Lust and thirst-13-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 13

پائل: کیا ہوا ساحل؟ 

ساحل: کچھ نہیں۔ 

پائل: تم بہت گندے ہو؟ 

ساحل: (پائل کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے) کیوں؟ 

پائل: اچھا تمہیں نہیں پتہ۔ 

ساحل: نہیں، مجھے نہیں پتہ۔ 

پائل: اچھا، جب اٹھے تھے، تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟ زبردستی میرا دودھ پر منہ لگایا تم نے۔ 

ساحل: (تھوڑا سا گھبراتے ہوئے) میں نے کہاں زبردستی کی، تم نے تو کہا تھا۔ 

پائل: اچھا جی۔ آنے دو دیدی کو پھر بتاتی ہوں۔ 

ساحل: (ایک دم سے گھبراتے ہوئے) نہیں چچی، ماں کو کچھ مت کہنا۔ 

پائل: تو پھر کیوں کیا میرے ساتھ ایسے؟ 

ساحل: تم نے ہی تو کہا۔ 

پائل: اچھا جی، پھر دودھ پینے کی ضد کون کر رہا تھا؟ تیرے چچا کو بتاتی ہوں کہ تم نے مجھے کیسے تنگ کیا۔ 

ساحل: (رونسا سا ہو کر بولتے ہوئے) نہیں چچی، کسی کو مت کہنا۔ میں آگے سے تمہیں تنگ نہیں کروں گا۔ 

پائل: اچھا چل ٹھیک ہے، تم نے میرا دودھ چوسا ہے نا، اب میں تجھ سے بدلہ لوں گی۔ 

ساحل: چچی میرے ساتھ چاہے جو بھی کر لو، جو سزا دینی ہے دے دو، پر کسی کو نا کہنا۔ 

پائل: اچھا چل دیکھتے ہیں۔ فی الحال میں یہ بات کسی کو نہیں بتاتی۔ 

یہ کہہ کر پائل دوسری طرف منہ کر کے ہنسنے لگی۔ اور پھر کپڑے اٹھا کر نیچے آ گئی۔ تھوڑی دیر بعد ساحل بھی بےدلی سے نیچے آ گیا۔ رات کو کھانا کھا کر سب سونے کی تیاری کرنے لگے۔ پائل نے اپنے ہی روم میں ایک اور چارپائی لگا دی۔ 

جب سارا کام نپٹا کر گیتا اور پائل روم میں آئیں، تو ساحل ونش کے ساتھ کھیل رہا تھا۔

گیتا نے چارپائی پر لیٹتے ہوئے کہا، “ساحل تو یہاں آ جا میرے ساتھ۔”

 اس پر پائل تھوڑا ٹھٹھک گئی۔ 

پائل: نہیں، وہ بیڈ پر ہی سو جائے گا۔ اتنا بڑا بیڈ ہے۔ 

پھر پائل سب سے پہلے بیڈ پر لیٹ گئی۔ اور اپنے آگے ونش کو لٹا دیا۔ اس کے بعد ساحل بیڈ پر لیٹ گیا۔ پائل نے گیتا کو لائٹ آف کرنے کو کہا۔ گیتا نے جھنجھلاتے ہوئے لائٹ بند کر دی۔ ساحل بیڈ کے کنارے کی طرف تھا۔ بیڈ کا دوسرا کنارہ دیوار سے جڑا  ہوا تھا۔ اور جس طرف ساحل لیٹا تھا، اس کے سائیڈ میں گیتا کی چارپائی تھی۔ 

آج پائل نے کچھ زیادہ دیر لگا کر کام نپٹایا تھا۔ اور پھر دونوں بہنیں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگیں۔ روم میں اندھیرا تھا، اس لیے کوئی بھی ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پا رہا تھا۔ دونوں کافی دیر تک باتیں کرتی رہیں۔ پھر روم میں سکوت سا چھا گیا۔ کچھ ہی دیر میں گیتا گہری نیند  سو رہی تھی۔ لیکن آج چچی کے ڈر سے دھمکائے  جانے کی وجہ سے ساحل کی آنکھوں سے نیند غائب تھی۔ رہ رہ کر اس کے دل میں یہی خیال آ رہا تھا کہ اگر چچی نے سچ میں چچا اور ماں سے شکایت کر دی، تو کیا ہوگا۔ تبھی اسے چچی کی طرف سے سرسراہٹ سی سنائی دی۔ ساحل کے کان فوراً  کھڑے ہو گئے۔ 

تھوڑی دیر بعد اسے اپنے بازو پر کچھ نرم سا احساس ہوا۔ یہ پائل کی چھاتیاں تھیں جو ساحل کی بازو پر دب رہی تھیں۔ پائل نے دھیرے سے اپنے ہونٹوں کو ساحل کے کان کے پاس لا کر پھسپھساتے ہوئے کہا، 

