Lust and thirst-11-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 11

پائل: “ایسی کوئی بات نہیں ہے دیدی۔ ساحل بہت اچھا بچہ ہے، میری ہر بات جلدی مان لیتا ہے۔”

نیہا: “چل، ٹھیک ہے، پھر ہم چلتے ہیں۔”

نیہا اور کلونت سنگھ چلے جاتے ہیں۔ اس دن ہفتہ تھا، اس لیے ساحل کی بارہ بجے ہی چھٹی ہونے والی تھی۔ جب اسکول کی چھٹی ہوئی تو گیتا اس کے پاس آئی اور بولی۔

گیتا: “ساحل، چل نا، آج میرے گھر چلتے ہیں، بہت مزہ آئے گا۔”

ساحل: “نہیں، میں نے نہیں جانا۔ ماں گھر پر نہیں ہیں، چچی گھر پر اکیلی ہیں، اور ماں نے مجھے چھٹی کے بعد سیدھا گھر آنے کو کہا ہے۔”

گیتا: (اداس ہوتے ہوئے) “چل، ٹھیک ہے۔”

اس کے بعد ساحل سیدھا گھر آ جاتا ہے۔ گھر آتے ہی وہ اپنا بیگ رکھ کر کپڑے بدلنے لگتا ہے۔ ساحل نے ابھی پینٹ کے نیچے انڈرویئر پہننا شروع نہیں کیا تھا۔ جیسے ہی وہ اپنے کپڑے اتارتا ہے، اچانک پائل کمرے میں آ جاتی ہے۔

اپنے آپ کو اپنی چچی کے سامنے ننگا پا کر ساحل اپنے لن کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر چھپانے کی کوشش کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر پائل ہنسنے لگی۔ ساحل کو ایسا لگا کہ اب چچی اس کا مذاق اڑائیں گی۔ اس لیے وہ رونی سی صورت لے کر دوسری طرف دیکھنے لگتا ہے۔

پائل: “ارے، اس طرح رونا چہرہ کیوں بنا لیا؟ میں تجھے کوئی پہلی بار ننگا تو نہیں دیکھ رہی ہوں۔ تو میرا بچہ ہے۔ چل، میں باہر جاتی ہوں، تو کپڑے پہن لے، اور ہاں، میں تیرا کھانا اپنے ہی کمرے میں لے جاتی ہوں۔ وہیں آ کر کھانا کھا لینا۔”

پائل کے جانے کے بعد ساحل کپڑے پہن کر پائل کے کمرے میں آتا ہے اور کھانا کھانے لگتا ہے۔ پائل بستر پر لیٹے ہوئے ونش کو تھپکی دیتے ہوئے سلا رہی تھی۔ ساحل کھانا کھا کر باہر جانے لگا تو پائل نے پیچھے سے آواز لگا کر اسے روک لیا۔

پائل: “کہاں جا رہا ہے؟”

ساحل: “چچی، وہ میں پتنگ اڑانے جا رہا ہوں۔”

پائل: “دیدی نے منع کیا ہے، دھوپ میں اوپر نہیں جانا۔”

ساحل: “چچی، جانے دو نا، پلیز، تھوڑی دیر کے لیے۔”

پائل: “نہیں، یہاں بیٹھو اور اپنا ہوم ورک کر۔”

ساحل: “چچی، ہوم ورک تو کر لوں گا۔ کل اتوار ہے، جانے دو نا۔۔۔”

پائل: “نہیں، منع کیا نا۔”

ساحل اداس سا چہرہ لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ پائل یہ دیکھ کر مسکراتے ہوئے، بیڈ پر اٹھ کر بیٹھتی ہے اور ساحل کو اپنے پاس بلاتی ہے۔ ساحل اپنی چچی کے پاس جا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ پائل اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر پیار سے سہلاتے ہوئے کہتی ہے،

پائل:  “دیکھو تو اپنا رنگ کیسے کالا کر لیا۔ ایسی کالے ہو جاؤ گے، تو تم سے کون شادی کرے گا؟ اچھے بچے ضد نہیں کرتے۔ شام کو پتنگ اڑا لینا جب دھوپ کم ہو جائے۔”

ساحل: ٹھیک ہے چچی۔ 

پائل: چل اب یہاں سو جا ونش کے پاس۔ میں کپڑے دھو کر آتی ہوں۔ 

ساحل بیڈ پر لیٹ جاتا ہے اور پھر سو جاتا ہے۔ شام کو تقریباً پانچ بجے پائل ساحل کو جگاتی ہے۔ ونش بھی اٹھ کر رونے لگتا ہے۔ ساحل باہر باتھ روم میں جا کر منہ ہاتھ دھو کر واپس پائل کے روم میں آ جاتا ہے۔ پائل بیڈ پر لیٹی ہوئی، ونش کو دودھ پلا رہی تھی۔ پائل نے ویسے ہی لیٹے لیٹے ساحل سے پوچھا، 

پائل: کچھ کھائے گا؟ بھوک تو نہیں لگی؟ 

نیہا روز شام کے وقت ساحل کو دودھ کا گلاس بھر کر پینے کے لیے دیتی تھی۔ یہ بات پائل بھی جانتی تھی۔ 

