی ان چیزوں میں بڑھتی جا رہی تھی۔ دھیرے دھیرے اس کے دماغ سے پچھلی یادیں کم ہوتی جا رہی تھیں۔ وہ اکثر اپنی چچی پائل کو ونش کو دودھ پلاتے دیکھتا تو اس کی نظریں پائل کے مموں پر ہی رہتیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پائل پڑھی لکھی اور تھوڑی  تیز طرار عورت تھی۔ وہ ساحل کی نظروں کو پکڑ لیتی، لیکن کچھ کہتی نہیں، بس اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیتی۔ سرکاری اسکولوں کا حال، خاص طور پر گاؤں کے سرکاری اسکولوں کا، آپ جانتے ہی ہیں۔ 

جب ساحل کو اس گھر میں پہلی بار لایا گیا تھا، تب اس سے ملنے پائل کے میکے سے سبھی لوگ آئے تھے۔ اس لیے پائل کی چھوٹی بہن گیتا ساحل کو جانتی تھی۔ وہ ہاف ٹائم میں اکثر ساحل سے اپنی بہن پائل اور ونش کے بارے میں پوچھتی۔اسی وجہ سے  دونوں میں کافی جم گئی تھی۔ ساحل عمر میں گیتا سے چار سال چھوٹا تھا۔ گیتا گیارہویں جماعت میں پڑھتی تھی، جبکہ ساحل آٹھویں جماعت میں تھا۔ 

اسکول میں کل ملا کر دو سو کے قریب بچے تھے۔ بڑی کلاسوں کے بچے، خاص طور پر لڑکے، ہاف ٹائم میں بنک مار کر چلے جاتے تھے۔ اسکول کا علاقہ بہت بڑا تھا۔ ایک دن گیتا ہاف ٹائم میں ساحل کو ڈھونڈ رہی تھی، لیکن وہ اپنی کلاس میں نہ تھا۔ وہ اسے ڈھونڈتے ہوئے گراؤنڈ میں آ گئی، لیکن وہاں بھی ساحل نہ ملا۔ 

گیتا: “یہ ساحل کا بچہ آخر گیا کہاں؟ شاید اوپر اسکول کی چھت پر ہوگا۔”

یہ سوچتے ہوئے گیتا سیڑھیوں سے اسکول کی چھت پر چلی گئی۔ چھت سنسان تھی۔

 “یہ ساحل آج کہاں مر گیا؟” گیتا نے دل ہی دل میں کہا اور پلٹ کر نیچے آنے لگی۔ تبھی اسے کچھ سرسراہٹ سی سنائی دی۔ گیتا کے کان فوراً کھڑے ہو گئے۔ آواز پانی کے ٹینک کے پیچھے سے آ رہی تھی۔ 

گیتا دبے پاؤں پانی کے ٹینک کی طرف بڑھنے لگی، اتنا آہستہ کہ اس کے قدموں کی آواز کسی کو سنائی نہ دے۔ دھیرے دھیرے وہ پانی کے ٹینک کے پاس پہنچ گئی اور ٹینک کی آڑ میں چھپ کر اپنا چہرہ باہر نکال کر دیکھنے لگی۔ جیسے ہی اس کی نظر پیچھے چھپ کر بیٹھے ساحل پر پڑی، اس کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ 

ساحل پانی کے ٹینک سے پیٹھ ٹیک کر بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، جس میں بہت سی سیکسی  تصاویر چھپی ہوئی تھیں۔ جس تصویر کو ساحل دیکھ رہا تھا، اس میں ایک تیس بتیس سال کی عورت بستر پر مکمل ننگی اپنی ٹانگیں اوپر اٹھائے ہوئے تھی، جس سے اس کی چوت صاف دکھائی دے رہی تھی۔ یہ دیکھ کر گیتا کے پاؤں وہیں جم گئے۔ اس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ 

لیکن اگلے ہی لمحے گیتا ٹینک کے پیچھے سے نکل کر ساحل کے سامنے آ گئی اور اسے گھورتے ہوئے دیکھنے لگی۔ جب ساحل کو اس کا احساس ہوا، وہ یک دم گھبرا گیا اور کھڑا ہوتے ہوئے کتاب کو اپنے پیچھے چھپانے لگا۔ “موسی، آپ؟” 

گیتا: “ہاں، میں! تم یہاں کیا کر رہے ہو، وہ بھی اکیلے؟” 

ساحل: “میں۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔۔” 

گیتا: (آنکھیں نکال کر ساحل کو دیکھتے ہوئے) “کیا میں میں لگا رکھی ہے؟ دکھا، پیچھے کیا چھپا رہا ہے؟” 

ساحل: “کچھ بھی تو نہیں۔۔۔” 

گیتا: “دکھاتا ہے یا نہیں؟” 

یہ کہتے ہوئے گیتا نے ساحل کی کمر کے پیچھے ہاتھ لے جا کر کتاب چھیننے کی کوشش کی۔ ساحل کتاب بچانے لگا۔ اس دوران دونوں آپس میں جڑگئے، جس سے دونوں کا توازن بگڑ گیا اور ساحل اور گیتا دونوں نیچے گر پڑے۔ ساحل کے ہاتھ سے کتاب نکل کر دور جا گری۔ ساحل اب گیتا کے اوپر تھا۔ اس کا لن، جو کچھ ڈھیلا پڑ نے لگا تھا ، گیتا کی شلوار کے اوپر سے اس کی چوت کی گرمی پا کر اکڑنے لگا۔ ساحل کا لن، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، تقریباً ساڑھے چار انچ لمبا تھا۔ گیتا نے بھی اپنی رانوں کے درمیان اسے چھبتا ہوا محسوس کیا۔ اس کے بدن میں کرنٹ سا دوڑ گیا۔

“آہ۔۔۔ ساحل، اٹھ میرے اوپر سے!” گیتا نے ساحل کو دھکادیتے ہوئے کہا۔ 

“اوہ ہاں!” ساحل یک دم گیتا کے اوپر سے کھڑا ہو گیا۔

 وہ اپنی حرکت پر بہت شرمندہ تھا۔ اس لیے وہیں سر جھکا کر کھڑا ہو گیا۔ گیتا نے جلدی سے اٹھ کر اس کتاب کو اُٹھا لیا۔ 

گیتا: (کتاب ہاتھ میں لیتے ہوئے) “تم اسی لیے اسکول آتے ہو؟ میں تو تمہیں بہت اچھا لڑکا سمجھتی تھی ساحل۔ اب تمہارے ماں باپ کو بتاتی ہوں کہ ان کا لاڈلا اسکول میں آ کر کیا کرتا ہے!” 

ساحل: (رونی صورت بناتے ہوئے) “موسی، پلیز کسی کو مت کہنا، ورنہ ماں مجھے بہت پیٹیں گی۔” 

گیتا: “یہ تو تمہیں ایسی گندی کتابیں دیکھنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ اب تو تیری خیر نہیں بچو!” 

یہ کہتے ہوئے گیتا وہ کتاب لے کر نیچے چلی گئی۔ ساحل بہت گھبرا گیا تھا۔ کلاس میں بھی وہ گم سم سا بیٹھا رہا۔ اسکول کی چھٹی کے بعد جب وہ گھر جانے لگا تو گیتا نے اسے آواز دے کر روک لیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page