پائل: سو گیا کیا؟ 

ساحل: (دھیمی آواز میں) نہیں۔ 

پائل: اب میں تیری خبر لیتی ہوں۔

یہ سب پائل بہت دھیرے بول رہی تھی، تاکہ اس کی آواز گیتا تک نہ پہنچ پائے

 پائل:اب سزا کے لیے تیار ہو جا۔ 

پھر تھوڑی دیر خاموشی رہی، اور تھوڑی دیر بعد ساحل کو اپنے پیٹ کے اوپر پائل کے ہاتھ کا احساس ہوا۔ ساحل کو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ چچی اس وقت اسے کیا سزا دینے والی ہے۔ پائل نے تھوڑی دیر ہاتھ ساحل کے پیٹ پر رکھا، اور پھر دھیرے دھیرے اپنے ہاتھ کو نیچے کی طرف لے جانے لگی۔ 

پائل کا ہاتھ سرکتا ہوا، ساحل کے نیکر کے اوپر آ گیا۔ ساحل اپنے لنڈ پر پائل کے ہاتھ کے وزن کو صاف محسوس کر رہا تھا۔ پائل نے تھوڑی دیر ویسے ہی اپنا ہاتھ ساحل کے نیکر کے اوپر سے لنڈ پر رکھے رکھا۔ پھر نیکر کے اوپر سے اس کے لنڈ کو سہلاتے ہوئے اپنی مٹھی میں بھر کر دو چار بار ہی دبایا تھا کہ ساحل کا لنڈ تن کر 5 انچ کا ہو گیا۔ 

اپنے ہاتھوں سے ساحل کے لنڈ کی اکڑن محسوس کرتے ہی، پائل کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس کی چوت کی پھانکیں ایک بار پھر سے کلبلانے لگیں۔ پائل نے تھوڑی دیر تک ساحل کے لنڈ کو اپنی مٹھی میں بھر کر دبایا۔ پھر اچانک سے اس نے اپنا ہاتھ ساحل کے لنڈ سے ہٹا لیا۔ 

پھر تھوڑی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ پائل چچی کا ہاتھ اس کی ٹی شرٹ کو اوپر کی طرف اٹھا رہا ہے۔ جیسے ہی ساحل کی ٹی شرٹ تھوڑی سی اوپر اٹھی، پائل نے اپنی پوری ہتھیلی ساحل کے ننگے پیٹ سے لگا دی، اور دھیرے دھیرے نیچے کی طرف سرکانے لگی۔ پھر پائل کی انگلیاں جیسے ہی ساحل کے نیکر کے الاسٹک کے ساتھ ٹکرائیں، وہ تھوڑی دیر کے لیے رک گئیں۔ 

پائل نے دھیرے دھیرے اپنے ہاتھ کو آگے بڑھانا شروع کر دیا۔ پائل کی انگلیاں ساحل کے نیکر کے الاسٹک کو اوپر اٹھاتے ہوئے اندر گھسنے لگیں۔ اور پھر اس کے ہاتھ کی انگلیاں ساحل کے تنے ہوئے لنڈ سے جا ٹکرائیں۔ ساحل کے بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔ پائل نے ہاتھ کو اور آگے بڑھایا، اور ساحل کے تنے ہوئے 5 انچ کے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ لیا۔ 

ساحل کی تو آنکھیں مستی میں بند ہو گئیں۔ لیکن  وہ چپ چاپ لیٹا رہا۔ پھر پائل نے اس کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر دھیرے دھیرے دبانا شروع کر دیا۔ ساحل ایک دم سے تڑپ اٹھا۔ اسے اپنے لنڈ پر عجیب سی گدگدی محسوس ہونے لگی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر پائل کا بازو پکڑ لیا اور دھیرے سے اس کے کانوں میں پھسپھساتے ہوئے بولا، 

ساحل: آہ چچی چھوڑو نا، بہت گدگدی ہو رہی ہے۔ 

پائل: (اس کے کانوں میں پھسپھساتے ہوئے) تو جب میرا دودھ پی رہا تھا تو کیا رکا تھا۔ مجھے بھی اُس وقت بہت  گدگدی ہو رہی تھی۔ 

ساحل: چچی چھوڑو نا، نہیں تو میں چیخ دوں گا۔ مجھ سے برداشت  نہیں ہوتا۔

ساحل نے اپنا ہاتھ پائل کی بازو پر دباتے ہوئے کہا

پائل: ایک شرط پر چھوڑتی ہوں تجھے۔ 

ساحل: ہاں جلدی بولو۔ 

پائل: میرا دودھ ایک بار اور پی لے۔ 

ساحل پائل کی یہ بات سن کر ایک دم چونک گیا۔

ساحل : پھر آپ ماں سے شکایت کر دو گی۔

پائل: اب نہیں کرتی، میں نے تجھ سے بدلہ لے لیا ہے۔ بول چوسے گا میرا دودھ؟

پائل نے ساحل کے لنڈ کو تیزی سے ہلاتے ہوئے کہا

ساحل: ہاں۔

پائل نے اپنے ہاتھ سے ساحل کے لنڈ کو چھوڑا، اور اپنا ہاتھ اس کے نیکر سے باہر نکال لیا۔ پھر پائل نے ساحل کو کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف گھمایا، اور پھر اپنا ہاتھ اس کے کندھے سے ہٹا لیا۔ ساحل اب کروٹ کے بل پائل کی طرف منہ کیے ہوئے لیٹا ہوا تھا۔ اسے چچی کے کپڑوں کے سرکانے کی آواز آ رہی تھی۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page