ساحل: ہاں دودھ پینا ہے۔ 

پائل: ساحل آج دودھ تو نہیں ہے۔ 

ساحل: کیوں دودھ نہیں ہے؟ 

پائل: ساحل کچھ اور کھا لے بیٹا۔ آج تیرے چچا سبھی بھینسوں کو لے کر صبح ہی چلے گئے، اس لیے دودھ نہیں بچا۔ 

ساحل: (ضد کرتے ہوئے) نہیں مجھے نہیں پتہ، مجھے دودھ ہی پینا ہے۔ 

پائل: ضد نہ کر ساحل۔ کہا نہ دودھ نہیں ہے۔ 

ساحل: مجھے نہیں پتہ۔ 

پائل: (اپنی برا میں سے چھوٹا سا پرس نکال کر پیسے نکالتے ہوئے ساحل کو دیتے ہوئے) چل جا دکان سے دودھ خرید لا۔ 

ساحل: مجھے وہ پیکٹ والا دودھ پسند نہیں۔ 

پائل: (جھنجھلاتے  ہوئے) تو پھر بتا میں کیا کروں، اب نہیں ہے دودھ گھر میں۔ سمجھتا کیوں نہیں، ادھر آ میرا پی لے، اگر چین نہیں ہے تو۔ 

پائل کو احساس ہوتا ہے کہ وہ انجانے میں ساحل سے کیا کہہ گئی۔ لیکن  اپنی بات ہی پر وہ ہلکے ہلکے  مسکرانے لگتی ہے۔ ساحل بڑے ہی غور سے پائل کے مموں کو دیکھ رہا تھا، جنہیں ونش نے اب پینا چھوڑ دیا تھا۔ شاید ونش دودھ پیتے ہوئے پھر سے سو گیا تھا۔ 

جب پائل کا دھیان ساحل کی نظروں پر جاتا ہے، تو اسے پتہ چلتا ہے کہ ساحل اس کے مموں کو ہی دیکھ رہا ہے۔ یہ دیکھ کر پائل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ ساحل بڑے ہی غور سے پائل کے مموں کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ پائل کے ممے گیتا کے مموں جتنے ہی بڑے تھے۔ فرق بس اتنا تھا کہ پائل کے مموں کے نپلز ونش کو دودھ پلانے کی وجہ سے بہت موٹے اور لمبے ہو گئے تھے۔ تقریباً آدھا انچ لمبے نپلز کو دیکھ کر ساحل کے ماتھے پر پسینہ آنے لگا۔ 

پائل اس کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے، اپنے ننگے ممے کو ہاتھ میں پکڑ کر نپل کے پیچھے سے دباتی ہوئی ساحل سے کہتی ہے

پائل:  “بول پیے گا میرا دودھ؟۔۔ آجا  پی لے۔”

اور پھر ساحل کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگتی ہے۔ 

ساحل: (جھنجھلاتے ہوئے) تم مجھے کیوں چھیڑ رہی ہو۔ میں نے سچ میں تمہارا دودھ پی لینا ہے۔ 

پائل: تو پی لے نا۔ میں نے روکا ہے تجھے؟ 

ساحل: چچی میں نے سچ میں پی لینا ہے۔ 

پائل: اچھا ہمارے لڈو کو غصہ بھی آتا ہے۔ چل پی کر دکھا۔ میں بھی تو دیکھوں کتنا غصہ ہے تجھ میں۔ 

یہ کہتے ہوئے پائل ونش کو اپنے آگے سے اٹھا کر بیڈ کے دوسری طرف لٹا دیتی ہے اور ساحل کی طرف کھسکتے ہوئے اس کے پاس آکر پیٹھ کے بل لیٹتی ہوئی اپنی برا کو پورا اوپر اٹھا دیتی ہے۔ جیسے ہی پائل نے اپنی برا اوپر اٹھائی، اس کا دوسرا ممہ بھی اچھل کر باہر آ گیا۔ 

ساحل بڑی حیرانی سے پائل کے بڑے بڑے مموں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا لنڈ اس کی پینٹ میں ٹائٹ ہونے لگا۔ پائل کے مموں کے کالے رنگ کے نپلز اتنے موٹے اور لمبے تھے کہ انہیں دیکھ کر ساحل کا گلا سکھنے لگا۔ نپلز کے چاروں اطراف بڑے بڑے ڈارک براؤن کلر کے دائرے بنے ہوئے تھے۔ گیتا کے نپلز پائل سے بہت چھوٹے تھے۔ 

پائل: ہے ہمت تو پی کر دکھا اب۔ 

ساحل: (تھوڑا سا گھبرا گیا) نہیں مجھے نہیں پینا۔ 

پائل: ڈر گیا ہمارا لڈو ڈر گیا۔ 

ساحل: میں نہیں ڈرتا کسی سے۔ 

پائل: (اپنے مموں کو نپلز کے تھوڑا سا پیچھے سے دبانے لگی، جس سے اس کے نپلز کڑک  ہو کر اور باہر آ گئے) اچھا جی ڈر تو رہے ہو تم۔ 

ساحل: میں سچ بول رہا ہوں میں نے پی بھی لینا ہے۔ 

پائل: (ہنستے ہوئے) تو پی لے نا۔

اور اپنے نپلز کو دبا کر ساحل کو دکھانے لگی

ساحل ایک دم سے بیڈ پر چڑھ گیا، اور پائل کے اوپر جھکتے ہوئے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا، “میں سچ میں پی لینا ہے۔”

 اور پھر پائل کے جواب کا انتظار کرتا ہے۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page